یکشنبه 26 فروردین 1403

14 August 2023

بشار اسد کی موجودگی کے بغیر شام کے بحران کا حل ممکن نہیں: ترکی

بشار اسد کی موجودگی کے بغیر شام کے بحران کا حل ممکن نہیں: ترکی


ترکی کے نائب وزیر اعظم نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں شام کے صدر بشار اسد کے برسر اقتدار رہنے کی صورت میں ہی اس ملک کے بحران کا حل ممکن ہے-

محمد شمشیک نے اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے کہ علاقے کی موجودہ صورتحال تبدیل ہوچکی ہے اس لئے ترکی ، بشار اسد کی موجودگی کے بغیر شام کے بحران کو حل کرنے پر مصر نہیں رہ سکتا- انقرہ کے حکام کی جانب سے شام کے بحران کو بشار اسد کی موجودگی میں حل کئے جانے پر تاکید ایسے میں کی جارہی ہے کہ ترکی کی حکومت نے بارہا دہشت گرد گروہوں منجملہ جبھۃ النصرہ اور داعش کی حمایت کرکے ، شام کے بحران کے حل کو صرف بشار اسد کے اقتدار ہٹنے سے مشروط کیا تھا-

چنانچہ ترکی کے حکام کی جانب سے اپنے سابقہ موقف سے پسپائی کو ان کا نیا موقف سمجھا جا سکتا ہے- یہ پہلی بار نہیں ہے کہ انقرہ کے حکام شام میں بشار اسد کی حکومت کے سلسلے میں اس طرح کا موقف اپنا رہے ہیں - مثال کے طور پر گذشتہ سال اگست کے مہینے میں ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے اپنے دورہ روس میں اپنے روسی ہم منصب کو یہ وعدہ دیا تھا کہ ان کی حکومت شام کے مسائل کو بشار اسد کی شرکت سے ہی حل کرے گی- لیکن ایک مدت کے بعد ترک حکام  اپنے اس وعدے سے منحرف ہوگئے اور ایک بار پھر شام کے سلسلے میں اپنے ماضی کی پالیسیوں کی طرف پلٹ گئے- ترک حکام کے اس ماضی کے پیش نظر یہ کہا جاسکتا ہے کہ قزاقستان کے دارالحکومت آستانہ میں ہونے والے امن مذاکرات کے پیش نظر اس بات کا امکان ہے کہ انقرہ کی حکومت امن پسندانہ باتیں کرنے کے ذریعے ایک بار پھر وقت ضائع کرنے کے درپے ہے- واضح رہے کہ شام سے متعلق امن مذاکرات، پیر تیئیس جنوری کو آستانہ میں ہونا طے پائے ہیں- ان مذکرات کا محور، شام کے بحران کو حل کرنے کے لئے اس ملک کے گروہوں کے درمیان مذاکرات کا احیاء کرنا ہے- اسی سلسلے میں ترکی کے وزیر خارجہ مولود چاووش اوغلو نے بھی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے ساتھ انٹرویو میں ، قزاقستان میں شام سے متعلق امن مذاکرات کے انعقاد کا مقصد، جنگ بندی کے عمل کو مستحکم کرنا اور شام کی حکومت اور مخالفین کے درمیان براہ راست مذاکرات میں شامی فریقوں کی مشارکت بتایا ہے- اس موقف کے اعلان سے اس امر کی نشاندہی ہوتی ہے کہ شام کے داخلی مسائل کو حل کرنا، محض حکومت اور مخالفین کے ساتھ مذاکرات کی صورت میں ہی ممکن ہے- ترکی، امریکہ ، بعض یورپی اور علاقے کے عرب ملکوں کی غیر تعمیری مداخلت کو شام کے داخلی جھڑپوں کے طولانی ہونے اور ان کے علاقائی سطح پر پھیلنے کی اصلی وجہ قرار دیا جا سکتا ہے- اس سلسلے میں برطانیہ کے نامہ نگار اور تجزیہ نگار رابرٹ فیسک نے اردوغان کے دورہ روس کے بعد ایک مقالے میں لکھا تھا کہ ترکی کی حکومت اربوں ڈالر اور ہتھیار، خلیج فارس کے ملکوں سے شام میں داخلی جنگ کو ہوا دینے اور دیگر اغرض و مقاصد کے تحت وصول کرتی ہے- نتیجے میں ترکی کی یہ غلط اور غیر اصولی پالیسی کے باعث اب تک دسیوں ہزار بے گناہ افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں- ساتھ ہی یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ ترکی میں جاری بدامنی، بیرونی ملکوں میں ترکی کی مداخلت خاص طور پر شام کے داخلی امور میں انقرہ حکومت کی مداخلت کا نتیجہ ہے-