logo logo
  • تاریخ انتشار:‌ 1395/11/07 - 12:00 ق.ظ
  • چاپ
افغان صدر نے داعش کا قلع قمع کرنے کا حکم دے دیا

افغان صدر نے داعش کا قلع قمع کرنے کا حکم دے دیا

افغان صدر نے داعش کا قلع قمع کرنے کا حکم دے دیا

 افغانستان کے صدر محمد اشرف غنی نے اپنے ملک کی سکیورٹی فورسز اور فوج کو دہشتگرد گروہ داعش کا قلع قمع کرنے کا حکم دیا ہے۔ محمد اشرف غنی نے اپنے پیغام میں واضح لفظوں میں کہا ہے کہ عوام کے اموال کو آگ لگانا اور ان کے درمیان رعب و وحشت پھیلانا ناقابل معافی گناہ ہے اور کسی بھی دین اور آئین میں اس کو جائز قرارنہیں دیا گیا ہے۔

افغانستان کے صدر نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز کو ماضی کی نسبت نہایت شدید طریقے سے ان حملوں کا جواب دینا چاہیے۔ افغانستان میں بد امنی کی کئی وجوہات ہیں جن میں سب سے اہم تکفیری گروہوں کی موجودگی ہے اور اس میں کسی کو کوئی شک و شبہ نہیں کہ تکفیری گروہوں کے پیچھے سعودی عرب کا ہاتھ ہے ۔سعودی عرب جو افغانستان کے صوبہ جلال آباد میں ایک یونیورسڻی بنا رہا ہے وه دراصل افغانستان میں تکفیری وہابیت کو مضبوط بنارہا ہے اور یہ منحرف فرقہ مذہبی جهڑپوں اور فرقہ واریت کی فضا میں ہی پروان چڑه سکتا ہے۔

وہابیت نے برسوں سے پاکستان میں مدرسے بناکرعلاقے میں مذہبی دہشتگردی اورفرقہ واریت کو خوب ہوا دی ہےاور اب افغانستان میں پہنچ کر شیعہ او سنیوں کو آپس میں لڑوانا چاہتی ہے ۔ دراصل وہابیت اورفرقہ پسندی پاکستان سے افغانستان میں آئی ہے جس کی آل سعود مالی حمایت کرتی ہے۔تکفیری دہشتگرد گروه جو علاقے میں وہابیوں کا آلہ کار شمار ہوتا ہے وه شیعہ مسلمانوں اوراهل سنت کو قتل کرکے ان کے درمیان اختلافات اور ایک دوسرے کے خلاف مذہبی جنگ کی آگ میں دهکیل دینا چاہتا ہے۔ اسی بنا پر سابق جہادی کمانڈر اورقومی اتحادی حکومت کی ایگزیکیڻو کونسل کے نائب سربراه محمد محقق کا کہنا ہے کہ تکفیری دہشتگرد گروه داعش کاهدف یہ ہے کہ وه افغانستان میں مذہبی اور فرقہ وارانہ اختلافات پهیلائے۔ انہوں نے کہا کہ افغاں عوام اس بات کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے یہ تکفیری گروه اپنے مذموم اهداف تک پہنچ سکے۔

افغانستان کے حکام کا کہنا ہے کہ افغان عوام نے اپنے اتحاد و یکجہتی سے سب سے پہلے برطانیہ کی جارح اور سامراجی فوج اس کے بعد روس کی سرخ فوج کو اپنے ملک سے نکال باہر کیا ہے اور بلاشک افغان عوام اتحاد ویکجہتی سے اب تکفیری دہشتگرد گروه داعش کو بهی نکال باہر کریں گے کیونکہ یہ گروه بیرونی عناصر جیسے تاجیکوں٬ ازبک اور چچن کے دہشتگردوں سے تشکیل پایا ہے۔

افغان قوم کا دہشتگردوں اور فرقہ وارانہ گروہوں کے سامنے ہوشیار رہنا اس وجہ سے بهی ضروری ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں پاکستانی فوج کے آپریشن اس بات کا سبب بنے ہیں کہ دہشتگرد فرار کرکے افغانستان چلےجائیں اور پیسہ اور اپنا کام جاری رکهنے کےلئے افغانستان میں اپنی دہشتگردی جاری رکهیں۔ ان حقائق کے پیش نظر افغان قوم کے پاس دشمن کی سازشوں کا مقابلہ کرنے کی واحد راه برادری اور اتحاد قائم کرنا ہے تا کہ جارحین سے مقابلے کی طرح دہشتگردوں اور وہابیت کے آلہ کاروں سے بهی مقابلے میں کامیابی حاصل کی جاسکے۔

مطالب مشابه