logo logo
  • تاریخ انتشار:‌ 1395/10/09 - 12:00 ق.ظ
  • چاپ
پاكستان، ايران كا يونيورسٹي شعبوں ميں باہمي تعاون پر تبادلہ خيال

پاكستان، ایران كا یونیورسٹی شعبوں میں باہمی تعاون پر تبادلہ خیال

پاكستان، ایران كا یونیورسٹی شعبوں میں باہمی تعاون پر تبادلہ خیال

پاكستان میں تعینات ایرانی قونصلر اور بلوچستان صوبے كی یونیورسٹی كے وائس چانسلر نے دونوں ممالك كے سرحدی صوبوں كی یونیورسٹیوں كے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے كے طریقوں پر تبادلہ خیال كیا.

پاكستانی شہر 'كوئٹہ' میں تعینات ایرانی قونصلر جنرل 'محمد رفیعی' نے بلوچستان یونیورسٹی كے سربراہ پروفیسر ڈاكٹر 'جاوید اقبال' كے ساتھ ایك ملاقات میں بلوچستان یونیورسٹی اور ایران كے صوبے سیستان و بلوچستان كی یونیورسٹیوں كے درمیان مشتركہ تعاون كے حوالے سے بات چیت كی.

اس موقع پر ایرانی سفارتكار نے پاكستان كی بلوچستان یونیورسٹی كے ساتھ طلباء اور اساتذوں كے وفود كے تبادلوں كے حوالے سے پیشكش كی جس كا پاكستانی فریق نے خیرمقدم كیا.

جامعہ بلوچستان كے وائس چانسلر نے ایران كے سرحدی صوبے میں واقع زابل اور زاہدان یونیورسٹیوں میں ماسٹرز اور پی ایچ ڈی سطح كے طالب علموں كو بھیجنے پر آمادگی كا اظہار كیا.

اس حوالے سے انہوں آٹھ طالب علموں كے ناموں پر مشتمل ایك فہرست ایرانی قونصلر كو پیش كی اور كہا كہ توقع كی جاتی ہے كہ جلد دونوں سرحدی صوبوں كے درمیان تعلیمی وفود كے تبادلوں كے عمل كا آغاز ہوجائے گا.

جامعہ بلوچستان اس صوبے كی سب سے بڑی یونیورسٹی ہے جس كے تحت 80 كالج سرگرم ہیں. اس جامعہ میں 500 سے زائد پروفیسرز شامل ہیں اور یہاں پہ ایران سٹڈیز كے نام سے بھی ایك خصوصی شعبہ قائم ہے جس میں 100 طالب علم گریجویٹ اور انڈر گریجویٹ كی سطح پر تعلیم حاصل كر رہے ہیں.

مطالب مشابه