logo logo
  • تاریخ انتشار:‌ 1395/10/02 - 12:00 ق.ظ
  • چاپ
امام خمینی نے بغیر تعصب اور قوم پرستی کے اسلامی اتحاد کو ترویج دیا: اسٹریلیا کے سنی مفتی

امام خمینی نے بغیر تعصب اور قوم پرستی کے اسلامی اتحاد کو ترویج دیا: اسٹریلیا کے سنی مفتی

امام خمینی نے بغیر تعصب اور قوم پرستی کے اسلامی اتحاد کو ترویج دیا: اسٹریلیا کے سنی مفتی

اسٹریلیا کے سنی مفتی نے امام خمینی کی شخصیت کو علمی، فقہی اور عرفانی اعتبار سے ایک جامع شخصیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ میں نے ان کی کتاب اسرار الصلاۃ کا مطالعہ کیا ہے۔
اسٹریلیا کے دار الحکومت سیڈنی کے مفتی نے ایران کے شہر اراک میں’’ امام خمینی اور رہبر انقلاب اسلامی کے افکار میں اسلامی مذاہب کی تقریب‘‘ کے عنوان سے منعقدہ قومی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ایران میں اسلامی انقلاب کیوں کامیاب ہوا؟ جبکہ دنیا میں اس سے قبل و بعد بہت سے سارے انقلاب ناکام ہوئے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ امام خمینی کا رابطہ آسمان سے تھا، انہوں نے دنیا کو طلاق دے دیا تھا اور وہ اس آیت ’’فاسئلو اھل الذکر ان کنتم لا تعلمون‘‘ کے مصداق تھے۔
تاج الدین الہلالی نے مزید کہا: امام خمینی نے بغیر کسی تعصب اور قوم پرستی کے اسلام، مسلمین اور اسلامی وحدت کے لیے جد و جہد کی۔
اسٹریلیا کے مفتی نے تقریب مذاہب اسلامی کے بارے میں امام خمینی(رہ) کے افکار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: اسلامی وحدت کے میدان میں امام خمینی کا سب سے پہلا اقدام یہ تھا کہ انہوں نے تمام مسلمانوں کے اتحاد کو ضروری جانتے ہوئے فرمایا آج تہران کل فلسطین۔ امام نے شیطان اکبر امریکہ اور اسرائیل کو ایران سے باہر کیا۔ اگر ہم ایک خدا، ایک پیغمبر، ایک کتاب اور ایک قبلہ کے ماننے والے نہ ہوتے تب بھی ہمارے اتحاد کے لیے یہ کافی تھا کہ ہم سب کا ایک مشترکہ دشمن ہے۔ ہمیں اسلامی زندگی گزارنا چاہیے، جاہلیت کے بوسیدہ افکار کو دوبارہ زندہ نہیں کرنا چاہیے، ہمارے پیغمبر نے ان افکار کو نابود کیا ہے ہمارے لیے سزاوار نہیں ہے کہ ہم عصر جاہلیت کے افکار کو زندہ کریں۔
انہوں نے مزید کہا: خداوند عالم نے ملت ایران کے سلسلے میں اپنے اس وعدہ کو محقق کیا ’’اگر تم انحراف کا شکار رہو گے تو خدا ایک دوسری قوم کو لائے گا‘‘ پیغمبر اکرم نے خود اس آیت کی تفسیر کی اور فرمایا سلمان فارسی کی قوم ان کی جگہ لے گی۔ اگر فلسطین کے مقاصد سے ہم دست بردار ہو جائیں گے تو خدا کسی دوسری قوم کو وجود میں لائے گا اگر ہم نے شیطان اکبر سے لڑنا چھوڑ دیا تو خدا کسی دوسری قوم کو ہماری جگہ لائے گا۔
اہل سنت کے عالم دین نے اس بات پر زور دیا: ہم وہ امت ہیں جو بیمار ضرور ہوں گے لیکن نابود نہیں ہوں گے۔ جی ہاں عراق، شام، مصر، لیبیا، فلسطین اور دوسرے اسلامی ممالک میں بہت خون بہہ گیا ہے یہ وہ خون ہے جس سے ایک اور قوم وجود میں آئی گی۔
انہوں نے آخر میں کہا: اللہ کا وعدہ پورا ہو گا۔ قرآن نے دعوت دی ہے کہ ہم متحد ہو جائیں۔ خدا نے ہمیں آپس میں ہمدلی اور ہمدردی کے ساتھ رہنے کی دعوت دی ہے۔ اختلافات اللہ کی نعمت ہیں۔ لیکن یہ اختلافات تظریاتی حد تک رہنا چاہیے، ہمیں اس قرآنی اصل کو سمجھنے کی کوشش کرنا چاہیے ہمیں ایک دوسرے کو درک کرنے اور ایک دوسرے کو قبول کرنے کی کوشش کرنا چاہیے۔
قابل ذکر ہے کہ اراک یونیورسٹی، اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی اور دیگر ثقافتی اداروں کے باہمی تعاون سے ’’امام خمینی اور رہبر انقلاب اسلامی کے افکار میں اسلامی مذاہب کی تقریب‘‘ کے زیر عنوان پہلی قومی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا ہے جس میں ملکی شخصیات کے علاوہ غیر ملکی دانشوروں نے بھی شرکت کی ہے۔

مطالب مشابه