logo logo
  • تاریخ انتشار:‌ 1395/10/02 - 12:00 ق.ظ
  • چاپ
اہل بیت(ع) سے محبت مسلمانوں کے درمیان مشترکہ شناخت پیدا کر سکتی ہے: آیت اللہ اراکی

اہل بیت(ع) سے محبت مسلمانوں کے درمیان مشترکہ شناخت پیدا کر سکتی ہے: آیت اللہ اراکی

اہل بیت(ع) سے محبت مسلمانوں کے درمیان مشترکہ شناخت پیدا کر سکتی ہے: آیت اللہ اراکی

آیت اللہ اراکی نے اسلامی سماج کے اندر مشترکہ شناخت کو وجود میں لانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اگر ہم اسلامی معاشرے میں واحد شناخت پیدا کر سکیں تو ہمیں نظریاتی اختلافات سے گبھرانا نہیں گا چونکہ نظریاتی اختلافات سماج کی ترقی اور رشد کا سبب بنتے ہیں۔
’’تقریب مذاہب اسلامی امام خمینی اور رہبر انقلاب کے افکار میں‘‘ کے عنوان سے منعقدہ اراک میں پہلی قومی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آیت اللہ محسن اراکی نے مزید کہا: خطرہ اس بات کا ہے کہ شناخت میں، معاشرہ اختلاف کا شکار ہو جائے اور مجموعی ارادے کو صدمہ پہنچ جائے اگر ایک معاشرے کا مجموعی ارادہ پاش پاش ہو جائے تو وہ معاشرہ ناکام ہو جائے گا، کامیاب سماج وہ ہے جس پر واحد ارادہ حاکم ہو۔
مجمع تقریب مذاہب اسلامی کے سیکرٹری جنرل نے مزید کہا: اگر ہم چاہیں کہ اسلامی سماج کی ایک پہچان ہو تو ہمیں امام علی علیہ السلام کی تعلیمات کی طرف رجوع کرنا ہو گا، کہ آپ نے فرمایا کہ ہدایت کی راہ میں اپنے ساتھیوں کی کمی سے خوف نہ کھانا لوگ کبھی اپنے ذاتی خواہشات کی بنا پر بھی بکھر جاتے ہیں، وہ چیز جو سماج کو یکجا کرتی ہے ارادوں ، چاہتوں اور رجحانات میں یکسوئی ہے۔
 آیت اللہ اراکی نے موحد معاشرے کی خصوصیات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: وہ سماج جس کی خواہشات ایک ہوں اس کی شناخت بھی ایک ہو گی چاہے وہ مثبت ہو یا منفی، لیکن ہم جب اسلامی سماج کی بات کرتے ہیں تو اس کا مطلب ایک موحد سماج ہے۔
انہوں نے مزید کہا: محمد و آل محمد سے دوستی اور ان کے دشمنوں سے دشمنی اسلامی سماج کو موحد بناتی ہے رسول اکرم(ص) نے اپنے اجر کو اہل بیت(ع) کی محبت قرار دیا ہمارا میڈیا اور ہمارے ذرائع ابلاغ اس راہ پر گامزن ہوں کہ اچھوں سے عشق اور سہر فہرست اہل بیت (ع) سے عشق کو سماج میں مضبوط کریں کہ ہمارے بچے اس عشق کے ساتھ پروان چڑھیں، ایسا معاشرہ واحد ارادے کا حامل ہو گا۔
آیت اللہ محسن اراکی نے محبت اہل بیت(ع) کو سماج میں وحدت ایجاد کرنے والا عنصر قرار دیتے ہوئے کہا: یہ محبت ہمارے اور تمام اسلامی ممالک کے درمیان ایک مشترکہ عنصر ہے یہ محبت واحد شناخت کو وجود میں لا سکتی ہے تکفیری ٹولوں نے اس مشترکہ عنصر کو ٹارگٹ بنایا ہے اور اسے ختم کرنے کی کوشش کی ہے۔
انہوں نے مزید کہا: یہ محمدی شناخت ہم مسلمانوں کو ایک ہی سمت و سو رہنمائی کرتی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ایران کے شہر اراک میں اراک یونیورسٹی، اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی اور دیگر ثقافتی اداروں کے باہمی تعاون سے ’’تقریب مذاہب اسلامی، امام خمینی اور رہبر انقلاب اسلامی کے افکار میں‘‘ کے زیر عنوان پہلی قومی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا ہے جس میں ملکی شخصیات کے علاوہ غیر ملکی دانشوروں نے بھی شرکت کی ہے۔  

مطالب مشابه