logo logo
  • تاریخ انتشار:‌ 1395/09/20 - 12:00 ق.ظ
  • چاپ
نوٹ بند کرنے کی پالیسی کس نے بنائی: سپریم کورٹ کا حکومت سے سوال

نوٹ بند کرنے کی پالیسی کس نے بنائی: سپریم کورٹ کا حکومت سے سوال

نوٹ بند کرنے کی پالیسی کس نے بنائی: سپریم کورٹ کا حکومت سے سوال

عدالت اعظمیٰ نے حکومت سے معلوم کیا کہ کیا نوٹ بند کرنے کی پالیسی پوری طرح خفیہ رکھی گئی تھی؟ چیف demonitisation supreme courtجسٹس ٹی ایس ٹھاکر نے مرکز سے یہ بھی معلوم کیا کہ 24ہزار روپے فی ہفتہ رقم نکالنے کی حد پر کیوں عمل آوری نہیں کی جارہی۔مدعی کی پیروی کرنے والے وکیل پرشانت بھوشن نے عدالت سے کہا کہ نوٹ بند کرنے کے بعد ہونے والی پریشانیوں سے نمٹنے کے لیے حکومت نے کوئی تیاری نہیں کی۔ جس کے بعد سپریم کورٹ نے ایسے 9 نکات طے کئے ہیں جن کے ذریعے اس بات پر غور کیا جائے گا کہ نوٹوں کی منسوخی کا فیصلہ آئینی ہے یا نہیں۔ چیف جسٹس تیرتھ سنگھ ٹھاکر، جسٹس اے ایم کھانولکر اور جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی بینچ نے کہا کہ وہ ان درخواستوں کی سماعت 14 دسمبر کو کرے گی۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ اگر ضروری ہوا تو اس معاملے کی سماعت پانچ رکنی آئینی بنچ کو سونپی جائے گی۔ عدالت نے اشارہ دیا ہے کہ وہ مختلف پوائنٹس پر تفصیل سے سماعت کرے گی۔ تاہم بنچ نے ایک بار پھر یہ واضح کر دیا کہ وہ اقتصادی پالیسی میں بہت زیادہ دخل نہیں دینا چاہتی، لیکن اتنی بڑی تعداد میں دائر درخواستوں کی وجہ سے پیدا ہوئے بڑے سوالات پر تفصیلی سماعت ضروری ہے۔ .عدالت 14 دسمبر کو ہونے والی سماعت میں ان باتوں پر غور کریگی کہ لوگوں کو ہو رہی تکلیف کو کم کرنے کے لئے کیا فوری اقدامات ہو سکتے ہیں؟ کیا ہر ہفتے 24 ہزار روپے نکالنے کی حد میں تبدیلی کی جا سکتی ہے؟ ضلع کوآپریٹیو بینکوں کو فی الحال پیسے جمع کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے یا نہیں؟ عدالت اس بات پر بھی غور کریگی کہ ملک کے الگ الگ ہائی کورٹوں میں دائر مقدموں کو چلنے دیا جائے یا ان پر روک لگا دی جائے؟ آگے کی تفصیلی سماعت کن سوالوں پر ہو؟ آج تقریبا ڈیڑھ گھنٹہ جاری رہی سماعت میں کئی بار ماحول گرم ہوتا نظر آیا۔ کچھ وکلاء کے زور سے بولنے پر چیف جسٹس نے انکی سرزنش بھی کی۔ کیرالہ اور مہاراشٹر کے ضلع کوآپریٹیو بینکوں کی جانب سے کیس کی پیروی کر رہے سینئر وکیل پی چدمبرم نے ان بینکوں کا کام ٹھپ ہو جانے کی دہائی دی۔ انہوں نے کہا کہ ان بینکوں کو نہ تو نوٹ تبدیل کرنے کی اجازت ہے، نہ نوٹ جمع کرنے کی۔ اس سے دیہی معیشت تباہ ہو گئی ہے۔ پورے ملک میں ضلع کوآپریٹیو بینکوں کو کام کرنے کی اجازت ملنی چاہئے۔ اس کی مخالفت کرتے ہوئے اٹارنی جنرل مکل روہتگی نے کہا کہ ضلع کوآپریٹیو بینکوں میں بڑی تعداد میں کسان سوسائٹی کے کھاتے ہیں۔ ایسی سوسائٹی میں ہزاروں کسانوں کو رکن دکھایا جاتا ہے۔اس طرح کی سوسائٹی پر بااثر لوگوں کا کنٹرول ہوتا ہے۔ اس بات کا خدشہ ہے کہ ہزاروں کسانوں کا نام لے کر بڑے لوگوں کے پیسے جمع ہونے لگیں گے۔ جعلی نوٹ بھی بڑے پیمانے پر جمع ہوں گے۔ ان بینکوں کو ابھی 20 دن اور انتظار کرنا ہوگا۔ مسٹر چدمبرم نے دعویٰ کیا کہ نوٹوں کی چھپائی کی رفتار بہت سست ہے۔ صرف تین لاکھ کروڑ کے نوٹ اب تک چھپے ہیں۔ ایسے میں، نوٹ کی پوری سپلائی میں پانچ سے چھ ماہ کا وقت لگے گا۔ اس پر اٹارنی جنرل نے دعویٰ کیا کہ چار لاکھ کروڑ کے نئے نوٹ چھاپ چکے ہیں۔ ان میں سے 3.5 لاکھ کروڑ بینک میں پہنچ چکے ہیں۔ حکومت بلا نقدی سے لین دین کے عمل کو فروغ دے رہی ہے۔اس لیے ضروری نہیں کے تمام نوٹوںکی ضرورت پڑے۔

مطالب مشابه