ستاد مرکزی اربعین|کمیته فرهنگی، آموزشی

banner-img banner-img-en
logo

  ادعیه و زیارات


یہاں دعا قبول ہوتی ہے

چاپ
یہاں دعا قبول ہوتی ہے

 

70. ابو ہاشم جعفری راوی ہیں کہ امام علی نقی علیہ السلام نے بیماری کے عالم میں کسی کو میرے پاس اور محمد بن حمزہ کے پاس بھیجا ، محمد بن حمزہ مجھ سے پہلے امام کے پاس پہونچ گئے انہوں نے مجھ سے بتایا کہ امام کا اصرار ہے کہ میں کسی کو کربلا بھیجوں تاکہ وہ ان کے لئے دعا کرے۔

 میں نے محمد سے کہا تم نے کیوں نہیں کہا کہ یہ کام میں انجام دوں گا؟

اس وقت میں امام کی خدمت میں پہونچا اورعرض کی آپ پر قربان جاؤں میں کربلا جاؤں گا۔

امام نے فرمایا: اپنا خیال رکھنا کوئی اس جانب متوجہ نہ ہو ابن حمزہ طرفدار زید بن علی ہیں اور میں نہیں چاہتا کہ وہ اس موضوع سے آگاہ ہو۔

اس ملاقات کے بعد امام کے حکم کو علی بن بلال سے بتایا۔ انہوں نے کہا:

امام کو کربلا سے کیا حاجت ہے وہ خود حائر اور کربلا ہیں ۔

میں چھاونی تک گیا اور دوبارہ امام کی خدمت میں پہونچا۔

آپ نے فرمایا:بیٹھ جاؤ۔

جب میں امام کے پاس سے واپس آنا چاہا تو میں نے دیکھا کہ میرا رہنا ان کے لئے اچھا ہے تو میں رکا رہا اور علی بن بلال کی باتوں کو امام سے عرض کیا۔

آپ نے فرمایا: کیوں نہیں اس سے کہاکہ رسول خانہ خدا کا طواف کرتے تھے اور حجر اسود کا بوسہ دیتے تھے جب کہ حرمت رسول ، حرمت مومن کعبہ سے بڑھ کر ہے نیز خدا نے اپنے رسول سے فرمایا کہ عرفہ میں وقوف کریں اور یقینا عرفہ ان جگہوں میں سے ہے جسے خدا چاہتا ہے اور خدا چاہتا ہے کہ ان مقامات پر اسے یاد کریں [1] ۔ میرا دل چاہتا ہے کہ مجھے وہاں یاد کیا جائے جہاں خدا دوست رکھتا ہے اور وہ حائر و کربلا ہے اور ان مقدس مقامات میں سے ایک ہے جہاں پر لطف الہی شامل ہے [2] ۔

 

[1]. یہ فرمان امام کا سورہ نور کی آیت ۳۶کی طرف اشارہ ہے : في‏ بُيُوتٍ أَذِنَ اللَّهُ أَن تُرفَعَ وَ يُذكَرَ فيهَا اسمُهُ يُسَبِّحُ لَهُ فيها بِالغُدُوِّ وَ الآصالِ۔

[2]. باب 90، حدیث 1.

 عضویت در کانال آموزش و فرهنگ اربعین

چاپ

برچسب ها: کامل الزیارات۔ حدیث، امام حسین علیہ السلام

نظرات


ارسال نظر


Arbaeentitr

 فعالیت ها و برنامه ها

 احادیث

 ادعیه و زیارات