ستاد مرکزی اربعین|کمیته فرهنگی، آموزشی

banner-img banner-img-en
logo

  ادعیه و زیارات


ادب عاشورا

چاپ
ادب عاشورا

 

59. مالک جہمی راوی ہیں کہ امام باقر ؑ نے فرمایا:

جو کوئی روز عاشورا امام حسین ؑ کی زیارت کرے اور آپ کی قبر پر گریہ کرے روز قیامت وہ اس عالم میں خدا کا دیدار کرے گا کہ ہزار ہزار حج ، ہزار ہزار عمرہ اور ہزار ہزار جہاد کا ثواب پائے گا اور ہر حج و عمرہ اور جہاد کا اجر اس حج و عمرہ و جہاد کے ثواب کے برابر ہوگا جو ان سب کو رسول خدا اور ائمہ کے ساتھ انجام دیا ہو ، میں نے عرض کیا : آپ پر قربان جاؤں اگر کوئی دور افتادہ علاقہ میں رہ رہا ہے اور اس دن کربلا نہیں پہونچ سکتا ہے تو وہ کیا کرے ؟ امام نے فرمایا: اس دن صحرا میں جائے یا بلند جگہ پر یا گھر کی چھت پر اور اشارہ سے سلام بھیجے اور جتنا ہو سکے قاتلین امام حسین ؑ پر لعنت بھیجے اور اس کا یہ عمل ظہر عاشورا سے پہلے ہونا چاہئے پھر حسین ؑ پر گریہ و زاری کرے اور اپنے گھر والوں سے کہے کہ امام حسین ؑ پر گریہ کریں اور اپنے گھر میں مجلس حسینؑ برپا کرے اور امام کی مصیبت پر گریہ کرے اور اس دن ایک دوسرے سے غمگین حالت میں ملاقات کرے اور ایک دوسرے کو تسلیت و تعزیت پیش کرے اور اگر ایسا کیا تو میں ذمہ داری اور ضمانت لیتا ہوں کہ خدا انہیں اجر عظیم عطا کرے گا ۔ میں نے عرض کیا : کیا حقیقت میں آپ ضمانت لیتے ہیں کہ اس صور ت میں انجام دیئے گئے عمل کا اجر انہیں ملے گا ۔ امام نے فرمایا: ہاں جو کوئی اس عمل کو انجام دے گا میں اس کے اجر کی ضمانت لیتا ہوں اور یہ میرے ْذمہ ہے ، میں نے عرض کیا : کس طرح اور ان الفاظ میں یہ تسلیت پیش کرے ۔امام نے فرمایا: خداوند تعالی مصیبت امام حسین ؑ کے اجر و ثواب ہم پر عظیم شمار کرے اور ہمیں اور آپ کو ان لوگوں میں جن کا ولی امام مہدیؑ آل محمدؐ میں سے ہیں اور منتقم خون حسین ؑ ہیں ان کے جانثاروں میں شمار کرے ۔

جہاں تک ممکن ہو روز عاشورا کسی کار و کسب کے ارادے سے باہر نہ جاؤاس لئے کہ وہ دن منحوس ہے اس دن کوئی ضرورت پوری نہیں ہوگی اور اگر کوئی کام انجام بھی پایا تو اس میں برکت نہیں ہوگی اور اس میں کوئی خیر نہ ہوگا اس دن گھر کے لئے کوئی چیز نہ خریدو اس لئے کہ اگر کوئی ایسا کرے گا تو اس کے لئے سبب خیر نہیں ہوگا اور اس کے اہل خانہ کے لئے فراوانی کا سبب نہیں ہوگا ۔

جو شخص اس زیارت کے عمل کو انجام دے گا اس کا ثواب ہزار ہزار حج ، ہزار ہزار عمرہ ، ہزار ہزار جہاد جو رسول خدا کے ہمرکاب میں انجام دیا ہو نیز اس کا اجر تمام انبیاء ، رسول ، صدیقین و شہداء ( جو روز اول سے لے کر صبح قیامت تک چاہے عادی انتقال کیا ہو یا شہید ہوئے ہوں ) اس کے لئے لکھا جائے گا [1]۔

 

[1]. باب 71، حدیث 9.

 عضویت در کانال آموزش و فرهنگ اربعین

چاپ

برچسب ها: کامل الزیارات۔ حدیث، امام حسین علیہ السلام

نظرات


ارسال نظر


Arbaeentitr

 فعالیت ها و برنامه ها

 احادیث

 ادعیه و زیارات