ستاد مرکزی اربعین|کمیته فرهنگی، آموزشی

banner-img banner-img-en
logo

  ادعیه و زیارات


زیارت کے آداب

چاپ
زیارت کے آداب

 

34. محمد بن مسلم کہتے ہیں امام صادق ؑ کی خدمت میں عرض کیا کہ:

 جب آپ کے جد امام حسین ؑ قبر کی جانب کوچ کریں تو کیا یہ سفر حج کے سفر کے مانند ہے؟ تو امام نے فرمایا: ہاں ۔ میں نے عرض کی آداب حج ہمارے لئے بیان فرمائیں ؟ امام نے فرمایا: تمہاری مراد کون سے امور و آداب ہیں ؟ میں نے عرض کیا وہ امور اور آداب جن کی رعایت حاجی کو کرنی چاہئے ۔ امام نے فرمایا: حج کے سفر میں جو تمہارے لئے لازم ہے وہ یہ ہے کہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ حسن معاشرت اور اچھی گفتگو کرو ، زیادہ تر ذکر الہی انجام دو ، صاف اور پاک لباس پہنو ، حرم میں داخل ہونے سے پہلے غسل انجام دو ، تقوی اختیار کرو ، زیادہ تر نماز پڑھو ، رسول و آل رسول پر زیادہ سے زیادہ صلوات بھیجو اور جو مال تمہارا نہیں ہے اس سے پرہیز کرو (حرام چیزیں نہ دیکھو) نگاہوں کو نیچی رکھو ، اگر دوران سفر تمہارا کوئی دینی بھائی مالی مشکل سے دوچار ہو تواس کی مدد کرو اس کی ضروریات کو برطرف کرو ، تقیہ کرنا دین کی مضبوطی کا سبب ہے لہٰذا اسے ترک نہ کرو اور جس چیز سے روکا گیا ہے اس سے دور رہو ، لڑائی جھگڑا اور قسم کھانے سے پرہیز کرو ، بحث و مباحثہ اور اس میں قسم کھانے سے دور رہو ۔

یقینا جب یہ آداب بجا لائے جائیں گے تو حج و عمرہ تمہارا مکمل ہوگا [1] ،تمہارا حج و عمرہ کامل ہوگا اور لطف الہی کے حقدار ہوگے جو تمہیں خدا عطا کرے گا اور اس کی راہ میں جو تم نے زحمتیں برداشت کی ہیں اس کے سبب اس کی مغفرت رحمت اور رضوان الہی کے حقدار ہوگے [2]۔

 

[1]. امام صادق ؑ نے جو آداب بتائے ہیں یقینا حج کے سفر سے مربوط ہیں لیکن زیارت امام حسین ؑ کی اہمیت کے پیش نظر آپ نے اسے سفر حج کے برابر جانا ہے اور یہ وہ آداب ہیں جنہیں زائر امام حسین ؑ کو بجا لانا چاہئے اور سفر میں ان کی جانب توجہ رہنی چاہئے اور اپنے اعمال و افعال اور دیگر لوگوں کے ساتھ حسن معاشرت کی رعایت کرنی چاہئے ۔

[2]. باب 48، حدیث 1.

 عضویت در کانال آموزش و فرهنگ اربعین

چاپ

برچسب ها: زیارت کے آداب. کامل الزیارات۔ حدیث، امام حسین

نظرات


ارسال نظر


Arbaeentitr

 فعالیت ها و برنامه ها

 احادیث

 ادعیه و زیارات