ستاد مرکزی اربعین|کمیته فرهنگی، آموزشی

banner-img banner-img-en
logo

  ادعیه و زیارات


عرش الہی کے سایہ میں

چاپ
عرش الہی کے سایہ میں

 

29. ابن بکیر راوی ہیں : امام صادق ؑ کی خدمت میں عرض کیا :

میں شہر ’’ارّہ جان‘‘ میں داخل ہوا تو میرا دل تڑپا کہ آپ کے جد امام حسین ؑ کے قبر کی زیارت کروں لیکن جتنا میں زیارت کے لئے آگے بڑھ رہا تھا میرا دل وحشت زدہ ہورہا تھا کہ کہیں بادشاہ کے سپاہی اور جاسوس مجھے گرفتار نہ کرلیں میں راستہ سے واپس ہوگیا ۔

امام نے فرمایا: اے ابن بکیر کیا تم نہیں چاہتے کہ خدا یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ تم ہمارے سبب خوفناک اور وحشت زدہ ہوئے ہو کیا تم نہیں جانتے کہ جو کوئی ہمارے سبب خوفزدہ ہو خدا اسے عرش الہی کے سایہ میں رکھے گا[1]۔ اور عرش الہی کے سایہ میں امام حسین ؑ سے ہم کلام ہوگا اور خدا اسے محشر کے خوف سے محفوظ رکھے گا اس دن تمام لوگ وحشت زدہ ہوں گے لیکن اسے کوئی خوف نہیں ہوگا اور اگر اسے وحشت محسو س ہوگی تو فرشتے اسے سکون دلائیں گے اور اپنی بشارتوں سے اس کے دل کو سکون و آرام دیں ۔

 

[1]. سایہ عرش سے مراد پناہ و عنایت الہی میں رکھنا ہے ۔

 عضویت در کانال آموزش و فرهنگ اربعین

چاپ

برچسب ها: کامل الزیارات۔ حدیث، امام حسین علیہ السالم

نظرات


ارسال نظر


Arbaeentitr

 فعالیت ها و برنامه ها

 احادیث

 ادعیه و زیارات