ستاد مرکزی اربعین|کمیته فرهنگی، آموزشی

banner-img banner-img-en
logo

  ادعیه و زیارات


لا متناہی اجر

چاپ
لا متناہی اجر

 

28. ہشام بن سالم ایک طولانی حدیث میں )کہتے ہیں کہ ایک شخص نے امام صادق ؑ کی خدمت میں عرض کی کہ کیا آپ کے جد حسینؑ بن علی ؑ کی زیارت کی جاسکتی ہے؟

 آپ نے فرمایا: ہاں ، اور آپ کی قبر کے پاس نماز بھی پڑھی جاسکتی ہے البتہ امام کی قبر کے آگے نماز نہ پڑھو اور آپ کی قبر تمہاری پشت پر نہ ہو ۔

 ہشام نے پوچھا :جو آپ کی قبر کے پاس نماز پڑھے اس کا اجر کیا ہے ؟

امام نے فرمایا:اگر امام حسین ؑکو اپنا امام جانا ہے تو اس کی جزا جنت ہے ۔

ہشام نے سوال کیا :اور اگر کوئی بے توجہی کے سبب امام حسین ؑ کی زیارت کو ترک کرے تو کیا ہوگا؟

امام نے فرمایا:روز محشر حسرت کرے گا۔

ہشام : اگر کوئی قبر امام ؑ کے پاس قیام کرے تو کیا اجر ہے ؟

 امام :اس کا ہر دن ایک ہزار مہینہ کے اجر کے برابر ہے ۔

ہشام : اگر کوئی امام حسین ؑ کی زیارت کے لئے اور آپ کی قبر تک پہونچنے کے لئے پیسے خرچ کرے تو اس کا اجر کیا ہے؟

امام : جو کوئی ایک درہم خرچ کرے گا تو خدا اسے ہزار درہم عطا کرے گا ۔

ہشام : اگر کوئی امام کی زیارت کی راہ میں مر جائے تو کیا اجر ہے ؟

امام : فرشتے اس کے جنازے میں شریک ہوں گے اور جنت سے اس کے لئے حنوط لاتے ہیں اور اس پر نماز ادا کرتے ہیں اور اس کے کفن کے اوپر اسے جنتی کفن پہناتے اور اس کے جنازہ کے نیچے جنتی گھاس بجھاتے ہیں اور قبر میں اس کے اطراف سے زمین اس سے دور ہوجاتی ہے تاکہ وہ پہلے ہی سے جنت کو اپنے آگے پیچھے دائیں بائیں سے تین میل کے فاصلہ سےجنت کو  دیکھتا ہے اس کی قبر میں جنت کا دروازہ کھل جاتا ہے اور جنت کی نسیم و خوشبو اسے محسوس ہوتی ہے یہاں تک کہ قیامت برپا ہوگی ۔

میں نے امام صادق سے سوال کیا: جو شخص امام حسین ؑ کی قبر کے پاس نماز ادا کرے اس کا ثواب کیا ہے ؟

امام نے فرمایا: جو کوئی دو رکعت نماز ادا کرے اور جو بھی خدا سے دعا طلب کرے گا خدا اسے عطا کرے گا ۔

ہشام : جو کوئی آب فرات سے غسل کرے اور پھر امام حسین ؑ کی زیارت کو جائے تو کیا ثواب ہے ؟

امام : جو کوئی آب فرات سے غسل کرے اور امام کی زیارت کرے اس کے گناہ معاف ہوجائیں گے اور وہ ایسے ہوجائے گا جیسے ابھی ماں کے شکم سے پیدا ہوا ہے ۔

ہشام : اگر کوئی شخص کسی دوسرے شخص کو زیارت کربلا کے لئے پیسہ دے اور زیارت پر بھیجے لیکن کسی مشکل کے سبب زیارت پر نہ جاسکے تو اس کا اجر کیا ہے ؟

امام : خدا اسے ہر درہم کے بدلے کوہ احد کے برابر ثواب و نیکی درج کرتا ہے اور جتنا اس نے خرچ کیا اس کے چند برابر اسے عطا کرتا ہے اور اس کی معین شدہ بلاؤں کو اس سے ٹال دیتا ہے اور اس کے مال و اموال کی حفاظت کرتا ہے ۔

ہشام : اگر کوئی ظالم بادشاہ اس پر ظلم کرے اور امام حسین ؑ کی زیارت کے سبب اسے قتل کردے تو اس کا کیا اجر ہے؟

امام : اس کا پہلا قطرہ خون جو زمین پر گرے گا اس کے تمام گناہ معاف کردیئے جائیں گے اور سرشت الہی جس سے فرشتے خلق ہوئے ہیں اس کے ذریعہ  اس کی شست و شو ہوگی یہاں تک کہ یہ پاک اور خالص ہوجائے گا اور انبیاء جیسے خالص بندگان الہی میں سے ہوگا اور اس کی سرشت میں جو کفار اور گناہ کی آلودگی تھی وہ اس سے دور ہوجائے گی اس کے دل و سینہ کو وا کریں گے اور اسے ایمان سے سرشار کریں گے اور پھر یہ شخص پاک و خالص ہوجائے گا اور اس کا جسم و دل تمام آلودگی سے پاک ہوگا اور دیدار الہی کرے گا اور یہ طے پائے گا کہ وہ اپنے گھرانے اور ایک ہزار براداران ایمانی کی شفاعت کرے ۔فرشتے جبرئیل اور ملک الموت کے ساتھ اس کے جنازہ کو اپنے ذمہ لیں گے اور اس کو کفن اور حنوط کریں گے جو بہشت سے لائیں گے اس کی قبر کو وسیع کریں گے اور اس میں چراغ رکھیں گے اور دروازہ بہشت کو کھول دیں گے ، فرشتے جنت کے حیران کن تحفے اس کے لئے لائیں گے اور ۱۸ دن کے بعد حظیرہ القدس (جنت ) میں اسے اوپر لے جائیں گے اور آخری صور پھونکنے تک جب سارے لوگ ہلاک ہوں گے اس وقت تک اولیائے الہی کے ساتھ رہے گا اور جب دوسرا صور پھونکا جائے گا تو وہ اپنی قبر سے باہر آئے گا اور ان پہلے لوگوں میں سے ہوگا جو رسول خدا اور امیر المومنین اور دیگر اوصیائے الہی سے مصافحہ کرے گا اور وہ لوگ اسے خوشخبری دیں گے اور اس سے کہیں گے تم ہمارے ساتھ رہو اور اسے حوض کوثر پر لائیں گے اور پھر وہ اس کو پیئے گا اور جسے چاہے گا اسے پلائے گا ۔

ہشام :اگر کوئی شخص راہ زیارت میں گرفتار ہوکر قید میں ڈال دیا جائے تو اس کا کیا اجر ہے ؟

امام نے فرمایا: قید میں ا س کا ہر دن اور ا س کا غم  کے بدلے روز قیامت تک اس کے لئے عظیم خوشی نصیب ہوگی اور اگر قید میں ڈالنے کے بعد زیارت کے جرم میں اسے ماریں تو اس کے ہر کوڑے کے بدلہ اسے ایک حور دی جائے گی اور ہر درد کے بدلے اسے ہزار نیکی عطا ہوگی اور ہزار گناہ معاف ہوں گے اور ہزاروں ہزار اس کے درجات بلند ہوں گے اور روز قیامت حساب و کتاب ختم ہونے تک رسول خدا کے ہمراہ ہوگا  اس کے بعد عرش الہی کے اٹھانے والے[1]،اس سے مصافحہ کریں گے اور اس سے کہا جائے گا تمہیں جو چاہئے اس کی فرمائش کرو ۔

پھر اس شخص کو بلایا جائے گا جس نے اس زائر کو مارا ہے اور اس ظالم سے کچھ سوال کئے بغیر اس کے بازو کو پکڑیں گے اور اس کو ایک فرشتہ کے پاس لے جائیں گے اور وہ اسے کھولتے ہوئے گندے پانی اور پیپ اور پس کو اسے پلائے گا اور اسے ایک گرم صندوق کے اندر رکھ کر جہنم میں ڈالیں گے اور کہیں گے کہ اس مزے کو چکھو جو تم نے اپنے لئے مہیا کیا ہے اور راہ خدا و رسول خدا میں کوچ کرنے والے کو جو تم نے زد و کوب کی ہے اس کی یہی سزا ہے ۔

اس کے بعد اس زائر کو بلایا جائے گا اور جہنم کے دروازے کے قریب اسے نزدیک کریں گے اس کے بعد آواز آئے گی تم اپنے اوپر ظلم کرنے والے کو دیکھو کہ کس عذاب سے دوچار ہے کیا ہم نے تمہارے دل کو ٹھنڈا نہیں کیا اور تمہارا انتقام اس سے نہیں لیا[2]۔

 

[1]. عرش خدا اللہ کے علم و قدرت و سلطہ کی جانب کنایہ ہے اور حاملین عرش وہ فرشتے ہیں جو خدا کی جانب سے معین ہیں جو علم و قدرت و تدبیر الہی کو موجودات عالم کے سلسلہ میں نافذ کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں ۔

[2]. باب 44، حدیث 2.

 عضویت در کانال آموزش و فرهنگ اربعین

چاپ

برچسب ها: کامل الزیارات۔ حدیث، امام حسین علیہ السالم

نظرات


ارسال نظر


Arbaeentitr

 فعالیت ها و برنامه ها

 احادیث

 ادعیه و زیارات