ستاد مرکزی اربعین|کمیته فرهنگی، آموزشی

banner-img banner-img-en
logo

  ادعیه و زیارات


کربلائیوں کے حق میں امام صادق ؑ کی دعا

چاپ
کربلائیوں کے حق میں امام صادق ؑ کی دعا

 

24. معاویہ بن وہب کہتے ہیں میں نے اجازت طلب کی تاکہ امام صادق ؑ کی بارگاہ میں حاضر ہوسکوں ، جب مجھے اجازت ملی تو آپ کے حجرے میں گیا آپ نماز میں مشغول تھے منتظر رہا یہاں تک کہ آپ کی نماز تمام ہوئی پھر میں نے سنا کہ آپ یہ دعا فرما رہے ہیں کہ خدایا !اے وہ ذات جس نے ہمیں کرامت و عزت عطا کی اور ہمیں وعدہ شفاعت دیا اور ولایت کو ہم سے مخصوص کیا اور گذشتہ و آئندہ کا علم ہمیں بخشا اور تونے لطف کیا کہ لوگوں کے دلوں کو ہماری جانب جھکایا ، خدایا !مجھے اور میرے بھائیوں کو بخش دے ، نیز زائر امام حسین ؑ جنہوں نے اپنا پورا سرمایہ خرچ کیا اور اپنے جسموں پر رنج و الم برداشت کیا ہے اور اس سب کی وجہ صرف یہ ہے کہ ہم سے محبت کرتے ہیں اور جو تو نے اجر ہمارے لئے معین کیا ہے اس کے وہ امید وار ہیں اور وہ خواہش مند ہیں کہ اس کے ذریعہ تیرے رسول کو خوش کریں اور ہمارے حکم کو بجا لائیں اور ہمارے دشمنوں کے دلوں کو جلائیں ان زائرین کا مقصد تیری رضا اور خوشنودی حاصل کرنا ہے ۔لہٰذا ہماری جانب سے انہیں اپنی خوشنودی و جنت عطا کر اور دن و رات ان کا محافظ رہ اور ان کے اہل و عیال اور فرزندوں کو ان کا بہترین جانشین قرار دے جیسا کہ یہ لوگ خود بہترین جانشین ہوئے ہیں ہمیشہ ان کے ساتھ رہ اور ہر ستمگر کے ظلم ، کینہ توز کے کینے اور ہر اذیت کنندہ کے اذیت کو ان سے دور رکھ اور جنات و انسان کے شر سے انہیں محفوظ رکھ اور انہیں بہتر اور زیادہ سے زیادہ اجر عطا کر جو غربت و پردیس کے عالم میں اپنے وطن سے دور تجھ سے امید لگائے ہیں انہیں عطا کر ، جنہوں نے اپنے تمام اثاثۂ حیات اور اولادوں اور اہل خانہ پر ہمیں ترجیح دی ہے ۔

خدایا! ہمارے دشمن اس سفر زیارت کو ان کے لئے عیب سمجھتے ہیں اور انہیں ملامت و اہانت کرتے ہیں لیکن دشمنوں کا یہ رد عمل ہمارے محبوں کو ہماری جانب آنے سے نہیں روک سکا اور اس وجہ سے کہ وہ ہمارے دشمنوں کی مخالفت کے شکار ہوئے ہیں خدایا ! یہ چہرے جو سورج کی تمازت برداشت کرنے کی سبب بد رنگ ہوگئے ہیں ان کے چہروں پر رحمت نازل کر اور جو چہرے قبر امام حسین ؑ پر رکھے ہیں ان پر رحمت نازل کر ، میرے اللہ جو آنکھیں ہماری مصیبت پر گریہ کناں ہیں ان پر رحم کر اور جو دل ہمارے غم میں سوگوار ہیں ان کو ٹھنڈک عطا کر اپنی مہر و محبت اس پر نازل کر ،میرے اللہ ہمارے غم میں جو نالہ و شیون بلند ہوتے ہیں ان پر رحم کر ۔

میرے اللہ ! میں ان جسموں اور ان روحوں کو تیرے حوالے کررہا ہوں تاکہ اس عظیم تشنگی کے دن انہیں حوض کوثر سے سیراب کر ۔

امام صادق ؑ یہ ساری دعا حالت سجدہ میں کررہے تھے جب سر سجدہ سے اٹھایا تو میں نے عرض کیا : آپ پر قربان جاوں میں یہ سمجھ رہا ہوں کہ اگر ان دعاوں کو جوآپ سے سنا ہے اس شخص کے حق میں کی جائے جو خدا کو نہیں پہچانتا ہے اسے بھی آتش جہنم نہیں جلائے گی ، خدا کی قسم میں اب اس بات کی تمنا کررہا ہوں کہ اے کاش حج پر نہ جاتا اور قبر امام حسین ؑ کی زیارت کرتا ، امام نے فرمایا: اے معاویہ تم امام حسین ؑ کی قبر سے بہت نزدیک ہو کس چیز نے تمہیں زیارت سے روک رکھا ہے اس کے بعد فرمایا: اے معاویہ اس زیارت کو ترک نہ کرو ، میں نے عرض کیا آپ پر قربان جاوں مجھے نہیں معلوم تھا کہ اس زیارت کا اتنا اجر و ثواب ہے ، امام نے فرمایا: اے معاویہ آسمان پر رہنے والے زائرین امام حسینؑ کے لئے دعا کرتے ہیں ان کی تعداد ان لوگوں سے زیادہ ہے جو زمین پر زائرین امام حسین ؑ کے لئے دعا کرتے ہیں [1]۔

 

[1]. باب 40، حدیث 2.

 عضویت در کانال آموزش و فرهنگ اربعین

چاپ

برچسب ها: کامل الزیارات۔ حدیث، امام حسین علیہ السالم

نظرات


ارسال نظر


Arbaeentitr

 فعالیت ها و برنامه ها

 احادیث

 ادعیه و زیارات