ستاد مرکزی اربعین|کمیته فرهنگی، آموزشی

banner-img banner-img-en
logo

  ادعیه و زیارات


انبیاء زیارت کی اجازت طلب کرتے ہیں

چاپ
انبیاء زیارت کی اجازت طلب کرتے ہیں

 

22. حسین ؑ بن بنت ابی حمزہ ثمالی کہتے ہیں:

 بنی امیہ کی حکومت کے آخری دنوں میں اہل شام کی جانب سے ڈر اور خوف کے باوجود امام حسین ؑ کی زیارت کو چلا جب کربلا پہونچا تو ایک کونے میں چھپ گیا  تاکہ آدھی رات گذر جائے اور پھر میں امام ؑ کی قبر مطہر کی طرف جاؤں جب قبر سے نزدیک ہونے لگا تو ایک شخص میرے پاس آیا اور کہا :

تمہیں اجر و ثواب مل گیا ہے تم قبر تک نہیں پہونچ سکتے ۔

 نہایت ہی آہ اور افسوس کے ساتھ واپس ہوا ، ابھی سفیدی سحر نمودار نہیں ہوئی تھی کہ دوبارہ قبر مطہر کی جانب بڑھا جیسے ہی نزدیک ہونا چاہا ایک شخص میرے پاس آیا اور کہا:

 اے حسین بن بنت ابی حمزہ ثمالی تم قبر تک نہیں پہونچ سکتے۔

 میں نے اس سے عرض کی : خدا تمہیں صحت و سلامتی دے کیوں نہیں قریب ہوسکتا میں صرف اپنے امام کی زیارت کے ارادہ سے کوفہ سے یہاں آیا ہوں ، برائے کرم میرے اور قبر مطہر کے درمیان حائل نہ ہوئیے مجھے خوف ہے کہ مجھے سورج نکلنے کے بعد اہل شام یہاں دیکھیں اور قتل کردیں ۔

اس نے کہا: کچھ لمحے صبر کرو ، حضرت موسی نے خدا سے اجازت طلب کی ہے تاکہ قبر امام حسین ؑ کی زیارت کریں آج وہ ستر ہزار فرشتوں کے ساتھ آسمان سے نیچے آئے ہیں اور محو زیارت ہیں ، وہ لوگ مغربین کے بعد سے ابھی تک امام حسین ؑ کی بارگاہ میں ہیں اور طلوع فجر کے وقت آسمان کی جانب پلٹ جائیں گے۔

 میں نے اس سے کہا: خدا تمہیں سلامتی دے تم کون ہو؟

 اس نے کہا: میں ان فرشتوں میں سے ایک ہوں جسے خدا نے معین کیا ہے تاکہ قبر امام حسین ؑ کی حفاظت کروں اور ان کے زائروں کے لئے طلب مغفرت کروں ۔

 میں واپس ہوا جب کہ اس حیرانی کے سبب جو فرشتے کی زبانی سنا تھا میں پاگل ہوجانے کے قریب تھا پھر میں نے طلوع صبح کے وقت قبر امام کی زیارت کی اور کوئی میرے لئے رکاوٹ نہیں بنا ، صاحب قبر سے نزدیک ہوا انہیں سلام کیا ان کے دشمنوں پر لعنت بھیجی ، نماز صبح وہیں ادا کی اور پھر شامیوں کے خوف سے جلد واپس ہوگیا [1]۔

 

[1]. باب 38، حدیث 2.

 عضویت در کانال آموزش و فرهنگ اربعین

چاپ

برچسب ها: کامل الزیارات۔ حدیث، امام حسین علیہ السالم

نظرات


ارسال نظر


Arbaeentitr

 فعالیت ها و برنامه ها

 احادیث

 ادعیه و زیارات