ستاد مرکزی اربعین|کمیته فرهنگی، آموزشی

banner-img banner-img-en
logo

  ادعیه و زیارات


جنات کی نوحہ خوانی

چاپ
جنات کی نوحہ خوانی

14. میثمی کہتے ہیں : اہل کوفہ میں سے پانچ لوگ امام حسین ؑ کی مدد کے لئے نکلے جب وہ لوگ ’’شاہی‘‘ نامی شہر سے قریب ہوئے تو دو لوگوں سے ملاقات کی ایک بوڑھا اور ایک جوان تھا ان لوگوں انہیں سلام کیا تو بوڑھے شخص نے کہا :

میں جناتوں میں سے ایک ہوں اور یہ جوان میرا بھتیجا ہے میں اس مرد مظلوم یعنی حسین ؑ بن علی ؑ کی مدد کرنا چاہتا ہوں۔

 اس بوڑھے شخص نے مزید کہا: میں ایک تجویز رکھتا ہوں۔

 ان پانچ لوگوں میں سے ایک جوان نے کہا: آپ کی تجویز کیا ہے ؟

اس نے کہا : یہ کہ میں پرواز کرکے جاؤں اور وہاں کی خبر تمہارے لئے لاؤں تاکہ بصیرت اور معرفت کے ساتھ قدم اٹھاؤ۔

 سب نے کہا: یہ اچھی تجویز ہے۔

 وہ بوڑھا جنات ان دنوں رات غائب رہا ۔دوسرے دن صبح وہ پانچوں لوگ بغیر کسی کو دیکھے ہوئے ایک آواز سنتے ہیں کہ وہ کہہ رہا تھا کہ خدا کی قسم میں تمہارے پاس اس حالت میں واپس آیا ہوں کہ سر زمین طف (کربلا )پر خاک آلود چہرے اور تن سے جدا سر کو دیکھا ہے اور ان کے اصحاب اور جوانوں کے گلوں سے بہتے ہوئے خون کو دیکھا ہے جس طرح اندھیرے میں چراغ منور ہوتا ہے اس طرح میں نے انہیں منور دیکھا ، میں نے اپنے اونٹ کو بہت تیز چلایا یہاں تک کہ ان تک پہونچا اس کے پہلے کہ وہ حوروں سے ملاقات کریں ۔

حسین ؑ ایک ایسے چراغ تھے جن سے لوگ روشنی حاصل کرتے تھے اور خدا گواہ ہے کہ میں ناحق اور جھوٹ نہیں بول رہا ہوں حسین ؑ جنت کے حجروں میں رسول خدا ؐکے پڑوسی ہیں اور زہرائے بتول اور جعفر طیار کے ساتھ مسرور اور شادمان ہیں ، ان پانچ میں سے ایک نے اس خبر دینے والے سے یوں کہا:

جاؤ کہ قبر جو قیام قیامت تک وہاں پر ہے وہ ہمیشہ کے لئے بارش کو برسنے کا بہانہ دیتا ہے تم نے اس راہ میں قدم اٹھایا جس کے تم حقدار تھے اور اس جام سے خود کو سیراب کیا جو فریب و نیرنگ تھا اور وہ تمام جوان افراد بھی جنہوں نے خود کو خدا کے لئے خالص کیا اور مال محبوب اور اپنے گھروں سے اپنے دل کو دور کیا [1]۔

 

[1]. باب 29، حدیث 2.

 عضویت در کانال آموزش و فرهنگ اربعین

چاپ

برچسب ها: کامل الزیارات۔ حدیث، امام حسین علیہ السالم

نظرات


ارسال نظر


Arbaeentitr

 فعالیت ها و برنامه ها

 احادیث

 ادعیه و زیارات