ستاد مرکزی اربعین|کمیته فرهنگی، آموزشی

banner-img banner-img-en
logo

  ادعیه و زیارات


مصیبت عظمیٰ

چاپ
مصیبت عظمیٰ

10. زرارہ بن اعین راوی ہیں کہ امام صادق ع نے فرمایا:

اے زراہ! آسمان نے چالیس صبح حسین ؑ پر خون کے آنسو رویا اور زمین چالیس صبح تاریک ہوئی اور گریہ کیا اور سورج چالیس صبح گہن میں رہا اور گریہ کیا اور پہاڑ ٹکڑے ٹکڑے ہوئے ، اور دریاؤں میں مد و جزر آیا اور فرشتوں نے چالیس دن تک گریہ کیا اور جب تک عبید اللہ بن زیاد کا سر کو ہمارے لئے نہیں بھیجا گیا ہماری خواتین نے سر میں خضاب اور آنکھوں میں سرمہ نہیں لگایا اور بالوں میں کنگھی نہیں کی ۔ واقعہ کربلا کے بعد ہم مسلسل غمگین و محزون تھے ہمارے جد امام سجاد ؑ جب بھی امام حسین ؑ کو یاد کرتے تو اتنا گریہ کرتے کہ آپ کی داڑھی آنسووں سے بھیگ جاتی اور جو بھی آپ کو اس عالم میں دیکھتا اس کے دل میں آگ سی لگ جاتی اور آپ کے گریہ کے انداز پر وہ رو پڑتا ۔

 قبر امام حسین ؑ کے پاس جو فرشتے موجود ہیں وہ آپ پر گریہ کرتے ہیں اور زمین و آسمان کے درمیان جو فرشتے ہیں وہ ان کے گریہ پر وہ گریہ کرتے ہیں ۔

جس وقت روح امام حسین ؑ آپ کے جسم پاک سے جدا ہوئی جہنم نے ایک فریاد کی اور قریب تھا کہ زمین کو دو حصوں میں بانٹ دے ۔ اور جب عبید اللہ بن زیاد اور یزید بن معاویہ کی روح ان کے جسموں سے خارج ہوئی تو جہنم نے ایسی چیخ ماری کہ اگر خدا اسے دوزخ کے مامور فرشتوں سے مہار نہ کرتا تو زمین کے تمام موجودات اس کے ابال سے جل جاتے اور نابود ہوجاتے اگر آتش جہنم کو اجازت دی جاتی تو تمام موجودات کو نگل جاتی لیکن وہ حکم خدا کی مطیع ہے ان تمام باتوں کے باوجود حد سے زیادہ اس کے شعلے بھڑکے اور اپنے محافظوں تک کو آزردہ کیا یہاں تک کہ جبریل حاضر ہوئے اور اپنے بال و پر سے ہوا دی اور آتش جہنم میں ٹھہراؤ آیا ۔ آتش جہنم بھی  امام حسین ؑ پر گریہ  کرتی ہے اور ندبہ کرتی ہے اور آپ کے قاتلوں پر عذاب کرتی ہے اور اگر خدا کی حجتیں زمین پر نہ ہوتیں تو جہنم، زمین کو ویران کردیتی اور اہل زمین کو تتر بتر کردیتی (لیکن مقدرات الہی یہ ہے کہ ) قیامت سے پہلے زمین کے زلزلے اور جھٹکے نہ آئیں ۔

خدا کے نزدیک ان آنکھوں اور آنسووں سے زیادہ کوئی آنکھ اور آنسومحبوب نہیں ہے جو حسین ؑ پر گریہ کرے ۔ اور کوئی بھی حسین ؑ پر گریہ نہیں کرے گا مگر یہ کہ اس کا  گریہ حضرت زہرا تک پہونچتا ہے اور آپ مصیبت حسین ؑ پر اس کی مدد فرماتی ہیں یہ گریہ رسول خدا تک بھی پہونچتا ہے اور اس بات کا سبب ہوتا ہے کہ یہ شخص ہمارے حق کو یاد کرے ۔ تمام لوگ روز قیامت اشک بار محشور ہوں گے مگر جنہوں نے ہمارے جد امام حسین ؑ پر گریہ کیا ہے وہ ایسے عالم میں میدان محشر میں وارد ہوں گے کہ ان کے دل خوش اور انہیں نوید امن و امان دیا جائے گا اور ان کے چہروں پر سرور و سکون نمایاں ہوگا اور دیگر افراد خائف اور مضطرب ہوں گے لیکن حسین ؑ پر گریہ کرنے والے امن و امان میں ہوں گے ۔ تمام لوگ حساب و کتاب میں مشغول ہوں گے اور عزاداران حسینؑ عرش الہی اور سایہ عرش الہی میں امام حسین ؑ سے محو گفتگو ہوں گے اور روز محشر کی مشکلات سے دور ہوں گے اور انہیں کسی قسم کا خوف نہیں ہوگا اور جب ان سے کہا جائے گا کہ جنت میں داخل ہوں تو وہ جانے سے انکار کریں گے اور امام حسین ؑ کے پاس بیٹھنے اور ہم کلام ہونے کو مقدم کریں گے اور اس وقت انہیں جنت کی حوریں انہیں پیغام دیں گی کہ ہم اپنے خدمت گذاروں کے ساتھ  ہمیشہ خوشحال و جوان آپ کے مشتاق دیدار ہیں لیکن وہ لوگ امام حسین ؑ کے پاس بیٹھ کر جو سرور عظمت محسوس کررہے ہوں گے اس کے سبب سر تک نہیں اٹھائیں گے اور حوروں کی جانب دیکھیں گے بھی نہیں ۔

 امام حسین ؑ کے دشمن آتش جہنم کی جانب کھینچے جا رہے ہوں گے اور کچھ لوگ نگاہ حسرت سے کہیں گے ہمارا کوئی شفاعت کرنے والا اور کوئی ہمدر دوست و رفیق نہیں ہے [1]۔اس کے بعد امام حسین ؑ پر گریہ کرنے والوں کے درجات کو دیکھیں گے لیکن ان سے قریب ہونے کی ہمت نہیں کریں گے ۔

فرشتے ان عزاداران حسین ؑ کے خادموں اور حوروں کی طرف سے انہیں پیغام دیں گے کہ خدا نے انہیں کیا عظمت و کرامت عطا کیا ہے ، امام حسین ؑ کے پاس بیٹھنے والے فرشتوں کے جواب میں کہیں گے انشاء اللہ ہم تم تک پہونچیں گے ۔ فرشتے اس پیغام کو ان کی حوروں اور خدمت گذاروں تک پہونچائیں گے اور اس کے بعد ان کا شوق دیدار اور بڑھ جائے گا اور جب اہل بہشت اپنی بیویوں اور حوروں کے پاس پہونچیں گے اور انہیں خبر دیں گے کہ ہم امام حسین ؑ کی بارگاہ میں کس عظمت اور تقرب کے حامل تھے تو وہ کہیں گی کہ تمام تعریفیں اس خدا کے لئے جس نے قیامت کے خوف و ہراس کو ہم سے دور رکھا اور جس کا ہمیں خوف تھا اس سے ہمیں نجات دی ۔

اس کے بعد ان کے لئے سواریاں اور زین کسے ہوئےگھوڑے لائے جائیں گے اور حمد و ثنائے الہی اور رسول و آل رسول پر صلوات پڑھتے ہوئے جنت میں اپنے مقام پر داخل ہوں گے [2]۔

 

[1]. شعراء / 101.

[2]. باب 26، حدیث 8.

 عضویت در کانال آموزش و فرهنگ اربعین

چاپ

برچسب ها: کامل الزیارات۔ حدیث، امام حسین علیہ السالم

نظرات


ارسال نظر


Arbaeentitr

 فعالیت ها و برنامه ها

 احادیث

 ادعیه و زیارات