ستاد مرکزی اربعین|کمیته فرهنگی، آموزشی

banner-img banner-img-en
logo

  ادعیه و زیارات


کس نے اور کیا پوچھا؟

چاپ
کس نے اور کیا پوچھا؟

 

9. عبد السمین نے ایک روایت امیر المومنین سے واسطہ کے ذریعہ اس طرح نقل کی :

ایک دن امیر المومنین ؑ لوگوں سے خطاب کررہے تھے اور درمیان خطاب فرمایا:

قبل اس کے کہ مجھے گنواں بیٹھو مجھ سے پوچھ لو ۔ خدا کی قسم جو کچھ گذر گیا ہے اور جو کچھ ہونے والا ہے اس سے آگاہ کروں گا ۔

 اس وقت سعد بن ابی وقاص کھڑا ہوا اور عرض کیا:

اے امیر المومنین یہ بتائیے کہ  میرے سر میں کتنے بال ہیں ؟

امام نے اس سے فرمایا: خدا کی قسم !تونے مجھ سے سوال نہیں کیا مگر یہ کہ اس سے پہلے میرے محبوب رسول خدا نے اس کی خبر مجھے دی تھی ۔ لیکن جان لے کہ تیرے سر اور داڑھی میں جتنے بال ہیں ہر ایک پر شیطان اپنا بسیرہ کئے ہے اور تو اپنے گھر میں ایک بکرے کو پال رہا ہے جو میرے بیٹے حسین ؑ قتل کرے گا[1] ۔ (ان دنوں عمر بن سعد بچہ تھا جو اپنے باپ کے آگے بیٹھا تھا اور ادھر ادھر دیکھ رہا تھا [2]

 

[1]. اس بکرے سے مراد سعد بن وقاص کا بیٹا ہے جس نے شہر ری کی لالچ میں امام حسین ؑ کے سر مباریک کو جدا کرنے کا حکم دیا اور آپ کے جسم مبارک پر گھوڑے دوڑانے کا حکم دیا۔

[2]. باب 23، حدیث 16.

 عضویت در کانال آموزش و فرهنگ اربعین

چاپ

برچسب ها: کامل الزیارات۔ حدیث، امام حسین علیہ السالم

نظرات


ارسال نظر


Arbaeentitr

 فعالیت ها و برنامه ها

 احادیث

 ادعیه و زیارات