ستاد مرکزی اربعین|کمیته فرهنگی، آموزشی

banner-img banner-img-en
logo

  ادعیه و زیارات


فطرس کے شکستہ بال و پر

چاپ
فطرس کے شکستہ بال و پر

 

5. ابراہیم بن شعیب میثمی کہتے ہیں :امام صادق ؑ کو فرماتے سنا :

جب امام حسین ؑ کی ولادت ہوئی خدا نے جبرئیل کو حکم دیا کہ ایک ہزار فرشتوں کے ساتھ زمین پر جائیں اور خدا اور اپنی جانب سے اس ولادت پر رسول کو مبارک باد پیش کریں جب جبرئیل زمین پر آ رہے تھے تو دریا کے درمیان ایک جزیرہ سے گذرے وہاں پر فطرس نامی ایک فرشتہ رہتا تھا جو کہ عرش الہی کے اٹھانے والوں میں سے تھا اور ایک کوتاہی اور سستی کے سبب اس کے بال و پر ٹوٹ گئے تھے اور اس جزیرہ میں چھہ سو سال سے عبادت الہی میں مشغول تھا یہاں تک کہ امام حسین ؑ کی ولادت ہوئی فطرس نے جبرئیل سے پوچھا:

 کہاں جارہے ہو ؟

جبرئیل نے کہا: خدا نے محمدؐ کو ایک نعمت دی ہے اور مجھے بھیجا ہے کہ ان کو مبارک باد پیش کرنے کے لئے جاؤں ۔

فطرس نے کہا: اے جبرئیل مجھے بھی اپنے ساتھ لے چلو ، شائد محمدؐ میرے حق میں دعا کریں ۔

جبرئیل نے فطرس کی التجا قبول کی اور اپنے ساتھ لے گئے اور جب خدمت رسول میں پہونچے تو اللہ اور اپنی جانب سے مبارک باد پیش کی اور فطرس کے قصہ کو بھی رسول سے بیان کیا ۔ رسول نے فرمایا: اے جبرئیل فطرس کو بھی اندر لے آؤ۔

 جبرئیل فطرس کو رسول کے پاس لائے انہوں نے اپنی داستان رسول سے بیان کی رسول نے فطرس کے حق میں دعا کی اور فرمایا:

اپنے آپ کو اس بچہ سے مس کرو اور اپنی جگہ (عرش الہی کو اٹھانے کے لئے ) واپس ہوجاؤ۔

فطرس نے اپنے آپ کو امام حسین ؑ کے وجود مقدس سے متبرک کیا اور واپس عرش الہی کی جانب چلے گئے اور اس وقت جاتے جاتے عرض کیا :

اے رسول خدا آپ کی امت اس بیٹے کو شہید کرے گی اور جو لطف و محبت آپ نے میرے حق میں کیا ہے اس کی تلافی کے لئے جو بھی اس فرزند کی زیارت کرے گا میں اس کی زیارت کو امام حسین ؑ تک پہونچاوں گا اور جو بھی امام حسین ؑ کو سلام بھیجے گا میں اس کے سلام کو امام تک پہونچاوں گا اور جو کوئی درود بھیجے گا میں اس کی خبر امام حسین ؑ کو دوں گا ۔

فطرس نے یہ کہا  اور آسمان کی جانب پرواز کرگئے [1]۔

 

[1]. باب 20، حدیث 1.

 عضویت در کانال آموزش و فرهنگ اربعین

چاپ

برچسب ها: کامل الزیارات۔ حدیث، امام حسین علیہ السالم

نظرات


ارسال نظر


Arbaeentitr

 فعالیت ها و برنامه ها

 احادیث

 ادعیه و زیارات