ستاد مرکزی اربعین|کمیته فرهنگی، آموزشی

banner-img banner-img-en
logo

  ادعیه و زیارات


تم شہید ہوگے

چاپ
تم شہید ہوگے

3. امیر المومنین ؑ فرماتے ہیں :رسول خدا ہماری ملاقات کے لئے تشریف لائے تھے ام ایمن نے ہمارے لئے دودھ مکھن اور کھجوریں بھیجی تھیں ہم نے اس میں سے کچھ حصہ رسول کے لئے پیش کیا ، آپ نے ایک لقمہ نوش فرمایا اور حجرے کے گوشہ میں جاکر چند رکعت  نماز ادا کی آخری رکعت کے سجدہ میں ناگاہ رسول کے گریہ کی آواز بلند ہوئی  آپ کی شخصیت کا رعب و جلال اس بات میں سد راہ ہوا کہ اس سلسلہ میں آپ سے سوال کرسکیں لیکن نماز کے بعد حسین ؑ کھڑے ہوئے اور رسول کی آغوش میں بیٹھ گئے اور کہا:

نانا جان!جب آپ ہمارے گھر تشریف لائے تھے توہم لوگ ہمیشہ سے زیادہ آج خوش ہوئے تھے لیکن اس وقت آپ کے گریہ نے ہمارے دلوں کو محزون کردیا ہے بتائیے آپ نے کیوں گریہ کیا ہے ؟

رسول نے فرمایا: چند لمحہ پہلے جبرئیل ہمارے پاس آئے اور خبر دی کہ تم شہید ہوگے اور تمہاری قبریں زمین پر مختلف جگہوں پر ہوں گی اور ایک دوسرے سے جدا ہوگے ۔

 امام حسین ؑ نے عرض کیا : نانا جان! ہماری ان مختلف مقامات پر قبروں کی جو زیارت کرے گا اس کا اجر کیا ہوگا ؟

 رسول نے فرمایا: وہ گروہ ہماری امت میں سے ہوگا جو تمہاری قبروں پر آئیں گے اور اسی سبب وہ فضل و برکت طلب کریں گے لہٰذا مجھ پر فرض ہوگا کہ روز قیامت انہیں قیامت کے خوف سے نجات دوں نیز انہیں ان کے گناہوں سے معافی دلاؤں اور خدا انہیں جنت میں مقام و منزلت عطا کرے [1]۔

 

[1]. باب 16، حدیث 9.

 عضویت در کانال آموزش و فرهنگ اربعین

چاپ

برچسب ها: تم شہید ہوگے۔ حدیث، کامل الزیارات۔ امام حسین

نظرات


ارسال نظر


Arbaeentitr

 فعالیت ها و برنامه ها

 احادیث

 ادعیه و زیارات