ستاد مرکزی اربعین|کمیته فرهنگی، آموزشی

banner-img banner-img-en
logo

 ادبیات و پژوهش


تحریف تاریخ

چاپ
تحریف تاریخ

 

یہ امر لائق توجہ ھے کہ بعض لوگ ایسے بھی جوایمان اوراسلام میں حضرت علی کی سبقت کا سیدھے طریقے سے تو انکار نھیں کرسکے لیکن کچھ واضح البطلان علل کی بنیاد پر ایک اور طریقے سے انکار کی کوشش کی ھے یا اسے کم اھم بنا کر پیش کیا ھے بعض نے کو شش کی ھے ان کی جگہ حضرت ابوبکر کو پھلا مسلمان قرار دیں یہ لوگ کبھی کہتے ھیں کہ علی اس وقت دس سال کے تھے لہٰذا طبعاًنا با لغ تھے اس بناء پر ان کا اسلام ایک بچے کے اسلام کی حیثیت سے دشمن کے مقابلے میںمسلمانوں کے محاذ کے لیے کوئی اھمیت نھیں رکھتا تھا۔[11]
یہ بات واقعاً عجیب ھے اور حقیقت میں خود پیغمبر خدا پر اعتراض ھے کیونکہ ھمیں معلوم ھے کہ یوم الدار(دعوت ذی العشیرہ کے موقع پر )رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اسلام اپنے قبیلے کے سامنے پیش کیا اور کسی نے حضرت علی(ع) کے سوا اسے قبول نہ کیا اس وقت حضرت علی کھڑے هوگئے اور اسلام کا اعلان کیا تو آپ نے ان کے اسلام کو قبول کیا بلکہ یھاں تک اعلان کیا کہ تو میرے بھائی ،میرا وصی اور میرا خلیفہ ھے ۔
یہ وہ حدیث ھے جو شیعہ سنی حافظان حدیث نے کتب صحاح اور مسانید میںنقل کی ھے، اسی طرح کئی مورخین اسلام نے اسے نقل کیا ھے یہ نشاندھی کرتی ھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت علی (ع)کی اس کم سنی میں نہ صرف ان کا اسلام قبول کیا ھے بلکہ ان کا اپنے بھائی ، وصی اور جانشین کی حیثیت سے تعارف بھی کروایا ھے ۔[12]
کبھی کہتے ھیں کہ عورتوں میں پھلی مسلمان خدیجہ تھیں ، مردوں میں پھلے مسلمان ابوبکر تھے اور بچوں میں پھلے مسلمان علی تھے یوں دراصل وہ اس امر کی اھمیت کم کرنا چاہتے ھیں [13]
حالانکہ اول تو جیسا کہ ھم کہہ چکے ھیں حضرت علی علیہ السلام کی اھمیت اس وقت کی سن سے اس امر کی اھمیت کم نھیں هوسکتی خصوصاً جب کہ قرآن حضرت یحٰیی(ع) کے بارے میں کہتا ھے : ”ھم نے اسے بچپن کے عالم میں حکم دیا“۔ [14]
حضرت عیسی علیہ السلام کے بارے میں بھی ھے کہ وہ بچپن کے عالم میں بھی بول اٹھے اور افراد ان کے بارے میں شک کرتے تھے ان سے کھا : ”میں اللہ کا بندہ هوں مجھے اس نے آسمانی کتاب دی اور مجھے نبی بنایا ھے “۔[15]
ایسی آیات کو اگر ھم مذکورہ حدیث سے ملاکردیکھیں کہ جس میں آپ نے حضرت علی (ع)کو اپنا وصی، خلیفہ اور جانشین قرار دیا ھے توواضح هوجاتاھے کہ صاحب المنار کی متعصبانہ گفتگو کچھ حیثیت نھیں رکھتی ۔
دوسری بات یہ ھے کہ یہ امرتاریخی لحاظ سے مسلم نھیں ھے کہ حضرت ابوبکر اسلام لانے والے تیسرے شخص تھے بلکہ تاریخ وحدیث کی بہت سی کتب میں ان سے پھلے بہت سے افراد کے اسلام قبول کرنے ذکر ھے ۔ یہ بحث ھم اس نکتے پر ختم کرتے ھیں کہ حضرت علی (ع)نے خود اپنے ارشادات میں اس امر کی طرف اشارہ کیا ھے کہ میں پھلا مومن ، پھلا مسلمان اور سول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ پھلا نماز گذارهوں اور اس سے آپ نے اپنے مقام وحیثیت کو واضح کیا ھے یہ بات آپ سے بہت سی کتب میں منقول ھے۔
علاوہ ازیں ابن ابی الحدید مشهور عالم ابو جعفر اسکافی معتزلی سے نقل کرتے ھیں کہ یہ جو بعض لوگ کہتے ھیں کہ ابوبکر اسلام میں سبقت رکھتے تھے اگر یہ امر صحیح ھے تو پھر خود انھوں نے اس سے کسی مقام پر اپنی فضیلت کے لیے استدلال کیوں نھیں کیا اور نہ ھی ان کے حامی کسی صحابی نے ایسا دعوی کیا ھے۔[16]



منابع: [11] یہ بات فخرالدین رازی نے اپنی تفسیر میںسورہٴ توبہ آیت ۱۰۰۔ کے ذیل میں ذکر کی ھے۔ [12] یہ حدیث مختلف عبارات میں نقل هوئی ھے اور جو کچھ ھم نے بیان کیا ھے اسے ابو جعفر اسکافی نے کتاب ”نہج العثمانیہ“ میں ،برھان الدین نے” نجبا الانبا“ میں ،ابن اثیر نے کامل میں اور بعض دیگر علماء نے نقل کیا ھے (مزید وضاحت کے لئے الغدیر،عربی کی جلد دوم ص۲۷۸ تا۲۸۶کی طرف رجوع کریں۔) [13] یہ تعبیر مشهور اور متعصب مفسر موٴلف المنارنے بھی سورہٴ توبہ آیت ۱۰۰۔کے ذیل میں ذکر ھے ۔ [14] سورہ مریم آیت۱۲۔ [15] سورہٴ مریم آیت ۳۰۔ [16] الغدیر ج۲ ص ۲۴۰۔
ارسال کننده: مدیر پورتال
 عضویت در کانال آموزش و فرهنگ اربعین

چاپ

برچسب ها رحمۃ للعالمین۔ پیغمبر اکرم۔ رسول اللہ۔ رسول اکرم۔ محمد مصطفی۔تحریف تاریخ

نظرات


ارسال نظر


Arbaeentitr

 فعالیت ها و برنامه ها

 احادیث

 ادعیه و زیارات