ستاد مرکزی اربعین|کمیته فرهنگی، آموزشی

banner-img banner-img-en
logo

 ادبیات و پژوهش


تکفیری تشدّد، جدید استعمار کا خادم

چاپ
تکفیری تشدّد، جدید استعمار کا خادم

تحریر: ادریس ہانی[1]

ترجمہ: سید عقیل افضل رضوی

خلاصہ

داعش اور القاعدہ جیسی دہشتگرد تنظیموں نےاپنی دانست میں کافر اور مرتدّ افراد کے خلاف تشدّد کی راہ کو اپنانے سے بالواسطہ یا بلا واسطہ طریقے سے مغرب کے لیے خدمات پیش کی ہیں۔اور ان میں سے سب سے اہم خدمتشائد یہ ہو کہ مغرب نےاسلام کی ایک خونخوار تصویر پیش کرنے کے لیے ان تنظیموں کی انہی کاروائیوں کو ایک مضبوط دلیل کے طور پر پیش کیا۔یہ مسئلہ اسلام کے سماجی کانٹیکسٹ کے اندر پیدا ہونے والے فتنے، خوف اور تقسیم بندیوں کا باعث بنا۔زیر نظر مقالہ میں مغرب کی ان پالیسیوں کی طرف اشارہ کیا جائے گا جن کے تحت وہ تکفیری تنظیموں کو وجود میں لائے اور ان کا  غلط استعمال کیا۔ اس کے علاوہ اس بات کا بھی جائزہ لیا جائے گا کہ کس طرح اور کن مبانی کی بنیاد پر ان  تکفیری تنظیموں نے تشدّد کا راستہ اختیار کیا۔

مقدّمہ

اگر تشدّد خاص تاریخی، سماجی اور روحی حالات میں انسان کے رویّے سے ایک متاثر رجحان ہو تو وہ کونسے حالات ہیں جن کی وجہ سے  اسلامی تحریکوں کے کوئی  گروہ تشدّد کو دہشتگردی کے لیے ایک آلے کے طور پر استعمال کرتا ہے اور اس کے ذریعے اپنے اہداف تک پہنچتا ہے؟

جب یہ گروہ یا تنظیمیں، اپنے اہداف تک رسائی کے لیے قتل عام اور نقصان پہنچانے کے راستے کو تنہا  حل کے طور پر استعمال کرتے ہیں تو ان کی اندرونی نفسیات کیا ہوتی ہے؟ آپ کی نظر میں اسلامی تحریکوں میں موجود یہ مٹھی بھر افراد جو تشدّد کو ایک اسٹریٹیجی اور حکمت عملی کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور تشدّد کی ان کاروائیوں سے خوش بھی ہیں، کیا یہ لوگ اسلام کی جاذبیت کے اس رخ کو نہیں دیکھتے جہاں تشدّد کی ضرورت ہے اور نہ ہی اسلام پر عرصہ حیات تنگ کرنے کا خیال؟ کیا یہ خیال کیا جا سکتا ہے کہ ان لوگوں نے جو تشدّد کی حکمت عملی پر انحصار کیا ہے، ان کا یہ عمل اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ تنظیمیں  اپنے مخصوص منصوبوں کی جذابیت سے راضی نہیں ہیں؟ اور وہ  بھی ایک ایسے ماحول میں جب مسلمانوں کی نظر میں ان تنظیموں کی زیادہ تر تعداد مرتدّ اور جاہل شمار ہوتی ہو؟ گیارہ ستمبر کے حادثے کے بعد القاعدہ کے سربراہان اپنی نظر میں کافروں اور مرتدّوں کے خلاف پر تشدّد کاروائیاں کرنے اور کسی بھی دور میں سب سے زیادہ اسلام کی طرف مائل ہونے والے افراد کے بارے  میں بحث کرتے تھے۔«تورابورا» میں چھپ کر بیٹھے القاعدہ کے یہ قائدین یہ نہیں سمجھتے تھے کہ (ان کے خیال کے مطابق) اسلام کے لیے ان کی یہ خدمت  اسلاموفوبیا کے اس منصوبے کا حصّہ تھی جو اہل مغرب نے «برنارڈلوئس» کی فرمائش پر بنایا تھا۔ انہوں نے اسلامی جغرافیہ کے اندر انتہا پسندی کے ماڈل کی اس لیے حمایت کی کیونکہ وہ اسلام کی بدنما کرکے پیش کرنا چاہتے تھے تاکہ اسلام کے جاذبے کے اس نظریے کو ختم کیا جاسکے جس کے بارے میں اہل مغرب گفتگو کیا کرتے تھے۔ اسلام کی جذابیت مغربیوں کی مشکلات میں سے ایک مشکل تھی، کیونکہ یورپ میں  مسلمانوں کی تعداد اس تیزی سے بڑھ رہی تھی  کہ اہل یورپ سہمے جارہے تھے۔ہنٹنگٹن نے مہاجرین کے داخل ہونے اور اینگلو  سیکسن نژاد امریکیوں کی شناخت کو درپیش خظرات کے بارے میں خبردار کیا تھا اور کہا تھا کہ امریکہ وہ پہلا مغربی ملک ہو گا کہ جو مغربی نہیں رہے گا۔[2]

اسلام کے جاذبہ کو روکنے کے لیے اسلاموفوبیا کی پشت پناہی کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔اس مشکل سے نمٹنے کے لیے متشدّد گروہ ہی حل تھے جن کی مغرب کو تلاش تھی۔ مسلمان نما دہشتگرد تنظیموں نے بالواسطہ اور بلاواسطہ مغرب کے لیے بہت کام کیا ہےاور ان میں سے سب سے اہم خدمتشائد یہ ہو کہ مغرب نےاسلام کی ایک خونخوار تصویر پیش کرنے کے لیے ان تنظیموں کی انہی کاروائیوں کو ایک مضبوط دلیل کے طور پر پیش کیا۔ مغرب کی پروپیگنڈہ مشنری نے مغرب کی خدمت اور اسلام کو ان انتہاپسند تنظیموں میں محدود کرنے کے کمر کس لی، جس کی وجہ سے مغرب کے عوام اور اسلام کے درمیان ایک نفسیاتی ماحول پیدا ہوگیا جو آخر میں وہاں کی پروپیگنڈہ مشنری کی خواہشات کے مطابق آگے بڑھا۔

انتہا پسندوں کی جانب سے مغرب کے لیے پیش کی جانے والی دوسری خدمتاسلام کے سماجی کانٹیکسٹ کے اند فتنے، خوف اور تقسیم بندیوں پیدا کرنا تھا۔ امریکہ کی سابقہ وزیر خارجہ کونڈلیزا رائس نے تخلیقی افراتفری کے نام سے یاد کیے جانے والے اس عنصر پر سے پردہ ہٹایا۔

شدّت پسندوں کی جانب سے پیش کی جانے والی تیسری خدمت یہ تھی کہ  مغربیوں کو سلامتی کونسل میں پینتریبازی (Maneuverability) حاصل ہوگئی جس سے وہ بعض اوقات سلامتی کونسل سے اجازت کے بغیر عالم اسلام کے بہت سے خطّوں پر حملہ آور ہوجاتے۔ یہ منصوبے مغرب اور ان تنظیموں کے درمیان ہونے والے خفیہ اور آشکار معاہدوں کے ضمن میں انجام پاتے رہے۔ اگر ہم ان تنظیموں یا گروہوں کو مغربی ایجنٹوں کا نام نہ  بھی دیں تو کم از کم یہ کہہ سکتے ہیں ان لوگوں کی وجہ سے مغرب کو یہ موقع فراہم ہؤا کہ وہ اسلامی اور عرب سرزمینوں میں داخل ہوں اور پر مسلّط ہوں۔مغربی سامراجیت کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں اپنے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اپنی ایجنٹ تنظیموں کو فراہمی ممکن بنائے۔ اور تکفیری انتہا پسند دینی تنظیمیں وہ سب سے اہم ہتھیار ہیں جو اس بات پر مامور ہیں کہ وہ خطے کی سیاست میں مغرب کی دخالت کو آسان بنائیں۔ اسلام میں انتہا پسندی کے رجحان کو سمجھنے کے لیے، امریکہ علمی حقائق کا حوالہ دیتے ہوئے، اس کی بنیاد پر مشرق وسطیٰ میں اپنے منصوبوں پر عمل کرتا ہے۔ اس اہم کام کے لیے امریکی حکومت کے پاس افکار کا ایک خزانہ موجود ہے۔مغرب کو یہ خزانہ قدیم استعمار سے مربوط کلاسیکل مستشرقین کی انقلابی نسل سے حاصل ہؤا ہے۔ یہاں پر ہماری مراد «برنارڈلوئیس» ہے۔ اس کی بنیادی اہمیت اس چیز میں تھی کہ وہ مشتشرقین کی اس جدید نسل سے تعلق رکھتا ہے جو اسلام کے متعلق اپنے فیصلوں کو قدامت پسندانہ اطوار کے فریم ورک سے باہر آکر صادر کرتے ہیں اور  مسترد اقلیتوں کے بارے میں جائزہ لیتے ہیں۔ جس کا نمونہ حشاشون کتاب ہے۔قدیم اور جدید  استشراق میں فرق قدیم اور جدید استعمار کے اسلوب میں ہے۔جدید استشراق، جس کا ایک نمونہ برنارڈ لوئیس ہے، استعمار کے اسلوبوں کی وسعت میں تاریخی انحراف کے ساتھ تکامل پیدا کرتا ہے اور جدید قوانین پر استوار ہے جیسے  مثبت موقف اختیار کرنا، حکومت کے بارے میں جاننے کے لیے دلچسپی کا اظہار کرنا اور مسترد شدہ اقلیتوں کے بارے میں تحقیق کرنا وغیرہ۔ مستشرقین کا مثبت موقف یہ نہیں کہ وہ منفی کردار ادا کریں؛ جیسا کہ قدیم استعمار کے ادارے ایک مستشرق کو اس بات پر اکساتے تھے کہ وہ مشرقی حکومتوں کی تاریخ، نقشے، اذہان اور ان کی سماجی بنیادوں کا جائزہ لیں، بلکہ اس کا کردار یہ ہے کہ وہ  مشرق کے حالات کے حوالے سے اپنی دقیق شناخت اور سیاستدانوں کو راستہ دکھانے کے لیے سیاسی فیصلوں کا انتخاب کریں۔ مثال کے طور پر، برنارڈ لوئیس ایک مؤرخ اور مستشرق سے وائٹ ہاؤس کا  مشیر بن گیا۔ اس نے مشرق وسطیٰ کا ایک نیا نقشہ تیار کیا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ دین اور نژاد کی بنیاد پر مشرق وسطیٰ کا نقشہ تبدیل کردیا جائے تا کہ جدید استعمار مشرق وسطیٰ کے حوالے سے مختلف  حکمت عملی پر کرسکے، کیونکہ قدیم استعمار کی کامیابیاں اور کارنامے اس علاقے کی تبدیلیوں کے ساتھ تصادم کو تحمل نہیں کرسکتے تھے اور یہ کامیابیاں جدید استعمار کے لیے ایک مانع کی صورت میں تبدیل ہو چکا تھا، لیکن  بلا شبہ شناخت اور تسلّط کے رابطے کے بارے میں ایڈورڈ سعید (معروف مستشرق) کا یہ ہدف تھا کہ وہ «شناخت ہی تسلّط ہے» کے نظریہ کو کامیاب دکھائے اور یہ ثابت کرے کہ مشرق وسطیٰ کی شکل کو تبدیل کرنا ممکن ہے۔ یہ موارد ہمیں ان حقائق کے روبرو کرتے ہیں جو اس معاشرے میں انجام پا چکے یا انجام پا رہے ہیں۔ برنارڈ لوئیس کی نظر میں عالم اسلام کی مشکلات استبدادیت، ظلم اور شکست خوردہ معاشی نظام ہے۔اس کا حل اس صورت میں ہے: اگر مشرقی وسطیٰ میں بسنی والی اقوام نے حالیہ عمل کو جاری رکھا تو خودکش بمبار  پورے خطے میں ایک علامت کی صورت اختیار کر جائیں گے۔ اس عمل کو اختیار کیے رکھنے سے بہت جلد اپنی انتہا کو پہنچنے والی نفرت، کینہ، غربت اور جبر کے بھنور سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں بچے گا۔حتّیٰ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یورپ، روس یا مشرق میں سے کوئی نئی طاقت ان پر اپنا تسلّط قائم کرلے۔ اگر ان ملّتیں  اپنے کینے اور اختلافات کو ایک طرف رکھ دیں اور اپنی توانائیوں اور استعداد کو ایک مشترکہ راہ میں صرف کریں تو یہ موجودہ مشرق وسطیٰ کو ماضی کی طرح دنیا کے تمدّن کا مرکز بنا سکتی ہیں۔ « اب انتخاب ان کا اپنا ہے۔»[3]

یہ متن  ہمیں عالم اسلام کے ایک فاضل ماہر کے روبروہ کرتا ہے جس کی باتیں سوائے اس آخری عبارت کے بالکل صحیح ہیں یعنی« اب انتخاب ان کا اپنا ہے۔» کیونکہ مشرق وسطیٰ کی ملّتوں کو اس انتخاب کو عملی شکل دینے کے لیے ایک سیاسی ارادے کی ضرورت ہے اور یہاں پر سیاسی ارادہ ایک ایسا جیوپولیٹیکل مخمصہ یا کشمکش ہے جس کا عملی شکل اختیار کرنا ممکن نہیں۔ یوں یہ بات مشخص ہو جاتی ہے کہ برنارڈ لوئیس کے تقسیمی نقشے کے مطابق صرف جیو اسٹریٹیجی قابل عمل ہے جس کے مطابق خطّے کی ملّتوں کو اپنے اختلافات کو دور کرنے اوریہاں پر موجود  ذخائر کو اپنے اختیار میں لینے کا موقع نہیں ملے گا۔ یہاں پر اس کا اسلوب یہ ہے کہ وہ جدید استعمار کے سیاسی اقتصاد کے لیے جیو اسٹریٹیجی کو مد نظر رکھے، کیونکہ اس استعمار کی بنیادیں اختلافات پیدا کرنے اور ان روشوں کی ترغیب پر استوار ہیں جن کے ذریعے اسلاموفوبیا کی جڑیں مضبوط کی جاتی ہیں۔اسلاموفوبیا ہی وہ خدمت ہے جو غیر ملکیوں کو سیاسی دخالت کی اجازت دیتی ہے۔شام میں جنگ کے پیچھے تکفیری اور انتہا پسند تنظیموں کی لا محدود حمایت اور ان کو لاجسٹک سپورٹ کو نظر انداز کرنا، یہ وہ علامتیں ہیں جو ہم پر واضح کرتی ہیں کہ اس وقت ہم ایک آشکار نشانیوں کے ساتھ سناریو کے سامنے کھڑے ہیں۔شام میں القاعدہ کی موجودگی پر رپورٹس کے باوجود، امریکہ وہاں پر ہونے والے واقعات پر آنکھیں بند کر کے بیٹھا ہے۔ درحالیکہ وہ تین سال قبل ان تنظیموں کی  مدد اور حمایت کے آپریشن کو روک سکتا تھا، جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ رپورٹس اور غیر جانبدار ہونے کا اظہار کرنا ایک ٹیکٹک ہے تاکہ تکفیری اور دہشتگرد خطّے پر مسلّط ہو سکیں اور اس کے بعد امریکہ کی دخالت کا احساس ہو تا ہے؛ اس کے بعد دہشتگردی کے مقابلے کے لیے ایک بین الاقوامی اتحاد کا آغاز ہوتا ہے، اس اتحاد میں ان طاقتوں کو دعوت نہیں دی جاتی جو اس سے قبل تکفیری دہشتگردوں کے ساتھ برسرپیکار رہ چکی ہیں۔اس اقدام میں تاخیر کی توجیہ کرتے ہوئے، اوباما کا کہنا ہے کہ امریکہ نے ان تنظیموں کی طاقت کو معمولی سمجھا تھا، آگے چل کر مزید کہتا ہے: «ان کو نابود کرنے کے لیے ایک صدی کی مدت درکار ہے۔»اپنی بات کو وہ اس مسحور کن عبارت کے ذریعے آگے بڑھاتا ہے کہ بالآخر ہمارا ہدف شیعہ اور سنّی کے درمیان اختلاف دور کرنا ہے۔ ان تمام منصوبوں اور ان منصوبوں کو امریکیوں  کی سیاسی تقاریر میں پائے جانے والے تفاوتوں کے ساتھ جوڑا جائے  تو یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ یہ انتہا پسند تنظیمیں، در حقیقت، مغربیوں کی کوشش، تسلط اور استبدادیت کا ہی حاصل ہے۔ جب تک یہ دخل اندازی امریکہ کو  اقتصادی بحرانوں سے دوچار کرنے والے عوامل پر کنٹرول کرنے کے قابل رہے گی، امریکہ ایک اور منصوبہ بھی اپنے پاس بنا کر رکھے گا جس کے ذریعے اسے اقوام متحدہ کے بغیر ہی اس دخالت کی اجازت حاصل ہوگی۔اور اس وقت تک دہشتگرد اور تکفیری تنظیمیں اس دخل اندازی کی توجیہ کے لیے سب سے اہم ایشو ہیں۔

اس کے مقابل، تکفیری تنظیمیں ایسے افکار پر یقین پیدا کر لیں گی کہ جن سے فرار ممکن نہیں اور بالآخر تشدّد کی ایک معنوی صورت اور راستے میں تبدیل ہو جائیں گی۔ جہادی سلفیوں کے افکار حقیقت میں سلفیوں کے علمی افکار ہی ہیں؛ کیونکہ ان کے دینی اکابر اور پیروکار آخر میں آکر ابن تیمیہ، ابن قیم اور دین کے بارے میں محمد بن عبد الوہاب کی تشریحات ہی کا حوالہ دیتے ہیں۔ لیکن اس کی کیا دلیل ہے کہ روایتی سلفی ہی جہادی سلفییت کے امیدوار بنتے ہیں؟ یہ سوال تین چیزوں کو بیان کرتا ہے:

  1. ایسے کچھ حقائق موجود ہیں کہ جن کے سبب یہ روائتی سلفی قطعی طور پر جہادی سلفیوں میں تبدیل ہوتے ہیں؛
  2. وہ کونسے دلائل ہیں جو اس تقریباً قطعی تبدیلی کی تشریح کرتے ہیں؟
  3. وہ کونسے ہتھیار ہیں جن کے ذریعے علمی یا روائتی سلفی خود کو جہادی سلفیوں سے بچنے کے لیے استعمال کرسکتے ہیں اور روائتی سلفی کو الگ کرنے کی گوناگوں شکلیں کونسی ہیں؟

شائد فرق اس میں ہو کہ اسلامی خلافت کا راستہ اختیار کرنے اور خلافت عثمانیہ کے سقوط پر رونے والی سلفی جہادی  تنظیمیں یہ بات بھول گئی ہیں کہ اس خلافت کے سقوط کے عوامل میں سے ایک اہم عامل، وہابی تحریک تھی جس نے  ترکوں کے ساتھ مقابلے کے لیے دینی لبادہ اوڑھا تھا۔ حتّیٰ وہابی تحریک کی سب سے زیادہ تعریف کرنے والے، شیخ محمد رضا نے بھی وہابیوں کے ساتھ بعض جزئی مسائل پر اختلاف کی بنا پر، اسلامی سماج کے نظریہ کو ترک کر دیا تھ۔ وہابی تکفیری موج میں یہ تیزی اور اضافہ، اسلامی سماج کے بارے بحث کو ترک کرنے کے ساتھ ہی عمل  میں آیا۔ ارتداد کی کی اس تحریک کو یہ گمان ہے کہ تحریک اور اصلاح کے نظریہ کی آخری کڑی، شیخ محمد رضا ہے۔ شروع میں، حتّیٰ تیل کی دریافت سے بھی پہلے، شیخ محمد رضا، محمد بن عبدالوہاب کی دعوت کا عاشق ہوگیا اور اس کے بارے میں ایک کتاب بھی لکھی۔ آج بھی وہابیت اپنے افکار کے جواز اور مشروعیت کے لیے شیخ محمد رضا کا حوالہ دیتی ہے۔  «سمیر امین» اتنی بڑی حقیقت کے آشکار ہو جانے پر کہتا ہے: خلیجی ممالک کے امیر ہونے اور اس دولت کو اس نظریہ کی ترویج کے لیے خرچ کرنے سے پہلے(شیخ محمد رضا) وہ ہے  جس نے وہابی افکار و نظریات کو مصر میں داخل کیا۔[4] فرق اس نکتے میں مخفی ہے کہ خلافت عثمانیہ کا دفاع کرنے والا محمد رشید رضا، در حقیقت ایک ایسی تحریک  کا دفاع کرتا ہے جو شروع میں عثمانی حکومت کے ساتھ جنگ اور برطانیہ کے نفوذ کو یقینی بنانے کے لیے تھی۔ بالکل اسی طرح، جسطرح انہوں نے مسلمانوں اور بالخصوص مصر کے عقائد کے  ساتھ جنگ کی۔ وہابیت کی تحریک اپنی تشکیل کے ابتدائی دور میں ایک قسم کی جنگ تھی؛ یا انہی کے قول کے مطابق انہیں ان سرزمینوں بربریت کا نام دیں جو عثمانی حکومت کے ہاتھ سے نکل گئی تھیں۔تحریک وہابیت اصل میں جہادی سلفیت تھی (اور اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں)،  لیکن تشدّد کے لیے باہر سے منظّم کی گئی ہے۔ یہ اس وقت ہؤا جب ابن عبدالوہاب جدید حکومت کے ساتھ تاریخی معاہدے کے مطابق، ایسے لوگوں کے ساتھ لڑنے کے لیے دوڑا، جو اس کی نظر میں مرتدّ اور بدعتی تھے۔ یہ ایک ایسا دور تھا جب جزیرہ نما عرب اور  جہادی سلفیوں کی جنگیں، پہلے مرحلے میں رک گئیں، اور یہ تحریک جزا و ثواب، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے جڑی مشغولیتوں میں تبدیل ہو گئی۔ لیکن یہ ثبات اور استحکام ایک وہم تھا، کیونکہ وہ لوگ جن کو وہابی تحریکوں کو تشکیل دینے  کے لیے مامور کیا گیا تھا، اس کو اختتام تک نہ پہنچا سکے اور  بعض اوقات انہی لوگوں میں کا ایک گروہ الگ ہوجاتا اور اسی حکومت کے ساتھ اعلان جنگ کردتیا تھا؛ جیسے الاخوان المسلمون (یہاں حسن البنّا کی اخوان نہیں بلکہ سلفی اخوان مراد ہے) اور جهیمان‌العتیبی کی تحریک۔ اس تحریک کے حوالے سے ابھی بھی شبہات پائے جاتے ہیں۔ اس سے پہلے کہ ایران، مکّہ میں ہونے والے حادثات کا ذمّہ دار امریکہ کو ٹھہراتا، مغرب اور عرب پروپیگنڈہ مشنری نے ان حادثات کو ایران کے ساتھ جوڑ دیا، جبکہ یہ معاملہ سلفی تنظیموں کے ساتھ مربوط تھا جو اس بار، بجائے اس کے کہ الگ ہوتے اور جہادی سلفیت تشکیل دیتے، حکم لے رہے تھے۔ اس سے بہت سے سلفی متاثر ہوئے۔ مقدسی نے جہمیان کی تحریک کی تعریف کرتا ہے اور بھی بہت سے افراد نے اس حوالے سے اپنی نظر دی ہے۔ داعش کی صورت اختیار کا جانے والی القاعدہ تنظیم بھی جہیمی کے افکار کا ہی نتیجہ ہے، البتّہ ان کے اسلوب میں فرق ہے۔ اس تنظیم کی نظر میں جہہیمی صرف ایک دریش منش اور ناتواں انسان ہے جو تشدّد استعمال کرنے کے طور طریقوں کو اہمیت نہیں دیتا۔ آج، روائتی سلفیت پر عقیدت پسندی، موقع پرستی اور مال جمع کرنے کا الزام لگایا جاتا ہے۔ لیکن جب اس گروہ کی سرمایہ کاری سے جڑی  سرگرمیاں رک جاتی ہیں تو یہی روائتی سلفی، جہادی سلفیوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔ خطے سے باہر مختلف گروہوں میں تقسیم ہوجانے، ایک حکومت کی تشکیل ، سرمایہ اور متعدد ذرائع سے توانائی حاصل کرنے کے بعد اس کا خطرہ روز بروز بڑھتا جائے گا۔ اگر ہم فرض کریں کہ اگر سعودی عرب ان تنظیموں کی نظر میں جہادیوں کا  سب سے بڑا دشمن ہے اور یہ فرض کریں کہ یہ ملک وہ سب سے بڑا علاقہ ہے جس نے تاریخی اعتبار سے اس فکر کو قبول کیا ہے اور یہ کہ اس ملک کی تقسیم، مغربیوں کے منصوبے کا ایک حصہ ہے، تو ہمیں پتا چلتا ہے کہ ان تنظیموں کا سب سے بڑا ہدف، سعودی عرب کو نشانہ بنانا  ہوگا۔

کعبہ کو داعش کے توسط سے تباہ کرنا

وہ افکار جن کو القاعدہ نے مخفی رکھا ہؤا تھا، داعش نے ان کو عیاں کر دیا۔ ان دو تنظیموں کے اندر اختلاف پیدا ہونے سے وہ افکار بھی بھی سامنے آگئے جو القاعدہ کے قائدین کے درمیان پائے جاتے تھے۔ جس وقت داعش دہشتگردی کی ایک علامت بن کر ظاہر ہوئی تو پروپیگنیڈہ مشنری نے کچھ ایسی خبریں بھی نشر کیں جن کی طرف دنیا کی توجہ مبذول ہوئی اور پریشانی میں اضافہ ہؤا، جیسے: «داعشکعبہ کو تباہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔»

یہ چیز ہمیں ایران اور عراق جنگ کے دوران نشر ہونے والی ایک خبر کی یاد دلاتی ہے جس میں یہ کہا گیا تھا خمینی کعبہ کو ڈھانا چاہتے ہیں۔ اپنی تمام تر سادگی کے باوجود، یہ خبریں  ملّتوں کو پریشان کرنے اور خلیج کو درپیش ہر خطرے سے نمٹنے  کے لیے  تیار کرنے کی ایک کوشش ہے۔ یہاں پر آکر تیل اور مقدس مقامات خلط ہوجاتے ہیں۔ داعش کا کعبے کو تباہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، لیکن یہ خبریں ایک قیاسی اشارہ ہے کہ اگر داعش حرمین شریفین پر حملہ کرتی ہے تو یہ عمل کا واقع ہونا بھی ممکن ہے۔مقدسات کے مقابل مختلف النوع  جرائم انجام دینے والے اس آئیڈیالوجیکل تعصّب کے لیے کوئی بھی چیز مانع نہیں بن سکتی۔ یہ حملہ، اس تنظیم منتشر تنظیم کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش ہے۔اس مقام پر مقدسات اللہ کی سلطنت و قبضے سے مفہوم لیتے ہیں۔ ان تنظیموں کے علاوہ اللہ کا کوئی نمائندہ نہیں۔ جو تنظیمیں معصوم لوگوں کے سامنے مسلّح ہونے کا جائز سمجھتے ہیں، کیا وہ کعبے کو ڈھانے کو جائز نہیں سمجھتے؟

اسلام میں کعبے کے ساتھ دشمنی  کی پرانی تاریخ ہے۔ سیاسی محرّکات کے  حامل انتہا پسندوں کی جنگیں انسانوں اور مقدسات دونوں کو جائز شمار کرتی ہیں؛ جیسے ابن زبیر کی طرف سے کعبے پر منجنیقوں کے ذریعے حملہ،  یزیدی فوج کی جانب سے مکّہ اور مدینہ کو حلال قرار دیا جانا اور لوگوں کے سر قلم کرنا، حتّیٰ یہ معاملہ پیغمبر اسلامﷺ کے نواسے اور ان کے خاندان تک پہنچ گیا۔ اگر ہم واپس مکہ کے حادثے کی طرف آئیں تو دیکھتے ہیں کہ وہ گروہ جو محرمات پر ایمان نہیں رکھتے، انہوں نے مکہ کو مسلح کر رکھا ہے تا کہ وہ اس طرح اپنے اصلی ہدف تک پہنچ سکیں۔ وہ ہدف یہ ہے کہ  وہ اپنے دشمنوں کو اللہ کا دشمن قرار دیں، اس کے بعد ان گروہوں کی نظر میں اللہ کے دشمن کے لیے کسی قسم کی کوئی حرمت باقی نہیں۔ حرم کے اندر سے داعش کے ساتھ تصادم بن لادن کے خاندان کے لیے بھی  واقع ہؤا ہے، اور انہوں نے مکے کو قدس کی طرح تعمیر کیا ہے اور اس میں کیمرے اور لوگوں کی باتیں سننے والے آلات نصب کئے ہیں، جس کے نتائج تباہ کن ہونگے۔ اور یہ بھی بعید نہیں کہ حرم کے اندر سے فائرنگ کے تبادلے سے کعبہ تباہ ہوجائے۔ اگر داعش یہ فیصلہ کر لے کہ وہ سعودیہ کے ساتھ اس کے اندر جا کر جنگ کرے، تو بلاشبہ ان کی سعودی حکمرانوں کے ساتھ جنگ حرم کے اردگرد ہی ہو گی۔

داعش یہ جانتی ہے کہ اگر وہ فوجی نقطہ نظر سے حرمین شریفین پر مسلط ہوجاتی ہے تو اس کی کیا اہمیت ہوگی۔ اس بات سے ہمیں جہیمیان العتیبی یاد آتا ہے جو داعشیوں کی نظر میں ایک درویش سلفی تھا جو مقدس دہشتگردی کی کاروائیوں سے واقف نہ تھا۔درحالیکہ بہت سے وہ افراد جو داعش کے طریقے کو برا سمجھتے ہیں وہ بھی ابوبکر البغدادی کے منصوبے اور جہیمیان العتیبی کی تحریک کو آپس میں ربط دیتے ہیں بالکل ویسے ہی جیسے ابو قتیبہ نے لباس خلیفہ کتاب میں انجام دیا۔ آخر میں ہو سکتا ہے داعش آخر میں  جہیمیان العتیبی کے خون کا بدلہ بھی لیں۔حوثیوں کے ساتھ لڑائی میں داعش اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ انہیں کسی بھی سویلین موومنٹ کےساتھ مقابلے کے لیے سعودی فوج کی طاقت کا اندازہ لگانا ہوگا۔ بہت سارے دلائل کی بنا پریہ احتمال موجود ہے کہ داعش سعودی عرب کے ساتھ جنگ کری گی۔ جیسے: معنوی سرمائے کی ضرورت، داعش کو یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ آج یا کل انہیں مکّہ پر قبضہ کرنا ہے،  کیونکہ القاعدہ کے افکار کو قبول کرنے کے لیے سب سے زیادہ زرخیز زمین سعودی عرب ہی کی ہے۔ اس آپریشن کے لیے ضروری ہے کہ لوگ اس بات پر قائل ہوں کہ سعودی حکومت شرعی نہیں، اور یہی وہ چیز ہے جو جہیمیان کی تحریک میں بھی واقع ہو چکی ہے۔ابن باز کی نظارت اور سلفی گروہوں کی شکل میں اس تحریک نے ساٹھ کی دہائی میں کام شروع کیا، اور بہت جلد اس سے جدا ہوگئی۔ یہ جدائی کسی فکری بنیاد پر نہیں تھی بلکہ ان کے حکومت کے حوالے سے موقف میں تھی۔ معاشرے  کے اجتماعی ڈھانچے میں ہونے والی ہر تبدیلی وہابیت کے دینی اور تہذیبی جماعت کے سامنے کمزور پڑ جائے گی، کیونکہ وہ وقت کے ساتھ اپنے چہرے بدل لیتے ہیں۔

جہادی سلفیت مسئلہ کا حل نہیں

وہ اہم دلیل جس نے سلفیوں کے سعودی عرب کے اندر انقلاب کو مؤخر کیا، وہ افغانستان جنگ ہے۔امید یہ کی جارہی تھی کہ اس ڈر سے کہ کہیں یہ جہاد انقلابِ ایران کے ساتھ منسلک نہ ہوجائے، امریکہ اور وہابی اسے  اپنے کنٹرول میں لے لیں گے۔ وہابیوں نے افغانستان جنگ کو جہادی سلفیت کی شناخت دی، لیکن یہ کام پوری طرح سے انجام نہ پایا جس کی علامتیں مختلف گروہوں سے تعلق رکھنے والے مجاہدین کی حکومت کے دوران ظاہر ہوئیں۔ جس کا نتیجہ افغانی مجاہدین کی حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے طالبان کا منصوبہ تھا جس کا مقصد افغانستان کی وہابی شناخت کو مضبوط کرنا اور ہر قسم کی ایران کے ساتھ نزدیکی کو روکنا تھا جس نزدیکی کا جغرافیائی  حالاتبھی تقاضا کرتے تھے۔یہاں سے معتدل اور غیر وہابی افغانیوں کے جہاد کے رمز، یعنی صفائی مہم کا آغاز ہؤا۔ اس کے علاوہ ، اسی دور میں ایران کے ۸ سفارتکاروں کے قتل نے بھی ان دو ممالک کے درمیان گہرا شگاف ڈالنے میں مؤثر کردار ادا کیا۔ ان سالوں میں افغانستان جنگ سعودی عرب میں جہادیوں اور جہادی سلفیوں کے پسماندگان کے لیے امیدوں کا مرکز بن گئی جس کی وجہ سے سعودی عرب کے اوپر دباؤ کم ہو گیا۔ اس چیز کو ہم افغان جنگ کے دوران دیکھ سکتے ہیں کہ جس وقت سلفیوں کی جانب سے سعودی عرب میں کسی قسم کی بغاوت دیکھنے میں نہیں آئی۔افغانستان جنگ کے اختتام اور  نافرمانی کے آغاز کے وقت سے ایسے واقعات رونما ہونے لگے کہ جب القاعدہ اور ایسے دھماکوں کی آوازیں گونجنے لگیں کہ جن سے پروپیگینڈہ مشنری نے کوشش شروع کی کہ ان کاروائیوں سے لوگوں کی نظروں کا رخ تبدیل کر کے ایران  کی طرف موڑ دیا جائے، اس سے پہلے کہ رائے عامّہ کے نظریات مشخص ہوتے، القاعدہ ان کاروائیوں کے پیچھے موجود تھی۔ ان اہداف تک رسائی کے لیے افغانستان اور ان علاقوں میں جہاں پر ان جہادیوں کی ضرورت تھی، جہادی سلفیوں کے لیے راہ ہموار ہوگئی۔ جیسے چیچنیا، عراق اور شام۔ ان ممالک میں شکست کا انعکاس سعودی عرب اور دوسرے عرب ممالک میں خطرے کا ابتدائی نقطہ ہوتا تھا۔ لیکن یہ بنیادی حل نہیں تھا، بلکہ  دوسرے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے وقت خریدنے کا  پروجیکٹ ہوتا تھا۔اس کا آسان حل لڑائی کے لیے ایک نیا مرکز پیدا کرنا تھا جہاں ان سلفی جہادیوں کو دہشتگردی کے لیے بھیجا جاسکے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اس خطے میں کبھی سکون نہیں دیکھ سکیں گے۔اور یہ جو دہشتگردی ایک خدمتی عنصر میں تبدیل ہو گئی ہے اسی پر استوار ہے جسے روائتی سلفیوں کے داخلی محاذ کو روکنے کی ضرورت ہے۔ سلفی جہادیوں کو بھارت، چین اور بالکان وغیرہ  بھیجنا اسلام کی نشانیاں مٹانے کے لیے ہی ہے۔ بعض کا ماننا ہے کہ ان علاقوں میں اسلام کی جذابیت اور دیرپائی یہاں پر آنے والے تاجروں اور ان کی طرف سے دعوت اسلام کی وجہ سے ہے۔ وہ چیز جس کی طرف انہوں نے توجہ نہیں   کی، یہ ہے کہ یہ نزدیکیاں ان جیواسٹریٹیجیکل دلائل کی بنیاد پر ہے جو اس دور کے مسلمانوں نے فراہم کیے۔ انہوں نے ایک عظیم صوفیانہ تحریک کو ہندوستا ن کی سرحدوں کی طرف بڑھایا جو اس سرزمین کی روحانی فضا  سے سازگار تھی۔ اس تحریک نے رواداری کے ایک عنصر کو پیدا کیا، اس اعتبار سے کہ یہ امر دو  اسلوبوں کے ساتھ قابل اجرا ہے: یا تکفیری افکار و گروہوں کو وجود میں لایا جائے جو اقلیتوں کی نسلوں کا صفایا کر دیں اور خونی جنگ میں مشغول کر دیا جائے، یا ایسی جماعتوں کو تشکیل دیا جائے جو رواداری اختیار کریں اور لوگوں کے معنوی پہلو کو اپنی طرف جذب کرنے کی خصوصیت کے علاوہ  دوسروں کے ساتھ رواداری کی تہذیب کی بنیادیں مضبوط کریں۔ یہ موضوع اس دلیل کی تفسیر کرتا ہے کہ کیوں صوفیانہ افکار، مغربی اسلامی علاقوں سے مشرقی اسلامی علاقوں کی طرف پہنچے۔ آج داعش کا منصوبہ یہ ہے کہ عالم اسلام کی اس روائتی جیواسٹریٹیجیک حالت کو تبدیل کیا جائے تا کہ ان کی سرحدوں میں مختتم تحریکوں کو بٹھا کر عالم اسلام کے اوپر ایک بڑی جنگ تھوپی جائے جو اس مرتبہ چین اور ہندوستان کی سمت سے ہے۔یہ حالت اس بات کی باعث بنتی ہے کہ مغرب کے لیے جیواسٹریٹیجیک حالت پیدا کی جائے۔ یہ دہشتگرد تنظیمیں مغرب کی تابع تنظیمیں بن کر سامنے آئی ہیں اور بہت سی عیسائی اقلیتیں ان کے تشدد کا نشانہ بنی ہیں، جیسا کہ آج عراق، شام اور لبنان میں ہورہا ہے۔ اپنے جدید منصوبے میں مغرب کی یہ کوشش ہے کہ وہ یوریشیا کے علاقے کو ان جہادیوں کے ذریعے افراتفری کا شکار کرے۔ اس میں اہم نکتہ مسلمانوں اور چین اور روس کے عوام کے درمیان نفسیاتی مانع کو پیدا کرنا ہے۔ افغان جنگ کے دوران یہ واقعہ سوویت یونین اور اسی طرح چین اور ہندوستان کے سرحدوں کے خلاف رونما ہؤا۔یہ نفسیاتی مانع، مغرب کے مشرق وسطیٰ پر مزید تسلط اور روس اور چین کو اس علاقے سے دور رکھنے کے لیے، اس کی جیواسٹریٹیجیک ضرورت ہے۔بریکس تنظیم کے ممبر ممالک کے خلاف مستقبل کے تصادم میں تکفیری انتہا پسندانہ رویّوں کا خاصہ کردار ہے، جن کے نتائج میں چین، روس اور ہندوستان کے خلاف عربوں کی نفرت کی بھڑکتی آگ کی طرف اشارہ کیا جاسکتا ہے، بالکل ویسے جیسے یہ ایران کے خلاف کامیاب ہوئے۔ اس نفرت کے آثار قتل عام ہیں جو مسلمان اقلیتوں اور ان ممالک کے درمیان لڑائیوں کے پس منظر میں ہم دیکھتے ہیں جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہندوستانیوں کو خلیج سے باہر نکال دیا گیا اور چینیوں کی سرمایہ کاری اور ان کے تعاون کو ممنوع قرار دیا گیا۔ بوکو حرام اور القاعدہ جیسی افریقہ میں موجود تکفیری دہشگترد تنظیموں کی یہ ذمّہ داری ہے کہ وہ بریکس کے ممبر ممالک کے سرمایہ کاروں اور کام کرنے والے لوگوں کو باہر نکال دیں۔اس مسئلے سے سب سے پہلے جس کو نقصان پہنچتا ہے وہ افریقہ میں بسنے والی لبنانی اقلیتیں ہیں۔وہ تشدد کے اس ماحول کے اندر ہیں جہاں انتہا پسند تکفیری گروہ بڑھتے جارہے ہیں، دوسرے نمبر پر چینی سرمایہ کار اور اقلیتیں ہیں کہ جن کا حال بھی یہی ہونے والا ہے۔

تشدّد اسلامی سے زیادہ مغربی ضرورت ہے، بالخصوص اس وقت جب ہم دیکھتے ہیں کہ بھرپور تشدّد جتنا اسرائیلی قبضے کے مقابل مزاحمت کو کمزور کرنے اور استحکام کی آگ کو کم کرنے کے لیے ہے اتنا اسرائیل کے خلاف استعمال نہیں ہؤا۔اس لحاظ سے یہ کہنا مشکل ہے کہ روائتی سلفی جہادی سلفیوں کے حملے کی مزاحمت کر سکیں۔ جہادی سلفیوں کے حملوں کی زد میں زیادہ تر روائتی سلفی چاپلوس اور ناقابل اعتماد تھے۔جس وقت جہیمان العتیبی نے ابن باز سے الگ ہو کر اپنی تحریک چلائی تو اس کو اندھا اور بے بصیرت کہہ کر پکارا۔القاعدہ کے قائدین کی نظر میں آج کے روائتی سلفی شیخ، راہ سے بھٹکے ہوئے اور بادشاہوں کے واعظ ہیں۔ جہادی سلفیوں کا تشدد، ان کے مالی وسائل اور ان کی طاقت میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے جبکہ ان سلفی جہادیوں کے مقابلے میں روائتی سلفی خطبا اپنی حفاظت کو یقینی بنانے پر بھی قادر نہیں ہیں۔ جب بھی پسماندگی اور غربت بڑھتی ہے، خطے میں جہادی سلفی تنظیموں کا فائدہ بھی بڑھ جاتا ہے۔پچھلی صدی کے آٹھویں عشرے میں  عرب ممالک میں تقسیم ہونے والی سلفی کتب اور منشوروں کی وجہ سے جہادی سلفیوں کی وہ کامل نسل سامنے آئی جو وہابیت کے زیر انتظام دوسرے عرب ممالک کے لیے بھی خطرہ بنی۔ ان ممالک میں اسلامی ادارے اور تحریکیں بنانے میں وہابیوں کی تیزی سے یہ جہادی سلفی ان ممالک کے لیے ایک داخلی مسئلہ بن گئے ہیں اور اس کے بعد، اب یہ کہنے کا فائدہ ہی نہیں کہ اس مصیبت کا اصل منبع مشرقی ممالک ہیں۔

جہادی سلفی اور ۱۱ ستمبر کا واقعہ

گیارہ ستمبر اور اس کے بعد کے حادثات کے بارے میں ایک رائج غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ اس واقعہ کے پیش آنے کی پیشینگوئی ہنٹنگٹن نے کی تھی، جبکہ یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ اس نے سوائے کچھ نا مفہوم اصطلاحات کے ساتھ واقعہ کے بارے میں بات کرنے کے علاوہ کچھ بھی نہیں کیا اور اس کی بات زیادہ تر ان فیصلوں اور احکامات کے ساتھ شباہت رکھتی ہے جو گذشتہ نصف صدی میں رونما ہونے والے واقعات کے نتیجے میں سامنے آئے۔ یعنی بالکل اسوقت جب دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکہ مشرق وسطیٰ کا قانونی وارث اور اصل کھلاڑی بنا۔ اس جدید صورت حال سے حاصل ہونے والے نتائج نے زیادہ تر عرب اور اسلامی دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے۔ہنٹنگٹن نے ان حقائق کے ساتھ ایسے نظریے کی بنیاد رکھی جو ایک طرف سے عمومی اور دوسری طرف بدبینی کی علامت تھی۔ لیکن یہ بدبینی امریکہ کے روائتی احساس کی وراثت کا ایک حصہ تھی جو اس نے سیاسی کنارہ کشی کے مراحل میں سے ایک مرحلے میں آزمائی تھی۔ہنٹگٹن نے  اس امریکیوں کے اذھان میں اس روائتی احساس کے احیا کے لیے شائد مناسب وقت کا انتخاب کیا تھا۔یہ موارد ان نظریات کے علاوہ تھے جو ان کے ذہنوں کے اندر موجود تھے، جیسا کہ وہ دوسروں سے ڈرتے تھے اور اپنی تہذیب کو ہیچ شمار کرتے تھے۔یہ بات اس پہلی والی علامت سے مربوط ہے جسے ہم نے عمومی کا نام دیا تھا۔خاص طور پر کل جو چیز رونما ہونے والی ہے وہ تمدنوں کی جنگ ہے۔ہنٹنگٹن کے کلام کو اس طرح سے واضح کیاجاسکتا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ، تمدنوں کی جنگ کی علامت ہے، کیونکہ اس کی نگاہ میں، یہ حکومتیں ہیں جو آئندہ ہونے والی تمام جنگوں اور لڑائیوں میں اصلی کھلاڑی ہونگی۔ اس وقت ہونے والے واقعات کا ہنٹنگٹن کے نظریات سے کوئی تعلق نہیں، قبضے کی تبدیلیوں پر بحث کرتے وقت، ٹفلر کی نظر اس کے خلاف ہے۔ ٹفلر نے ہنٹنگٹن کی تمدنوں میں تصادم کی بحث سے  پہلے اپنی نظر کو ظاہر کر دیا تھا۔ ٹفلر کہتا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر صرف حکومتیں اصل کھلاڑی نہیں ہیں، تشدد صرف حکومتوں کے اختیار میں نہیں بلکہ کچھ نئی طاقتیں بھی ہیں جیسے وطن سے مافوق تحریکیں، فرانس میں سبز تحریک یا بین الاقوامی دہشتگرد تنظیمیں۔ بنابریں، اگر ہم اس حوالے سے پیشینگوئی کے بارے میں بات کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں ہنٹنگٹن کی بجائےٹفلر کے نظریے پر غور کرنا ہو گا۔ہنٹنگٹن کے نظریے کا قوی اور ضعیف نقطہ تمدنوں کی جنگ کا دین اور تہذیب کی طرف پلٹنا ہے۔ اس کی کمزوری اس طرح سے ہے کہ حکومتوں اور گروہوں میں لڑائی کی وجہ مبہم ہے۔ وہ اس لڑائی کو صرف تہذیبی اور دینی زاوئے سے دیکھتا ہے، حالانکہ ایک خطے، ایک تمدن اور ایک تہذیب رکھنے والے بھائیوں میں بھی خطرناک لڑائیاں ہوئی ہیں اور شائید ایک جماعت کے ارکان میں بھی۔

دوسری طرف ایسی بہت سی مثالیں بھی موجود ہیں جن میں مختلف تہذیبوں کے ساتھ تعلق رکھنے والے لوگوں اور خاص طور پر اس زمانے میں جسی تہذیبوں کے تصادم کا دور کہا جاتا ہے، میں بقائے باہمی کو دیکھا جاسکتا ہے۔ہنٹنگٹن کے مفروضے نے جنگوں کی اصل علت کو مخفی کردیا ہے جس کا منشا ہمیشہ معاشی عوامل، سرحدوں پر سیاسی رجحانات،  آزادی، قسمت کے تعین اور قوموں  کے وقار کے لیے لڑی جانے والی جنگیں رہی ہیں۔ لیکن ہمیں اس مفروضے کے قوی پہلو کو بھی بیان کرنا ہوگا: جی ہاں! وہ جنگیں جو آج لڑی جا رہی ہیں، وہ کل بھی جاری رہیں گی اور اگر (معاشی اور سیاسی) منشا و مقصد قومی اور حاکمیت کے منافع کے ساتھ جڑ جائے تو اس میں تہذیبی رنگ بھی آجائے گا۔ اس مقام پر جنگ کی وجہ تہذیب نہیں، بلکہ فرض اور خدمت ہے۔ لہذااس بات پر تعجب نہیں کہ امریکہ کے ساتھ جنگ میں صدام حسین نے اسلام اور عربیت کا نعرہ بلند کیا اور امریکیوں نے بھی «قوموں کی آزادی » جیسے  انجیل سے جڑے دینی مقاصد اور جمہوریت کی اقدار کے ساتھ مربوط دینی نعرے اپنائے۔ ان  ظالم فوجوں کی کوشش ہے کہ تیل پر قبضہ کریں جبکہ قوموں اور ملتوں کو ان کی بدبختی کی حالت میں چھوڑ کر حشیش جیسے جدید اور مبالغہ آمیز سیاسی نعروں میں مشغول کریں۔ بنابریں، ہنٹنگٹن کا یہ نظریہ صرف ایک حالت میں ہی صحیح ہے، اور وہ بھی اس وقت جب ہم تہذیب کو جنگ کا نہیں بلکہ اسے ایک تابع عامل کے طور پر نظر میں رکھیں۔

فوکویاما اگر اس بات پر زور دیتا ہے کہ دروازوں کی اسطرف سے  خطرہ نہیں، تو مناسب ہوگا کہ ہم یہ کہیں کہ سرحدوں کے اس پار تمدنی جنگ یا اس کا خطرہ بھی نہیں۔ جنگ یا لڑائی خود تمدن کا موضوع ہے جو اس کے اسلوبوں  کو معیّن کرتا اور اس کو غذا فراہم کرتا ہے۔تمدّنی جنگوں کا اصلاً وجود ہی نہیں، بلکہ  انسانوں کی جنگ ان کے تمدّن کے اندر ہی ہے۔ اسی وجہ سے ہنٹنگٹن امریکہ کو یہ نصیحت کرتا ہے کہ  وہ ایسے واقعات میں دخالت سے پرہیز کرے جس کا نتیجہ ایک یقینی جنگ ہو۔ اس معنیٰ میں ہر حکومت کی کچھ سرحدیں ہوتی ہیں، جن کاکچھ لوگ تہذیبی پہلو سے دفاع کرتے ہیں جبکہ کچھ افراد اس کے خلاف بغاوت کرتے ہیں۔مسئلے کے ایک اور  رخ سےایک ایسیدنیا کے دل میں بنیاد پرست صیہونی حکومت کے وجود کے آگے بھی سوالیہ نشان موجود ہے جو تہذیب و تمدن میں  اس سے بالکل مختلف ہے۔

شناخت اور مسلح تشدد کے خوف

سرد جنگ کے دوران اٹھنے والا ایک سوال یہ تھا کہ: ہم کس طرف ہیں؟ لیکن سوویت یونین کے سقوط کے بعد یہ سوال پوچھا جاتا تھا: ہم کون ہیں؟ یعنی اپنی شناخت کے بارے میں سوال!ہنٹنگٹن کی یہ کوشش تھی کہ سوویت یونین کے سقوط کے آغاز میں بین الاقوامی سطح پر ہونے والے حوادث کی تفسیر و تشریح کے لیے ایک ماڈل بنائے، جبکہ سرد جنگ کے ماڈل نے ان حوادث کی کسی بھی قسم کی تشریح کی سکت ختم کردی تھی۔اس کے باوجود،ہنٹنگٹن تمدنی ماڈلوں کو کوئی دائمی صفت نہیں دیتا۔ لیکن ہم اس بات کو بخوبی جانتے ہیں کہ  جب زخمی دھڑوں نے ان طویل جنگ کی بحالی کے لیے دوبارہ ہمت اکٹھی کی، یہ سرد جنگ دوبارہ پلٹ آئی۔ یوں، اس سوال کو ہم دوبارہ تکرار کریں گے: ہم کس طرف ہیں؟ ایک ایسے وقت میں جب دنیا میں ایک سیاسی اور نظریاتی توازن برقرار ہے، اس امر کا شناختوں پر کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا، خاص طور پر ان شناختوں پر جو خطرات کی زد میں ہیں، اس کے یہ مطلب ہؤا کہ حتّیٰ اس دور میں بھی کسی طرف میلان یا رجحان رکھنا، بعض اوقات بلیک میلنگ کے معنیٰ دیتا ہے؛ یعنی شناختوں کو اس دور کے چیلنجوں کا سامنا نہیں۔ یہ بین الاقوامی توازن ان ممالک اور شناختوں کو پینتریبازی کے لیے موقع فراہم کرتا ہے۔ یہاں پر ہم یہ سمجھ سکتے ہیں کہ کس طرح غیر وابستہ تحریک (NAM)کی طرح کی مختلف تنظیموں اور اداروں کی صورت میں اس توازن کے اندر رہ کرخود کو محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔ اس وقت یہ سوال سامنے ہے: تمہارا رجحان کس طرف ہے؟ یہ ایک کلّی سوال ہے۔ مثلاً ایسٹ کیمپ کی طرف رجحان، وہ بھی سیاسی و اقتصادی آئیڈیالوجیکل اداروں کی طرف مطلق رجحان ، ضروری نہیں اس کا یہ  مطلب ہو۔ سرد جنگ اور عالمی توازن ختم ہونے کے بعد شناخت کے بارے میں سوال کو ایک سنجیدہ چیلنج کا سامنا کرنا پڑا، بالخصوص عالمگیریت کے سائے میں کہ جو اپنے مقابل ایک ایسے قطب کو دیکھ رہی تھی جو (Monopolization) یا انحصار طلبی کے تمام وسائل اپنے اختیار میں لیے ہوئے تھی۔ یہ سوال «ہم کون ہیں؟» اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ یہ حکومتیں خطرات کی زد میں ہیں۔ یہ سوال، در حقیقت تحریک کی ذمّہ داری اور خودی کی طرف بازگشت کے بارے میں جدید آگہی کی پیدائش کے لیے ایک آغاز ہے۔ شناخت کے بارے میں سوال،اس  صلاحیت کو پیدا کرنے کے لیے ہے جو آج کے چیلنجز کا سامنا کر سکے۔لیکن جب اس  آگہی کو زوال آجائے اور شناخت کے بارے میں سوال رول بیک ہو جائے، تو ایسے میں پھر  آفت آتی ہے۔ ایک اور اہم سوال باقی رہ جاتا ہے: کیا سست اور ضعیف شناختیں اپنے وجود کو ثابت کرنے کے لیے تشدّد کے انتخاب کی امیدوار ہیں؟ یا یہ کہ ، تشدّد کے پاس پناہ لینا  انہیں نظر انداز کردینے کا ایک ردعمل ہے؟ دونوں مورد ایک مشکل مساوات میں (Variables) ہیں۔ اگر شناختیں، بڑی طاقتوں کے توسط سے بنائے گئے چیلنجوں کے سامنے ذلّت اور کمزوری کا احساس کریں گی، تو یہ احساس انہیں ایک تنگ کونے میں ایسا محصور کر کے رکھ دے گا کہ  اس کو اپنے حق کے لیے بات کرنے کے لیے صرف تشدّد ہی کا سہارا لینا پڑے گا۔ اس قسم کی شناختوں کی جانب سے انجام پانے والے زیادہ تر تشدد کی ذمہ داری بڑی طاقتوں پر ہے، چاہے وہ سیاسی حکومتیں ہوں یا ان سے جڑی تحریکیں اور ادارے۔ تشدّد وہ  مشترکہ پراڈکٹ ہے جوافراتفری اور بحرانی صورت میں اور فطری شکل میں،  کمزور حکومتوں یا ظالم گروہوں اور ان بڑی طاقتوں کے درمیان پروان چڑھتی ہے جنہوں نے ان کا حق پامال کیا ہو۔ اس کے علاوہ، تشدّد لبرل ازم، سرمایہ دارانہ نظام کی بربریت اور (Consumer society) کے سائے میں استحصال کے پیرامیٹر سے باہر کوئی رجحان (Phenomenon) نہیں۔ اس سوسائٹی میں ہر چیز قابل استحصال ہے حتّیٰ وہ تشدد سے مربوط ہی کیوں نہ ہو۔سرمایہ کار معاشرہ جنگ کے لئے کام آنے والی کارخانے نہیں بلکہ اسلحہ بنانے کی فیکڑیوں ، بلکہ دہشتگردی میں استعمال ہونے والے اسلحے کی جدید نسلکے مالک ہیں۔ ہالیووڈ کی طرح جو تشدد کے حوالے سرمایہ کاری کرتا ہے۔ سرمایہ کاری سے ہماری مراد، مارکیٹ میں پیش کرنا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عالمگیریت کے ان ایام میں ہم ہالیووڈ کی جانب سے پیش کی جانے والی مصنوعات کے اس طوفان کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ لہذا، دہشتگردی کی توجیہات، فلفہ، ہتھیار اور ٹیکنالوجی یہ سب، بڑی حکومتوں ہی کی پیداوار ہے۔ یہ حکومتیں تشدد کے متلاشیوں کو  اپنے اسلوب کی تعلیم دیتی ہیں، خود امریکہ کو دیکھ لیجئے۔ یہ وہی چیز ہے جو ۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ کو رونما ہوئی، گویا دنیا ہالیووڈ فلموں کا کوئی سین دیکھ رہی ہو۔یہ رابطہ جو تقریباً اسلامی تنظیموں اور تشدد کے درمیا ن ایک (Pattern Dependence)ہے، ان میں بعض حقیقی اور بعض غیر حقیقی ہے۔ اگر ہم اس کے غیر حقیقی پہلو کے بارے میں بحث کرنا چاہیں، تو یہ بات واضح ہے کہ اس اسلوب میں اسلامی تحاریک کو اکٹھا کرنے کے بہت سے دلائل موجود ہیں، جن سے دوسری اسلامی تحریکیں اس الزام کی زد میں ہیں کہ ان کےکچھ سیاسی اور معاشرتی ایجنڈے ہیں۔ یہ تہمت اصل میں اسلام پر لگتی ہے۔ بعض لوگ عقیدے، آئیڈیالوجی یا سیاسی تہذیبی لحاظ سے اسلام سے نفرت کرتے ہیں۔ اسلاموفوبیا سے بھرپور یہ نفرت مسلمانوں کی تکفیر تک پہنچ چکی ہے، چاہے یہ لوگ ان تنظیموں کو پسند کرتے ہوں یا نہ کرتے ہوں۔ تشدد پسند یہ تنظیمیں، جیسے القاعدہ اور داعش اسلاموفوبیا کو تقویت دیتی ہیں اور ان تنظیموں کے اسلوب اور مغرب میں اسلاموفوبیا میں بڑھاوے کے بارے میں سوالات اٹھاتی ہیں۔ یہ موضوع براہ راست شناخت کے ساتھ مربوط ہے۔ اس غلط فہمی کو دور کرنے کے لیےاسلام کوتازہ تصویر دینے میں زیادہ کوشش اور فعالیت کرنا اور اس کو رواداری سے بھرپور دین متعارف کراکر اور انسان کی مہارتوں کو بڑھانے والی دینی گفتگو کر نا چاہیئے۔ یہ وہ ذمہ داری ہے جو علما، روشن خیال، دانشوروں اور تحقیق و پروپیگنڈہ کے اداروں کے کاندھوں پر ہے۔ البتہ ماہرین اور مفکرین کی تقویت اور اس منصوبے کو اپنے ذمہ لینے میں حکومت کے کردارکو ہم فراموش نہیں کرتے۔ اسلامی تحریکوں اور تشدد کے درمیان رابطے کے حقیقی پہلو کے جائزے میں موضوعیت اور ذاتیت  میں تداخل پایا جاتا ہے۔ اپنے کام کی ابتدا میں ان تحریکوں کو ظالم حکومتوں کو  مہلک واروں کا بھی سامنا رہا ہے جس کے باعث انہوں نے تشدد کا راستہ اپنایا۔ اپنے پیچیدہ بیانات کو واضح تر کرنے کے لیے ان میں سے بعض تحریکوں یا تنظیموں نے تشدد کو صرف اس لیے اختیار کیا کہ حساب چکتا کرنے کے ایک یہی راستہ تھا۔ان بیانات کو  پیچیدہ لٹریچر کے ساتھ غذا ملتی ہے جس کا ایک نمونہ:«ااخوان المسلمین جنگی قید خانے میں ہیں۔» یا مجھے کیوں پھانسی لگائی اوروہ کاغذات جو چھپ کر سامنے آچکے ہیں جنہوں نے اسلامی پراجیکٹ کو دعوت سے تربیت اور اصلاح سے انتقام و تکفیر میں تبدیل   کیا۔ ہم تاریخ کے پیچیدہ دور میں ان رجحانات کی واپسی کے بارے میں بات کرسکتے ہیں؛ یعنی ایسا دور جس میں جمال الدین افغانی، محمد عبدہ، کواکبی وغیرہ جیسی اصلاح پسند قیادت کے بیانات ایک گروہ کے متضاد بیانات میں تبدیل ہوگئے۔ وہ گروہ جس نے جمال الدین افغانی   اور ان کے شاگردوں کے اسلامی معاشرے کے نظریے اسلامی تنظیموں کے نظریہ میں تبدیل کردیا۔ سید قطب کے نظریے نے ایسا انقلاب برپا کیا جس نے محمد عبدہ کے زمانے سے حتیٰ مالک بن نبی کے دور کے ان افکار کا مقابلہ کیا جن میں شک و شبہ موجود ہے اور عالم اسلام کی حقیقی مشکلات کے بارے میں خاموش ہیں۔ محمد قطب کی کوشش رہی کہ وہ تاریخ سے ایک غیر تاریخی نظریہ دیں۔ وہ اس کو دوسروں سے نقل کرتے ، بغیر اس کے کہ وہ  بازنطیوں اور ایرانیوں سے حاصل کیے جانے والے مسلمانوں کے معیاروں کی دوگانگی (Dichotomy) کو تبدیل کریں۔ قطب کا ماننا تھا کہ  مسلمانوں نے ان کے افکار، اخلاق اور اعتقادات کو چھیڑے بغیر ان سے علم حاصل کیا ہے، چونکہ وہ ان کو جاہلیت کے اسلوب گردانتے تھے۔ حقیقت میں یہ ایک سطحی مطالعہ ہے، کیونکہ  تحریک ترجمہ نے ابتدائی یونانی ڈیموکریسی پر توجہ نہیں دی تھی، اور یہ اس دلیل کی بنیاد پر تھا کہ وہ قواعد ابھی اس حد تک پختہ نہیں ہوئے تھے کہ عربوں کے آداب سلطانی اور ایران میں بادشاہوں کا اخلاق کو اس کے ساتھ مطابقت دی جاسکے۔ دوسرا نکتہ یہ ہے کہ فارسی تہذیب کی طرح یونیانیوں کے پاس بھی عالم اسلام کے اندر کوئی ایسا نہیں تھا جو ان کی تہذیب کا دفاع کرتا۔ تحریک ترجمہ نے عرب اسلامی استبداد کے دور میں کام کا آغاز کیا۔محمد قطب نے استعمار کی جانب سے چمک حاصل کرنے والے ناموں پر نظر  ثانی کرنے کی دعوت دی۔ محمد قطب کی نگاہ میں صلیبی، صہیونی استعمار کے لیے کام کرنے والے ایجنٹ کون لوگ ہیں؟ وہ اس کا جواب دیتے ہیں۔

اس معیار پراگر رفاعة الطهطاوی، محمدعبده‌، جمال‌الدین افغانی، سعد زغلول، قاسم أمین، لطفی السید، طه حسین اور دسیوں دوسرے افراد کو پرکھا جائے  تو ان کی غفلت اور ان کے نوکر ہونے کے مقام و منصب کے باوصف، میں ان میں ایک چیز دیکھتا ہوں کہ ان سب افراد کی پرسنیلٹی یا شخصیت بہت چھوٹی اور ناچیز ہے۔ اس چیز سے بھی بہت ناچیز جو گمراہ کن مشنری نے  ہمیں دکھائی۔[5]

یہ عبارت اس بات پر زور دیتی ہے کہ محمد قطب کا سوال بھی سید قطب کے سوال کی طرح ہی ہے۔ جس طرح اسلامی معاشرے کی نسبت شہری زندگی کی قید کی اہمیت کے بارے میں مالک بن نبی کے موقف پر ان کے تنقیدی جائزے میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ انہوں نے اس تمدنی سوال پر بالکل بھی توجہ نہیں کی۔یہ اس عقب نشینی کی واضح علامت ہے جو (EmotionalIsolation) کی حالت پر ہی منتہی ہوتی ہے۔ ایک ایسی حالت جس کا نتیجہ مادی گوشہ نشینی ہے؛ یعنی وہ چیز جو اس بات کی باعث بنتی ہے کہ تشدد کو جواز حاصل ہو اور اس کی توجیہ کی جاسکے۔قطب کا نظریہ ، گفتگو اور جہالت کے ساتھ جنگ کے نظریے سے ایک ایسے نظریے کی طرف منتقل ہو جاتا ہے جو مسلمان معاشرے میں تنہائی اور احساساتی گوشہ نشینی (EmotionalIsolation) کی طرف دعوت دیتا ہے، کیونکہ اس کے نظر میں یہ معاشرہ ایسا جاہل معاشرہ ہے جس پر شریعت کوئی حکم لاگو نہیں کرتی، اس حکومت کا ڈھانچہ اور اس کی جزئیات کس طرح کی ہیں؟ یہ وہ مسئلہ ہے جو مشخص نہیں ہے۔بلکہ اس مسئلے کو اس وقت اٹھانے کا بھی کوئی فائدہ نہیں!؟ بنابریں، یہ  ساری لڑائی صرف اس چیز کو حاصل کرنے کے لیے ہے  جس کا صحیح تصور بھی ہمارے پاس نہیں۔ حاکمیت کی بحث کو طول دینے والے، سید قطب کے پاس بھی شرعی حاکم اور طاقت کی مشروعیت و جواز کا کوئی تصور نہیں،  اسی لیے حاکمیت اور حکومت کےمفہوم کے گرد گھومنے والے داعش اور القاعدہ کے لٹریچر میں ہم سید قطب کے اثرات کا وہاں مشاہدہ کرتے ہیں جہاں وہ حکومت یا حاکم اور امیر کی تنصیب کے بارے میں بحث کرتے ہیں۔سید قطب کے نزدیک ان کو اپنے قیام کے لیے مفید حاکمیت کے بارے میں سوائے کچھ عام افکار کے کچھ حاصل نہیں ہؤا۔ اس لیے وہ تاریخ اسلام کے اندر بیعت اور شرعی سیاست کے بارے میں  سید قطب سے پہلے کے متون کی طرف رجوع کرتے ہیں۔

اس کے بعد ایک بہت بڑی مصیبت پیدا ہوتی ہے جو سب چیزوں کو تباہ و بربادکردیتی ہے؛ یعنی  پر تشدد اسلامی مکالمے اور وہابی فکر کے درمیان تاریخی آمیزش، بالخصوص ابن تیمیہ کی تکفیری میراث۔ اس موضوع نے تشدد کے لیے زیادہ سخت گیر اور آمادہ تحریکوں کو جنم دیا۔ ہمیں ہجرت اور تکفیر یا جنگ طلب سلفیوں کی طرف توجہ کرنا ہوگی۔ اسلامی تحریکوںکے ساتھ جڑے تشدّد  کے اس لیبل کو اتارنا وہ ذمہ داری ہے جو اہل فکر و علم کے کندھوں پر ڈالی گئی ہے۔ ضروری نہیں کہ اصلاح کے عمل کو تشدد کے ذریعے ہی انجام دیا جائے؛ وہ چیز جو اس قسم کی شدّت پسند تنظیموں اور تحریکوں  کی تشکیل کی وجہ بنی۔ اس مسئلے کی وجہ سے وہ اس راہ پر چلنے پر اور بھی اصرار کرتے ہیں۔ بلکہ بہتر یہ ہے کہ کھلا ماحول، تعلیم اور رواداری کو بڑھایا جائے تا کہ  اس (Isolationist) فکر اصل جڑوں کو ناکارہ بنایا جا سکے۔  اس مکالمے(Discourse) کی فطرت اور مرجعیتوں اور ان کے اہداف و وسائیل کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔بعض اسلامی تنظیمیں، دوسری شدت پسند  تحریکوں کی جانب سے انجام دیے جانے والی پر تشدد کاروائیوں کی وجہ سے خود کو دباؤ میں محسوس کرتی ہیں۔ ضروری نہیں کہ یہ امر ان تحریکوں کے فکری منابع کی طرف پلٹتا ہو۔بعض اوقات، اس مقام پر کسی ایک پر تشدد تحریک کی مرجعیت میں اور کسی اور مقام پر ایک پر امن تحریک  میں وحدت  پائی جاتی ہے۔ ایسی حالت میں، اس کی علّت اس سیاسی ماحول کی طرف پلٹتی ہے جس میں یہ تحریکیں یا تنظیمیں پروان چڑھ رہی ہوتی ہیں۔پر تشدد تنظیمیں ایسے ممالک یا ماحول میں پیدا ہوتی ہیں جہاں پر سماجی حالات سخت یا وہں پر جہالت کا دور دورہ اور علم کا قحط ہو۔ در آں حالیکہ، اس قسم کی تنظیموں کو زیادہ ڈیموکریٹک اور روادار معاشروں میں امن کی طرف دعوت دی جاتی ہے اور بقائے باہمی، رواداری، دوسروں کے احترام اور دینی تعلیم کے اسلوبوں کو انسانی رویوں کا پرچار کیا جاتا ہے۔ ان پروگراموں نے بہت سے ممالک کے اندر، ایسی علامتی تشدد کی تہذیب کی بنیاد رکھی ہے جو کا اکثر نتیجہ مادی تشدد نکلتا ہے۔ یہیں پر تکفیر نے رسمی اور قانونی شکل حاصل کی جو ایک خطرناک ذریعہ ہے۔

تکفیری تشدد؛ استعمار کے لیے ایک جدید فریضہ

وہ چیلنج جس سے اسلامی تنظیمیں روبرو ہیں، وہ رواداری اور کھلا ماحول ہے جو  اس بات سے عاجز ہے کہ وہ کسی بھی فکری تحریک کا تعیّن کرے جس کی فکری شناخت اور مکالمہ اس  کو مشخص کرتے ہیں۔ وہ چیز  جو عرب دنیا میں بعض اسلامی تحریکوں کو ممتاز کرتی ہے، وہ تسامح یا رواداری، کھلا ماحول اور وہ پر تشدد تحریکیں ہیں جو نعرے سے آگے نہیں بڑھتیں۔ جبکہ ان تحریکوں کا ڈھانچہ بھی ان پر تشدد تحریکوں کا ڈھانچہ ہے کہ جو خوابوں کی دنیا میں گم ہیں۔ بنابریں، ہم اس مشترک فکری ڈھانچے کی تلاش میں ہیں جو اسلامی تحریکوں کے تشدد پسندانہ رجحان کے آشکار یا مخفی ہونے میں بنیاد کردار ادا کرتا ہے۔ لیکن افسوس کہ یہ ڈھانچہ، ان تحریکوں کے عقائد کے اندر ایک کینسر میں تبدیل ہو چکا ہے اور ان میں سے بعض اسلامی تحریکوں کے مکالمے کے لیے اس پر تشدد ڈھانچے کو، اس خوارجی مکالمے کے ذریعے ختم نہیں کیا جاسکتا جو ان اسلامی تحریکوں کے لیے ایک نمائش کی صورت بن چکا ہے۔ ہم خوارج کو ایک کلامی یا دینی فرقہ کے عنوان سے بیان نہیں کر رہے، بلکہ ایک مکالمے کے ڈھانچے کے بارے میں بات کر رہے ہیں جسے بعض ایسی اسلامی تنظیموں یا تحریکوں کے لٹریچر کے پس منظر میں پیدا کیا جا سکتا ہے جنہوں نے آج تک اپنے مکالمے کا عمیق اور اندرونی تنقیدی جائزہ نہیں لیا۔ یہ فکر ماضی اور حال دونوں میں حکومت کی مشروعیت اور جوازکو ذلیل و خوار جاننے پر استوار ہے، کیونکہ خوارجی فکر ہی وہ واحد فکر ہے جو حکومت کی تشکیل کو لازمی نہیں سمجھتی۔ افسوس کے ساتھ یہ فکر مولانا مودودی کے نظریات میں واضح طور پر سامنے آنے والا موقف ہے جو ایک غلط تاریخی شعار (إِنِ الْحُكْمُ إِلاَّ لِلَّه)[6] کی صورت میں سامنے آئی قطب کے افکار تک جاری رہی، اور اس بات کا سبب بنی کہ  خوارج کا (عدم حکومت)عقیدہ حکومت کی ایک اور شکل کے لیے دہرایا جائے۔ یہاں پر ہم ایک معدوم حکومت کی حکومت کے ساتھ اختلاف سے دوچار ہو گئے ہیں جس کو سمجھنا علم سیاست کے لیے مشکل ہے۔ یہ (مشکل) امام علیؑ کے اس تاریخی جواب کے باوجود موجود ہے جو آپؑ نے خوارج کے مغالطے کو دور کرنے کے لیے دیا:  «کلمةحقیراد بها الباطل.»[7]در حالیکہ  خوارج یہ جانتے تھے کہ امیر چاہے نیک ہو یا بد، اس کی ضرورت بہرحال ہوتی ہے۔ یہ وہ امر وہ غلط شرعی جواز  ہے جسے خوارج، تاریخ میں اپنی غلط کاریوں کا بہانہ بناتے رہے ہیں۔

اس دور کے خوارج کے بارے میں بات کرنا بہت سخت ہے، وہ بھی  اس وقت، جب اس مفہوم کو  انتہائی پر فریب سرکولیشن کے بعد اسلوبی تبدیلی حاصل ہوگئی ہے۔ معاصر خوارج اس صفت کو  ایکسچینج کرتے ہیں، جبکہ  اس کی شرائط کو خوارج پر تطبیق دیتے ہیں۔ یہ وہی مسئلہ ہے  جو داعش کی القاعدہ تنظیم کے ساتھ آشکار ہؤا۔  کیا امتیاز ہے کہ ابو قتادہ جو اس سے پہلے الجزائر میں جنگ اور بچوں کے قتل پر جواز کا فتویٰ دیتا تھا، داعش کو خوارج کہتا ہے۔ خوارج نے جب جہاد کی فکر کو اپنایا تو اسے ایسی  افراتفری میں تبدیل کر دیا جو وطن کے دفاع سے زیادہ داخلی حکمرانوں کے لیے ایک خطرہ  بن گئی۔ یہ وہ اندھا جہاد ہے جسے فقہ مشخص کرتی ہے اور نہ ہی پاکیزہ اخلاق اور روشن خیال۔ تاریخ میں یہ فکر خوارج کے مکالمے میں کس طرح گھر کر گئی؟ہم ایک مثال کے ذریعے بیان کرتے ہیں۔ مجھے یاد ہے ایک دن الجزیہ چینل پر اسامہ بن لادن کی ایک فلم چل رہی تھی جس میں وہ قندھار آئے خلیج فارس کی حکومتوں کے ایک شیخ سے ملاقات کر رہا ہے۔ ملاقات میں وہ گیارہ ستمبر کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے۔جس وقت خلیجی شیخ نے ٹونز ٹاورز پر حملے کے بارے میں بات کی تو یہ کہا: یہ تم جیسے ایک متّقی شخص کی ضرب ہے جو اللہ کے علاوہ کسی کی خوشنودی نہیں چاہتا۔

یہ دو مصرعے خوارج کے سردار عمران بن حطان کے ہیں جن میں اس نے امام علیؑ کے قاتل ابن ملجم کی مدح کی تھی۔بنابریں، معاصر خوارج ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے کو علیؑ بن ابی طالب پر ضربت کے ساتھ تشبیہ دیتے ہیں۔ اسے ہم شدت پسند تنظیموں کے مکالمے میں خارجی فکر کی سرایت کا نام دیتے ہیں۔ البتّہ یہ تنظیمیں، جیسا کہ یہ خود کہتی ہیں کہ یہ ترقی اور سیاسی و معاشی اصلاحات کے پروگراموں کی ناکامی کا رد عمل ہیں۔یا  جدید کاری کی حکمت عملیوں کا جواب۔ یہ فیصلے اختصار اور جلد بازی کی آفت سے محفوظ نہیں رہ سکے۔ یہ مسئلہ واضح کرتا ہے کہ جدید کاری کا ایک غلط تصور موجود ہے؛ جدید کاری ابھی تک موضوع بحث ہے لیکن  اس کی دلالتوں کی تعریف اور معاشروں میں اس کے مضامین کے نفاذ کیحیثیت سے نہیں۔عام تاریخی مطالعہ کی  وحدت میں جمع ہونے والی جدید کاری کی خاص تاریخ اور مغرب کی خاص تاریخ میں مشترک عنصر موجود ہے، کیونکہ ہماری نظر میں تاریخِ عام، خاص تاریخوں کی تمام شکلوں کا مشترکہ عنصر ہے۔ پس نہ ہماری تاریخ عام ہے اور نہ ہی مغرب کی تاریخ عام ہے، بلکہ یہ کہنا چاہیئے کہ تاریخِ عام ایک مشترکہ عنصر کا نتیجہ ہے؛ یعنی وہ چیز جو تاریخی قوانین کو تشکیل دیتی ہے۔ جدید کاری پر موجود لڑائی یہ ہے کہ کیا ایسے طبقے کی موجودگی میں جو اسلام کے ساتھ جسطرح سے تعامل کرنا چاہیئے، اس کو قبول نہیں کرتے، جدید کاری کی موجودہ صورت کو قبول کریں گے؟ بعض افراد ماڈرن اور ڈیموکیٹ معاشروں کو بلند نمونوں سے خالی سمجھتے ہیں، کیونکہ  بالآخر ہر چیز کا جائزہ لیا جانا چاہیئے، اور یہ نکتہ بھی اس حکم سے خالی نہیں۔ شروع میں اسلام کی موجودگی کی نفی کی بنیاد پر اور عرب دنیا میں سیکولر اور اسلامی رجحانات کے درمیان تناؤ کے ماحول میں سامنے آنے والی اور زیر بحث جدید کاری اسلامی تحریک کو  مزید تقویت دے سکتی تھی وہ بھی شکست کے اس ماحول میں جہاں جدید کاری کی تحریکوں نےعرب تاریخ میں پہلی بار ایک ڈویلپر نہیں بلکہ  جامع اور (Suppressor)  نظم تشکیل دیا۔ اس مسئلے کو اس بات کا تنہا عامل قرار نہیں دیا جاسکتا کہ  طاقت کا حصول بنیاد پرست تشدّد پسند تحریکوں کی تشریح و تفسیر کرے۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیئے کہ اسلام کی طرف بازگشت ایک روحانی اور عملیت پسند (Pragmatic) خواہش تھی۔ بعض قومیں اپنی فطرت کی بنیادپر اس بات کو قبول نہیں کرتیں کہ تہذیبی اور دینی میراث کو  ایسے ناتوان نعروں کے سپرد کردیں کہ جو ہمیں صنعتی  ترقی یافتہ ، ترقی پذیر اور ڈیموکریٹممالک کے راستے پر ڈال دیں۔ خاص طور پر وہ وہ چیز جس نے جدید کاری، سول، ڈیموکریٹک اور ڈویلپر آزادیوں کو نقصان پہنچایا وہ (Suppressor) حکومتیں تھیں  جو جدید یا ماڈرن اور ترقی یافتہ حکومتوں کے نعروں سے طاقت تک پہنچیں۔ ان انتخابات کے بعد دنیا  شکست کے دہانے پر کھڑی ہے۔اسلامی تحریکوں کی ترقی کے رجحان کے بارے میں بات کرنا، حقیقت پسندی کی علامت نہیں، کیونکہ یہ رجحان، اگر یہ تعریف درست ہو تو اس کا تعلق اسلام سے ہے، اور اسلام کوئی ناگہانی واقعہ تو ہے نہیں جو ہم کسی رجحان کے بارے میں بات کریں، یہ ایک ایسا موضوع ہے جو عرب معاشرے میں اپنی گہری جڑوں کے ساتھ استوار ہے۔ ہاں! ہم ایک بے بنیاد رجحان کے بارے میں بات کرسکتے ہیں، جیسے انتہا پسند تحریکوں کے بارے میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ جائز نہیں ہیں اور تشدد کے علاوہ ان کوئی تمدّنی متبادل نہیں ہو سکتا حتّیٰ وہ موقع پرست اسلامی تحریکیں بھی اسی صف میں شامل ہیں جو بغیر کسی ترقّی اور تمدّنی پروگرام کے سیاست میں کود پڑیں۔اس کا مفہومِ خاص ان مفاہیم میں سے ہے جو زیادہ تر بدفہمی کا شکار رہا۔بہرحال، یہ تنہا مفہومِ خاص نہیں تھا جسے معنیٰ کی اس تبدیلی کا سامنا کرنا پڑا، بلکہ عالمی مفہوم بھی اس ظلم کا شکار ہؤا۔ گذشتہ ابحاث میں ہم نے عربی او ر اسلامی کے مفہومِ خاص کا انسان شناسی کے حوالے سے جائزہ پیش کیا اور یہ امر  خود عالمی مفہوم کا ایک دشوار نتیجہ ہے کیونکہ ہر مفہوم اپنے خاص معنیٰ کا متقاضی ہوتا ہے۔البتّہ، انسان شناسی کی رو سے یہ جائزہ جس پر (Cultural constructivist) کا نقطہ نظر حاکم ہے،کلاسیک انسان شناسی کی رو سے جائزے کا ایک اور ردِّ عمل ہے جو مطلق العنانیت کے نقطہ نظر سے زیادہ تاریخی نقطہ نظر سے زیادہ قریب تھا۔ بنابریں، اس موضوع کا تعلق دو  نقطہ نظر سے ہے: ایک طرف سے«لوی بروهیل»اور دوسری طرف سے«لیوی اسٹراس»کے ساتھ۔ میری نظر میں یہ دعوت ایک جدید انسان شناسی  کی تشکیل کے لیے ہے، جس طرح اس کی طرف «امبرٹواکو»دعوت دیتا ہےاور ہو سکتا ہے یہ ہمیں انسان شناسی کے دو مکاتب کے مکمل متضاد پیراڈائم سے باہر نکال لے۔ لہذاخاص کے اوپر اصرار کا یہ ہدف، جہالت کے رکنے کی فتح نہیں، بلکہ اس کے خلاف دو  اسٹرکچروں کو کھولنے کی کاوش ہے۔ خاص ترقّی صرف اس وقت ممکن ہوسکتی ہے جب  کھلے ماحول کا رخ دنیا کی طرف کیا جائے، کیونکہ وہ ہے جو تبدیلی اور ترقّی کا مالک ہے۔ خاص کے اندرعالمی رخنہ ہی ترقی کا تنہا راستہ ہے۔ اس بنیاد پرہر ماحول میں اسلام کے ساتھ مہربان رہنے کی دعوت قابل تشخیص ہے، جس دعوت میں اسلام کو تجریدی تعلیمات کے عنوان سے پیش کیا جائے۔ اسلام تہذیب نہیں بلکہ، وہ تعلیمات ہیں جو دوسری تہذیبوں کے ساتھ تعامل کرتی ہیں۔ لہذا جو چیز یہاں مطلوب ہے وہ ان تعلیمات کو بیان کرنا ہے نہ کہ اجتماعی تجربات یا سیاسی و سماجی اور تہذیبی و سماجی نمونوں کی تشریح کرنا۔ میری نظر میں یہ ایک ایسا جہان ہے جو ہر تہذیبی ٹکراؤ شامل ہے۔ ہر تہذیب میں جہان سے مربوط امور کے ساتھ ایک حاشیہ (Margin) موجود ہوتا ہے جس حاشیہ کی وجہ سے کوئی بھی تہذیب کسی دوسری تہذیب کے ساتھ جڑ نہیں سکتی اور نہ ہی اپنی ساکن حالت سے خارج ہوسکتی ہے۔ عرب، عرب ہے اور مغرب، مغرب۔ یہ ممکن ہے کہ یہ دونوں دنیا کے کسی کونے میں ایک دوسرے سے ملیں، یہ بھی ممکن ہے کہ دنیا کے اس نقطے میں ان کی تعامل کی فطرت میں اختلاف پایا جاتا ہے۔راہیں چاہے مختلف ہی کیوں نہ ہوں لیکن، ترقّی کا جوہر ایک ہی ہے۔ ہو سکتا ہے ایک الّو ہر تہذیب میں پرندہ شمار کیا جاتا ہے، لیکن ہر تہذیب میں یہ ایک الگ علامت کے طور پر دیکھا اور سمجھا جاتا ہے۔بعض کے نزدیک الّونحوست کی علامت سمجھتا جاتا ہے تو بعض کے نزدیک حکمت کا رمز  اور ہو سکتا ہے سب کے نزدیک ایک معمولی پرندہ ہو۔ اس سے ہماری مراد عالمی اور خاص جدل ہے۔اس لحاظ سے ان مٹھی بھر تنظیموں کی جانب سے، جو تمام اسلامی تعلیمات کی عکاسی نہیں کرتیں،  عالمی عقلی اقدارکومسترد کرنے والے موقف ظاہر ہوجاتے ہیں۔ اسلامی تحریکوں کے اندر ایسے بہت سے حصّے ہیں جو اس تضاد کو دیکھتے نہیں ہیں، اگرچہ بعض مفاہیم یا مبانی یا بین الاقوامی قراردادوں کے حوالے سے محتاط ہوتی ہیں۔ (تحریکوں کے) یہ حصّےمذاکرات اور تجزیات کو قبول کرتے ہیں۔کھلے ماحول کے ساتھ  ان کے تفاوتوں کے لحاظ سے دیکھا جائے  تو اس بات پر کوئی دلیل نہیں ان میں سے بہت سی تحریکیں حکومتی اداروں یا جدید حکومتی نظام کے تحت عمل کریں۔ اس وقت سے آئین کی تکفیر کرنے والی انتہا پسند دعوتوں کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہتی۔ کیونکہ ان کا کوئی مستقبل نہیں اور اندھے خوارج کو«لاحکمالالله»  کی تکرار کا دوبارہ موقع نہیں ملے گا۔ خوارج کے اس نعرے کاوہی پرانا لیکن  (Progressive) جواب ہے جو امام علی ؑبن ابی طالب نے فرمایا:«إنهاکلمةحقیراد بها الباطل و لابد من امیر برّ أو فاجر».   بنابریں، یہ جو کہا جاتا ہے کہ آئین کا کوئی جواز نہیں یا قرآن کریم ہمارا آئین ہے، ایک قسم کا مجاز ہے جو مغالطہ میں تبدیل ہوگیا ہے، کیونکہ قرآن کریم کی مختلف صورتیں ہیں اور آئین کسی زمانے میں مخصوص تصوّرات ہیں جو تعلیمات سے اخذ کیے گئے ہیں جن پر  جدید حالات کی بنیاد پر نظر ثانی کی جا سکتی ہے۔ان کے پاس اسلام کے سیاسی نظام کاکوئی سیاسی تصوّر یا حقیقی نقطہ نظر موجود نہیں۔ حاکمیت کو عملی کرنے کے لیے جن مقدّمات کو بیان کرتا ہے، ان مقدّمات کی تفصیل کو ایسی نسل کے سپرد کرتا ہے جو مستقبل میں تشدّد آمیز طاقت سے اللہ کی حکومت کو زمین پر برپا کریں۔ کچھ دہائیوں کے بعد، اس نقطہ نظر نےداعش کو  اس پروجیکٹ کے قیام کی جزئیات میں تصرّف کا حق دیا۔

اسی طرح خلافت کا ماڈل، ان تنظیموں کو ماضی کا شدّت کے ساتھ شائق بناتا ہے۔اس قسم کا نظریہ رکھنے والوں کے لیے یہ ایک تاریخی مغالطہ ہے یا طالبان حکومت کا آئیڈیل نمونہ۔ البتّہ،اس قسم کی حکومت کو زیادہ تر مسلمانوں کی حمایت اور رضامندی حاصل نہیں ہوتی، بلکہ بہتر ہے حاصل نہ ہو، کیونکہ اس نے اسلام اور مسلمانوں کے چہرے کو غیر واضح کردیا ہے۔

اس دعوت کا داعی جس سیاسی نظام کو ثابت کرنے کےدر پہ ہے، وہ ایک ایسی حکومت سے کہیں بڑا ہے جس کا ہم و غم ڈاڑھی کی لمبائی کی جانچ، بادیہ نشین اقدار کی جزئیات کے بارے میں خبردار کرنا اور اس کو افغان عوام کی سماجی ساخت پر زبردستی نافذ کرنا ہے، وہ عوام جو طالبان سے پہلے ان کے بعد بھی مسلمان تھے اور رہیں گے۔ اس لحاظ سے کہ یہ اسلامی اقدار ہیں جبکہ ان کا اقتصاد منشیات اور موت کی سوداگری پر استوار ہے۔ اس دعوت کے داعی نے اس قوم پر مورد نظر اقدار کی سطح پر حکومت نہیں کی بلکہ، اس سطح پر حکومت کی جتنی اس زمانے کی سماجی ساخت اس کو ممکنہ اجازت دیتی تھیں۔ یہاں پر یہ واضح ہو جاتا ہے کہ جاری منصوبے اور نیت پر رقابت نہیں بلکہ یہ رقابت اس مستقبل کے منصوبے اور نیت پر ہے جو اسلام کی  ان دائمی تعلیمات کے ساتھ شروع ہوگی۔ لہذا،  ان دعوتوں کے اسلوب اگرچہ مختلف ہیں، لیکن ان کا اصل پیغام ایک ہی ہے۔ دوسرے لوگ بھی سیاسی تاریخ کے ایک دورے میں  خلافت کے نمونے کی بنیاد پر  حکومت تشکیل دینے کی بات کرتے ہیں جو اس قدر شفاف نہیں کہ  ہمیں یہ حق دے کہ اسے اس دور میں،  جب سیاسی نظاموں اور سیاسی سماجیات میں بہت سی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں، دوبارہ پالا جائے۔ اس لحاظ سے ایک ایسی جدید اسلامی حکومت کے بارے میں کریں جس کے لیے پہلے سے یہ مشخص ہو کہ یہ اپنے زمانے کے دباؤ کو برداشت کرے گی اور اس حکومت کے لیے ایک جدید شکل پیدا کرنے کے لیے اسلام کے تجریدی اصولوں اور تعلیمات کے ساتھ آگے چلے گی۔ ہو سکتا ہے یہ وہ شکل ہو جس کی تشکیل کے لیے ہمارے اسلاف نے کوشش کی لیکن ناکام رہے۔لوگوں کے اذہان میں ایسی حکومت کا  معقول اور حقیقت پسندانہ تصور پیدا نہیں کیا جاسکتا جن میں خوشبختی کا تصور حاکم ہو یا ایک ایسے ذہن میں جو منفی پروپیگنڈہ کے شکار ہو۔ انسان کو ہر نقطہ نظر اور موقف میں حقیقت پسند ہونا چاہیئے۔ حکومت کسی بھی ادارے کی طرح تاریخ کی ایک دین ہے اور نتیجتاً تبدیلی کی تابع ہے۔ ماضی میں حکومت کا مفہوم آج کے مفہوم جیسا نہیں تھا۔ اس کی شکل اور کارکردگی میں بہت سی تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں۔ یہی موضوع طاقت کے مفہوم میں بھی سرایت کر گیا۔ حکومت اور اس کی شکل و کارکردگی ہم نہیں بناتے بلکہ، لوگوں کی سیاسی تبدیلی کی تابع ہے۔ حکومت کی ایسی خاص علامتیں جو اسلام کے عظیم ہدف کو اپنے اندر سمو سکتی ہیں، لوگوں کے لیے مفید ہیں، یعنی، سماجی انصاف، ترقی،  بنیادی آزادیاں اور ہر وہ چیز جو مادی اور معنوی عدل و انصاف کی اقدار کے دائرے میں رہ کر مفید واقع ہو۔ اسلامی حکومت کے لیے کوئی امتیازی صورت موجود نہیں ، اگر ہے تو وہ منصوبہ ہے جو سماجی اخلاق اور دینی اقدار کے دائرے میں رہتے ہوئے شریف، آزاد، ذمّہ دار  اور تمام حقوق سے مستفید انسان کے لیے  بنایا جائے۔ اگر اس وقت دنیا میں کچھ ایسے ممالک ہیں جہاں کے لوگوں کو اسلامی ممالک میں موجود حقوق سے زیادہ حقوق حاصل ہیں، تو وہ چیز جس کی ہم انہیں دعوت دے رہے ہیں، حقیقت سے کتنی قریب ہے؟ اور یہ کہ وہ تمام سیاسی و سماجی کامیابیوں اور کارناموں کو دیکھے اور پرکھے کہ کیا یہ اس جیسی یا اس سے بہتر ہے۔ یہ عالمی اور الٰہی منطق ہے۔ اللہ تعالیٰ کا قرآن مجید میں ارشاد ہے: ((مَا نَنسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِّنْهَا أَوْ مِثْلِهَا))[8] لہذا وہ لوگ جو یہ چاہتے ہیں  کہ جدید حکومتوں کو نہ اپنائیں اور اس انسانی میراث سے استفادہ نہ کریں، انہیں چاہیئے کہ پہلے وہ اپنے انتخاب کی حقوق اور سماجی انصاف کی سطح پر برتری کی ضمانت دیں؛زیادہ واضح الفاظ میں کہیں تو ترقی کا وہ نمونہ جو دوسروں کو بھی ورطہ حیرت میں ڈال دے۔ ایسی مثال نہ ہو جو عالمی دنیا کو اس سے متنفّر ہونے کی باعث بنے: قرآن کریم میں ارشاد ہؤا ہے: (أَتَسْتَبْدِلُونَ الَّذِي هُوَ أَدْنَى بِالَّذِي هُوَ خَيْر)[9] آپ جو صرف اسلام اور اسکی تعلیمات کے بارے میں بات کرتے ہو، معلوم نہیں آپ حق پر بھی ہو۔یہ اسلامی حکومت کی علامتوں میں سے تو ہوہے لیکن نفرت آمیز اعمال  اور نعروں سے  ممتاز نہیں، بلکہ ایک ایسی انسانی حکومت کے عنوان سے دنیا کی توجہ حاصل کرتی ہے، جو شہریوں کے حقوق کو مدِّ نظر رکھتی ہے اور  ان کے سماجی انصاف اور عزّت اور سماج کی بہبود کے لیے کام کرتی ہے۔ یہ سب علامتیں(Indicators) ہیں۔ کس طرح سے اس اہم امر کو حاصل کیا جاسکتا ہے، اس مسئلے میں اجتہاد ایک ناقابل انکار امر ہے۔میرے عقیدے کے مطابق یہ اجتہاد بڑا واضح میکانزم ہے اور صرف حقیقت کا انضمام اور ہیرا پھیری نہیں ہے۔ مسلمانوں پر ایک سنگین ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس کام کو ممکن بنائیں۔ کوئی معجزہ دکھانے کی ضرورت نہیں، بلکہ ان کو  موقع فراہم ہؤا ہے  وہ انسانی میراث اور اس کی کامیابیوں کو اپنی تعلیمات کے سامنے رکھیں اور فیصلہ کریں، موافقت کی صورت میں وہ بھی ان کی بعض تعلیمات کا حصّہ بن جائیں گے۔یہ وہ مقام ہے جہاں اس قوم کو نجات کے لیے تاویل اور تفسیر کی طرف دعوت کا زور دیا جاتا ہے۔

القاعدہ اور اس کی ذیلی تنظیمیں ابن تیمیہ اور اس جیسے دوسرے افراد، جو خود حکومت کے حوالے سے تضاد کا شکار ہیں، کے نظریات اور اس کی سیاسی و شرعی کتب پر تکیہ کرتے ہیں۔ درحالیکہ یہ افراد اصول دین کے جزء کو نافذ کرنے کے لیےشوریٰ کے متروکہ فروع کو استعمال کرتے ہیں۔ اس قسم کے مکالمے کی کوشش ہے ہمیں قائل کریں کہ ہماری سیاسی تاریخ پاک اور آئیڈیل ہے۔ افسوس کے ساتھ یہ سوچ، تاریخ کے بارے میں ایک آئیڈیالوجیکل اور پر امید سوچ ہے، کیونکہ اس کو یہ پتا نہیں کہ ہماری سیاسی تاریخ  میں بہت سی جنگیں اور مظالم ہوئے ہیں۔ ہم تاریخی چھٹکارے میں جنگ اور ظلم سے دور رہتے ہوئے قرآن کے نزول سے لیکر اس کی تاویل تک شکست سے دچار ہوئے ہیں۔ تاویل کے اندر یہ شکست، رسول اکرمﷺ کے زمانے کے بعد سے ، سیاسی دباؤ کی موجب بنی ہے۔ کچھ دیر پہلے ہم نے کہا کہ وہ چیز جس میں ہمارے اسلاف سیاسی نظام میں شکست کھا گئے، اس میں ہم کامیاب ہونگے۔ میری مراد انکے تاریخی اور سیاسی تجربات میں شکست ہے سوائے اس دورے کہ جس میں سیاسی نظام حضورﷺ کے ہاتھ میں تھا۔ وہ غلطی جس کا یہ جماعت ارتکاب کرتی ہے وہ یہ کہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا سارا ماضی ہی درخشاں رہا ہے، درحالیکہ ہماری تاریخ نے اپنے اندر بہت سے ستم دیکھے ہیں۔ . «نبوی اسلوب» کو ایک سیاسی ضمانت کی ضرورت ہے؛  بعبارت دیگر، نبوی اسلوب اس پیغمبر کے ہاتھوں عمل میں آتا تھا جس کے حق میں کہا گیا کہ : (وَ ما يَنْطِقُ عَنِ الْهَوى)[10] وہ شخص جسے اللہ نے عصمت سے نہ نوازا ہو، ایسا شخص نہ مطلق جانشین بن سکتا ہے اور نہ ہی اسے وحی کا نمائندہ کہا جا سکتا ہے۔ یہ امر ان جنگجو بنیاد پرست گروہوں کے معنوی مافیا کی تشکیل کا باعث بنا۔ یہ جملہ کہ«  حکومت اعتقادی مسائل کے ساتھ مربوط ہے» درست نہیں، بلکہ یہ کہنا چاہیئے کہ : حکومت ایک ایسا مسئلہ ہے جو سیاسی سماج کے ساتھ مربوط ہے، اور چونکہ سیاسی سماج میں تبدیلی اور ترقی ہوتی ہے، اس لیے حکومت بھی اسی طرح ہے۔ چونکہ حکومت قوم کی کارناموں سے پیدا ہوتی ہے، لہذا اسے  عقیدتی کہا نہیں جا سکتا۔ حکومت اور امامت کے مفہوم کو آپس میں مخلوط کرنا اس بات کا باعث بنا کہامور حکومت میں فن تدبیر اور مینیجمنٹ کو  ایک  ایسے نظام کے عنوان سے اصول دین میں شامل کرنا جہاں ایک پارٹی یا ایک سماجی اور طبیعی معاہدہ اس پر مسلط ہو؛ حتّیٰ اس معنیٰ کے ساتھ بھی جو امامیہ کے علم کلام میں بیان کیا جاتا ہے، یہ کہا  جاسکتا ہے کہ اس کے عقیدتی معنیٰ میں، ایک حکومت کے اندر معتقد افراد کے نزدیک امام کا معنی اس معنی سے متفاوت ہے  جو اس کے سیاسی معنیٰ  بیان کیے جاتے ہیں۔یہاں پر امامت ایک عقیدتی حکومت کے سیاسی جغرافیہ کی حدود سے زیادہ وسیع معنی رکھتی ہے،  لیکن عقیدتی معنیٰ میں ایک حکومت اسے شاید سیاسی بیعت سے زیادہ کے معنی نہ دے۔ ایک عقیدتی مفہوم کے اندر حکومت کو ایک ترقی یافتہ نظام میں خلاصہ کرنا، تشدد پیدا کرنے کے عوام میں سے ایک ہے۔ کیونکہ حکومت کی اعلیٰ عقیدتی اہداف کے ساتھ کوآرڈینیشن کے بارے میں بات کی جا سکتی ہے، وہ اس اعتبار سے کہ خود عقیدہ سیاسی سماج کو تشکیل دینے والے عناصر میں سے ایک ہے، لیکن اگر ہم حاکمیت کے مفہوم کے بارے میں بات کریں تو یہ کہنا ہوگا کہ حاکمیت کے ایک سے زیادہ مفہوم اور دلالتیں ہیں؛ کبھی الٰہی ماحول کے معنی میں ہے یعنی وہ چیز جسے ہم تاریخی اور سماجی قطعیت کے طور پر جانتے ہیں، اس قسم کی حاکمیت یا الٰہی حکم کو کسی نمائندے یا اینجٹ کی ضرورت نہیں، کیونکہ  خود قطعیت یا حتمیت، قطعیت کو تھوپتی ہے، لیکن اگر مراد طاقت کے اعتبار سے حاکمیت ہو، اس وقت ایسا مغالطہ پیش آتا ہے کہ جس کی طرف ہم پہلے اشارہ کرچکے ہیں۔ اسی طرح اگر مراد شوریٰ ہو تو یہ ماہیت اور عقلی بنیادوں کی بنا پر فطرت سے ہے۔ اس اعتبار سے اس میں شرعی حکم اس چیز کے بارے میں  ارشاد اور رہنمائی ہے جسے عقل اچھا سمجھتی ہے، نہ یہ کہ ہم اسے جعلی حمایت پر استوار سمجھیں۔ البتہ اس قسم کی حاکمیت اپنی شکل اور میکانیزم میں اجتہاد کی تابع ہے۔ اگر شوریٰ کا مضمون عقلی معیاروں سے ثابت ہو جائے  تو۔  انسانیسماج اور عرفی منطق  اور اللہ تعالیٰ کے فرمان (وَ أْمُرْ بِالْمَعْرُوف) [11] عرف یہاں ایک جعلی اور ثابت موضوع نہیں بلکہ  حاکمیت کی شکل کے لحاظ سے ترقی یافتہ ایک قوم یا ملت  کا سماجی و تہذیبی اور سیاسی و سماجی مجموعے کا نام ہے۔

جہاد کا مفہوم

مسلمانوں کے المیوں میں سے  آج ایک المیہ یہ ہے کہ اسلام میں سب سے باعزت و باشرف فریضہ، اسے حقیر جاننے اوران کی عدم واقفیت کی بنا پر مسلمان قوم کے لیے وبال بن گیا ہے جو اسلام کے حق میں بہت بڑا ظلم ہے۔جہاد اس مثلث میں سے ایک ہے جو جو جہاد کی استخراجی اقسام پر استوار ہے اور «جهد» کےتین حروف میں خلاصہ ہوتا ہے۔تین حروف سے مشتق ہونے والے ان اضلاع کے تین میدان ہیں: معرفت، نفس اور بدن۔ مادی جہاد کے اعتبار سے جہاد بدنی ہوتا ہے، اگرچہ اسے معرفتی اور نفسی جہاد کی بھی ضرورت رہتی ہے۔ راہ معرفت میں جہاد کا وجود، اجتہاد ہے۔نفس میں جہاد، مجاہدت اور جنگ میں جہاد، جہاد ہوتا ہے۔ بنابریں، ہم ان تین میں سے اس وقت تک کسی ایک کے بارے میں بات نہیں کر سکتے جبتک مشروعیت کے معیار یہ تین اضلاع تعامل کے دائرے میں نہ ہوں۔ پس جہاں بھی ہم ایسا  جہاد دیکھیں جو اجتہاد اور مجاہدت سے بے بہرہ ہو، اس کے ناجائز ہونے کے لیے یہی دلیل کافی ہے۔ آج ایسی تشدد آمیز کاروائیوں  پر جہالت اور ذہنی الجھن  غالب ہے جو جہاد کے نام پر کی جارہی ہیں اور یہ مجاہدت اور اجتہاد کےفریضے کے خلاف ہے جو اس مثلث کے دو اہم ضلعے ہیں، کیونکہ جہاد استثنا اور ایمرجینسی ضلع کو تشکیل دیتا ہے۔ اس کے امت کی حمایت اور اس کی سرحدوں کی حفاظت کی خاطر استثنائی ہونے کی وجہ سے ،یہاں پر اسے جہادِ اصغر کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ دفاعی جہاد اپنی علتوں کے ختم ہونے سے خود ہی رفع ہو جاتا ہے۔فطری طور پر جہاد کی یہ قسم ساری قوم کا فیصلہ ہوتا ہے اور ان کے ولی امر کی تائید سے عمل میں آتا ہے۔ اور یہ کوئی انفرادی یا فتوے کا مسئلہ نہیں جواجتہاد سے عاری  واعظ یا خطیب حضرات کی طرف سے صادر ہو۔ غائب فریضہ، نفس کے ساتھ جہاد اور معرفتی جہاد ہے جو نفس پر اس کی تہذیب و تدبیر کے ساتھ اور معرفت پر اجتہاد و تنقید کے ساتھ حملہ ہے۔ یہ وہ تنہا جہاد ہے جس کی کوئی حد نہیں:(( يَا مَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ إِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَن تَنفُذُوا مِنْ أَقْطَارِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ فَانفُذُوا لَا تَنفُذُونَ إِلَّا بِسُلْطَانٍ))[12]

ان پر تشدّد کاروائیوں کو انجام دینے والے شائید اس غلط فہمی کے شکار ہوں کہ وہ اللہ کے حکم پر عمل کر رہے ہیں۔ لہذا ہم دیکھتے ہیں کہ اپنے کام پر اپنی خوشنودی کو ظاہر کرنے کے لیے اپنے آپ کو بھی قتل کردیتے ہیں۔ یہ تنقید ان افراد کے لیے ہے جن کی عمر چالیس سال سے زیادہ ہے۔ انہوں نے زندگی گزاری ہے اور ان کو یہ موقع ملا ہے وہ بہت سی چیزوں سے آشنا ہوں اور ایسا مکالمہ تشکیل دیں جو موت  اور تباہی لاتا ہے۔ اس مکالمے کی قربانی وہ جوان بنتے ہیں جو زندگی کو حقیر سمجھتے ہیں، ہو سکتا ہے جوانی کی شادابی اور اس کے سماجی حالات سے بھی بہرہ مند ہوتے رہے ہوں، لیکن ایسے جنگجوؤں میں تبدیل ہو گئے ہیں جو اپنے بزرگوں کے جہنمی خوابوں کو تعبیر دے رہے ہیں، ایسے بزرگ جو فقیہ نہیں تھے، بلکہ ماہر خطیب اور واعظ تھے۔ اسلام میں بنیادی چیز جان کی حفاظت ہے اور اگر اللہ کی راہ میں موت، شرعی جہاد میں ہو تو اسے انجام دینے کے لیے دلیل کی ضرورت ہوتی ہے۔ بنابریں، ان دو باتوں میں فرق ہے کہ  وطن کے دفاع کے لیے مر مٹیں یا ایسے جہنمی نظریے کی راہ میں جان دے دیں جس میں فقہ موجود نہ ہو۔

اس شعار "صلیبی و صیہونی دشمن" کا مفہوم

القاعدہ نے صلیبی اور صیہونی دشمن کے ساتھ جنگ کا شعار اور نعرہ بلند کیا، یہ وہ عبارت ہے جو محمد قطب کی کتابوں میں جا بجا تکرار ہوئی ہے۔ لیکن ہم نے دیکھا ہے کہ یہی وہ لوگ تھے جو سوویت یونین کے خلاف جنگ میں صلیبیوں کے اتحاد میں شامل ہوئے، بالکل اسی طرح، جسطرح شامی حکومت کے خلاف لڑائی میں صیہونزم کے ساتھ متحد ہوئے۔غزہ میں جنگ کے دوران داعش نے ایک بیانیہ صادر کیا جو اس مطلب پر زور دیتا ہے کہ اسرائیل کے خلاف جنگ، مرتدین کے خلاف لڑائی سے زیادہ اہم نہیں ہے۔یعنی مطیع بنانے والی پالیسیوں میں مشترکہ عنصر ، فلسطین کو مستثنیٰ کرنا ہے۔ طاقت اور جہاد کی لڑائیوں میں صلیبی اور صیہونی دشمن کے ساتھ جنگ ایک اضافی وقت کے لیے ملتوی ہو گئی جبکہ ان لڑائیوں میں زیادہ تر اسلام ہی کمزور ہؤا یا ایک یہ لڑائیاں ایک رزمیہ نمائش کی صورت میں تبدیل ہوگئیں۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ  جتنی ان لوگوں نے افغانستان میں  مالی اور خفیہ کوششیں  کی ہیں، اس سے بہت کمتر مسئلہ فلسطین میں انجام دی ہیں۔ جب دنیا بھر کے آزاد افراد امریکی سامراج کے مقابلے میں نکلے تو یہ لوگ اس سرد جنگ میں شریک تھے جو سوویت یونین کو کمزور کرنے کے لیے لڑی گئی، یعنی امریکہ کو سپر پاور بنانے میں یہ بھی شریک تھے۔جب انہوں نے دیکھا کہ یہ اب ایسی حکومت بنانے جا رہے ہیں جس میں دہشتگرد بنانا مشکل ہو جائے گا تو یہ مجاہدین کی حکومت کو سرنگوں کرنے میں بھی شریک ہوگئے۔ جہاد کے لیے ایسی فقہ ہوتی ہے جو اس کا تعیّن کرتی اور کے مقاصد کی توجیہ کرتی ہے۔آج ہم جس جنون کا مشاہدہ کر رہے ہیں اس میں تو ہمیں فقہ کی بو تک نہیں آتی۔ورلڈ ٹریڈ سینٹر کو تباہ کرنے کی قیمت، افغانستان اور عراق پر قبضہ، مشرق وسطیٰ کے حالات آشفتہ کرنا اور افراتفری پیدا کرنے کے لیے منصوبہ بندی  تخلیقی ہے۔

داعش کا جشن خون

داعش کے اسلوب پر سرکش و خونریز عنصر ایسی شکل میں ہے جو اس بات پر تاکید کرتا ہے کہ اس کا قتل عام کے نظریے کے ساتھ خصوصی رابطہ ہے۔تشدّد کے طریقوں سے حاصل ہونے والی مطیع بنانے کی چاہت، اس کے نقائص کی اس وقت تک تلافی نہیں کرسکتی جبتک ظلم و اذیت کی ممکنہ تمام تر سرحدوں سے پوری آمادگی کے ساتھ نہ گزرا جائے۔ ایسی حالت میں کمزور گروہوں کے لیے یہ بات سود مند نہیں ہو گی کہ وہ  جنگ کے اندر اخلاقی موقف اپنائیں۔جنرل شرمن، امریکہ کی داخلی جنگ کے دوران  (Monistics) کے کمانڈر کے جواب میں ڈیوڈ فشر اپنی کتاب الاخلاقیات و الحرب میں  (The Peloponnesian War) کی مثال دیتا ہے ،جس طرح «ٹیوسیڈیس» اپنی کتاب میں لکھتا ہے، ڈیوڈ فشر مطلق حقیقت اور جزئی حقیقت کے درمیان فرق کا قائل ہؤا ہے۔ان دو حقیقتوں میں اس چیز میں فرق ہے کہ جس طرح حقیقت مطلق کی ڈیوڈ فشر تعریف کرتا ہے، اخلاقی آراء جنگ شروع ہونے سے پہلے اور اس کے دوران ختم نہیں ہوتیں۔ جبکہفشر  شرمن کواس جواب :« جنگ بربریت ہے اور اسے پاکیزہ نہیں کیا جاسکتا»، میں جزئی حقیقت کے نمونے دیکھتا ہے۔کیونکہ یہ بات جنگ کے دوران اخلاقی موقف کو نہیں سمجھتی بلکہ جنگ کی ابتداء میں فیصلے کے وقت پائی جاتی ہے۔یہ بات داعش کے جنگی رویے پر مسلّط نقطہ نظر کی شناخت میں مفید ہے۔ وہ مطلق حقیقت پر یقین رکھتے ہیں؛ یعنی جنگ کی ابتداء ہو یا دوران جنگ یا چاہے جنگ کے بعد، کسی بھی مرحلے پر اخلاقیات کی کوئی جگہ نہیں۔القاعدہ اور داعش کے درمیان جھگڑے کی وجوہات میں سے ایک وجہ مطلق حقیقت (داعش) اور جزئی حقیقت (القاعدہ) تھی۔ دونوں ہی اس حقیقت کے بارے میں بات کرتے ہیں جو جنگ میں ہر چیز کو مباح کرتی ہے، منجملہ: شہریوں کو ڈھال بنانا یا یہ کہ جو بھی ان کے ساتھ نہیں، ان کے خلاف حالت جنگ میں ہے۔یہ حقیقت ان تنظیموں کے لیے ایک جنگی عقیدہ بن چکی ہے، جیسا کہ میں اس کو  اس گروہ کے جنگی اسلوب کے نمونے کو پیش کرنے والا (Synthesis) سمجھتا ہوں۔ میری مطلب ابوبکر ناجی کی کتاب ادارۃ التوحّش ہےجو ان جنگی تجربات کا نتیجہ ہے جو مذکورہ تنظیموں کے جنگی نظریہ سازی کے خلا کو پر کرنے کے لیے لکھی گئی ہے۔ یہ کتاب ایک طرح سے داعش کے فن حرب پر ہے اور مصنف بربریت پر نظارت اور اس کو عملی جامہ پہنانے کے مراحل کو وضع کرتا ہے۔ مصنف کی نظر میں بربریت کی مینجمنٹ میں شکست آخری مرحلہ نہیں بلکہ یہ بربریت کو اور بھی بڑھا دیتی ہے۔ اگرچہ مصنف کی نظر میں یہ بربریت کسی بھی حد تک پہنچ جائے، نظام کفر کے تحت زندگی گزارنے سے زیادہ آسان ہے۔ بربریت کی مینجمنٹ کی ان افراد کے پاس بھی مثالیں موجود ہیں جو اس تنظیم کی نظر میں کافر ہوتے ہیں۔بنابریں، مصنف اس قسم کی مینجمنٹ کے لیے اپنی نظر کے مطابق، مسلمانوں کے اسلوب  کی مثالیں پیش کرتا ہے اسی طرح ان افراد کی مثالیں بھی پیش کرتا ہے جو اس کی نظر میں کافر ہیں۔وہ کہتا ہے:  یہ تو مسلمانوں کے بارے میں ہے، جہاں تک کفار کا تعلق ہے تو ان کی بربریت کی مینجمنٹ کی سیکڑوں مثالیں ہیں جو انہوں نے یورپ، افریقہ اور دوسرے خطوں میں گذشتہ صدیوں میں انجام دی ہے۔ اس بات سے ہم یہ سمجھ سکتے ہیں کہ اس جنگجو گروہ کا مرکز میں داخل ہونا، بربریت کی مینجمنٹ کے مراحل اور اس کے مفاد کو جاری کرنے کے لیے ہے۔ بربریت کی مینجمنٹ (مطیع بنانے کا راستہ) کے باب میں ابحاث کا ایک مرحلہ ہے، جس کے چار مراحل ہیں:

پہلا مرحلہ: تکلیف پہنچانے کی طاقت؛

دوسرا مرحلہ: بربریت کی مینجمنٹ؛

تیسرا مرحلہ: مطیع بنانے کی طاقت؛

چوتھا مرحلہ: حکومت کی تشکیل۔

لیکن داعش کے سلفی جہادیوں کے کینے اور دشمنی کا جائزہ لیا جائے تو اس کی علت، بغدادی کے بقول حکومت کی تشکیل اور اعلانِ خلافت ہے جس میں کوئی بنیادی اختلاف نہیں بلکہ اختلاف وقت کے تعیّن کے بارے میں ہے۔وقت کا یہ تعیّن  جہادی سلفی کتاب میں بیان ہونے والے چار مراحل میں  (بربریت کی مینجمنٹ) کی بحث میں بیان کی گئی ہے، لیکن بربریت کی مینجمنٹ کے لیے جن علاقوں کا انتخاب کیا گیاہے ان میں سعودی عرب اور نائجیریا کا ذکر کیا گیا ہے۔القاعدہ کی قیادت بہت سے دلائل کی بنیاد پر سعودی عرب کو اندر سے نقصان پہنچانے کو ایک ایسا مسئلہ مانتی ہے جو مسقبل بعید میں رونما ہوگا۔ البتہ، اس عنوان سے کہ سعودی عرب مجاہدین کا مقابلہ کرنے  والے سب سے کمزور دشمنوں میں آتا ہے، ان کا پروگرام تبدیل ہوگیا ہے۔اس کا یہ مطلب ہؤا کہ شمالی افریقہ میں بوکو حرام اور القاعدہ تنظیمیں بربریت کی مینجمنٹ کے دائرے میں مطیع بنانے کے منصوبے کا ایک حصہ ہیں۔ ادارۃ التوحّشکتاب کی بنیاد پر ۱۱ ستمبر کے واقعے کے بعد ابتدائی طور پر بربریت کی مینجمنٹ کے لیے جن ممالک کا انتخاب ہؤا وہ شمالی افریقہ، نائجیریا، پاکستان، سعودی عرب اور یمن تھے۔ ظلم و ستم کا مرحلہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ان ممالک کی افواج پر سخت اور دردناک حملے کیے جائیں تا کہ ان میں افراتفری پھیلائی جاسکے۔ یہ کتاب چھوٹے حملوں، جیسا کہ عراق اور تیونس  میں ہوئے اور ۱۱ ستمبر جیسے بڑے حملوں میں فرق کی قائل ہے۔ بڑے حملوں کے لیے القاعدہ کی اعلیٰ قیادت کے فیصلے کی ضرورت ہوتی ہے جو اس کو عملی جامہ پہنانے اور اس کے برآمد ہونے والے نتائج کا سامنا کرنے کے لیے وسائل فراہم کرتی ہے۔چھوٹے حملوں کے لیے القاعدہ کے ذیلی گروہوں کو یہ اجازت حاصل ہے کہ وہ اعلیٰ قیادت کے ساتھ رجوع کیے بغیر اس کو انجام دے سکتی ہے۔ ان کاروائیوں کا ہدف لوگوں کی توجہات کو حاصل کرنا ہے اور وہ چیز جس کی وجہ سے نئے جوان اس کام کو انجام دینے کے لیے کھچتے چلے آئیں۔ اس قسم کی حالت میں نظام کے قبضے سے علاقوں کو آزاد کرانے اور پھربربریت کی مینجمنٹ کا مرحلہ آتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ بربریت کی مینجمنٹ اس سماجی ساخت اور وطن کے مفہوم سے مربوط نہیں جو اس تنظیم کے کفر آمیز گروہ میں شمار کیا جاتا ہے۔بربریت کی مینجمنٹ کے فائدے میں علاقوں کو جدا کرنے کو شرعی ثابت کرنے کے لیے ابوبکر الناجی، عمر محمود کی بات کودلیل بناتا ہے: (یہاں ہمیں شیخ علامہ عمر محمود ابو عمر کی ایک اہم غلط فہمی اور شبہہ کی طرف توجہ کرنا ہوگی، یہاں پر ہمیں وطنی ساخت اور وطنی وحدت کی حفاظت کے وجوب کے بارے میں، منقسم اور پرانی تحریکوں کے بعض قائدین کیدعوت کے گمراہ کن ہونے کی طرف توجہ کرنا ہوگی، اس کے علاوہ یہ بھی ہے کہ اس بات میں وطن پرستی کا کفر آمیز شبہہ بھی موجود ہے۔ البتہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ان لوگوں نے تمدنوں کے سقوط کے عرفی طریقے کو نہیں سمجھا۔ وطن پرستی اور وطن پرست حکومت ان گروہوں کے متفقہ امور میں سے ہے۔ (واقع الجہاد فی العراق) کے عنوان کے تحت وہ اس گروہ کے منشور میں کہتا ہے: شہریت، وطن اور وطن پرستی اور ہر وہ چیز جو اس سے مربوط ہے،اس کا شرع کی معتبر سرزمینی سرحدوں کے ساتھ تعلق نہیں۔

یہ منصوبہ ان عناصر کی تشکیل  کا متقاضی ہے جو فرض کی ادائیگی، تکلیف و اذیت دینے کی طاقت اور بربریت کی مینجمنٹ پر قادر ہو۔تکلیف و اذیت دینے کے مرحلہ میں استعمال ہونے والے اصولوں میں سے  ایک اہم اصول«اپنی تمام طاقت کے ساتھ دشمن کی سب سے کمزور جگہ پر وار کرو» ہے۔

ادارۃ التوحش کتاب کے چوتھے باب کا عنوان ہے شدت اور بے باکی پر بھروسہ۔ ابوبکر ناجی اس بات پر زور دیتا ہے کہ اس کام کے لیے ضروری ہے کہ سستی اور کاہلی کی حالت سے نکل کر شجاعت اور بے باکی میں داخل ہؤا جائے۔ وہ کہتا ہے:«  وہ لوگ جو جہاد نظری، یعنی جہاد کو صرف  کاغذ پر یاد کرتے ہیں،اس نکتے کو اچھی طرح نہیں سمجھتے.»۔جہادی سلفی جنگجوؤں کی نظر میں شدت اور بے باکی پر ثابت قدمی ہی کامیابی کی ضمانت ہے، بنابریں، ہمیں ایک تاریخ جنگ اور تاریخ اسلام کے بارے میں ایک تاریخی نظریہ ملے گا، چونکہ بربریت کے حامی لوگوں نے جنگ میں غیر رواداری کا موقف اپنایا ہے۔بربریت کی مینجمنٹ کا نظریہ ان تنظیموں اور تحریکوں کے لیے مثال ہے جو فتح کے لیے نکلیں لیکن شکست سے دوچار ہوئیں اور انہوں نے اپنی شکست کو شدّت اور بے باکی کے فقدان میں تلاش کیا۔وہ اس بارے میں مثال پیش کرتے ہیں کہ جہادی اور اصلاحی تحریکیں جن کی طالبان نے نفس زکیہ کی طرح قیادت کی، عباسیوں کے سامنے شکست کھا گئیں۔اس کی وجہ عباسیوں کی شدت اور تشدد تھا جبکہ طالبان کی سستی اور خون ریزی سے گریز۔ حتّیٰ نفس زکیہ اپنی افواج سے تقاضا کرتا تھا کہ (حالانکہ اس کی فتح کے امکانات موجود تھے) جہاں تک ممکن ہو خون ریزی سے دور رہیں۔جس چیز نے اس کو اس کام سے روکا، وہ واجبات میں سے سب سے اہم واجب تھا۔ ایسا لگتا ہے کہ  بربریت کی مینجمنٹ کے نظریہ ساز اس بات سے غافل ہیں جو ابن خلدون نے طالبان کی شکست کی علت کے بارے میں ذکر کی ہے، ان کی شکست کا سبب اس وقار اور تعصبات کی طرف پلٹنا تھا جس کی طرف عشائری نفوذ اور اس کی نشونما کا ماحول اشارہ کرتا ہے۔ان کی نگاہ میں وقار اور شوکت، حملہ کرنے اور کچلنے کی صلاحیت  ہے۔بربریت زدہ علاقوں میں اذیت و تکلیف دینے کے مرحلے میں، وقار اور شوکت کا حصول اور اس میں اضافہ،  بربریت کی مینجمنٹ کے نظریہ ساز گروہ کو یقینی آور جانبداری عطا کرتی ہے جو اس کو  « خون، خون، نابود کرنا، نابود کرنا‌»کا نام دیتے ہیں۔اس جنگجو گروہ کی نظر میں یہ امر عظیم وقار کی فراہمی کا باعث بنتا ہے۔بربریت کی مینجمنٹ مکمل طور پر فوجی  منصوبہ نہیں بلکہ اس کا سب سے اہم ہدف یہ ہے کہ فوجی منصوبے کی طرح دشمن کے مفادات سے آگاہ ہؤا جائے۔بربریت کی مینجمنٹ کے نظریے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ  ہم بغدادی کے خلافت کے منصوبے کے ساتھ سادگی کےساتھ تعامل نہیں کریں گے۔ خلافت کا منصوبہ دشمن کے  سیاسی فہم کی ایک شکل اور اس کے مفادات کو منعکس کرتا ہے۔

بربریت کی مینجمنٹ کی اور شکل، لوگوں کے موقف کو خریدنے کے لیے پیسے کا استعمال ہے۔ بربریت کی مینجمنٹ، گروہ کے لیے بہت زیادہ پیسہ جمع کرتی ہے تا کہ اس میں سے کچھ پیسے کو گروہ کے افراد میں الفت و محبت برقرار کرنے کے لیے خرچ کیا جاسکے۔بربریت کی مینجمنٹ کو درپیش چیلینجز میں سے ایک، دشمن کے ساتھ جنگ میں سلامتی کا حصّہ ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ موضوع، بربریت کی مینجمنٹ میں سب سے خطرناک مورد ہے۔ ادارۃ التوحش کتاب کا چھٹا باب ہمیں اس حقیقت کے بارے میں ایک روشن نگاہ دیتا ہے۔ جہاں یہ آیا ہے: (سلامتی کے حصّے کو استوار کرنا، جاسوس بھیجنا اور مخالفین کے ہر حصّے میں نفوذ کرنا)۔ یہاں پر مسئلے کی اہمیت ان کے بہت سے تجربات کو بیان کرنے میں نہیں ہے، وہ تجربات جن سے ان کو یہ موقع ملا  کہ وہ دشمن میں سلامتی کے اور  فوج اداروں،  سیاسی پارٹیوں، روزناموں، حکومتوں، تیل کی کمپنیوں اور حسّاس سول اداروں  میں رخنہ ڈال سکیں، بلکہ بربریت کی مینجمنٹ یا ادارۃ التوحش کا نظریہ ساز اس بات پر زور دیتا ہے کہ یہ مسئلہ کئی مرتبہ انجام دیا جاچکا ہے اور یہ لوگ  اس سے زیادہ کے خواہاں ہیں۔ اسی طرح اس کی اہمیت اس میں بھی ہے کہ یہ  معتدل شمار ہونے والے دوسرے اسلامی گروہوں کی قیادت میں رخنہ کا متقاضی ہے۔رخنہ کی کاروائی میں ادارۃ التوحش کا نظریہ ایک جگہ میںموجود ایک دوسرے سے بے گانے متعدد اراکین کےاندر رخنہ کی ضرورت پر بات کرتا ہے، اس شرط کے ساتھ یہ اراکین جانے پہچانے اور پٹے ہوئے مہرے نہ ہوں۔ان کے معکوس رخنہ کی مشکل کے مقابلے کے لیے، یہ اذیت و تکلیف دینے میں بہت زیادہ قساوت اور ظلم کو استعمال کرتے ہیں، نیز پیسے اور افراد کے درمیان محبت پیدا کرنے کے ساتھ ادارۃ التوحش میں مبالغے کی توجیہ کی جاسکتی ہے، اس طرح سے کہ جنگجوؤں کے خلاف جاسوسی کا احتمال نہ ہو، قیادت کی تشخیص سے قطع نظر ، بالخصوص ان پر جوش جوانوں کے حوالے سے  جو شہادت کا جذبہ لے کر آتے ہیں اور ان کو یہ کہہ کر رخنہ کے لیے راضی کرنا کہ یہ کام شہادت طلبی جیسا ہی ہے۔دوسری اسلامی تنظیموں میں رخنہ اندازی اور قیادت کی سیڑھیوں سے اوپر آنا، ادارۃ التوحش کی جانب سے لیے گئے فیصلوں میں سے ہے۔وہ ان تنظیموں یا گروہوں  کے دو حصّوں میں تفاوت کے قائل ہیں: ایسے گرہ جو اطلاعات حاصل کرنے کے لیے طاغوتی قوتوں کے ساتھ تعلقات استوار کرتے ہیں؛ اور وہ گروہ جو طاغوت کے ساتھ تعامل نہیں کرتے اور ان کو اپنے موقف کی طرف راغب کرکے جہادی بناتے ہیں۔اس لحاظ سے ادارۃ التوحش کی اہم ترین ضرورت اس گروہ کے لیے ایسا انٹیلیجنس سسٹم بنانا ہے جو بہت زیادہ منتشر مقامات میں، اسلامی تنظیموں کی صفوں، روزناموں  اور سول سوسائٹی کے اداروں میں نفوذ کرتا ہے۔اس مسئلے کی وجہ سے القاعدہ اور داعش بہت سے امور میں کامیاب ہوئے ہیں۔لہذا اداروں کے اندر رخنہ اندازی ان کے اہم ترین انتظامات میں سے ایک ہے۔

پلیددہشتگردی اور مقدس دہشتگردی

یہ گروہ بتدریج انتہاپسندانہ تشدد کی طرف بڑھا۔ایسا تشدد جس کی علامتیں شرعی دہشتگردی کے فریم ورک میں پائی جاتی ہیں۔ جبکہ شرعی دہشتگردی (ارہاب)جیسا پریہ آیت مبارکہ دلالت کرتی ہے: ((وَأَعِدُّواْ لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ وَمِن رِّبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدْوَّ اللّهِ وَعَدُوَّكُمْ وَآخَرِينَ مِن دُونِهِمْ لاَ تَعْلَمُونَهُمُ اللّهُ يَعْلَمُهُمْ وَمَا تُنفِقُواْ مِن شَيْءٍ فِي سَبِيلِ اللّهِ يُوَفَّ إِلَيْكُمْ وَأَنتُمْ لاَ تُظْلَمُونَ))[13]

 حملہ روکنے کے لیے فوجی تیاری ہے۔ اس آیت میں دہشتگردی  کے معنی وہ نہیں جو آجکل سیاسی دہشتگردی کے معنی لیے جاتے ہیں، بلکہ  (الرّدع)یا دفاع کی صلاحیت کے معنیٰ کے مقابل میں ہیں۔ الردع اس جگہ پر اہم ہے، کیونکہ یہ جنگ کو ناممکن بنا دیتی ہے۔ جبکہ (ارہاب) کے معنی میں دہشتگردی (Criminological) معنیٰ میں واقع ہونے  سے مشروط ہے۔ ارہاب تخریب پر استوار ہے اور اس میں ردع نہیں ہوتا۔ یہ وہ معنی ہیں جو اسکے  زمانے میں سمجھے جاتے تھے، جبجنگ کی اخلاقیات پر توجہ دیتے ہوئے، بچّوں، عورتوں، بوڑھوں اور عام شہریوں کو قتل کرنا حرام ہوتا ہے۔ جب اپنی پر تشدد رویے کو دینی لباس پہناتی ہے تو ہمیں تشدد کے مقابلے میں یہ کوشش کرنا ہوگی کہ ہمارا رویہ خشک اور سرد رہے۔ان دہشتگرد تنظیموں جو سر کاٹنے میں لذّت محسوس کرتی ہیں اور اس لحاظ سے کسی عمر کی قائل نہیں، ایسے میں موت کے پاس کوئی (Deterrent) نہیں۔ خوف کا احساس ختم ہو جاتا ہے اور اجسام کے ساتھ الفت ، ہر قسم کے احترام کو رفع کرنے کا باعث بنتا ہے بلکہ اس چیز کا سبب بنتا ہے کہ راہ چلتے افراد ہاتھ سے مزاق کرنے اور ان کو ٹھوکریں مارنے سے بھی نہیں چوکتے اور ہاتھ اور اشارے سے ان کی تحقیر کرتے ہیں۔ موت کے سامنے سر خم کرنے کا دور ختم ہوگیا ہے۔القاعدہ اور داعش، عراق میں خون کی ہولی کھیل کر قتل کو ایک عام چیز بنانے میں شریک ٹھہرے ہیں۔عربوں اور مسلمانوں کے احساسات میں موت کے جلال اور زندگی کی عزت کے مقابلے میں ایسی  تبدیلیاں  رونما ہوئی ہیں جن کا تجزیہ کرنا ابھی باقی ہے۔

اخوان المسلمین کے برخلاف، القاعدہ میں فرمانبردار ہونا بنیادی شرط ہے۔یہ  فرمانبردار ہونا کوئی ترقی کی سیڑھیاں طے کرنے سے حاصل نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے تھوڑا سا لڑ لینا  ہی کافی ہوتا ہے ۔داعش کو عراق میں بہت ساتھی ملے جس کی بہت ساری وجوہات میں سے ایک وجہ عراق میں دہشتگرد تنظیموں کے لیے مساعد آب و ہوا ہے۔ داعش کے مالی وسائل بینکو ں سے لوٹا ہؤا پیسہ او ر ان  آئل ریفائنریوں کا منافع ہے جن پر انہوں نے قبضہ کیا ہے۔ داعش تک ریلوے کے منتقلی کی کاروائی، وہ مسئلہ ہے جو واضح طور پر انجام نہیں پا سکتا۔ بنابریں، کچھ ایسے لوگ موجود ہیں اس تنظیم کو عراق کے اندر سے وسائل فراہم کرتے ہیں، بالکل اسی طرح جیسا کہ اس تنظیم کے کتابچوں میں امدادوں اور سہولیات کی بہت زیادہ بات کی گئی ہے جو امداد اور سہولت اس علاقے سے حاصل کی جاتی ہے جو ان کی پرورش کرتا ہے؛ ہم پوچھیں گے کہ داعش کس طرح سےاسمگلنگ کے ناقابل خام تیل کو کیسے بیچے گی؟ یہ فرض کیا جاتا ہے کہ ان مصنوعات کی منظم شکل میں خریداری وہ حکومتیں کریں گی جو اس کو صاف کرنے پر قادر ہیں۔عراق کے پس منظر میں اس تنظیم (compliance) میں بہت سے بڑے تضادات موجود ہیں، جو تنظیم یہ جان چکی ہے کہ کس طرح سے عراق کے اندرونی سیاسی اختلافات سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ عزّۃ الدوری کے گروپ نے صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کے بعد لاجسیٹک عراق کو الزرقاوی کے گروپ کے ساتھ باہم تقسیم کیا تھا، لیکن ادارۃ التوحش کے پرتو میں ہمیں یہ نکتہ حاصل ہوتا ہے کہ القاعدہ اور داعش جتنا فوجی فائدہ اٹھاتے ہیں اتنا ہی سیاسی فائدہ بھی اٹھاتے ہیں۔وہ اپنے دشمن کے تمام کمزور پہلوؤں کو جان چکے اور فوری اور اچانک حملے کر کے ان سے فائدہ حاصل کرتے ہیں۔

جہادی سلفیت کا اندرون خانہ حال

جیسا کہ عام طور پر سلفیت کے اندر بہت سے تضادات اور خلفشار پائے جاتے ہیں، جہادی سلفیت  بھی اسی قسم کی حالت کا شکار ہے۔داعش اور النصرہ کی آپسی جنگ کی وجہ اس کے علاوہ کچھ نہیں کہ داعش اپنے جیسی ایک اور تنظیم کے مقابلے میں زیادہ طاقتور ہونا چاہتی ہے۔ شام کی مہربانی سے یہ لڑائی اپنے اوج پر پہنچ گئی۔ النصرہ کی یہ کوشش ہے کہ وہ شام میں داعش سے ہٹ کر خود مستقل ہو، اور یہ بات بعید نہیں کہ یہ خاص منصوبہ ظواہری کی فکر کا نتیجہ ہو۔یہ خاص منصوبہ ایک فریب تھا؛ یعنی انہوں نے ایک الگ زبان استعمال کی اور انقلاب کی طرف اشارہ کیا، جبکہ جہاد کا عنوان استعمال نہیں کیا۔النصرہ اپنے اس فریب میں کامیابی کے بہت نزدیک پہنچ گئی تھی۔ فرینڈز آف سیریا کانفرنس (Friends of Syria conference) کا مقصد النصرہ کو شام میں رسمی حیثیت دینا تھا۔میڈیا نے تقریباً دو سال بعد،فرینڈز آف سیریا کانفرنس میں شرکت سے کترانے والی ہیلری کلنٹن کے بیانات کی تکرار کررہا ہے؛ اس کانفرنس جو امریکہ کو داعش کے بنانے اور بہت سے ممالک کو اسے رسمی حیثیت دلانے کے لیے تیار کرنے میں شریک قرار دیتی ہے۔اگر مصر کو بحیرہ روم میں امریکہ کی  نقل و حرکت کا پتا نہ چلتا تو اس پراجیکٹ کا آغاز سینائے مصر سے ہوتا، لیکن ۳۰ جون کے انقلاب نے اس منصوبے کا راستہ تبدیل کردیا بلکہ اسے شکست دے دی، حتّیٰ یہ امید کی جارہی تھی کہ اخوان المسلمین علاقائی توانائی اور آبی راستوں پر قبضے کے لیے امریکہ کی مدد میں شریک ہوگی۔ ایسا لگتا ہے کہ اس دہشتگرد تنظیم اور ان ممالک کے اندازوں میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ جیو اسٹریٹیجی کے لحاظ سے اگر ادارۃ التوحش پر تجربہ کی بنیاد ہو تو یہ جنگجو تنظیموں کے لیے ہندوستان میدان بنتا ہے۔ داعش کی جنگ اور الظواہری کے جانب سے القاعدہ ہندوستان کا اعلان ایک وقت میں ہوتا ہے، البتّہ ہندوستان تو ابھی ابتدا ہے،  کیونکہ یہ موضوع مسلمانوں کی اقلیت والے علاقوں، جیسے ہندوستان، چین اور روس میں تقسیم ہوگا۔ابھی ہم یوریشیا کے اہم علاقے میں دہشتگردی کے ایک اور لہر کو دیکھیں گے جبکہ یہ تحریکیں اپنے اسی طریقے سے شمالی افرقہ اور ساحلی علاقے میں جاری رہیں گی، چونکہ اسلامی مغرب میں القاعدہ، نائجیریا میں  بوکو حرام، سومالیہ میں الشباب اور دوسری جماعتیں موجود ہیں، اس لیے داعش ان علاقوں کے انسانی اور دینی منصوبے کو تبدیل کرنے میں ناکام ہے۔ایسا خواب جو ان تنظیموں کو ان علاقوں میں کاروائی کی اجازت دینے والوں نے دیکھا، ایسا خواب جس کو تعبیر ملنا ناممکن تھا۔ اگر شام کی حکومت گر جاتی ہے جو ملک لمبے عرصے تک خانہ جنگی کا شکار ہوجائے گا۔ یہ بھی بعید نہیں کہ داعش کا موصل پر حملہ عراقی عیسائیوں کو لبنان کی طرف بھگانا تھا، تاریخ اس کے اسباب پر سے پردہ کب ہٹائے گی، ابھی یہ کام باقی ہے۔ اس کے مقابلے میں یہ بھی ممکن ہے کہ اس کے ساتھ ہی یہ کوشش کی جائے کہ لبنان پر اسرائیل کا حملہ کراکے، وہاں کے شیعوں کو عراق کی طرف ہجرت پر مجبور کیا جائے لیکن یہ وہ چیز ہے جو اس وقت بہت مشکل ہے۔اس کے ساتھ ہی سعودی عرب کے ذریعے مقبروں کو مسمار اور شام میں اہلسنّت کی آبادکاری عمل میں آئے گی۔ مذہبی تقسیم تو وہی ہے جو سایکس پیکو(Sykes-Picot) معاہدے میں تھی، یونی جنوبی لبنان کو شیعوں سے خالی کرانا اور لبنا ن ، شام اور عراق کے عیسائیوں کو اسرائیل کے شمال میں آباد کرنا۔ دوسرے زاویے سے دیکھیں تو  اس کھیل میں سعودی عرب کو قطر اور ترکی کی وجہ سے کھیلنے کا موقع ملا۔اس امریکی منصوبے کو جو سعودی عرب کے ساتھ روائتی اتحاد کی بنا پرواشنگٹن اور اخوان المسلمین کے درمیان مصنوعی اتحاد پر مبنی تھا، شکست ہوئی۔ سعودی عرب کی حالیہ کوشش تھی کہ وہ علاقے پر اپنی طاقت کو منوائے اور واشنگٹن کو یہ پیغام دے کہ اس خطے کی قسمت کے تعیّن کے لیے سعودی عرب کا کوئی نعم البدل نہیں۔ واشنگٹن کا اایک عرب تحادی ہونے کے حوالے سے، ریاض نے اپنے اس مقام کو باقی رکھنے کے لیے سب سے زیادہ پیسہ خرچ کیا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ امریکہ سے گرین سگنل، جو بین الاقوامی شناخت ملنے کی علامت ہے، ملنے سے داعش کی حکومت تشکیل پا جائے۔ جب ہم ماضی میں  ملا عمر  (طالبان)کی  حکومت کے بین الاقوامی سطح پر رسمی ہونے کو دیکھ سکتے ہیں (ملا عمر، عمر البغدادی کا سب سے پہلا آئیڈیل اور اس کو متاثر کرنے والا شخص تھا)، تو یہ بھی بعید نہیں کہ  وہ داعش پر مؤثر اپنے میڈیا کے ذریعے یہ پیغام پہنچائے کہ وہ اسرائیل پر حملہ نہ کرے، بلکہ غزہ یا لبنان پر اچانک حملے کے لیے اسرائیل کی کوششوں پر داعش اپنی کاروائیاں محدود کردے۔ جیسا کہ ہم اس کو بعید  نہیں سمجھتے کہ داعش اس مرحلے میں ایران پر حملہ کرنا مناسب سمجھے تا کہ  ایک مرتبہ پھر سفارتکاروں کے حوالے سے ہوئی غلطی دوبارہ نہ دہرائی جاس کے، کیونکہ اس قسم کی دوبارہ غلطی ایران کی موصل میں دخالت کی توجیہ کر دے گی جو کہ ماضی میں مزار شریف میں نہیں ہوئی تھی۔داعش ایسا کھلاڑی نہیں جو خطے میں موجود قوموں کے کھیل سے باہر ہو، بلکہ آج کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ داعش کے ساتھ بین الاقوامی اور علاقائی اختلاف اس وجہ سے ہے کہ اس نے اپنی حدود سے تجاوز کیا ہے۔جس وقت داعش تنظیم موصل میں داخل ہوئی تو اس نے عزۃ الدوری اور النقشبندیہ کے گروہوں، عراقی حکومت میں موجود تضادات، اختلافات سے استفادہ کرتے ہوئے اور افراتفری اور لاکھوں عراقیوں کو قتل کرکے، ادارۃ التوحش کے اندر پائی جانے والی تمام تر ظلم و ستم کی ٹیکنالوجی کو استعمال کیا، لیکن اس وقت بھی بین الاقوامی اور علاقائی برادری نے اس کے خلاف کوئی ٹھوس موقف نہیں اپنایا۔ جبکہ الجزیرہ اور اس جیسے دوسرے  اداروں کی پروپیگنڈہ مشنری عوام انقلاب اور بعثیوں کی دوبارہ واپسی کی بات کر رہی تھی۔ اس تبدیلی کا نتیجہ اس وقت نکلے گا جب البغدادی کی حکومت اربیل جنگ کے لیے سوچنا شروع کر دے گی۔ داعش کی یہ چاہت ہے کہ وہ اپنے اہداف کے حصول میں آزاد ہو، جبکہ اس سے یہ مطالبہ کیا جائے گا کہ وہ ایک جیو اسٹریٹیجکل کھلاڑی کی صورت میں باقی رہے۔



منابع: ۔مراکش سے تعلق رکھنے والے یہ محقق اور مصنف، سیاسی تجریہ کاروں اور ماہرین کی بین الاقوامی انجمن اور حشد العربية الاسلامیہ أنصار المقاومة کے رکن ہیں۔ [2]۔ادريس هانی،المفارقة والمعانقة(رؤية نقدية في مسارات العولمة وحوار الحضارات)، ص 181. [3]۔برنارڈ لوئس، أين يكمن الخطأ؟ ص 140 ـ 141، تـ : عماد شيحة، ط1، دار الرأي للنشر، 2006، دمشق. [4]۔سمير أمين، ثورة مصر، ص 28، ط 2، دار العين للنشر، 2012، القاهرة. [5]۔محمد قطب، کیف نکتب التاریخ الإسلامی، ص 230، ط 1995، دار الشروق، قاهرة. [6]۔سورہ مبارکہ انعام، آیت نمبر 57. [7]۔نهج البلاغة، خطبه نمبر40. [8]۔سورہ مبارکہ بقره، آیت نمبر 106. [9]۔ایضاً، آیت نمبر 61. [10]۔سورہ مبارکہ نجم، آیت نمبر 3. [11]۔سورہ مبارکہ لقمان، آیت نمبر 17 [12]۔سورہ مبارکہ الرحمن،آیت نمبر 33. [13]۔سورہ مبارکہ انفال، آیت نمبر 60.
ارسال کننده: مدیر پورتال
 عضویت در کانال آموزش و فرهنگ اربعین

چاپ

برچسب ها تکفیری تشدّد، جدید استعمار کا خادم۔ اربعین

نظرات


ارسال نظر


Arbaeentitr

 فعالیت ها و برنامه ها

 احادیث

 ادعیه و زیارات