ستاد مرکزی اربعین|کمیته فرهنگی، آموزشی

banner-img banner-img-en
logo

 ادبیات و پژوهش


ابدواللہ یا زھرا ماننسی حسینا

چاپ
ابدواللہ یا زھرا ماننسی حسینا

 

تحریر : عظمت علی

          بنی امیہ اور بنی عباس کے نقش قدم پر چلنے والے اور یزیدی فکر رکھنے والے داعش، طالبان، لشکر طیبہ۔۔۔ کی ہمیشہ سے یہی انتھک کوشش رہی ہے کہ ہر ممکنہ صورت میں حق و حقانیت پر سیاہ اور گہرے پردے ڈال دیں۔ جس کے باعث انھوں نے حق و صداقت کے پیروکاروں کو بے انتہا اذیتیں دی، قید خانہ کی سلاخوں کے پیچھے بھیجنا ، عزت و ناموس کا مذاق اڑانا، بے جرم و خطا سزا دینا اور جب اس عمل سے کچھ نہ بن پڑا تو انہیں تہہ تیغ کرڈالا۔ پھر بھی ان کی سیاسی چالیں ناکام رہیں۔ کیونکہ حق و حقانیت کا سورج انہیں ڈوبا اور آج تک اس کے طرفدار زندہ ہیں۔ یہ ان کے اسلاف کی روش چلی آرہی ہے کہ ان لوگوں نے اپنے دور حکومت میں آل نبیۖ اور اصحاب رسولۖ کو ہمیشہ اپنے تشددو بربریت کا نشانہ بنائے رکھا۔ مثلاً در بتولۖ پر آگ و لکڑی کا جمع کرنا ، حضرت علی کے گلے میں رسی کا پھندا ڈالنا، امام حسن کے جنازے پر تیروں کی بارش کرنا، کربلا کے تپتے ہوئے صحرا میں تین روز کے بھوکے پیاسے عزت اطہار کو قتل کرنا اور دیگر ائمہ کو زہر دغا دینا۔۔۔ جناب ابوذر کو شہر بدر کرنا اور میثم تمار کو دار پر سولی دینا وغیر۔

          ان تمام جوروستم کے بعد بھی جب ظالم اپنے مقصد میں ناکام رہا تو اس نے محبان اہلبیت پر مزید غیر انسانی اقدامات کا آغاز کردیا۔۔۔ یہاں تک کہ مقدس روضوں کی زیارت کو جانے والوں پر جور وجفا، متعدد دفعہ امام حسین کے روضہ کو مسمار کرنا اور بالآخر زائرین کرام کے قتل کے درپے ہونا۔ تاکہ ظلم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے والوں کی زبانوں پر تالے لگا دئیے جائیں۔ مگر عشق حسینی کا عجب جوش و ولولہ دیکھا کہ اگر سیکڑوں نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کردیا تو مزید لاکھوں افراد جان ہتھیلی ہپر رکھے زیارت کربلا کے لئے ماہی بے آب کی طرح تڑپ رہے ہیں۔

          دنیانے عشق کی اک حیران کن مثال دیکھی کہ قاتل نے ہاتھ پائوں قلم کردئیے پھر بھی عشق کے پائے استقامت میں کوئی لغزش نہ آئی۔ بلکہ دن بدن تعداد میں اضافہ ہی ہوتا رہا ہے اور انشاء اللہ تابہ قیام قیامت یہ قافلہ اسی آن بان کے ساتھ رواں دواں رہے گا۔

          العالم کی رپورٹ کے مطابق عراقی حکام نے بتایا ہے کہ ١٤٣٧ھ بمطابق ٢٠١٦ء میں نواسہ رسولۖ کے چہلم کے موقع پر تکفیریوں کی دھمکی کے باوجود کربلائے معلی میں ٢٧ ملین تعداد کا عظیم اجتماع یکجا ہوا۔ جس میں ٦٠ فیصد خواتین شامل تھیں۔ انھوں نے مزید بتایا کہ ٣ ملین ایرانی جبکہ ٤ ملین دنیا کے ٦٠ دیگر ممالک سے زائرین کرام تشریف لائے تھے۔ نیز ٦٥ ہزار ماتمی دستے کربلا میں موجود تھے جبکہ ١٧ ہزار انجمن و کیمپ پربرہنہ چلنے والے عشاق سید الشہدائ کی خدمت میں مصروف تھے۔

          نجف تا کربلا یعنی ٨٠ کیلو میٹر کے اس طویل پیادہ روحانی سفر میں خادمین حرم ان باعظمت مہمان کی سہولیات کا مکمل انتظام کرتے ہیں؛

          پائوں دھونا، ہاتھ پیردبانا، بدن کی مالش کرنا، لذیذ کھانے، بہترین چائے، ٹھنڈا پانی اور طبی سہولیات۔۔۔ فراہم کرنا۔ تاکہ محترم زائرین کو کسی طرح کی بھی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ غرض کہ عراقی حضرات اپنا سب کچھ نچھاور کردینے کو ہمہ وقت اور ہمہ جہت آمادہ رہتے ہیں۔ بعض ایسے خدمت گزار بھی ہیں جو اپنے سال بھر کے اخراجات و گھر بار تک ان کے لئے وقف کردیتے ہیں۔

          قابل رشک بات یہ ہے کہ انہیں اپنے نیک اعمال کی جزا ہمیشہ چند برابر ملتی ہے ۔ اس لئے کہ خاندان عصمت و طہارت نے کبھی کسی سے کچھ لیا نہیں اور ااگر کسی نے کچھ دیا بھی تو آپ اس کی لب کشائی سے پہلے ہی اتنا کچھ عطا کردیتے ہیںکہ اسے پھر کوئی حاجت نہیں رہ جاتی۔ آپ کا یہ عمل خداوند کریم کے اس قول کی عکاسی کرتا ہے کہ: ''من جاء بالحسنة فلہ عشر امثالھا'' جو شخص بھی نیکی کرے گا اسے دس گنا اجر ملے گا۔ (سورۂ انعام، آیت ١٦٠)

          یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ عراق میں تکفیری گروہ کے برسرپیکار و بعض علاقوں پر قابض ہونے کے بعد باوجود اتنی بڑی تعداد کا اس مختصر سے علاقے میں پرامن طریقے سے مشرف با زیارت ہونا ایک زندہ معجزہ ہے جس نے یزیدیت کو مبہوت اور ہر حسینی کے دیدار شوق میں مزید تڑپ پیدا کردی ہے۔

          کاش کہ! اسلام دشمن مسلمانوں نے گذشتہ تاریخ سے عبرت حاصل کی ہوتی تو مقدس مقامات کو نابود کرنے کی اتنی بڑی خطا نہ کرتے کیونکہ دنیا کے ٣ چوتھائی حصہ پر حکومت کرنے والا یزید جب ذکر اہل بیت نہ روک سکا تو آج کے یہ کرایہ کے سپاہیوں کی کیا مجال!

          ویسے بھی نور خدا کو بجھانا دریا کے رخ کو موڑنا ہے درآں حالیکہ قادر مطلق کا اٹل وعدہ ہے کہ ''فاذکرونی اذکرکم''(سورۂ بقرہ، ١٥٢)

          لہٰذا! دشمن عناصر کو عقل کے ناخن لینا چاہئے اور اب تو ان کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں کہ جس قوم کی موت و حیات ہی کربلا ہو اسے بے جان اسلحوں سے ڈرانا کیسا!

 



منابع:
ارسال کننده: مدیر پورتال
 عضویت در کانال آموزش و فرهنگ اربعین

چاپ

برچسب ها امام حسین۔ کربلا۔ اربعین۔ چہلم

نظرات


ارسال نظر


Arbaeentitr

 فعالیت ها و برنامه ها

 احادیث

 ادعیه و زیارات