ستاد مرکزی اربعین|کمیته فرهنگی، آموزشی

banner-img banner-img-en
logo

 ادبیات و پژوهش


اہل قبلہ کی تکفیر میں فتوٰی کا کردار

چاپ
اہل قبلہ کی تکفیر میں فتوٰی کا کردار

 

تحریر: علاء محمد سعید[1]

ترجمہ:ناظم حسین اکبر

خلاصہ

تکفیر کا مطلب  کسی خاص فرد یا افراد کو کافر جاننا ہے۔ اس لحاظ سے تکفیر  فتوے کی ایک قسم شمار ہوتی ہے۔ اس قسم کا حکم یا فتویٰ کسی فرد یا افراد کی جان، مال اور آبرو کو خطرے میں ڈال دیتا ہے۔ افسوس، آ ج ایسے لوگ دوسروں کے کفرکا فتویٰ دے رہے ہیں جن میں فتویٰ دینے کی شرائط موجود نہیں۔ لہذا فتویٰ، اس کے شرائط اور تکفیر سے مربوط موضوعات پر بحث کرنا ایک ضروری اور لازم امر ہے۔

مقدّمہ

فتویٰ جو اسلام کی عالمی بنیادوں کو پھیلانے اور وسیع رحمت و محبت، عالمی انصاف کو عملی بنانے، اخوّت وبھائی چارے کو فروغ دینے، دنیا میں امن و صلح کو قائم کرنے اور دنیا کو بشریت کے لیے مسخّر کرنے کی اعلیٰ انسانی اقدار کو پیش کرنے کے لیے اجتہاد کا وسیلہ ہے، کیا آج یہ ایسے نقاب میں تبدیل نہیں ہو گیا جس کے پیچھے بعض حکّام کو چھپنے کا موقع ملا ہے اورجسے  دشمنوں نے  اپنے ذاتی اہداف اور اپنے تنگ نظر مفادات کے  لیے اپنے چہروں پر چڑھا لیا اور اپنی لالچ اور گھمنڈ کو دین کے رنگ سے مزیّن کر دیا ہے؟

انتخابات میں شرکت پر حرمت کا فتویٰ۔

لوگوں، پارٹیوں اور حکومتوں کے کفر کا فتویٰ۔

حکام، عوام یا ان کے طرفداروں کے قتل کا فتویٰ یا ایسے افراد کو قتل کرنے کا فتویٰ جنہوں نے ان کے پاس پناہ لی ، یا ان کے لیے کام کرتے ہوں۔

حکومت کے انتظامی احکام کو قبول نہ کرنے کا اور سرکاری دستاویزات کو ترک کرنے کا فتویٰ۔

«وہ افراد جو کسی بھی مخصوص پارٹی یا جماعت کے ساتھ نہیں، ایسے افراد اللہ، اس کے رسولؐ، مؤمنین اور وطن کے ساتھ خیانت کے مرتکب ہوئے ہیں»، اس قسم کے فتوے۔

دشمن سے اپنی جان کو محفوظ بنانے کے لیے وطن کو چھوڑنے کا فتویٰ۔

اس کے مقابلے میں:

ایسے فتوے جو قومی وحدت اور وطن کی سلامتی کی حفاظت کی طرف دعوت دیتے ہیں۔

وہ فتوے جو اپنے ہموطنوں کے خلاف بیرونی فوجوں سے مدد طلب کرنے کو حرام قرار دیتے ہیں۔

وہ فتوے جن میں فوجیوں کو ان کے جہاد میں، اللہ کے احکام کی پیروی کی دعوت دی جاتی ہے۔

وہ فتوے جن میں فوج سے یہ مطالبہ کیا جاتا ہے کہ معصوم لوگوں کی حمایت کریں اور ان کی عزّت و ناموس اور مال کی حفاظت کریں۔

الغرض:

وہ فتوے جن میں معصوم لوگوں کی جان کی حفاظت، دین کا تحفّظ، عقلوں کی سلامتی، لوگوں کی عزّت و ناموس کی حفاظت، ان کے مال سےٖغلط استفادہ نہ کرنے  اور قومی وحدت و اتحاد کی دعوت دی جاتی ہے، وہ فتوے ہیں جن  کے صحیح ہونے میں کسی قسم کا کوئی اختلاف نہیں۔ وہ ہمہ جہت فتوے ( جو قوم کو اس کے مقاصد کے گرد جمع کرتے ہیں)اور ایک قسم کی جہادی تعلیمات اور دین کے اعلیٰ و ارفع اہداف پر مبنی ہوتے ہیں، یہ وہ فتوے ہیں کہ جن کی عالم اسلام کو آج ضرورت ہے۔

لیکن وہ فتوے جو مسلمانوں میں تفرقہ کے باعث بنتے ہیں اور سیاسی جماعتوں، دینی و فقہی مکاتب فکر اور فکری تحریکوں کو ایک دوسرے سے جدا کرتے ہیں، یا ۔۔۔ خود ایسے فتوے دینے والے کے احترام اور ان سے فتویٰ دینے کے جواز کو چھین لیتے ہیں۔

سیاسی پروپیگنڈہ کے لیے استعمال ہونے والے فتوے

الف:امیرشام  کے پاس ایک شامی شخص آیا اور تقریر کرنا شروع کردی، اپنی تقریر کے آخر میں اس نے حضرت علیؑ پر لعنت کی، جس پر لوگ خاموش رہے۔ احنف کہتا ہے:

اے امیرالمؤمنین!اگر یہ شخص تمہاری خوشنودی اللہ کے بھیجے ہوئے رسولوں پر لعنت کرنے میں پاتا تو یقیناً ان پر بھی لعنت کرتا،خدا کا خوف کرو اور علیؑ کو چھوڑ دو کیونکہ وہ اب اپنے خدا کے حضور پہنچ چکے ہیں۔

ب: اندلس میں بنی امیّہ کے حاکموں کی قربت حاصل کرنے کے لیے ایک فقیہ ایسے جملے ادا کرنے سے بھی گریز نہیں کیا کرتا کہ:« امام حسین اپنے جد کی شمشیر کے ساتھ قتل ہوئے»۔

ج: ابوالبختری نے ہارون الرّشید کی خاطر ایک انقلابی کے قتل کا فتویٰ دیا، اس سے پہلے ہارون الرشید نے اسے لکھ بھیجا تھا کہ اس شخص کی زندگی تیرے ہاتھ میں ہے اور اس پر اس نے  قاضیوں، علماء اور بنی ہاشم کے اکابرین کو گواہ بھی بنا لیا تھا،اس کے بعد ہارون الرّشید نے ابوالبختری کی  اس  فتوے کی وجہ سے  عزّت افزائی کی اور اسے قاضی القضاۃ کا منصب بھی عطا کیا۔دوسری طرف محمد بن الحسن الشیبانی نے اس انقلابی شخص کے قتل کو حرام قرار دیا، لیکن اس کے باوجود خلیفہ کا یہ اقدام عملی ہو کر رہا، کیونکہ خلیفہ شرعی حکم حاصل کرنے کے درپے نہیں تھا بلکہ اس کو ایک ایسا فقیہ چاہیئے تھا جو کسی طرح اس شخص کے قتل کو حلال بناتا۔

ہر فقیہ کا یہ حق بنتا ہے کہ وہ اپنے سیاسی نظریےکو آزادی کے ساتھ بیان کرے، جس کی چاہے مدد کرے اور جس سے چاہے دشمنی کرے، لیکن اس کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ اپنے  ذاتی نظریات کو شرعی فتاویٰ کے ساتھ ملائے۔

سیاست کے باب میں شرعی فتاویٰ کو الگ ہونا چاہیئے اور کسی صورت بھی سیاست اور سیاستدانوں کے منصوبوں سے متاثر نہیں ہونے چاہئیں۔ فتاویٰ جامع ہونے چاہئیں ایسے گروہ کی  رائے کو بیان کرتے ہوں جو امت مسلمہ کی  نمائندگی کر رہا ہو تا کہ اس صورت میں شارع کے مقصد سے زیادہ نزدیک ہو سکیں۔

کیونکہ دین  سراپا حق، عدل اور رحمت ہے اور امن کا دوسرا نام حکمت، برادری اور عمل صالح ہے۔

جبکہ سیاست مفاد پرستی ہے اور   مکر و فریب گمراہی ہے۔ حقیقت کو چھپانا جھوٹ کو ایک ثابت شدہ حقیقت کے طور پرپیش کرنا ہے جبکہ اپنے رقیبوں کو نابود کرنے کے لیے ان کو شیطان قرار دینا ہے۔

بنابریں، فقہاء اور مفتیان کرام کو سیاستدانوں اور ان کے  ان مخفی پروگراموں سے جن کے بارے میں ان کو علم نہیں، متاثر نہیں ہونا چاہیئے۔ ایک فقیہ سیاستدانوں کے خفیہ پروگراموں سے واقف بھی کیسے ہوسکتا ہے کیونکہ نہ ہی اس میں اس کام کی سکت ہے اور نہ ہی استعداد۔ یا ایک عرب یا غریب اسلامی ملک میں زندگی گزارنے والا نماز جمعہ کا خطیب جس کا ایک محدود حلقہ ہے ان سیاستدانوں کی چالوں سے کیسے واقف ہو سکتا ہے۔

یہاں پر مناسب ہے ہم امام محمد عبدہ کا جملہ بیان کریں جسمیں انہوں نے کہا: « سیاست نے جس کام میں بھی رخنہ اندازی کی اس کو فاسد کر دیا۔»

دو مقدمے

اول: بیداری کے بارے میں

  1. بیداری کانفرنس۔ مجھے اجازت دیجئے میں اپنی بات کو غفلت کی بحث سے شروع کروں۔

مسلمان نے تین آیات سے غفلت برتی ہے، یہ آیات آج کی بیداری میں تین اہم ترین اصولوں کو بیان کرتی ہیں۔

قرآن کریم اس آیت کے ذریعے ہمیں اسلامی وحدت کی طرف دعوت دیتا ہے:

(( وَاعْتَصِمُواْ بِحَبْلِ اللّهِ جَمِيعًا وَلاَ تَفَرَّقُواْ وَاذْكُرُواْ نِعْمَةَ اللّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنتُمْ أَعْدَاء فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُم بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا وَكُنتُمْ عَلَىَ شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَأَنقَذَكُم مِّنْهَا كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ))[2]

اور اس آیت کے توسط سے دینی وحدت کی طرف بلاتا ہے:

 ((قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْاْ إِلَى كَلَمَةٍ سَوَاء بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلاَّ نَعْبُدَ إِلاَّ اللّهَ وَلاَ نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلاَ يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضاً أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللّهِ فَإِن تَوَلَّوْاْ فَقُولُواْ اشْهَدُواْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ))[3]

جبکہ اس آیت میں انسانی وحدت کی دعوت دیتا ہے:((يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ))[4]

حقیقت میں اس زمانے کے مسلمان ان آیات سے غافل ہیں کیونکہ سب اپنے اپنے نظریات کے عشق میں مبتلا اور اپنے افکار میں سرگرداں ہیں۔ ان کے افکار اپنی ذات تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں وہ بھی ایسے کہ اپنے اردگرد کے حالات اور اجتماعی کاوش کی اہمیت سے بالکل بے خبر ہو چکے ہیں۔

دوم: فتویٰ کے بارے میں

  1. ایک شخص ربیعہ بن ابی رحمان نے امام مالک کو گریہ کرتے ہوئے دیکھا تو ان سے کہنے لگا:آپ گریہ کیوں کر رہے ہیں؟ امام مالک نے کہا:ایسے شخص سے فتویٰ لینے کے لیے کہا گیا ہے جس کے پاس کوئی علم ہی نہیں،اسلام پر بہت بڑی مشکل آن پڑی ہے۔ اس کے بعد کہا: فتویٰ دینے والے ان افراد میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو چوروں سے بھی زیادہ قید ہونے کے مستحق ہیں۔[5]

یہ بات دوسری صدی ہجری میں کہی گئی اور آج کے زمانے کی حالت کیا ہوگی جب ایسے افراد جن کے پاس علم ہے نہ تجربہ اور  مسند فتویٰ  پر براجمان ہیں۔ اسی طرح ان لوگوں میں بعض ایسے بھی ہیں جو بد سلیقہ و بد سیرت اور اہل علم میں غیر معروف ہیں اور اللہ کی کتاب اور سنّت نبوی سے بے بہرہ ہیں۔

ایک ایسا شخص دین کے اہم اور بڑے مسائل کے بارے میں کیسے فتویٰ دے سکتا ہے جس کو دین کے اصول و فروع کی خبر نہ ہو اور اس نے کبھی بھی قرآن و سنّت میں تدبّر و تعمّق نہ کیا ہو بلکہ ہمیشہ ان سے سطحی نگاہ ڈال کر  عجلت کے ساتھ گزر جاتا ہو؟

کیسے بعض جوان انتہائی اہم امور کے بارے میں بڑی سادگی اور آسانی کے ساتھ فتویٰ دے دیتے ہیں؟ جیسے ان مخصوص افراد اور معاشروں کی تکفیر کرنا جن کے نظریات ان کے ساتھ ملتے نہ ہوں اسی طرح اپنے پیروکاروں پر بعض اجتماعات میں شرکت کو حرام قرار دینا۔ ان جوانوں میں سے ایسے بہت سے ہیں جو شریعت میں بیان ہونے والے اہل ذکر  میں سے نہیں ہیں اور چہ بسا ان لوگوں نے اہل ذکر کی ہمنشینی اور ان سے حصول علم کی زحمت بھی نہ کی ہو اور بس معاصر افراد کی کتابوں کا جلدی جلدی سے مطالعہ اور لوگوں کو دھوکہ دینے والے بعض افراد کی کیسٹیں سن کر اپنی دنیا اور اپنے اصول بنا لیے۔

دین کے اصل مآخذ اور ان لوگوں کی سمجھ میں لاتعداد حجاب ہیں، حتیٰ یہ لوگ اگر ان مآخذ کو پڑھیں تب بھی ان کو سمجھنے سے قاصر ہیں، کیونکہ یہ ان متون کی اپنی خواہشات نفسانی اور اپنے دنیاوی اہداف کے حصول کے مطابق تفسیر کریں گے۔ حقیقت میں ان کے پاس ان متون کو سمجھنے اور درک کرنے کے اصول ہی نہیں۔

امام نووی ابن مسعود اور ابن عباس سے نقل کرتے ہیں کہ: (( ایسا شخص جو ہر چیز کے بارے میں فتویٰ دے، ایسا شخص دیوانہ ہے۔))[6]

امت مسلمہ کو درپیش مشکلات میں سے ایک مشکل وہ افراد ہیں جو کسی مسئلے میں ایک یا دو نصوص کے بارے میں علم کی بنا پر فتویٰ دیتے ہیں حالانکہ شریعت ایک خبر یا روایت سے تو ثابت نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے مختلف امور کو باہم جمع کیا جاتا ہے اور حقیقت تک پہنچنے کے لیے شریعت میں استقراء کیا جاتا ہے۔

ابو نعیم، ربیع بن سلیمان سے نقل کرتا ہے: بلخ کے ایک شخص نے امام شافعی سے ایمان کے بارے میں سوال کیا؛امام شافعی نے اس شخص سے کہا: اس بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟ اس نے کہا:ایمان قول ہے۔

امام شافعی نے کہا: تم کیسے اس نتیجے پر پہنچے ہو؟ اس نے کہا: اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی بنیاد پر: ((إِنَّ الَّذِينَ آمَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّالِحَات))[7] اس مقام پر واؤ ایمان اور عمل کے درمیان جدائی کا عامل ہے، پس ایمان قول ہے اور اعمال شریعت۔

امام شافعی نے کہا: تمہارے نزدیک واؤ فصل ہے؟

وہ شخص بولا: جی ہاں۔

امام شافعی نے کہا: تم دو خداؤں کی عبادت کرتے ہو؛ ایک مشرق میں اور دوسرا مغرب میں، کیونکہ اللہ فرماتا ہے: ((رَبُّ الْمَشْرِقَيْنِ وَرَبُّ الْمَغْرِبَيْنِ))[8]

وہ شخص غصّے میں آگیا اور کہا:سبحان اللہ! آپ نے تو مجھے دو خداؤں کا عبادت کرنے والا بنا دیا؟

امام شافعی نے کہا: تم نے خود اپنے ساتھ ایسا کیا۔

وہ شخص بولا: وہ کیسے؟

امام شافعی بولے: تمہارے اس خیال کی وجہ سے کہ واؤ  جدائی کے لیے آیا ہے۔

وہ شخص بولا: میں نے جو کچھ بولا اس پر میں استغفار کرتا ہوں، کیونکہ میں تو ایک خدا کی عبادت کرتا ہوں اور آج کے بعد کبھی بھی یہ نہیں کہوں گا کہ واؤ فصل یا جدائی کے لیے ہے، بلکہ کہوں گا کہ ایمان قول و عمل ہے جو کم اور زیادہ ہوتا ہے۔

آپ ملاحظہ کریں کہ کس طرح وہ شخص ایک حرف کے ذریعے گمراہی کے قریب پہنچ چکا تھا! واؤ قطعی الثبوت ہے  لیکن وہ شخص اس مطلب کو درست صورت میں سمجھ نہ سکا اور وہ بھی متون سے صحیح اور صریح طور پر مستفید نہیں ہو سکا۔ اب ایک ایسا شخص جو ایک ظنّی الثّبوت حرف جو نصوص صحیحہ کے ساتھ معارض ہو، سے درست نہ سمجھے تو معاملہ کہاں تک پہنچ جائے گا؟

شعبی، حسن اور ابی حصین سے نقل ہؤا ہے، انہوں نے کہا:(( تم میں سے ہر کوئی اس مسئلے کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے کہ اگر یہ مسئلہ عمر بن خطاب کوپیش آیا ہوتا تو وہ اہل بدر سے فتویٰ لیتے۔))[9]

فتویٰ اور بیداری کی اصطلاح کی وضاحت

اولاً: فتویٰ کا مفہوم

لغت میں فتویٰ[10]: یہ اسم مصدر ہے جس کے معنیٰ فتویٰ دینے کے ہیں، جبکہ اسکی جمع فتاوا اور فتاویٰ ہے۔ أفتیتُه فتویٰ و فتیاً اس وقت کہا جاتا ہے جب ہم کسی مسئلے کا جواب دیتے ہیں۔ الفتیا: احکام کی مشکلات کو بیان کرنا۔

شریعت میں فتویٰ: ایک مسئلے میں شرعی حکم کو بیان کرنا، کسی مخصوص یا غیر مخصوص سوال کرنے والے کے سوال کا جواب دینا، خواہ سوال کرنے والا ایک فرد ہو یا ایک جماعت۔[11]

مفتی: اس شخص کو کہتے ہیں جو لوگوں میں فتویٰ دیتا ہے، اللہ تعالیٰ کے حکم کو واضح کرتا اور ان کے لیے دین و شریعت کی نظر کو استنباط کرتا ہے۔

فتویٰ قضائی حکم کے ساتھ دو موارد میں مختلف ہوتا ہے:

ایک: فتویٰ ایک شرعی حکم کا اِخبار ہے جبکہ قضاء دو مخالفوں کے درمیان انشاء حکم ہے۔

دوسرا:فتویٰ مانگنے والے کے لیے فتویٰ کا حکم لازمی نہیں ہوتا جبکہ قضائی حکم اس کے لیے لازم الاجراء ہوتا ہے۔

ثانیاً: بیداری (الصحوۃ) کا مفہوم

بیداری لغت میں: بیداری عربی زبان میں صحا کے مادہ سے ہے؛ یعنی جس وقت انسان متنبّہ ہوجاتا ہے تو اسے بیدار کہا جاتا ہے۔

شاید اس کا مادہ صحو ہو جس کے معنیٰ بادل کا چھٹنا اور چمکتے دن کا سامنے آنا، مستی کا زائل ہونا اور باطل کو ترک کرنا ہیں۔[12]

صحوہ یا بیداری اپنے متضاد معنیٰ یعنی سونے یا مستی سے پہچانے جاتے ہیں۔ کہا جاتا ہے: صحا من نومہ او من سکرہ،  یعنی اپنے کھوئے ہوئے احساس یا شعور کو دوبارہ پا لیا۔ یہ چیز یا تو نیند کا نتیجہ ہے جو ایک فطری امر ہے اوریا مستی کا نتیجہ ہے جو اپنے اختیار سے انسان اپنے اوپر طاری کرتا ہے۔

قومیں بھی افراد کی طرح، ایک محدود یا زیادہ مدّت کے لیے اپنی نیند یا داخلی غفلت کی بنیاد پر یا ایسی بیرونی غفلت کی وجہ سے جو ان پر نافذ کی جاتی ہے، اپنے احساس و شعور کو کھو بیٹھتی ہیں۔

امت مسلمہ بھی انہیں مشکلات سے دچار ہے جن کا سامنا دوسری قوموں کو ہے۔ کبھی سو جاتی ہے اور پھر بیدار ہو جاتی ہے جس کا مشاہدہ ہم آج کے دور میں کرسکتے ہیں۔

اس بنیاد پر امّت کی بیداری کا مطلب، اپنے احساس و شعور کو کھونے کے بعد دوبارہ پا لینا ہے۔

اس رجحان کو کبھی نیند (رقود یا نوم) کے مقابل، بیدار ہونے (یقظہ) کے عنوان سے بیان کیا جاتا ہے؛ ایسی نیند جس سے امت مسلمہ کئی صدیوں کی پسماندگی اور جمود کے بعد دوچار  ہو چکی ہے۔

کبھی اس کو نیند (نوم) کے مقابلے میں  برانگیختہ(بعث) ہونے کے عنوان سے بیان کیا جاتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا قرآن کریم میں ارشاد ہے: ((وَ هُوَ الَّذِى يَتَوَفَّئكُم بِالَّيْلِ وَ يَعْلَمُ مَا جَرَحْتُم بِالنهََّارِ ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيهِ لِيُقْضىَ أَجَلٌ مُّسَمًّى ثُمَّ إِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ ثُمَّ يُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُون))[13]

اور کبھی موت کے بعد کے لیے استعمال ہوتا ہے اور شاید یہ معنیٰ ایک مسلمان کے ذہن میں پہلے آئے؛ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَأَنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ مَن فِي الْقُبُورِ ۔[14] مسلمان امت مرتی نہیں بلکہ یہ نیند ہے جو موت کی شبیہ ہے اور خاص طور پر اس وقت جب طولانی ہو جائے۔

کہا جاتا ہے : نیند، ہلکی جبکہ موت سنگین موت ہے، یا یہ کہ نیند چھوٹی موت اور موت ایک لمبی نیند ہے۔[15]

اصطلاح میں بیداری (الصحوۃ)

بیداری کی بیان شدہ لغوی تعریف کی بنا پر ہم اس کی کچھ اس طرح سے تعریف کر سکتے ہیں:

بیداری  ایک جدید رجحان ہے  جو اسلامی امّت کے احساس اور شعور کا غماز ہے، اسی طرح اپنے ادراک میں مسلسل ترقی، اپنے دین پرفخر، اپنی فکر و زندگی میں وابستگی سے آزادی ، پسماندگی سے باہر آنے کے لیے کوشش اور اس اعتبار سے اپنے ممتاز تمدنی کردار کو ادا کرنا کہ یہ امت سب سے بہترین امت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے زمین کو آباد کرنے کے لیے خلق کیا ہے ۔[16]

اصطلاح میں بیداری ایسا یقظہ ہے جس سے ایک فرد یا ملت اپنی نیند، غفلت یا پسماندگی سے  دوچار ہوتی ہے۔اہل تصوّف کے نزدیک، بیداری (الصحوۃ) غیبت کے بعد سالک کے قلب پر ایک قوی واردات کے ذریعے  احسان کی طرف بازگشت ہے۔[17]

آج کے دور میں اس اصطلاح کے رواج نے  ممالیک اور عثمانیوں کے تحت تسلط رہ کر اور تمدنی پسماندگی کے بعد، ہماری مسلمان قوم کو قیام کا متمنّی بنایا۔

یہ بیداری دو میدانوں اور دو محاذوں پر کارفرما ہے:

  1. داخلی پسماندگی جو تمدّن میں پیچھے رہ جانے سے حاصل ہوئی؛
  2. مغربی چیلنجز جو یہ چاہتے تھے کہ مسلمان قوم کو دیوار کے ساتھ لگا دیا جائے اور یہ قوم ہمیشہ مغرب سے ہی وابستہ رہے تا کہ مغرب اس کا استحصال کرتا رہے اور اس کا اسلامی دنیا پر قبضہ باقی رہے۔

یہ بیداری (اسلام)کی صفت سے متّصف ہو چکی ہے۔یہ صفت  اس کے  دوسرے قیاموں سے مختلف ہونے کی وجہ ہے جسے ان مکاتب اور مغربی فلسفوں کے بانی لبرلزم، کیمیونزم یا نیشنلزم جیسی آئیڈیالوجیز کے طور پر پیش کرکے ان کی طرف دعوت دیتے ہیں۔

بیداری اسلامی وہ وسیع رجحان ہے جس کے بہت سے حصّے اور سطحیں ہیں۔ اس کی کوشش ہے کہ دین اسلام پر عمل کرکے  اس کی تجدید کی جائے تا کہ اس کے ذریعے مسلمانوں کی دنیا کو رونق حاصل ہو۔

قوموں اور تمدنوں کے حوالے سے اللہ کی سنّت  ایسی ہے جو مخصوص زمانے اور مدت کے لیے ہے، لہذا قومیں اور تمدن ایک کے بعد ایک ترقی اور پسماندگی،  عروج و زوال، جمود و عروج اور موت و حیات سے دوچار ہوتے ہیں۔

اللہ نے اپنے اس اصول اور سنّت کی طرف قرآن کریم میں اشارہ کیا ہے: ((وَتِلْكَ الأيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ وَلِيَعْلَمَ اللّهُ الَّذِينَ آمَنُواْ وَيَتَّخِذَ مِنكُمْ شُهَدَاء وَاللّهُ لاَ يُحِبُّ الظَّالِمِينَ))[18]

اس کے علاوہ فرمایا: ((وَ إِن تَتَوَلَّوْاْ يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيرَْكُمْ ثُمَّ لَا يَكُونُواْ أَمْثَالَكم))[19]

اسی طرح ارشاد ہؤا: ((وَلَوْلاَ دَفْعُ اللّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَّفَسَدَتِ الأَرْضُ))[20]

نبی اکرمﷺ کی حدیث بھی اسی سنّت کو واضح کررہی ہے، جیسا کہ فرمایا[21]: میرے بعد زیادہ دیر نہیں لگے گی کہ ظلم و جور آشکار ہو جائے گا، پس جتنی مقدار میں ظلم آشکار ہو گا اتنا ہی عدل کم ہو جائے گا، یہاں تک کہ ظلم کے اس دور میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو ظلم کے علاوہ کسی چیز سے آشنا نہیں ہونگے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ عدل کا بول بالا کرے گا، اور جتنا عدل ظہور کرے گا اسی مقدار میں ظلم کم ہوگا، یہاں تک کہ اس دور میں ایسے لوگ پیدا ہونگے کہ جو عدل کے علاوہ کسی چیز کو جانتے ہی نہ ہوں گے۔[22]

اگر یہ سنّت ایک زمانے اور وقت کے لیے ہے جو قوموں اور تمدنوں کے راستے کو مشخص کرتی ہے تو  اس سنّت کو بیداری، جدید کاری اور غفلت، پسماندگی اور جمود کے چکر سے باہر نکلنے کی ضرورت ہے۔

پس جدیدکاری کے معنیٰ میں یہ بیداری اللہ کی انسانوں کوجمع کرنے اور تمدنوں کے راستے مشخص کرنے کی سنّت ہے۔

رسول اکرمﷺ کی حدیث مبارکہ بھی اسی حقیقت کی طرف اشارہ کر رہی ہے، جہاں آپ فرماتے ہیں[23]: ((اللہ اس امت کے لیے ہر صدی کی ابتدا میں ایک ایسا شخص پیدا کرے گا جو اس کے دین کی تجدید کرے گا۔))[24]

اگرچہ انسانی تہذیبیں بشری معاہدوں اور اقدامات کا نتیجہ ہیں اور ان کو  مطلق اور جاوید نہیں سمجھا جا سکتا کیونکہ ان کی انسانی تمدن کے تسلسل کی راہ میں دوسری تہذیبوں کے ہاتھوں موت کا امکان موجود ہے، لیکن اگر کوئی شخص اسلامی تہذیب کے عمل اور عربی زبان کو ملاحظہ کرے تو اسے پتا چلے گا کہ یہ دونوں تہذیبوں اور زبانوں کی موت سے مستثنیٰ ہیں۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ اللہ نے ان دونوں کو اپنے آخری دین اور قرآن کریم کے ساتھ جوڑ دیا ہے، وہ قرآن جس کی حفاظت کی ذمہ داری خود خداوند متعال نے لی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اسلامی بیداری اور جدید کاری ایک دائمی سنّت ہے اور بشری تمدن کے راستے کا وہ ضروری اصول ہے جس نے  اسلامی تہذیب کو جمود کے بعد حرکت کی طرف بڑھایا ہے،  اسی سنت نے مسلمان قوم کو دوسری تہذیبوں کی مدت سے زیادہ  مدت کے لیے بشری تمدن کا رہبر بنایا اور ان کے قدموں کو اس راستے میں لغزشوں سے محفوظ رکھتے ہوئے ان کو ایک شناخت عطا کی۔

بیداری تمدن بشری کے ان اقدامات میں سے ہے جس کی طرف وحی الٰہی نے ترغیب دلائی اور اس کی نشانیوں کو معین کیا۔ بیداری ایسی خصوصیت ہے جو مسلمان قوم کو دوسری قوموں سے ممتاز کرتی ہے۔

اگرچہ پچھلے کچھ عشروں سے بے دینی کو ماڈرن کرنے کے مختلف منصوبوں کی ناکامی سے مختلف ادیان میں بیداری کو اہمیت حاصل ہوئی ہے، لیکن اسلامی بیداری نے اسلامی ہونے پر اعتماد کیا جو اسلام کو تمام الٰہی شریعتوں اور غیر الٰہی مکاتب سے ممتاز کرتا ہے۔ یہ خصوصیت اسلام کا ایک جامع اسلوب ہے جو اس کو دنیا کے ہر کونے میں مطلوبہ تبدیلی کے لیے مؤثر اور کارآمد بناتا ہے۔

لہذا اسلامی بیداری اپنے آغاز سے لیکر آج تک مسلمان قوم کے قیام، موروثی پسماندگی اور مغربی استعمار اور تمدن کے غلبے سے آزادی کے خواب سے جڑی ہوئی ہے۔

اسلامی بیداری میں فتویٰ کا بحران

اسلامی بیداری میں فتویٰ کی اہمیت سے مزید اور بہترآشنا ہونے کے لیے ہم اس رجحان کے بعض مظاہر کو بیان کریں گے:

متن سے غلط استفادہ کرنا

یہ رجحان ان اہم امور میں سے ہے جہاں لغزش کا خطرہ ہے اور اس کی طرف توجہ کرنا چاہیئے۔ بہت سے مقامات پر متن درست ہوتا ہے اور اس میں کوئی اختلاف نہیں ہوتا کیونکہ وہ یا تو قرآن کی آیت ہوتی ہے یا رسول خداﷺ کے قول، فعل یا تحریر سے لیا  گیا ہوتا ہے، لیکن مشکل اس وقت بنتی ہے جب  اس کوایسے موضوع میں استعمال کیا جاتا ہے جہاں یہ دلالت ہی نہیں کر رہا ہوتا۔

بعض اوقات یہ رجحان فکری نقص اور متن سے غلط مفہوم سمجھنے کی بنیاد پر ہوتا ہے اور یا وہ جلد بازی ہے  جسے ہم عام لوگوں میں دیکھ سکتے ہیں کہ بغیر کسی دلیل اور حجّت کے صرف اپنے گمان کو استعمال کرتے ہوئے متون سے رجوع کرتے ہیں اور جو چیز نہیں جانتے اسے خدا سے منسوب کر دیتے ہیں۔

کبھی یہ اندرونی خلل یا عارضے اور بد نیتی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ وہ اس طرح کہ بعض لوگ یہ کوشش کرتے ہیں کہ متن کی اپنی مرضی اور منشاء کے مطابق تفسیر کریں، جیسے خوارج نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ((إِنِ الْحُكْمُ إِلاَّ لِلّهِ))[25] کو حَکَمَین کو قبول نہ کرنے کے لیے دلیل بنایا۔حضرت علیؑ نے بھی ان کو اسی طرح جواب دیا اور کہا کہ ((یہ وہ حق بات ہے جس سے باطل کا ارادہ کیا گیا ہے۔))[26]

دوم: غلط سمجھنا اور تفسیر کرنا

وہ خطرناک ترین مسئلہ جس سے متون کو خطرہ لاحق ہے وہ اس کو صحیح طریقے سے نہ سمجھنا اور اس کی غلط تفسیر کرنا ہے۔ وہ اس طرح کہ تاویلیں گھڑنے والےخود تفسیر کرنے کے لیے، نصوص کو اس مراد سے خارج کر دیتے ہیں جس کا اللہ اور اس کے رسولؐ نے ارادہ کیا ہوتا ہے ۔

کبھی یہ معانی بذات خود تو درست ہوتے ہیں لیکن متون ان معانی پر دلالت نہیں کر رہے ہوتے، کبھی بذات خود معانی بھی غلط ہوتے ہیں اور متون بھی ان معانی پر دلالت نہیں کر رہے ہوتے اور یوں دلیل اور مدلول دونوں ہی فاسد اور غلط ہوتے ہیں۔

سوم:بغیر غور و فکر کے فتویٰ دینے میں جلدبازی سے کام لینا

بعض فتویٰ دینے والے حضرات جلد بازی کرتے ہیں، یہ چاہتے ہیں کہ لوگوں کو حق کی طرف رہنمائی کریں اور اسلامی شریعت  کو ایک ہی بار میں نافذ کر دیں، لہذا ایسا فتویٰ صادر کرتے ہیں کہ جس سے عقل دنگ رہ جاتی ہے اور لوگوں کو جان بوجھ کر اور ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت، یا غفلت اور اس فتوے کے نتائج سے بے خبری کی وجہ سے ایک فتنے کا شکار کر دیتے ہیں۔

غیر مسلمانوں میں اسلاموفوبیا کے عوامل میں سے ایک اہم عامل جلد بازی میں دیے گئے انہی فتوؤں کا نتیجہ ہی تو ہے؛ اسلامی بیداری کے حوالے سے جس چیز کا سب سے زیادہ ڈر پایا جاتا ہے وہ یہی جلد بازی ہے، وہ لوگ جو پکنے سے پہلے ہی پھل کھانے  کی خواہش کرتے ہیں، جو یہ چاہتے ہیں کہ آج بوئیں اور کل ہی کاٹ لیں، بلکہ صبح بوئیں اور شام کو چن لیں، ایسے لوگ اپنے کاموں کی تائید کے لیے اس طرح کے فتوے صادر کرتے ہیں۔

جلدی بازی سے کبھی تشدد بھی جنم لے لیا کرتا ہے، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو بہت جلد طاقت حاصل کرنا چاہ رہے ہوتے ہیں۔ اس تشدد کا رد عمل اتنا زیادہ پر تشدد ہوتا ہے کہ جو کلی طور پر ملّت اور بیداری دونوں کے لیے خطرناک ثابت ہوتا ہے۔

چہارم: ترجیحات کو سمجھنے میں نقص

اس سے مراد ہر چیز کو اس کی صحیح جگہ پر رکھنا ہے، وہ بھی اس طرح کہ  جس چیز کو مؤخر ہونا ہے وہ مقدم نہ ہو اور جس چیز کو مقدم ہونا ہے وہ مؤخر نہ ہو، اسی طرح بڑا مسئلہ چھوٹا دکھائی نہ دے اور چھوٹا مسئلہ بڑا نہ دکھایا جائے۔

بنابریں،واضح غلطی ترجیحات کو سمجھنے میں ہے۔ کبھی مستحب واجب پر مقدم کیا جاتا ہے اور کبھی فرض کفایہ فرض عینی پر مقدم ہوتا ہے اوروہ  فرض عینی جو ایک فرد کے ساتھ مخصوص ہوتا ہے ایسے فرض عینی پر مقدم ہوجاتا ہے جو ایک جماعت کے لیے مخصوص تھا اور اسی طرح آگے چلتے جائیں۔۔۔

پنجم: توازنوں کو سمجھنے میں غلطی

اس سے مراد مندرجہ ذیل تمام موارد ہیں:

الف:حجم، گنجائش، گہرائی، تاثیر، دوام، پائیداری اور کس کو مقدم اور کس کو باطل قرار دیا جائے،میں منافع میں توازن برقرار کرنا۔

ب: جو منافع میں جہات بیان کی گئی ہیں انہی  جہات کے ساتھ مصالح اور مفاسد میں تواز ن برقرار کیا جائے۔ پس جو چیز واجب ہے اسے مقدم اور ہر وہ چیز جسے مؤخر کرنا اس کا حق بنتا ہو مؤخر کیا جائے یا اگر قابل منسوخ ہے تو منسوخ کر دیا جائے۔

ج: تعارض کی صورت میں منافع اور مفاسد میں توازن برقرار کرنا۔ پس اگر یہ تعارض ایسا ہو کہ ہمیں پتا ہو کہ نفع حاصل کرنے کے لیے ضرر کو دور کرنے کا وقت کون سا ہے تو اس کو مقدم کیا جائے اور کونسا وقت ہے جب فائدے کے لیے ضرر سے چشم پوشی  کی جائے۔

ششم: تفاوتوں کو سمجھنے میں غلطی

اس عنوان سے ہماری مراد علمی اختلاف ہے، وہ اس طرح، کہ اس قسم کے اختلافات پہلی نسل میں رونما ہوئے اور ان کو ان سے کوئی نقصان بھی نہیں ہوا، کیونکہ وہ لوگ اتنے مخلص، پاک سیرت اور اعلیٰ اخلاق کے حامل تھے کہ کوئی بھی ان کے مقام تک پہنچ نہیں سکتا۔

لیکن معاصر بیداری میں بہت سے لوگ اس فقہ کی جزئیات سےاتنے  غافل ہیں کہ ہم میں سے بعض لوگ بے وقعت مسائل کی وجہ سے دوسروں کے ساتھ دشمنی کرنے لگتے ہیں۔

ہفتم: اہداف کو سمجھنے میں غلطی

وہ افراد جو شریعت کی جزئیات پر کفایت نہیں کرتے بلکہ زندگی کے تمام امور کے لیے شریعت کے کلی اور بڑے اہداف کو مدنظر رکھتے ہیں ان کے لیےعقلی بیماریوں کے علاج کے لیے احکام کے اہداف و مقاصد  اور علتوں  کا تجزیہ کرنا اور ان کی حکمتوں کی تحقیق کرنا،  مددگار ثابت ہوتا ہے اور جس سے انہیں عقل کو پاکیزہ کرنے اور اجتہاد اور ترجیحات کو درک کرنے میں بہت مدد ملتی ہے۔[27]

ہشتم: تکفیر کا فتویٰ اور تشدد کی ترغیب

شاید یہ امر اسلامی بیداری میں فتویٰ کے بحران کا  سب سے واضح مظہر ہو، جو اسلامی فقہ اور اس کے اصولوں میں بعض مفتیوں کی کم مائیگی اور اسلامی علوم میں ان کے غور و خوض  نہ کرنے کی وجہ سے ہے۔ یہی بات سبب بنی کہ ان لوگوں نے متشابہات کی طرف رخ کیااور محکمات کو فراموش کر دیا، یا جزئیات میں سر کھپاتے رہے اور کلی قواعد سے غافل رہے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ انہوں نے متون کو بہت سطحی اور عارضی طور پر سمجھا۔

اسلامی بیداری میں اپنے دین کی نسبت بہت زیادہ غیرتمند جوانوں کے غلو آمیز رویّہ، اس بات کا سبب بنا کہ انہوں نے  دوسرے مسلمانوں کو کافر قرار دے دیا حتیٰ یہ افراد ان کی جان و مال کو بھی مباح قرار دیتے ہیں۔

ماضی میں یہی واقعہ خوارج کے معاملے میں انجام پایا، کیونکہ یہ افراد بھی ہمارے مولا، امیر المؤمنین حضرت علیؑ کے خون کو بھی حلال سمجھتے تھے۔

وہ بیماریاں جن سے فتوے دوچار ہیں:

  1. بعض اوقات شرعی علوم میں مہارت نہ رکھنے والے افراد فتویٰ دینا شروع کردیتے ہیں۔
  2. کبھی فتویٰ دینے کی اہلیت نہ رکھنے والے افراد یہ کام کرنا شروع کردیتے ہیں۔
  3. بعض اوقات دین و شریعت کا بہت کم علم رکھنے والے افراد مفتی بن بیٹھتے ہیں۔
  4. کبھی فقہ کے قواعد کی پیروی نہ کرنے والے فتویٰ دینے لگتے ہیں۔
  5. کبھی دین کے ارکان میں تفریط کا شکار افراد اس کام کے ذمہ دار بن جاتے ہیں۔
  6. کبھی یہ کام ماہر انسان انجام دیتا ہے لیکن تساہل اور بے پروائی کے ساتھ۔
  7. کبھی عوام کو اپنی ذاتی، مادی اور بے وقعت مفادات حاصل کرنے کے لیے غلط استعمال کیا جاتا ہے۔
  8. بعض ایسے افراد بھی ہیں جو عادتوں اور عرف کو مستحکم شرعی قوانین پر ترجیح دیتے ہیں۔

فتویٰ کے اصول اور عمومی فریم ورک اور بیداری کے وقت ان اصولوں کی ضرورت

  1. دین، جان و مال اور عزّت کی حفاظت کرتے ہوئے کام کرنا۔
  2. امور کے ظواہر کی نسبت ان کے اہداف پر زیادہ توجّہ دینا۔
  3. مسلمانوں پر ایک دوسرے کے حقوق کی رعایت کرنا واجب ہے:((مسلمان دوسرےمسلمان کا بھائی ہے؛ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ ہی اس کو ظلم اور ظالم کے سامنے تسلیم ہونے دیتا ہے، اور جو شخص بھی اپنے (دینی)بھائی کی مشکل حل کرنے کے لیے کوشش کرتا ہے، اللہ ایسے شخص کی مشکلات خود حل کرتا ہے اور جو بھی کسی مسلمان کی کسی سختی اور مشکل کو دور کرتا ہے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن، اس کی مشکلات اور سختی میں سے ایک مشکل یا سختی کو دور کرے گا، اور جو بھی کسی مسلمان کے عیب پر پردہ ڈالے گا، اللہ قیامت کے دن اس کے عیبوں پر پردہ ڈالے گا۔))[28]
  4. مسلمان اپنے بھائی کو تنہا نہیں چھوڑتا اور اس کے خلاف کسی کا ساتھ نہیں دیتا، بلکہ اس کی مدد کرتا ہے۔[29]
  5. مؤمن مؤمن کے لیے ہے۔[30]
  6. مؤمن مؤمن کے خلاف نہیں ہوتا، اگرچہ ان کی زبان، نژاد اور سرزمینیں متعدّد ہی کیوں نہ ہوں۔[31]
  7. مسلمانوں کے درمیان تعلقات کا محور دوستانہ تعاون اور غیر مسلمانوں کے ساتھ شناخت کی بنیاد پر امن ہے۔
  8. اشتعال انگیز تقاریر سے گریز،  دوستوں کے درمیان صمیمیت کے پہلو کا غالب رہنا اور دشمنوں کے ساتھ رواداری۔
  9. سبقت لے جانے والی باتوں اور تقاریر یا دوسرے کو باطل قرار دینے یا خود سے دور کرنے  سے گریزکرنا۔
  10. ایسی باتوں کو دوسروں پر تھوپننے یا عائد کرنے سے گریز کرنا جو اصول فقہ اور استنباط کے ضوابط سے حاصل نہ ہورہی ہوں اور احادیث کے ذریعے ایسے استدلال سے پرہیز کرنا جو ان احادیث سے ثابت نہ ہورہا ہو۔۔۔۔۔؟

مجتہدین کی آراء کو نقل کرتے وقت اطمینان حاصل کرنا اور معتبر مآخذسے  رجوع کرکے ان سے مدد حاصل کرنا۔

کسی بھی مکتب فکر میں اس مکتب کے اصول فتویٰ کے ساتھ فتویٰ، امر مرجّح یا مشہور کی رعایت کرنا، اس طرح سے کہ فقہا ء کے درمیان رائج عبارتوں کے مطابق ہو، اصول فتویٰ یا مفتی کی شرائط کی کتابوں سے مددلینا۔

اگر دلائل مساوی ہوں یا دو مباح امور کے درمیان تخییر کی صورت بن جائے تو بہتر ہے  جو آسان ہے اسے لے لیا جائے اور اگر ایک دلیل میں ضرر اور دوسری میں فائدہ ہو تو مسائل کے حل کی خاطر ضرر کا راستہ روکا جائے۔

کسی بھی کام کے سادہ ترین حکم کو حاصل کرنے کے لیے فقہی طریقوں سے فتویٰ صادر کرنے کو اسلوب نہیں سمجھنا چاہیئے،بلکہ جب بھی کوئی نظریہ اور درست استدلال فتویٰ کے لیے فقہی اجازت دے، تو فتویٰ صادر کرنا چاہیئے وہ بھی اس شرط پر کہ یہ اجازت فقہا کی عدم موافقت سے حاصل نہ ہوئی ہواور دو ملتے جلتے واقعات میں حکم کے مختلف ہونے کا سبب نہ بنے۔

اسلامی مذاہب کو ایک دوسرے سے قریب کرنے کے لیے فتویٰ کے اصول

بحث کے آغاز میں ایک روایت نقل کرتا ہوں جو علم کے متلاشی حضرات کے لیے مشعل راہ قرار پائے گی،  اور ہم یہ بھی جان پائیں گے کہ کس طرح زندگی میں فقہی اختلافات کو کیسے پایا جائے اور کس طرح سؤال کرنے والوں کو جواب دیا جائے۔

عبدالوارث بن سعید سے نقل ہؤا ہے  جو کہتے ہیں: میں کوفے داخل ہؤا اور وہاں کے تین فقہا ابو حنیفہ، ابن ابی لیلی اور ابن شبرمہ کے پاس گیا۔

میں نے ابو حنیفہ سے پوچھا: ایک ایسے شخص کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے جس نے ایک چیز بیچی اور اس پر ایک شرط بھی عائد کی؟

ابوحنیفہ نے کہا: بیع اور شرط دونوں باطل ہیں۔

پھر میں ابن ابی لیلی کے پاس گیا اور ان سے یہ سوال پوچھا، انہوں نے جواب دیا: بیع جائز جبکہ شرط باطل ہے۔

اس کے بعد میں ابن شبرمہ کے پاس گیا اور وہی سؤال کیا، انہوں نے کہا: بیع اور شرط دونوں جائز ہیں۔

میں نے کہا: سبحان اللہ!عراق کے تین فقہاء  میں ایک مسئلے  پر اختلاف نظر پایا جاتا ہے!

پس میں ابو حنیفہ کے پاس گیا اور ان کو خبر دی، انہوں نےکہا:میں نہیں جانتا کہ ان دو حضرات نے کیا کہا ہے؛ عمرو بن شعیب نے اپنے والد اوراس نے اپنے جد سے روایت کی کہ پیغمبر اکرمﷺ نے بیع اور شرط دونوں سے منع کیا ہے، پس بیع بھی باطل ہے اور شرط بھی۔

اس کے بعد میں ابن ابی لیلی کے پاس گیا اور ان کو خبر کی، انہوں نے کہا: میں یہ نہیں جانتا کہ ان دو حضرات نے کیا کہا ہے، لیکن ہشام بن عروہ نے اپنے والد اور اس نے حضرت عائشہ سے روایت کی ہے کہ: رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں بریرہ کو خریدوں اور اس پر شرط بھی کروں، پھر اس کو آزاد کر دوں، پس بیع جائز ہے اور شرط باطل۔

پھر میں ابن شبرمہ کے پاس گیا اور ان کو با خبر کیا ، انہوں نے کہا: ان دو حضرات نے کیا کہا، مجھے اس کا علم نہیں، لیکن مسعر بن کدام نے محارب بن دثار سے اور اس نے جابر بن عبداللہ سے مجھے نقل کیا  کہ میں نے  حضورﷺ کو ایک اونٹنی بیچی اور شرط بھی عائد کی کہ اس کے میمنے مدینے تک اس کے ساتھ رہیں گے، پس بیع بھی جائز اور شرط بھی۔

ملاحظہ کریں کہ ہر امام نے ایک ثابت حدیث کے ظاہر پر اعتماد کیا ہے۔ لیکن امام مالک نےتمام احادیث کو جان کر ان سب پر عمل کیا، اور بیع اور شرط کو تین طبقوں میں تقسیم کیا ہے:

ایسی شرط جو مقصود کو نقض کر رہی ہو جیسے آزاد کر نے کی شرط، حذف ہو جاتی ہے۔

ایسی شرط جس کا کوئی اثر نہ ہو، جیسے رہن یا حمل، جائز ہے۔

حرام شرط جیسے کنیز کو اس شرط کے ساتھ بیچنا کہ وہ مغنیہ ہو، یہ شرط بیع کو باطل کردیتی ہے۔اختلافی مورد میں فقہی مسائل کبھی کبھارایسا اعلیٰ اور گراں قدر فقہی اور فکری خزانہ فراہم کرتے ہیں جو متون کے ادراک اور ان کی تفسیر میں یا متن کے اندر حدیث کے ثبوت کے نتیجے میں حاصل ہؤا ہے۔صحابہ متن میں وارد ہوتے وقت اپنی عقل کا استعمال کرتے تھے اوران میں  قرآنی دلائل اور سنّت رسولﷺ کی پیروی کا بے پناہ شوق اور ولولہ پایا جاتا تھا۔

فقہی اختلاف کا جوہر، در حقیقت حقیقت طلبی ہے، اور وہ چیز جس کے بارے میں کوئی شک و شبہ نہیں وہ یہ ہے کہ عقل اسلامی شریعت کے منابع و مآخذ میں سے ایک ہے۔

تفرقے کے بغیر اختلاف مذموم نہیں

اختلاف دین میں وسعت اور مخلوق کے لیے رحمت ہے اس وقت تک جب تک یہ تفرقہ اور نفاق کا باعث نہ بنے۔اس مقام پر دو صفات ہیں: ایک اختلاف اور دوسری تفرقہ۔ یہ ایک دوسرے کی متضاد ہیں اوران دو میں سے ایک کا وجود دوسرے کی نفی کرتا ہے۔ تفرقہ اور جدائی شریعت میں ایک مذموم صفت ہے، بنابریں اللہ تعالی نے مطلق طور پر اس سے منع فرمایا ہے:

 ((وَاعْتَصِمُواْ بِحَبْلِ اللّهِ جَمِيعًا وَلاَ تَفَرَّقُواْ وَاذْكُرُواْ نِعْمَةَ اللّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنتُمْ أَعْدَاء فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُم بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا))[32]

 ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:((أَنْ أَقِيمُوا الدِّينَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا فِيهِ))[33]

البتّہ اختلاف کبھی رحمت ہوتا ہے اور اہل اختلاف کا عذر بھی قابل قبول ہے اورجو حکم موجودہ حالات و واقعات سے زیادہ ہم آہنگ ہو، اس حکم کوشرعی اصولوں اور فقہی قواعد کا لحاظ رکھتے ہوئے اختیار کر لینا چاہیئے ۔

معلی بن اسماعیل سے نقل ہؤا ہے ، وہ کہتا ہے: (( ہو سکتا ہے کہ فقہا ء کا آپس میں اختلاف ہو حالانکہ دونوں طرف کے فقہاء اپنی اپنی نظر میں درست ہوں۔)) [34]

ابی عون سے نقل ہؤا ہے کہ: ((ہو سکتا ہے لوگوں کا کسی مسئلے میں اختلاف نظر ہو اور دونوں طرف کے لوگ حق پر ہوں۔))[35]

بنابریں، فروعی احکام اور سنّتوں میں فقہاء کے درمیان پایا جانے والا اختلاف اللہ تعالیٰ کی جانب سے اپنے بندوں کے لیے رحمت ہے۔ جسے توفیق حاصل ہوگئی اسے اجر مل جائے گا اور جس نے حق کی طلب میں کوشش کی اگرچہ خطا کر گیا ہو، اس کا عذر قابل قبول ہے کیونکہ اس کی نیت اچھی تھی۔

فقہاء میں کوئی فقیہ اگر کسی مسئلہ میں اجماع کے خلاف  نظر دے تو زیادہ سے زیادہ اسے یہ کہا جا سکتا ہے کہ تم نے خطا کی ہے نہ کہ اسے یہ کہا جائے گا کہ تم کافر ہو گئے ہو یا منکر اور ملحد ہو گئے ہو، کیونکہ حقیقت میں وہ شریعت کے موافق ہے اور اہل دیانت کی صف سے خارج نہیں ہؤا۔[36]

موسیٰ الجہنی سے نقل ہؤا ہے ، وہ کہتا ہے: جب بھی طلحہ بن مصر کے ساتھ اختلاف نظر ہوتا تو وہ کہتا: اختلاف نہ کہو بلکہ کہو رحمت۔[37]

ابن عباس سے روایت ہے: رسول خدا ﷺ نے فرمایا:  جس نے بھی اللہ کی خاطر لوگوں کے درمیان عمل کیا، اگر وہ  عمل ٹھیک(مصیب) ہؤا تو خدا اسے قبول کر لے گا اور اگر درست نہ ہؤا تو خدا اس سے درگذر فرمائے گا، لیکن اگر کوئی تفرقہ بازی کے لیے کوئی عمل کرے اور وہ صحیح(مصیب)  بھی ہو  تو اللہ اس کے اس عمل کو قبول نہیں کرے گا اور درست نہ ہونے کی صورت میں اس کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ [38]

لہذا، کسی جماعت میں مصیب ہونا توفیق  اور رضایت پروردگارہے جبکہ اجتہاد میں خطا عفو اور مغفرت ہے۔جس وقت اسحق بن بہلول نے ایک کتاب لکھی اور اس کا نام «کتاب الاختلاف» رکھا تو امام احمد نے اسے کہا کہ اس کا نام «کتاب السعه»رکھو۔[39]

امّت مسلمہ کے اسلاف  جو صحابہ، تابعین اور اہل مودت  و احسان تھے، کبھی ان کے درمیان کسی فقہی مسئلے کے اجتہاد میں اختلاف پیدا ہوجاتا تو جب تک یہ اختلاف ان مسائل میں ہوتا جن میں اجتہاد اور اظہار نظر جائز ہوتا، اس وقت تک ان کی سرزنش نہیں ہوتی تھی۔

عام لوگوں کے درمیان اختلاف ہونا فطری ہے کیونکہ ان کی خواہشات، افکار اور شعور کی استعداد میں تفاوت ہے۔ اگر مطلوبہ اصل اور مقصد ایک ہو تو اختلاف قابل قبول ہے۔صحابہ کرام کے اختلاف کا مطلب اسلوب میں دوری نہیں بلکہ ان کے اختلاف کی جڑ ایک تھی اور وہ تھی اللہ کی کتاب اور سنّت رسولﷺ، ان کا ہدف بھی ایک تھا اور وہ تھا اللہ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت اور ان کا راستہ بھی ایک تھا اور وہ تھا قرآن اور سنّت کے دلائل میں نظر۔

ابن عبد البرّ نے کہا ہے: محمد بن یحیی بن سلام نے  اپنے والد سے نقل کیا جس نے کہا: بہتر ہے ایک عالم شخص اس وقت تک لوگوں کو آسانیوں کی طرف لے جائے جب تک معصیت کا خوف نہ ہو۔[40]

مندرجہ بالا مطالب کی بنیاد پر اہل فکر و تدبّر پر یہ بات چھپی ہوئی نہیں کہ شریعت کے فروعی احکام میں اختلاف جائز ہے، کیونکہ اس پر امتناع (ممانعت) کی دلیل موجود نہیں۔

اختلاف کے اوپر واضح ترین عقلی اور نقلی دلیل اس کا فقہی فضا میں واضح اور روشن شکل میں ظاہر ہونا ہے۔ اس طرح کہ اسلام کے ابتدائی دور اور صحابہ  اور ان کے دور کے بعد سے لیکر آج تک یہ  سلسلہ چلتا آیا ہے اور قیامت تک چلتا رہے گا۔

لیکن قابل اہمیت چیز یہ ہے کہ درست دلائل پر مبنی فقہی مذاہب کو کبھی بھی دوسرے مذاہب پر فوقیت حاصل نہیں رہی اور نہ ہی ان کے پیروکاروں دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کی تحقیر کرتے تھے۔

 بعض مسائل کی جزئیات میں یا ان کی شکل میں کتنا بھی  اختلاف کیوں نہ ہو، پھر بھی اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اصول شریعت اور اس کے منابع سے خارج ہو گیا ہے؛ یعنی اس بات کی توجیہ نہیں کی جا سکتی ہے کہ  فقہ کے فروع میں اختلاف، در اصل اصول میں اختلاف ہے۔

لہذا، بہت سے علماء اور فقہاء  اس نظر کی طرف مائل ہیں کہ  اسلامی فقہی مذاہب میں اختلاف وہ امتیاز ہے   جس کے سبب اسلام دوسرے ادیان سے ممتاز ہوتا ہے، اسی طرح جیسے (وہ عظیم نعمت ہے جس کے لطیف راز کو دانا پاجاتے اور نادان کھو بیٹھتے ہیں)۔

اختلاف اور توجیہات کے وجود کا مطلب یہ نہیں کہ وہ واقع بھی ہوتے یا ہونگے، لہذا اگر دو دلیلوں کو باہم جمع کرنا، یا ایک سند پر ترجیح دینا یا علماء، مجتہدین اور فقہا کی آراء کے درمیان  مطابقت ہو جائے تو یہ زیادہ بہتر اور مفید ہے۔

اختلاف کو جائز، مسلمانوں کے لیے رحمت اور اسلام کی خصوصیت جانتے ہوئے، اس کو عقل و منطق کے اصولوں کے دائرے میں قبول کیا جا سکتا ہے بشرطیکہ  یہ اختلاف مسلمانوں  کو تنگ گلی میں پھینکنے کا عامل نہ بنے۔

ابن عبد البرّ  یحیی بن سعید سے نقل کرتا ہے:  ہمیشہ صاحبان فتویٰ، فتویٰ دیتے ہیں کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام، اور وہ شخص جو حرام کرتا ہے، اس شخص کو ہالک نہیں کہتا جو اسے حلال جانتا ہو اور دوسرے کو جو حرام کہتا ہو، اس معرض ہلاکت میں نہیں جانتا۔[41]

ذہبی نے  یحیی بن سعید انصاری  سے اس مضمون کو نقل کیا ہے کہ : «اهلعلماهلوسعت و فراخدل ہوتے ہیں.» اسی سے ایک روایت نقل ہوئی ہے کہ:اہل فتویٰ ہمیشہ فتویٰ دیتے ہیں، ایک حلال تو دوسرا حران قرار دیتا ہے لیکن ان میں سے کوئی بھی دوسرے کی اس کے نظریہ کی وجہ سے  عیب جوئی نہیں کرتا۔[42]

فتویٰ میں شرعی اختلاف حل کرنا

وہ عامل جو بعض پر جوش افراد کو اس بات پر مجبور کرتا ہے کہ وہ سب فتووں کو ایک ہی نظر سے دیکھیں، وہ رواداری ہے جو بعض مفتیان کرام کی جانب سے عمل میں آتی ہے۔جب یہ لوگ مختلف مسائل میں  اہل علم کے آرا میں کثرت سے پایا جانا والا اختلاف دیکھتے ہیں تو یہ مشکل میں پڑ جاتے ہیں اور شائد فوق الذکر مطلب کو نظر میں رکھیں تو اس مشکل کے شرعی حل کی تلاش شروع کردیتے ہیں۔ ہم یہاں اختلافات کے حل کے لیے معروف شرعی طریقوں کی طرف اشارہ کریں گے:

اختلاف کے ساتھ تعامل کی تہذیب کو عام کرنا

یہ امر اس وقت عملی ہوتا ہے جب لوگوں کو اس بات سے آشنا کرایا جائے کہ اختلاف ایک ایسی حقیقت ہے جس سے اختلاف نہیں کیا جاسکتا اور یہ کہ جب یہ اختلاف دین کے کسی قطعی امر کے مخالف ہو تو یہ ایک ناپسندیدہ چیز ہے۔ دوسرا یہ کہ صحابہ حضورﷺ کے دور ان کے بعد بھی اختلاف کا شکار ہوتے تھے اور ان کا اجتہاد ایک دوسرے سے مختلف ہؤا کرتا تھا لیکن یہ اختلاف کبھی بھی تفرقہ اور  بحران میں تبدیل نہیں ہوتا تھا۔

مثال کے طور پر ہم یہاں ایک قصّہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر کے بیٹے سے روایت ہے،کہا: حضورﷺ نے جنگ احزاب سے واپسی پر فرمایا: « سب بنی قریظہ میں نماز عصر ادا کریں گے» لیکن بعض افراد عصر کی نماز کے وقت پہنچے۔۔۔۔۔بعض لوگوں نے ان سے کہا: ہم اس وقت تک نماز نہیں پڑھیں گے جب تک بنی قریظہ پہنچ نہیں جاتے۔ بعض دوسرے افراد نے کہا: ہم نماز پڑھیں گے کیوں کہ اس قسم کی چیز کا ہم سے تقاضا ہی نہیں کیا گیا۔ اس مسئلے کی خبر حضورﷺ تک پہنچائی گئ لیکن آپ نے ان افراد میں سے کسی کے ساتھ بھی ناراض نہیں ہوئے۔

یہ لوگ حالت جنگ میں تھے اور ان کو وحدت اور لڑائی جھگڑے سے دور رہنے کی شدید ضرورت تھی،  جس کا اللہ تعالیٰ نے جنگ کی حالت میں حکم کیا ہے: (وَلاَ تَنَازَعُواْ فَتَفْشَلُواْ وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ)[43]؛  تاہم ان میں سے کسی نے بھی اپنے اجتہاد سے حاصل نتیجے کو ترک نہیں کیا اور یہ امر ان کے درمیان تفرقہ کے باعث بھی نہ بنا۔

لہذا اجتہاد میں اختلاف ہر مجتہد کو اس بات پر پابند کرتا ہے کہ وہ اپنے اجتہاد کی پیروی کرے اور مخالفت کرے تا کہ اس کی سرزنش نہ ہو۔

آئندہ آنے والی بحثیوں فوق الذکر موارد کو مزید واضح کریں گی:

دوم: فقہی مذاہب کے اختلاف کے ساتھ تعامل کے  لیے عوام کی تربیت

اگر سؤال کرنے والے کو جواب میں دومختلف فتوے ملیں تو اسے چاہیئے کہ وہ ان دو فتووں کے ساتھ اس اسلوب کے تحت تعامل کرے جسے علماء نے بہت سے فقہ اور اصول کی کتب میں غور و حوض کے بعد حاصل کیا ہے۔

نووی نے اختلاف کو مختصر صورت میں پیش کیا ہے اور اس میں راجح کو واضح کیا ہے کہ: اگر دو مفتیوں کے فتوے آپس میں اختلاف رکھتے ہوں تو اس کی پانچ صورتیں ہوسکتی ہیں:

  1. ان میں سے زیادہ سخت فتوے کا انتخاب کیا جائے؛
  2. ان میں سے زیادہ آسان فتوے کا انتخاب کیا جائے؛
  3. زیادہ بہتر اور اولیٰ میں اجتہاد کیا جائے اور زیادہ عالم اور پرہیزگار مفتی کا فتویٰ قبول کیا جائے۔۔۔ اس نظریئے کو سمعانی نے اختیار کیا ہے اور امام شافعی نے قبلہ کے موضوع میں اس پر عمل کیا ہے؛
  4. ان دو کے علاوہ کسی تیسرے مفتی سے سؤال کیا جائے، اور جس کے فتوے سے یہ موافق ہو، اس کا انتخاب کر لیا جائے؛
  5. اس کو اختیار ہے کہ وہ دو مفتیوں میں سے کسی کے فتوے کو بھی اختیار کرلے،یہ نظریہ شیخ ابی اسحاق شیرازی مصنف اور خطیب بغدادی کے نزدیک زیادہ صحیح ہے، جبکہ محاملی نے اول المجموع عن اکثر اصحابنا میں اسے نقل کیا ہے اور الشامل فیما اذا تساوی المفیان فی نفسہ  کے مصنف نے اسی کو اختیار کیا ہے۔

شیخ ابو عمرو نے کہا ہے: بہتر یہ ہے کہ راجح نظریہ کے بارے میں تحقیق کرے اور اس پر عمل کرے، یا زیادہ موثق مفتی کے نظریے کو اختیار کرے اور اس پر عمل کرے۔ لیکن اگر اس کے نزدیک دونوں میں سے کسی کو بھی ایک دوسرے پر ترجیح حاصل نہ ہو تو کسی دوسرے مفتی سے فتویٰ حاصل کرے اور اس مفتی کے فتویٰ پر عمل کرے جس کے ساتھ اس  مفتی کو فتویٰ موافق ہو۔لیکن اگر یہ کام اس کے لیے دشوار ہو اور ان کا اختلاف تحریم اور اباحہ میں ہو تو  اسے چاہیے کہ وہ تحریم کو اختیار کرلے، کیونکہ یہ احتیاط سے زیادہ نزدیک ہے، اور اگر دونوں حالتوں میں مساوی ہو تو اسے اختیار ہے کہ وہ جس کا چاہے انتخاب کرلے، البتّہ ہم اس مورد کے علاوہ ایسے اختیار سے منع کرتے ہیں، کیونکہ ایسا ہونا نادر ہے۔

شیخ نے کہا:جو چیزیں ہم نے بیان کیں ہیں وہ ان دو مفتیوں کے حوالے سے بیان کی ہیں، لیکن ایک عام آدمی اس مسئلے میں ان دو مفتیوں یا کسی تیسرے مفتی سے سؤال کرے اور اس مفتی کو اس کا کیا جواب دینا چاہیئے، ہم نے اس طرف رہنمائی کردی ہے۔

شیخ کا یہ نظریہ ایک کمزور نظریہ ہے، کیونکہ ان صورتوں میں تین صورتیں زیادہ اظہر اور واضح ہیں، یعنی: تیسری، چوتھی اور پانچویں صورت، جبکہ ہمارے خیال میں ان میں بھی پانچویں صورت اظہر ہے، کیونکہ یہ شخص مجتہد نہیں ہے اور اس پر واجب ہے کہ وہ ایک لائق عالم کی تقلید کرے۔ اور اس شخص نے بھی ان دو مفتیوں میں سے ایک کے نظریے کو اختیار کرکے ایسا ہی کیا ہے۔ اس میں اور وہ چیز جو قبلے کے مسئلے میں بیان کی گئی، اس میں فرق حسّی علامتوں کا ہے کیونکہ درست علامتوں کو سمجھنا مقصد سے زیادہ نزدیک ہے۔ فتووں کی علامتیں معنوی ہوتی ہیں اور مجتہدین میں زیادہ فرق ظاہر نہیں ہوتا۔ واللہ اعلم۔

سوم:علما اور مختلف مذاہب کے پیروکاروں میں ایک دوسرے کے احترام کے مفہوم کو مستحکم کرنے کی ضرورت پر تاکید، اسی طرح ہر مذہب کے پیشواؤں اور سب سے بڑھ کر اہل بیت رسولﷺ اور صحابہ کے حوالے سے احترام کرنا۔

چہارم: مسلمانوں کے درمیان گفتگو میں فقہی اختلافات کو معتبر جاننا، ان کے درمیان وحدت کے لیے کاوش کرنا،فقہی اتحاد کے لیے ایک اسلوب وضع کرنا اور اس کو ہر جگہ کارآمد بنانے کے لیے کوشش کرنا، نفرت اور کینہ کی بجائے الفت، برادری اور خیرخواہی کی فضا کو عام کرنا اور جاہل کہنے کی بجائےایک دوسرے کا احترام کرنا۔

پنجم: مذاہب اور بالخصوص عوام کے درمیان مشترک نکات کو زیادہ سے زیادہ بیان کرنا اور خاص طور پر وحدت اسلامی کی اہمیت کے حوالے سے اس کی توجیہ کرنا، جیسا کہ اللہ کا ارشاد ہے: هُوَ سَمَّاكُمُ الْمُسْلِمينَ مِن قَبْلُ[44]؛  اس حوالے سے  ایک دوسرے کو قریب لانے اور مطابقت کی تہذیب کو فروغ دینا اور تنازعات کو ترک کرنا اور ہر قسم کے فکری، فقہی اور عقائد پر مبنی مناظرات کو اعلیٰ سطح کے ماہرین کے توسط سے انجام دینا۔

ششم:اس بات پر زور دینا کہ اسلامی مذاہب کے درمیان اختلاف صحیح (خطا) اور غلط (صواب) میں ہے نہ کہ کفر اور ایمان میں۔

ہفتم: اختلافی مسائل کو بڑا کر کے پیش نہ کرنا اور ان کو ایسے تنازعات اور نفرت آمیز لڑائیوں میں تبدیل نہ کرنا جن سے وحدت اور اتفاق کے عوا مل و عناصر ہی بھلا دیئے جائیں۔ درحالیکہ اتفاق و اتحاد کے یہ مشترک نکات تفرقہ ایجاد کرنے والے مسائل سے کہیں زیادہ ہیں۔

ہشتم: فروعی مناظرات اور داخلی تنازعات سے پرہیز کرنا۔ اصل مسئلہ اسلام کی طرف دعوت ہے۔ یہ دعوت اسلام کی پاکیزگی اور اس کے نورانی پیغام کو پہنچا کر، دین کی خوبصورتی اور اس کی انسانی زندگی کے ہر پہلو میں رہنمائی اور یہ کہ اسلام انسان کی ہر جگہ اور ہر وقت اصلاح کرتا ہے، ممکن بنائی جائے۔

نہم:ایسے عقیدے کو ترک کرنا کہ ہمارا نظریہ ہی ٹھیک ہے اور دین کی سرپرستی اور انتظام ہماری ہی ذمہ داری ہے۔ کیونکہ جو شخص کبھی حق پر ہے، اس بات کا اامکان بھی ہے کہ وہ خطا کا مرتکب ہو جائے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وَإِنَّا أَوْ إِيَّاكُمْ لَعَلَى هُدًى

أَوْ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ۔ [45]

مجتہد کو یہ جان لینا چاہیئے کہ اس کا اجتہاد مطلقاً ٹھیک نہیں ہوسکتا اور اس کے علاوہ دوسرے مجتہد کا اجتہاد ہمیشہ غلط نہیں ہو سکتا۔ اس سے صرف اور صرف اللہ اور اس کا رسولﷺ ہی آگاہ ہیں اور وحی کا سلسلہ قطع ہونے کے بعد اس کو جاننے کا کوئی راستہ نہیں۔

دہم:مذموم تعصّب اور اس کی بنیاد پر تنازعہ سے دور رہنا، کیونکہ یہ چیز دلوں اور عقلوں کو گونگا اور بہرہ کردیتی ہے۔ قرآن نے بھی ایسے تصّب سے منع فرمایا ہے اور جب قرآن  دینی رواداری انسانی بھائی چارے کی دعوت دیتا ہے تو ایمانی بھائی چارے پر تو اور بھی زیادہ تاکید کرتا ہے۔

یازدہم: سخت زبان اور رویے سے ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان کے ساتھ پیش آنے سے دوری۔ اسی طرح تہمت، دوسروں کو بدنام کرنا اور ان کی غلطیوں کو اس قدر گنوانا جس سے ان کی توہین ہوتی ہو۔ اس طرح کے کاموں سے کینہ، نفرت اور دشمنی پیدا ہوتی ہے جو کہ قرآن کے اسلوب سے بہت دور ہے: فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللّهِ لِنتَ لَهُمْ وَلَوْ كُنتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لاَنفَضُّواْ مِنْ حَوْلِكَ۔ [46]

دوازدہم: دوسروں کے احساسات کا خیال رکھنا اور آراءو افکار میں اختلاف کا احترام کرنا۔ اس قسم کے رویے اور اسلوب سے محبت اور الفت بڑھتی ہے: خداوند عالم کا ارشاد ہے: وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ۔ [47] بعض اوقات یہ عمل دشمن کو دوست اور دوریوں کو قربتوں میں تبدیل کردیتا ہے۔

عمومی گزارشات

  1. فتویٰ شرعی دلائل کی بنیاد پر ہو؛
  2. بلا دلیل و علت اپنی ذاتی رائے کے مطابق فتویٰ دینے سے اجتناب؛
  3. صحیح دلیل پر قائم فقہی مذاہب میں سے کوئی بھی دوسرے مذاہب پر  فوقیت نہیں رکھتا؛
  4. اختلاف کے ساتھ تعامل کی فضا کو عام کرنا؛
  5. فقہی مکاتب کے اختلاف کے ساتھ تعامل کے لیے لوگوں کی تربیت کرنا؛
  6. علما اور مختلف مذاہب کے پیروکاروں میں ایک دوسرے کے احترام کے مفہوم کو مستحکم کرنے کی ضرورت پر تاکید؛
  7. مسلمانوں کے درمیان گفتگو میں فقہی اختلافات کو معتبر جاننا، ان کے درمیان وحدت کے لیے کاوش کرنا؛
  8. فقہی اتحاد کے لیے ایک اسلوب وضع کرنے اور الفت، بھائ چارے اور خیر خواہی کی تہذیب کو فروغ دینے کی دعوت؛
  9. مذاہب کے درمیان مشترک نکات کو بیان کرنا؛
  10. اس بات پر زور دینا کہ اسلامی مذاہب کے درمیان اختلاف صحیح (خطا) اور غلط (صواب) میں ہے نہ کہ کفر اور ایمان میں۔
  11. مسائل کو بڑا کر کے پیش نہ کرنا اور ان کو ایسے تنازعات اور نفرت آمیز لڑائیوں میں تبدیل نہ کرنا جن سے وحدت اور اتفاق کے عوا مل و عناصر ہی بھلا دیئے جائیں؛
  12. فروعی مناظرات اور داخلی تنازعات سے پرہیز کرنا؛
  13. ایسے عقیدے کو ترک کرنا کہ ہمارا نظریہ ہی ٹھیک ہے اور دین کی سرپرستی اور انتظام ہماری ہی ذمہ داری ہے؛
  14. مذموم تعصّب اور اس کی بنیاد پر تنازعہ سے دور رہنا؛
  15. دوسروں کے احساسات کا خیال رکھنا اور آراءو افکار میں اختلاف کا احترام کرنا۔

مفتیان کرام کے لیے تجاویز

  1. مسئلے کی درست شناخت؛
  2. شرعی حکم کا جائزہ لینا اور مسئلے کے دلائل کی شناخت کے لیے کوشش کرنا؛
  3. معاشرے کے فیصلوں اور ارادوں، فقہی کانفرنسوں اور اجتماعات کے فتاویٰ جیسے  اجتماعی اجتہاد سے استفادہ کرنے کی ضرورت؛
  4. ایسی دلالتوں کو نافذ کرنے سے گریز کرنا جو شرعی متون سے حاصل نہ ہو رہی ہوں؛
  5. ایسے استدلال سے گریز کرنا جس پر احادیث نبوی دلالت نہ کر رہی ہوں؛
  6. مجتہدین کے نظریات سے اطمینان حاصل کرنا اور معتبر مآخذ سے مدد لینا؛
  7. تمام مذاہب  کے اصول فتویٰ کے ساتھ فتویٰ دینا، امر مرجّح یا مشہور کی رعایت کرنا، اس طرح سے کہ فقہا کے درمیان رائج عبارتوں کے مطابق ہو؛
  8.  دلائل مساوی ہونے کی صورت  بہتر ہے  جوزیادہ  آسان ہے اسے لے لیا جائے؛
  9. ضرر کی ترجیح کو روکا جائے؛

فتویٰ دیتے وقت ہر قسم کے مسئلے میں فقہی اجازت پر اعتماد نہ کیا جائے۔

 

[1]۔سوڈان کے دار الفتویٰ کے سابق صدر

[2]۔آل‌عمران،‌آیت ۱۰۳.

[3]۔ایضاً، آیت ۶۴۔

[4]۔حجرات، آیت ۱۳۔

[5]۔ابن قیم الجوزیه، اعلام الموقعین عن رب العالمین، تحقیق طه عبد الرؤوف سعد، دارالجیل، بیروت، 1973م،ج4، ص 207-208 و عثمان بن عبد الرحمن الشهروزی، ادب المفتی و المستفتی، تحقیق د. موفق عبدالله عبدالقادر، مکتبه العلوم و الحکم، عالم الکتب، بیروت، الطبعه الاولی، 1407هـ، ج1 ص85.

[6]۔یحیی بن شرف النووی ابوزکریا، ادب الفتوی و المفتی و المستفتی، تحقیق بسام عبد الوهاب الجابی، الناشر دارالفکر، 1408ق، دمشق، ص13.

[7]۔سورہ مبارکہ بقرہ، آیت ۲۷۷۔

[8]۔سورہ مبارکہ  الرحمٰن، آیت ۱۷۔

[9]۔ادب الفتوی و المفتی و المستفتی، ص 14.

[10]۔المصباح المنیر، ج 2، ص 622.

[11]۔اعلام الموقعین عن رب العالمین، ج 4، ص 196.

[12]۔لسان العرب، ماده (صحا).

[13]۔ سورہ مبارکہ انعام، آیه 60.

[14]۔سورہ مبارکہ حج، آیه 7.

[15]۔المعجم الوسیط، ج1 ص508. د. ابراهیم انیس و زملاؤه

[16] ۔محی‌الدین عطیه کی تعریف ملاحظہ کریں، مجله المسلم المعاصر، شماره 42، ص5.

[17]۔جیسا کہ ابن عربی کے رسالہ میں آیا ہے (مصطلاحات الصوفیہ)

[18]۔ سورہ مبارکہ آل عمران، آیت نمبر ۱۴۰۔

[19]۔ سورہ مبارکہ محمد، آیت نمبر ۳۸۔

[20]۔ سورہ مبارکہ بقرہ، آیت نمبر ۲۵۱۔

[21]۔«لاَ يَلْبَثُ الْجَوْرُ بَعْدِى إِلاَّ قَلِيلاً حَتَّى يَطْلُعَ، فَكُلَّمَا طَلَعَ مِنَ الْجَوْرِ شَىْءٌ ذَهَبَ مِنَ الْعَدْلِ مِثْلُهُ، حَتَّى يُولَدَ فِى الْجَوْرِ مَنْ لا يَعْرِفُ غَيْرَهُ، ثُمَّ يَأْتِى اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بِالْعَدْلِ، فَكُلَّمَا جَاءَ مِنَ الْعَدْلِ شَىْءٌ ذَهَبَ مِنَ الْجَوْرِ مِثْلُهُ، حَتَّى يُولَدَ فِى الْعَدْلِ مَنْ لاَ يَعْرِفُ غَيْرَهُ»

[22]۔مسند احمد، ج۵، ص۲۶، حدیث ۲۰۳۲۳۔ ہیثمی نے کہا: اس حدیث میں خالد بن طہمان ہے جس کی ابو حاتم اور ابن حیان نے توثیق کی ہے اور کہا ہے کہ: یہ خطا اور وہم کا شکار ہوتا ہے اور بقیہ راوی ثقہ ہیں۔

[23]۔«إِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ لِهَذِهِ الأُمَّةِ عَلَى رَأْسِ كُلِّ مِائَةِ سَنَةٍ مَنْ يُجَدِّدُ لَهَا دِينَهَا».

[24]۔معرفة السنن و الآثار للبیهقی، ج1 ص208، شماره 422، ابوهریره سے نقل کیا ہے، سنن ابی‌داود، ج4، ص 109، شماره 4291، و المعجم الاوسط طبرانی، ج6 ص323 شماره 6527، و المستدرک حاکم، ج4، ص567، شماره 8592.

[25]۔انعام، آیه 57.

[26]۔(کلمه حق یراد بها الباطل)، فتح الباری، دارالمعرفه، بیروت 1379، ج12 ص284؛ المجموع للنووی،ج19، ص318؛ تاریخ الطبری، ج4 ص53؛ تاریخ بغداد، ج1 ص160؛ البدایة والنهایة، مکتبه المعارف، بیروت، ج7، ص282.

[27]۔ملاحظہ کریں: د. طه جابر العلوانی، المقاصد العامة للشریعة الاسلامیة، المعهد العالمی للفکر الاسلامی،
چھاپ اول، ص7.

[28] ۔«المُسْلِمُ أَخُو المُسْلِمِ، لاَ يَظْلِمُهُ، وَلاَ يُسْلِمُهُ. وَمَنْ كَانَ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ، كَانَ الله فِي حَاجَتِهِ. وَمَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِم كُرْبَةً، فَرَّجَ الله عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرُبَاتِ يَوْمِ القِيَامَةِ. وَمَنْ سَتَر مُسْلِمًا، سَتَرَهُ الله يَوْمَ القِيَامَة». ـ مسند احمد، ج2، ص91، شماره5646؛ صحیح البخاری، ج2، ص862، شماره 2310، صحیح مسلم، ج4، ص1996، نمبر 2580 و... .

[29]۔«المسلم لا يتخلى عن أخيه، ولا يستعين عليه، بل يستعين به»

[30]۔«الْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ» ـ صحیح البخاری، ج2، ص863، شماره 2314.

[31]۔«و ليس المؤمن على المؤمن وإن تعددت الألسن والأعراق والبلدان».

[32]۔سورہ مبارکہ آل‌عمران، آیت نمبر 103

[33]۔سورہ مبارکہ شوری، آیت نمبر 13.

[34]۔ابن‌بطه، الابانه الکبری، رقم 712.

[35]۔ایضاً، رقم 713۔

[36]۔ایضاً۔

[37]۔ایضاً، رقم 715.

[38]۔وعن ابن عباس رضي الله عنهما قال: قال رسول اللّهr: «من عمل للّه في الجماعة فأصاب تقبل اللّه منه، وإن أخطأ غفر اللّه له، ومن عمل للّه في الفرقة فأصاب لم يقبل اللّه منه، وإن أخطأ فليتبوأ مقعده من النار». ـ الابانة الکبری، رقم 136 و 716.

[39]۔طبقات الحنابله، ترجمه اسحاق بن بهلول.

[40]۔التمهید لابن عبد البر، ج8، ص147.

[41]۔ادب الاختلاف فی الاسلام، ص29.

[42]۔جامع بیان العلم، ج2، ص302.

[43]۔ سورہ مبارکہ انفال، آیت نمبر 46.

[44]۔ سورہ مبارکہ حج، آیت نمبر 78.

[45]۔سورہ مبارکہ سبا، آیت نمبر24.

[46]۔ سورہ مبارکہ آل عمران، آیت نمبر 159.

[47]۔ سورہ مبارکہ فصلت، آیت نمبر34.



منابع: مجلہ ندائے اسلام۔[1]۔سوڈان کے دار الفتویٰ کے سابق صدر [2]۔آل‌عمران،‌آیت ۱۰۳. [3]۔ایضاً، آیت ۶۴۔ [4]۔حجرات، آیت ۱۳۔ [5]۔ابن قیم الجوزیه، اعلام الموقعین عن رب العالمین، تحقیق طه عبد الرؤوف سعد، دارالجیل، بیروت، 1973م، ج4، ص 207-208 و عثمان بن عبد الرحمن الشهروزی، ادب المفتی و المستفتی، تحقیق د. موفق عبدالله عبدالقادر، مکتبه العلوم و الحکم، عالم الکتب، بیروت، الطبعه الاولی، 1407هـ، ج1 ص85. [6]۔یحیی بن شرف النووی ابوزکریا، ادب الفتوی و المفتی و المستفتی، تحقیق بسام عبد الوهاب الجابی، الناشر دارالفکر، 1408ق، دمشق، ص13. [7]۔سورہ مبارکہ بقرہ، آیت ۲۷۷۔ [8]۔سورہ مبارکہ الرحمٰن، آیت ۱۷۔ [9]۔ادب الفتوی و المفتی و المستفتی، ص 14. [10]۔المصباح المنیر، ج 2، ص 622. [11]۔اعلام الموقعین عن رب العالمین، ج 4، ص 196. [12]۔لسان العرب، ماده (صحا). [13]۔ سورہ مبارکہ انعام، آیه 60. [14]۔سورہ مبارکہ حج، آیه 7. [15]۔المعجم الوسیط، ج1 ص508. د. ابراهیم انیس و زملاؤه [16] ۔محی‌الدین عطیه کی تعریف ملاحظہ کریں، مجله المسلم المعاصر، شماره 42، ص5. [17]۔جیسا کہ ابن عربی کے رسالہ میں آیا ہے (مصطلاحات الصوفیہ) [18]۔ سورہ مبارکہ آل عمران، آیت نمبر ۱۴۰۔ [19]۔ سورہ مبارکہ محمد، آیت نمبر ۳۸۔ [20]۔ سورہ مبارکہ بقرہ، آیت نمبر ۲۵۱۔ [21]۔«لاَ يَلْبَثُ الْجَوْرُ بَعْدِى إِلاَّ قَلِيلاً حَتَّى يَطْلُعَ، فَكُلَّمَا طَلَعَ مِنَ الْجَوْرِ شَىْءٌ ذَهَبَ مِنَ الْعَدْلِ مِثْلُهُ، حَتَّى يُولَدَ فِى الْجَوْرِ مَنْ لا يَعْرِفُ غَيْرَهُ، ثُمَّ يَأْتِى اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بِالْعَدْلِ، فَكُلَّمَا جَاءَ مِنَ الْعَدْلِ شَىْءٌ ذَهَبَ مِنَ الْجَوْرِ مِثْلُهُ، حَتَّى يُولَدَ فِى الْعَدْلِ مَنْ لاَ يَعْرِفُ غَيْرَهُ» [22]۔مسند احمد، ج۵، ص۲۶، حدیث ۲۰۳۲۳۔ ہیثمی نے کہا: اس حدیث میں خالد بن طہمان ہے جس کی ابو حاتم اور ابن حیان نے توثیق کی ہے اور کہا ہے کہ: یہ خطا اور وہم کا شکار ہوتا ہے اور بقیہ راوی ثقہ ہیں۔ [23]۔«إِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ لِهَذِهِ الأُمَّةِ عَلَى رَأْسِ كُلِّ مِائَةِ سَنَةٍ مَنْ يُجَدِّدُ لَهَا دِينَهَا». [24]۔معرفة السنن و الآثار للبیهقی، ج1 ص208، شماره 422، ابوهریره سے نقل کیا ہے، سنن ابی‌داود، ج4، ص 109، شماره 4291، و المعجم الاوسط طبرانی، ج6 ص323 شماره 6527، و المستدرک حاکم، ج4، ص567، شماره 8592. [25]۔انعام، آیه 57. [26]۔(کلمه حق یراد بها الباطل)، فتح الباری، دارالمعرفه، بیروت 1379، ج12 ص284؛ المجموع للنووی،ج19، ص318؛ تاریخ الطبری، ج4 ص53؛ تاریخ بغداد، ج1 ص160؛ البدایة والنهایة، مکتبه المعارف، بیروت، ج7، ص282. [27]۔ملاحظہ کریں: د. طه جابر العلوانی، المقاصد العامة للشریعة الاسلامیة، المعهد العالمی للفکر الاسلامی، چھاپ اول، ص7. [28] ۔«المُسْلِمُ أَخُو المُسْلِمِ، لاَ يَظْلِمُهُ، وَلاَ يُسْلِمُهُ. وَمَنْ كَانَ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ، كَانَ الله فِي حَاجَتِهِ. وَمَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِم كُرْبَةً، فَرَّجَ الله عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرُبَاتِ يَوْمِ القِيَامَةِ. وَمَنْ سَتَر مُسْلِمًا، سَتَرَهُ الله يَوْمَ القِيَامَة». ـ مسند احمد، ج2، ص91، شماره5646؛ صحیح البخاری، ج2، ص862، شماره 2310، صحیح مسلم، ج4، ص1996، نمبر 2580 و... . [29]۔«المسلم لا يتخلى عن أخيه، ولا يستعين عليه، بل يستعين به» [30]۔«الْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ» ـ صحیح البخاری، ج2، ص863، شماره 2314. [31]۔«و ليس المؤمن على المؤمن وإن تعددت الألسن والأعراق والبلدان». [32]۔سورہ مبارکہ آل‌عمران، آیت نمبر 103 [33]۔سورہ مبارکہ شوری، آیت نمبر 13. [34]۔ابن‌بطه، الابانه الکبری، رقم 712. [35]۔ایضاً، رقم 713۔ [36]۔ایضاً۔ [37]۔ایضاً، رقم 715. [38]۔وعن ابن عباس رضي الله عنهما قال: قال رسول اللّهr: «من عمل للّه في الجماعة فأصاب تقبل اللّه منه، وإن أخطأ غفر اللّه له، ومن عمل للّه في الفرقة فأصاب لم يقبل اللّه منه، وإن أخطأ فليتبوأ مقعده من النار». ـ الابانة الکبری، رقم 136 و 716. [39]۔طبقات الحنابله، ترجمه اسحاق بن بهلول. [40]۔التمهید لابن عبد البر، ج8، ص147. [41]۔ادب الاختلاف فی الاسلام، ص29. [42]۔جامع بیان العلم، ج2، ص302. [43]۔ سورہ مبارکہ انفال، آیت نمبر 46. [44]۔ سورہ مبارکہ حج، آیت نمبر 78. [45]۔سورہ مبارکہ سبا، آیت نمبر24. [46]۔ سورہ مبارکہ آل عمران، آیت نمبر 159. [47]۔ سورہ مبارکہ فصلت، آیت نمبر34.
ارسال کننده: مدیر پورتال
 عضویت در کانال آموزش و فرهنگ اربعین

چاپ

برچسب ها اہل قبلہ کی تکفیر میں فتوٰی کا کردار۔کربلا۔ امام حسین

نظرات


ارسال نظر


Arbaeentitr

 فعالیت ها و برنامه ها

 احادیث

 ادعیه و زیارات