ستاد مرکزی اربعین|کمیته فرهنگی، آموزشی

banner-img banner-img-en
logo

 ادبیات و پژوهش


تکفیری تنظیمیں اور مسلّمہ اسلامی اصولوں کا انکار

چاپ
تکفیری تنظیمیں اور مسلّمہ اسلامی اصولوں کا انکار

 

سید محمد عون رضا نقوی

پچھلے چودہ سو سال سے مسلمان مفسّرین، محدّثین ، متکلّمین اور فقہاء  کے نزدیک مسلّمہ فقہی اصولوں کا جائزہ لینے اور ان اصولوں کا عصر حاضر کے تکفیریوں کی جانب سے پیش کیے جانے والے مفاہیم کے ساتھ موازنہ کرنے سے یہ بات باکل عیاں  ہو جاتی ہے کہ تکفیری  گروہ  اسلامی نظریہ کے تمام ثابت شدہ اور مسلّمہ اصولوں کا انکار کرتے  ہیں۔ اس کی وجہ ان کی جہالت اور ہوا و ہوس ہے  جو افسوس کے ساتھ آج کی دنیا کے لیے مصیبت بن گئی ہے۔ یہ اصول مندرجہ ذیل ہیں:

  1. مسلمان ہونے کی اصل شرط ایمان اور اسلام ہےاور کوئی بھی شخص  اس وقت تک مسلمان کہلائے گاجب تک اس   کے کفر یا فسق پر کوئی قطعی دلیل قائم نہ ہو۔تمام علمائے اسلام کا اس بات پر اجماع اور بہت سے سلفی علماء کی اس پر تصریح موجود ہے کہ جو شخص بھی اپنی زبان پر شہادتین جاری کرے، وہ مسلمان ہے اور فقہی قواعد کے مطابق دوسروں کے کہنے یا احتمال و اجتہاد سے سابق یقین کو ترک کرنا درست نہیں ہے۔[1] اس بنیاد پر، الوہیت، نبوّت یا معاد کے انکار یا انبیاؑء  یا ضروریات دین کی تکذیب پر، جب تک  واضح دلیل موجود  نہ ہو، تکفیر ثابت نہیں ہوتی، درحالانکہ تکفیری ٹولےچھوٹی سی چھوٹی بات  اور کم علم افراد کے اجتہادوں کی وجہ سے دوسروں کی تکفیر کرتے ہیں جو کہ اسلام کی روح کے خلاف ہے۔
  2. منافقین کے ساتھ اپنے سلوک کے حوالے سے پیغمبر اکرمﷺ صرف ان کے شہادتین کہنے سے ہی، ان کے مسلمان ہونے کا اقرار اور یقین کرلیتے تھے۔ آپ نے کبھی بھی ان کی تکفیر نہیں کی اور نہ ہی بیت المال سے ان کا وظیفہ قطع کیا۔اس اصول سے عدول اور اللہ اور اس کے رسول کی جانب سے مشروع کی جانے والی چیز پر کسی بھی چیز کا اضافہ شریعت اور سنّت رسولؐ کے خلاف ہے۔
  3. کفر اصغر اور کفر اکبر کو آپس میں خلط کرنا اور ملا دینا، چاہے یہ کفر عقیدتی ہو یا عملی، تکفیریت پر ہونے والے اہم ترین اعتراضات میں سے ایک ہے۔ کفر اصغر کو کفر اکبر کی حد تک لیجانا وہ غلطی ہے جو اس بات کا باعث بنی ہے کہ تکفیر کا دائرہ وسیع ہو گیا ، مسلمانوں کا خون بہایا گیا اورقتل، تشدد اور اسلاموفوبیا کو فروغ میلا۔
  4. جہادی سلفیت نے تکفیر اور حاکمیت، جاہلیت، جہاد اور فروعی مسائل پر عمل جیسے موضوعات کے درمیان تعلّق پیدا کیا اور یہ نتیجہ نکالا کہ جو بھی ان کے خیالات سے متّفق نہیں وہ کافر ہے۔عالم اسلام کی «دارالاسلام»و«دارالکفر» میں تقسیم اس فکر کے خطرناک نتائج میں سے ہے جس کی کوئی بھی شرعی دلیل تائید نہیں کرتی۔
  5. تکفیری گروہ دوسروں کی تکفیر کے لیے اسلامی فقہ میں«لازمه مذهب»و«نتیجه مذهب»جیسے ناکافی امور کا انکار کرتے ہیں اور صرف لازمہ مذہب کو ہی عین مذہب کے طور پر پیش کرتے ہیں جو کہ ایک انتہائی خطرناک غلطی ہے اور علمائے اسلام ہمیشہ اس سے منع فرماتے رہے ہیں۔
  6. یہ گروہ جہل، خطا، تاویل اور دوسروں کی پیروی جیسے تکفیریت کے موانع کو کوئی اہمیت نہیں دیتے، بلکہ ان تکفیریوں کے برخلاف، جب بھی یہ موانع موجود ہوں تو فقہائے اسلام  ایسے حالات میں لوگوں کی تکفیر نہیں کرتے۔
  7. جب تک شبہہ اور موانع ختم نہ ہوں،کسی کے کفریہ کلمات اس کی تکفیر کا باعث نہیں بنتے، یہ وہ سنہری اصول ہے جسے تکفیریوں نے نظر انداز کردیا ہے  اور ایسے شخص کو کافر قرار دیتے ہیں جس سے گناہ سرزد ہو اور وہ اس پر مصرّ ہو، درحالانکہ ایسا شخص اکثر علمائے اسلام کے نزدیک ایک گنہگار مسلمان ہوتا ہے۔تکفیری تمام حکام کو مطلقاً اور بغیر کسی استثنا ءکے کافر قرار دیتے ہیں؛ کیونکہ ان کی نطر میں یہ  افراد اللہ کی مرضی کے خلاف حکومت پر راضی ہوئی ہیں۔ اس کے علاوہ تکفیری بڑی دینی اور مذہبی شخصیات کو بھی کافر کہتے ہیں؛ صرف اس لیے کہ  انہوں نے حکام کی تکفیر نہیں کی۔ ان کی نظر میں ہر وہ آدمی کافر ہے جس کے سامنے ان کے تکفیری عقائد پیش ہوئے ہوں اور اس نے ان کو قبول نہ کیا ہو، ان کے گروہ کا حصّہ نہ بنا ہو اور ان کے امیر کی بیعت نہ کی ہو۔ان کے نزدیک ایسا  انسان مرتد اور اسکاقتل جائز ہے جو ان کے ساتھ ملحق ہؤا ہو اور بعد میں ان کو چھوڑ گیا ہو۔یہ گفتار و کردار  وہی خوارج کا رویہ ہے جنہیں رسول خداﷺ نے «مارقین» کہا تھا۔
  8. تکفیری فکر اس اصول اور قاعدے کو باطل قرار دیتی ہے کہ اسلام میں کسی کی تکفیر کا حکم صرف ایسا مجتہد صادر کر سکتا ہے جواپنے  اجتہاد، علم، تقویٰ اور عدل کی وجہ سے معروف ہو یا وہ ایسے محکمہ انصاف  کی جانب سے اس بات کا مجاز ہوتا ہے جس میں قضاوت کی کسوٹیاں موجود ہوں اور اس نے اپنے ذیلی اداروں کو یہ اجازت دی ہو کہ وہ تکفیر کے احکامات صادر کریں اور کافر ہو جانے والے افراد کو سزا ئیں دیں۔

خلاصہ یہ کہ کفر، توحید اور شرک جیسے اہم مفاہیم کی تشریح پر علماء  و فقہا ء کی ایک ہزار سال کی زحمتوں کو ان تکفیری تنظیموں نے نظر انداز کر دیا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے اس حوالے سے کسی شخصیت نے کوئی بات ہی نہیں کی، ایسے جیسے اسلام پہلی صدی میں واپس چلا گیا ہے اور دوبارہ  دینی مفاہیم کی تعریف کرنا پڑ رہی ہے۔

خداہمارے نوجوانوں کو ان  خطرناک تنظیموں کی شناخت اور ان کے مذموم عزائم سے آگاہی نیز اس اسلام مخالف فکر کا مقابلہ کرنے کی توفیق دے تاکہ انہیں  اسلام کی نورانی تعلیمات کو مسخ کرنے کی سازش میں ناکامی ہو ۔ 

 

محمّد بن ابراهیم ابن‌وزیر، العواصم والقواصم، ج4، ص178.[1]



منابع: مجلہ ندائے اسلام۔محمّد بن ابراهیم ابن‌وزیر، العواصم والقواصم، ج4، ص178.[1]
ارسال کننده: مدیر پورتال
 عضویت در کانال آموزش و فرهنگ اربعین

چاپ

برچسب ها تکفیری تنظیمیں اور مسلّمہ اسلامی اصولوں کا انکار۔ امام حسین۔ کربلا

نظرات


ارسال نظر


Arbaeentitr

 فعالیت ها و برنامه ها

 احادیث

 ادعیه و زیارات