ستاد مرکزی اربعین|کمیته فرهنگی، آموزشی

banner-img banner-img-en
logo

 ادبیات و پژوهش


زائر حسینی کا مقام و مرتبہ

چاپ
زائر حسینی کا مقام و مرتبہ

ریسرچ اسکالر ناظم حسین اکبر

ابتدائیہ

چند روز بعد امام حسین علیہ السّلام کے چہلم کے موقع پر آپ کی قبر مبارک کی زیارت کے لیے جانے والے کاروان اپنے اس معنوی سفر کا آغاز کرنے والے ہیں جو نجف اشرف سے کربلائے  معلٰی تک پیدل چل کر اپنے امام کی  قبر مبارک کی زیارت سے مشرف ہوں گے ۔ یہ معنوی سفر ۸۰کلومیٹر کی مسافت پر مشتمل ہے جسے عام طور پر زائرین تین روز میں طے کرتے ہیں ۔ پیدل چل کر زیارت کرنے کا فلسفہ  معصومین علیہم السّلام سے نقل شدہ وہ روایات ہیں جن میں ایسے سفر کی فضیلت بیان کی گئی ہے لہذا اہل بیت علیہم السّلام کے چاہنے والے پوری دنیا سے نجف اشرف میں جمع ہو کر وہاں سے لاکھوں کی تعداد میں ایک کاروان کی صورت میں کربلا کی جانب روانہ ہوتے ہیں ۔اس کاروان کی ایک خصوصیت یہ ہے  کہ عراق کے شیعہ نجف اشر ف سے لے کر کربلائے  معلٰی  تک تاریخ عالم کا ایک طولانی دستر خوان بچھائے ہوئے ہوتے ہیں جس پر ہر طرح کی نذر و نیازاور اس کے ساتھ ساتھ آرام و آسائش کا مکمل اہتمام کیا جاتا ہے یہاں تک کہ پیدل چل کر تھک جانے والوں کے لیے جگہ جگہ آرام کرنے کی سہولت مہیا ہوتی ہےاور اہل عراق آنے والے مہمانوں کی خدمت کرنے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہوتے ہیں ۔کہیں کسی فرد کے چہرے پر تھکاوٹ کے آثار دکھائی نہیں دے رہے ہوتے اور اس کے علاوہ پورے عراق سے امام حسین علیہ السّلام کے چاہنے والوں کے پیدل کاروان کربلا کی جانب روانہ ہوتے ہیں جوبالکل عرفات سے منٰی جانے والے حاجیوں کی یاد دہانی کراتے ہوئے اپنے معنوی سفر کی جانب رواں دواں ہوتے ہیں اور امام حسین علیہ السّلام کے غم میں پہنا گیا ایک جیسا سیاہ لباس احرام کی یاد دلا رہا ہوتا ہےچونکہ جس طرح احرام پاکیزگی لاتا ہے اسی طرح چہلم امام حسین علیہ السّلام  کے موقع پر پہنا گیا یہ سیاہ لباس بھی پاکیزگی اور روح کی طہارت کا  ضامن بن جاتاہے۔

جیسا کہ عرض کیا کہ اس زیارت کی وجہ ، اس کا فلسفہ اور اس جذبے کی دلیل وہ  مختلف روایات ہیں جن میں زیارت اربعین کی فضیلت  اور زایر کا مقام بیان کیا گیا ہے زائرین کرام کو چاہئے کہ وہ اس فلسفہ کو جانیں تاکہ زیارت کی لذت سے زیادہ سے زیادہ  لطف اندوز ہوسکیں ۔

۱۔  زیارت کا مفہوم

زیارت  کی اصل  زور ہے جس کے معنی  کسی  سے عدول  کرنے کے ہیں جھوٹ کو اس لئے زور کہا جاتا ہے کیونکہ وہ حق سے منحرف ہے احمد بن فارس کہتے ہیں زائر کو اس لئے زائر کہتے ہیں کہ جب وہ تمہاری زیارت کیلئے آتا ہے تو دوسروں سے منہ پھیر لیتا ہے  اسی لئے بعض لغویوں نے زیارت کے معنی قصداور توجہ کے کئے ہیں فیومی  کہتے ہیں کہ زیارت کا عام مفہوم یہ ہے کہ انسان احترام اور اظہار عقیدت  کے جذبہ  کے ساتھ کسی  کی جانب متوجہ ہو اور اس سےانسیت  پیدا کرے۔اور بعض نے کہاکہ اولیا اور بزرگوں سے ملاقات کو زیارت کہتے ہیں اس اعتبار سے زیارت میں ایک روحانی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے جس سے  انسان عالم طبیعت  میں ہونے کے باوجود  مادیت  سے منہ موڑ کر اپنے آپ کو عالم روحانیت سے جوڑ لیتا ہے۔یہ کلمہ قرآن میں بھی اسی معنی میں استعمال ہوا ہے ۔

۲۔ زیارت کی  اہم شرط

انبیاء و معصومین اور اولیاء کی زیارت کی سب سے اہم شرط معرفت ہے اور روایات زیارت میں اس نکتہ پر بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے چنانچہ حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کی زیارت کے سلسلہ میں روایت ہے کہ:

((من زارھا معرفۃ بحقّھا وجبت لہ الجنّۃ))

جو حضرت معصومہؑ کی زیارت حق معرفت کے ساتھ انجام دے تو وہ  جنت کا مستحق قرار پاگیا۔

 سوال یہ ہے کہ حق معرفت کسے کہتے ہیں؟ ظاہر ہے حق معرفت یعنی زائر کو حق امام  کی معرفت ہو  اور حق امام کیا؟ اس سلسلہ میں موجود روایات کی روشنی میں امام کا حق  یہ ہے کہ زائر امام کو مفترض الطاعۃ یعنی امام کی اطاعت کو اواجب جانے ۔نہج البلاغہ خطبہ نمبر 34  میں امام علی علیہ السلام امام اور رعیت کے حقوق کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

((أَمَّا حَقِّي عَلَيْكُمْ فَالْوَفَاءُ بِالْبَيْعَةِ وَ النَّصِيحَةُ فِي الْمَشْهَدِ وَ الْمَغِيبِ وَ الْإِجَابَةُ حِينَ أَدْعُوكُمْ وَ الطَّاعَةُ حِينَ آمُرُكُم))

میرا تم پر یہ حق ہے کہ بیعت کی ذمہ داریوں کو پورا کرو اور سامنے اور پس پشت خیر خواہی کرو جب میں بلاؤں تو میری صدا پر لبیک کہو اور جب کوئی حکم دوں تو اس کی تعمیل کرو۔

اس لئے زائر کی ساری کوشش یہ ہونی چاہئے کہ امام کے فرمان کو بجالائے اور جو امام کے اس حق کی رعایت کے ساتھ زیارت کرتے ہیں ان کے بارے  میں کتاب کامل الزیارات کے باب نمبر 101 ایک میں روایت ہے کہ :

((فمن زار ہ(رضا علیہ السّلام)مسلما لاَمرہ ،عارفا بحقّہ کان عند اللہ کشہداء البدر))

جو امام رضا علیہ السلام کی اس حالت میں کرے کہ آپ کے اوامر کے آگے تسلیم ہو اور آپ کے مقام و مرتبہ کو پہچانتا ہو تو ایسا زائر اللہ کے نزدیک شہداء بدر کا درجہ رکھتا ہے۔

ہاں اگر زائر  حق کے آگے تسلیم ہو تو   یقینااس کا  مقام زائرین کے اعلی ترین درجہ میں ہوگا جہاں اس کے سارے گناہ معاف ہوجائیں گے اور وہ ایسا پاک و پاکیزہ ہو جائے گا جیسے ایک نومولود گناہوں سے پاک ہوتا ہے ۔یہی وجہ ہے  کہ زائر زیارت جامعہ میں بارگاہ رب العزت میں دست دعا بلند کرتے ہوئے درخواست کرتا ہے :

((أَسْأَلُكَ أَنْ تُدْخِلَنِي فِي جُمْلَةِ الْعَارِفِينَ بِهِمْ۔۔۔۔))  

تجھ سے یہ درخواست کر تا ہوں کہ مجھے ان لوگوں میں شمار فرما جو اہل بیت (علیہم السلام) کی معرفت رکھنے والے ان کے حق کے جاننے والے اور ان کے گروہ میں شامل ہونے والے اور ان کے شفاعت پانے والے ہیں کہ تو ارحم الراحمین ہے ۔

خداوندا محمد ؐ اور ان کی آل پاک ؑ پر درود بھیج اور بے پناہ سلام ان پر نچھاور فرما حسبنا اللہ و نعم الوکیل خدا ہمارے لیے بس ہے اور وہی بہترین وکیل ہے ۔

۳:سب سے پہلے زائرِحسینی

سید بن طاؤوس بیان کرتے ہیں کہ اسیران آل محمد علیہم السّلام  نے شام سےواپسی پر  قافلہ راہنما سے کہا کہ ہمیں کربلا کے راستے سے لے جا۔جب وہ قتلگاہ پہنچے تو جابر بن عبداللہ انصاری اور بنوہاشم کے کچھ افراد سے ملاقات کی جو امام حسین علیہ السّلام کی قبر مبارک کی زیارت کے لیے آئے تھے۔ سب نے مل کر گریہ کرنا شروع کیا وہ اپنے چہروں پر تھپڑ ماررہے تھے اور دل ہلا دینے والی عزاداری و نوحہ خوانی کررہے تھے نیز اہل عراق کی خواتین بھی اہل بیت علیہم السّلام کے پاس حاضر ہوئیں اور انہوں نے بھی کچھ دن عزاداری منائی ۔

عماد الدین طبری بشارۃ المصطفٰی میں نقل کرتے ہیں کہ عطیہ کہتے ہیں کہ میں جابر بن عبداللہ کے ہمراہ امام حسین(علیہ السّلام) کی زیارت کے قصد سے چلا ،جیسے ہی کربلا کی سرزمین پر پہنچے تو جابر سیدھے نہر فرات کی جانب بڑھے اور غسل کیا اور پھر اپنی کمر کوایک  کپڑے سے باندھا اور ایک کپڑا شانے پر رکھا ،عطر لگایااور پھر ذکر کرتے ہوئے امام ؑ کی قبر کی جانب گئے جب قبر کے نزدیک پہنچے تو کہا: میرا ہاتھ تھامواوراسے قبر پر رکھو۔میں نے ان کا ہاتھ قبر پر رکھا تو جابر نے خود کو قبر پر گرا لیا اور اس قدر گریہ کیا کہ بے ہوش ہوگئے ۔میں نے ان پر پانی چھڑکا یہاں تک کہ ہوش میں آگئے ۔اس وقت تین مرتبہ کہا:یا حسین! اور پھر کہا: دوست بھی دوست کا جواب نہیں دیتا۔اور پھر کہا: تو کیسے جواب دے جبکہ انہوں نے آپؑ کی گردن کی رگیں کاٹ دی ہیں اور آپؑ کے سر اور بدن میں جدائی ڈال دی ہے ۔میں گواہی دیتا ہو ں کہ آپ ؑ خاتم الانبیاء کے نواسے ، مؤمنین کے امیر کے فرزند،اصحاب کساء کے پانچویں فرد،خاتون جنت کے بیٹے ہیں کس لیے ایسے نہ ہوں  درحالانکہ انبیاء کے سردار نے اپنے ہاتھ سے آپؑ کو کھلایا ہے ،متقین کے دامن میں پرورش پائی ہے  سینہ ایمان سے دودھ پیا ہے  اور دامن اسلام میں پلے ہیں ،آپؑ زندگی اور اس کے بعد دونوں حالتوں میں خوش نصیب ہیں ؛لیکن مومنین کے دل آپؑ کے فراق میں غمگین ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ جو کچھ آپؑ پر گزرا سب  بھلائی کے سوا کچھ نہیں تھاخداکا درود وسلام ہو آپ پر ، میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے وہی راستہ اپنایا جو آپؑ کے بھائی یحیی نے اپنایا تھا ۔

اور پھر قبر مبارک کے اطراف میں نظر دوڑاتے ہوئےکہا:سلام ہو تم پر اے پاک روحوجو آستانہ حسینؑ پر نازل ہوئی ہو ۔میں گواہی دیتا ہوں کہ تم نے نماز برپا کی ،زکوٰۃ ادا کی ،امر بالمعروف و نہی از منکر کیا،ملحدین سے جہاد کیااور خدا کی پرستش کی یہاں تک کہ موت نے تمہیں اپنی آغوش میں لے لیا۔اس خدا کی قسم جس نے محمد(ﷺ)کو حق کےساتھ مبعوث کیا ،اس راہ میں ہم بھی تمہارے ساتھ شریک ہیں ۔   

عطیہ کہتے ہیں کہ  میں نے جابر سے کہا: ہم کیسے ان کے ساتھ شریک ہوسکتے ہیں درحالانکہ  نہ تو ان کے ہمراہ دشت عبور  کیا ہے ،نہ پہاڑ کی بلندی پر گئےاور نہ ہی تلوار چلائی ہےجبکہ ان کے سر تن سے جدا ہوگئے ، ان کے بچے یتیم ہوگئے اور ان کی ازواج بیوہ ہوگئیں ؟

جابر کہنے لگے:اے عطیہ! میں نے اپنے حبیب رسول خدا(ﷺ)سے سنا ہے کہ آپؐ فرمایا کرتے: جو شخص کسی گروہ سے محبت کرتا ہے تو وہ اس کے عمل میں شریک ہوتا ہے ۔اس ذات کی قسم کہ جس نے محمدؐ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا میری اور میرے ساتھیوں کی نیت بھی وہی تھی جو حسینؑ اور ان کے اصحاب کی تھی مجھے کوفیوں کے گھروں کی جانب لے چل۔ابھی تھوڑی ہی مقدار چلے تھے کہ کہنے لگے: اے عطیہ ! تجھے وصیت کردوں اس لیے کہ مجھے گمان  نہیں  ہے کہ اس سفر کے بعد تجھے دیکھ پاؤں ۔آل محمدؐ کا دوست جب تک اس  دوستی پر باقی ہے  تو اسے دوست  رکھ ۔دشمن آل محمدؑ جب تک اس دشمنی پر باقی ہے اسے دشمن رکھ  اگرچہ وہ نماز و روزے کا کتنا زیادہ پابند ہو۔آل محمد ؑ کے دوست سے خوش اسلوبی سے پیش آ اگرچہ وہ گناہوں کی وجہ سے لغزش کھا رہا ہو ،اس لیے کہ( اگر اس کے ایک پاؤں  میں لغزش آ بھی گئی تو)اس کا دوسرا پاؤں آل محمدؑ سے دوستی کی وجہ سے لغزش سے محفوظ رہے گا۔آل محمدؑ کا ماننے والا جنت میں جائے گا اور ان کا دشمن جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔

        ۴:رسول خداکا زائرحسینی کے لیے دعا کرنا

امام صادق علیہ السّلام سے منقول ہےکہ آپؑ نے اپنے ایک صحابی سے فرمایا:

((لَا تَدَعْهُ‏ لِخَوْفٍ‏ مِنْ‏ أَحَدٍ فَمَنْ تَرَکَهُ لِخَوْفٍ رَأَى مِنَ الْحَسْرَةِ مَا یَتَمَنَّى أَنَّ قَبْرَهُ کَانَ بِیَدِهِ! أَمَا تُحِبُّ أَنْ یَرَى اللَّهُ شَخْصَکَ وَ سَوَادَکَ مِمَّنْ یَدْعُو لَهُ رَسُولُ اللَّهِ ص؟ أَمَا تُحِبُّ أَنْ تَکُونَ غَداً مِمَّنْ تُصَافِحُهُ الْمَلَائِکَة؟ ُ أَ مَا تُحِبُّ أَنْ تَکُونَ غَداً فِیمَنْ رَأَى وَ لَیْسَ عَلَیْهِ ذَنْبٌ فَتُتْبَعَ؟ أَمَا تُحِبُّ أَنْ تَکُونَ غَداً فِیمَنْ یُصَافِحُ رَسُولَ اللَّهِ ص))[1]

کربلا کی زیارت کو کسی کے خوف سے مت ترک کرو اس لیے کہ جوشخص کسی کے خوف سے قبر امام حسین علیہ السّلام کی زیارت ترک کرتا ہے وہ بعد میں اس قدر پشیمان ہوگا کہ اپنی موت کی آرزو کرنے لگے گا۔کیا تمہیں یہ پسند نہیں ہے کہ خدا وندمتعال تمہیں ایسے گروہ میں دیکھے جن کےلیے رسول خدا(ﷺ)دعا کررہے ہوں؟کیا تمہیں یہ پسند نہیں ہے کہ روز قیامت ایسے لوگوں میں سے ہو کہ جن  کے ذمہ کوئی گناہ نہ ہو کہ اسے حساب دینا پڑے ؟ کیا تمہیں یہ پسند نہیں ہے کہ تمہارا شمار ایسے لوگوں میں ہو جس سے ملائکہ مصافحہ کررہے ہوں؟کیا تمہیں یہ پسند نہیں ہے کہ تمہارا شمار ایسے افراد میں ہوجن سے رسول اللہ (ﷺ)مصافحہ کررہے ہوں؟

۵:زائرین کربلا کے لیے امام صادق علیہ السّلام کی خصوصی دعا

ہم سب کو اس نکتہ کو سمجھنےکی کوشش کرنا چاہئے  کہ زیارت اربعین کی کونسی خصوصیت ہے کہ جس کی وجہ سے اس قدر فضیلت بیان ہوئی ہے اس پیدل چل کر زیارت کرنے میں پائے جانے والے اجتماعی اور سیاسی آثار کے علاوہ جس بات کی طرف زائرین کو توجہ کرنے کی ضرورت ہے وہ اس پربرکت زیارت کا معنوی پہلو ہے اس پہلو کو جاننے اور درک کرنے کے لیے توفیق پروردگار کی ضرورت ہے جس کی خدا وندمتعال سے تمنا کرتے رہنا چاہیے۔ ہم فضیلت زیارت پر مشتمل احادیث کا مطالعہ تو کرسکتے ہیں لیکن ان کی گہرائی تک پہنچنا اور ان روایات کے اندر پائے جانے والے اہم نکات کو سمجھنا ہر ایک کے لیے ممکن نہیں ہے ۔

مقام دعا میں اہل بیت علیہم السّلام سے بیان کی گئی روایات خاص اہمیت کی حامل ہوتی ہیں اور ان روایات میں ایسے نورانی معارف پائے جاتے ہیں جو شاید دوسری روایات کے اندر موجود نہ ہوں در حقیقت یہ دعائیں معصومین علیہم السّلام کے کلام کا خلاصہ شمار ہوتی ہیں ۔انہیں روایات میں سے ایک انتہائی اہم روایت امام صادق علیہ السّلام سے نقل ہوئی ہے جس کی ابتداء میں آپؑ نے کربلا کی زیارت کے فلسفہ کو دعا کے انداز میں بیان فرمایا اور پھر کربلا کے زائرین کے لیے خصوصی دعا فرمائی ہے اس روایت کا بغور مطالعہ کرنے سے امام حسین علیہ السّلام کی زیارت کا فلسفہ اور آپؑ کے زائر کا مقام واضح ہوجاتا ہے ۔

«((عَنْ مُعَاوِیَةَ بْنِ وَهْبٍ قَالَ: اسْتَأْذَنْتُ عَلَى أَبِی عَبْدِ اللَّهِ ع فَقِیلَ لِی ادْخُلْ فَدَخَلْتُ فَوَجَدْتُهُ فِی مُصَلَّاهُ فِی بَیْتِهِ فَجَلَسْتُ حَتَّى قَضَى صَلَاتَهُ فَسَمِعْتُهُ وَ هُوَ یُنَاجِی رَبَّهُ وَ یَقُولُ :«یَا مَنْ خَصَّنَا بِالْکَرَامَةِ وَ خَصَّنَا بِالْوَصِیَّةِ وَ وَعَدَنَا الشَّفَاعَةَ وَ أَعْطَانَا عِلْمَ مَا مَضَى وَ مَا بَقِیَ وَ جَعَلَ أَفْئِدَةً مِنَ النَّاسِ تَهْوِی إِلَیْنَا، اغْفِرْ لِی وَ لِإِخْوَانِی وَ لِزُوَّارِ قَبْرِ أَبِی عَبْدِ اللَّهِ الْحُسَیْنِ ع الَّذِینَ أَنْفَقُوا أَمْوَالَهُمْ وَ أَشْخَصُوا أَبْدَانَهُمْ رَغْبَةً فِی بِرِّنَا وَ رَجَاءً لِمَا عِنْدَکَ فِی صِلَتِنَا وَ سُرُوراً أَدْخَلُوهُ عَلَى نَبِیِّکَ صَلَوَاتُکَ عَلَیْهِ وَ آلِهِ وَ إِجَابَةً مِنْهُمْ لِأَمْرِنَا وَ غَیْظاً أَدْخَلُوهُ عَلَى عَدُوِّنَا أَرَادُوا بِذَلِکَ رِضَاکَ فَکَافِهِمْ عَنَّا بِالرِّضْوَانِ وَ اکْلَأْهُمْ بِاللَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ اخْلُفْ عَلَى أَهَالِیهِمْ وَ أَوْلَادِهِمُ الَّذِینَ خُلِّفُوا بِأَحْسَنِ الْخَلَف وَ اصْحَبْهُمْ وَ اکْفِهِمْ شَرَّ کُلِّ جَبَّارٍ عَنِیدٍ وَ کُلِّ ضَعِیفٍ مِنْ خَلْقِکَ أَوْ شَدِیدٍ وَ شَرَّ شَیَاطِینِ الْإِنْسِ وَ الْجِنِّ وَ أَعْطِهِمْ أَفْضَلَ مَا أَمَّلُوا مِنْکَ فِی غُرْبَتِهِمْ عَنْ أَوْطَانِهِمْ وَ مَا آثَرُونَا بِهِ عَلَى أَبْنَائِهِمْ وَ أَهَالِیهِمْ وَ قَرَابَاتِهِمْ اللَّهُمَّ إِنَّ أَعْدَاءَنَا أَعَابُوا عَلَیْهِمْ خُرُوجَهُمْ فَلَمْ یَنْهَهُمْ ذَلِکَ عَنِ النُّهُوضِ وَ الشُّخُوصِ إِلَیْنَا خِلَافاً عَلَیْهِمْ- فَارْحَمْ تِلْکَ الْوُجُوهَ الَّتِی غَیَّرَتْهَا الشَّمْسُ وَ ارْحَمْ تِلْکَ الْخُدُودَ الَّتِی تَقَلَّبَتْ عَلَى قَبْرِ أَبِی عَبْدِ اللَّهِ الْحُسَیْنِ ع وَ ارْحَمْ تِلْکَ الْأَعْیُنَ الَّتِی جَرَتْ دُمُوعُهَا رَحْمَةً لَنَا وَ ارْحَمْ تِلْکَ الْقُلُوبَ الَّتِی جَزِعَتْ وَ احْتَرَقَتْ لَنَا وَ ارْحَمِ الصَّرْخَةَ الَّتِی کَانَتْ لَنَا اللَّهُمَّ إِنِّی أَسْتَوْدِعُکَ تِلْکَ الْأَنْفُسَ وَ تِلْکَ الْأَبْدَانَ حَتَّى نُوَافِیَهُمْ عَلَى الْحَوْضِ یَوْمَ الْعَطَش‏))[2]

معاویہ بن وہب کہتے ہیں کہ میں نے امام صادق علیہ السّلام سے داخل ہونے کی اجازت طلب کی تو مجھ سے فرمایا گیا: داخل ہو جائیں ،میں داخل ہوا تو دیکھا کہ آپؑ اپنے گھر میں مصلٰی پر موجود ہیں جب نماز ادا کرچکے تو میں نے سنا کہ اپنے رب سے مناجات کرتے ہوئے یوں کہہ رہے ہیں:اے  وہ ذات جس نے پیغمبر کی جانشینی اور بزرگی کو ہم سے مخصوص کیا؛ہم سے شفاعت کا وعدہ کیا ؛ہمیں  ماضی اور مستقبل کا علم عطاکیا؛لوگوں کے دلوں کو ہماری جانب مائل کیا !مجھے ،میرے بھائیوں اور اباعبداللہ(حسین علیہ السّلام )کے زائرین کو بخش دے جنہوں نے  ہم اہل بیتؑ سے نیکی کرنے کی خاطر امام حسینؑ کی راہ میں اپنا مال خرچ کیا اور اپنے جسموں کو اباعبداللہ (ع) کی قبر کی زیارت کے لیے  روانہ کیا اور یہ اس اجر کی امیدپر کہ جو تو انہیں  ہم سے ناطہ جوڑنے ،اپنے نبی کے دل کو سرور پہنچانے ،ہمارے امر کی اطاعت کرنے اور ہمارے دشمنوں کے دلوں میں غضب ایجاد کرنے کی بناپر عطا کرے گا انہوں نے یہ کام تیری خوشنودی کی خاطر انجام دیا ہے ۔

خدایا!ہماری جانب سے انہیں کفایت کرنے والی خوشنودی عطا کر،خدایا! انہیں شب و روز اپنی حفظ و امان میں رکھ ۔ خدایا! جب یہ لوگ قبر حسینؑ کی زیارت کے لیے جارہے ہوں تو تو خود ان کے اہل و عیال اور ان کی اولاد کا خیال رکھ۔خدایا!طول سفر میں خود ان کے ہمراہ رہنا اور انہیں ہر ستمگر دشمن سے محفوظ رکھ اور ہر وہ قوی یا کمزور انسان جو انہیں ضرر پہنچانا چاہے اس سے بچا اور انہیں جن و انس کے شر سے محٖفوظ رکھ۔

خدایا!انہیں اپنے وطن سے دوری اور ہمیں اپنی اولاد،گھروالوں اور عزیزو اقارب پر مقدم جاننے پر اس سے بھی بہتر اجر عطا کر جس کی وہ تجھ سے آرزو رکھتے ہیں ۔.خدایا!ہمارے دشمن اس سفر کی وجہ سے ان پر اعتراض کرتے ہیں لیکن ان کی یہ عیب جوئی انہیں ہماری طرف سفر کرنے سے نہ روک سکی ۔

                  پس خدایا! ان چہروں پر رحم فرما جو سورج کی دھوپ سے مرجھا گئے ہیں اور ان رخساروں پر نظر کرم فرما جو قبر حسینؑ پر رکھے گئے ہیں۔ خدایا! ان آنکھوں پر نظر کرم فرما جن سے ہماری محبت میں آنسو بہے ہیں اور ان دلوں پر رحم فرماجو ہماری خاطر بے قرار ہیں اور تڑپ رہے ہیں اور ان آہوں پر نظر کرم فرما جو ہمارے لیے بلند ہوتی ہیں ۔خدایا! میں ان جانوں اور ان بدنوں کو آپ کے سپرد کررہا ہوں تاکہ پیاس کے دن (روز قیامت )انہیں حوض کوثر سے سیراب کردے۔ 

                مندرجہ بالا روایت کے اندر کئی ایک قیمتی نکات پائے جاتے ہیں جو امام حسین علیہ السّلام کی زیارت کے فلسفہ کو نمایاں طور پر بیان کررہے ہیں:

۱۔امام حسین علیہ السّلام کی زیارت کا مقصد ہم اہل بیتؑ سے نیکی اور احسان کرنا ہے   ۔ امام علیہ السّلام کی دعا کے اس جملہ ((رغبۃ فی برّنا)) پر توجہ کرنے کی ضرورت ہے اس لیے کہ ہمارا مقام اس سے کہیں  کم ہے کہ ہم اہل بیت علیہم السّلام پر احسان کرسکیں ۔ یہ جملہ بالکل اس فرمان خداوندی کے مشابہ ہے جس میں ارشاد فرمایا:

((ھل جزاء الاحسان الاّ الاحسان))

کیا احسان کا بدلہ احسان کے سوا کچھ اور ہوسکتا ہے ؟ہم کیسے خدا پر احسان کرسکتے ہیں مگر یہ کہ وہ اپنے لطف و کرم سے ہمارے نیک اعمال کو اپنے اوپر احسان شمار کرلے۔

۲۔ زیارت  امام حسین علیہ السّلام کا مقصد  اہل بیت علیہم السّلام سے ناطہ جوڑناہے۔

۳۔ امام حسین علیہ السّلام کی زیارت سے رسول خداکو خوشی پہنچانا  مقصود ہوتا ہے جو انتہائی اہمیت رکھتا ہے ۔

۴۔امام حسین علیہ السّلام کی زیارت کرنے کا مقصد اہل بیت علیہم السّلام کے فرامین پر سر تسلیم خم کرنا ہے اور یہ وہی شعار ہے جسے ہر زائر لبیک یا حسین ؑ کہہ کر دہراتا ہے۔

۵۔ زیارت کا ایک اور مقصد اہل بیت علیہم السّلام کے دشمنوں کے کینہ کی آگ کو بھڑکانا ہے ۔آپ ملاحظہ کررہے ہیں کہ اس زیارت سے اہل بیت علیہم السّلام کے دشمنوں کو کس قدر تکلیف پہنچتی ہے جس کی وجہ سے ان کا کینہ  شعلہ ور ہونے لگتا ہے جو در حقیقت ان کی نابودی کا باعث بنتا ہے ۔

۶۔ اور پھر اس زیارت کا اصلی ہدف و مقصد خدا وند متعا ل کی خوشنودی ہوتا ہے تاکہ امام حسین علیہ السّلام کی زیارت کرکے خدا کی رضااور اس کی خوشنودی کو حاصل کیا جاسکے ۔

 

[1] ۔ ثواب الاعمال شیخ صدوق/۹۶

[2] . اصول کافی/4/582 و ثواب الاعمال شیخ صدوق/95



منابع: مجلہ ندائے اسلام۔1] ۔ ثواب الاعمال شیخ صدوق/۹۶ [2] . اصول کافی/4/582 و ثواب الاعمال شیخ صدوق/
ارسال کننده: مدیر پورتال
 عضویت در کانال آموزش و فرهنگ اربعین

چاپ

برچسب ها زائر حسینی کا مقام و مرتبہ۔ زائرحسین۔ مقام و مرتبہ۔ اہمیت۔ کربلا۔ امام حسین

نظرات


ارسال نظر


Arbaeentitr

 فعالیت ها و برنامه ها

 احادیث

 ادعیه و زیارات