ستاد مرکزی اربعین|کمیته فرهنگی، آموزشی

banner-img banner-img-en
logo

 ادبیات و پژوهش


عزاداری کی اہمیت

چاپ
عزاداری کی اہمیت

 

شیخ عزادار حسین

20 صفر المظفر کو تاریخ اسلام میں چہلم حسینی کےنام سے پہچانا جاتا ہے روایات میں اس دن کی عظمت سے متعلق بہت زیادہ بیان کیا گیا ہے۔ایک روایت میں امام حسن عسکری علیہ السّلام نے زیارت اربعین (چہلم)کو مومن کی علامت قرار دیاہے اور ہمارے دینی منابع میں دو موارد کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو اس دن سے متعلق ہیں ایک اسیران کربلا کی  یزید کی قید سے رہائی کے بعد شام سے واپسی اور دوسرا صحابی پیغمبر اسلام حضرت جابر بن عبداللہ انصاری کا امام حسین علیہ السّلام کی قبر مبارک کی زیارت کے لیے سرزمین کربلا پر وارد ہونا اور امام حسین علیہ السّلام کے پہلے زائر ہونےکا شرف حاصل کرنا ہے۔

سید بن طاؤوس نے مقتل کی مفصل اور معروف ترین کتاب((لہوف ))میں لکھا ہے کہ جب اسیران کربلا رہائی پا کر واپس جانے لگے تو قافلہ کی راہنمائی کرنے والے شخص سے کہا:ہمیں کربلا لے جا۔بنابریں وہ امام حسین علیہ السّلام کی قبر مبارک پر پہنچے اور وہاں پر عزاداری برپا کی ۔

ابن نما حلیؒ نے بھی روز اربعین کو اسیران کربلا کی شام سے کربلا واپسی اور ان کے جناب جابر سے ملاقات سے متعلق ذکر کیا  ہے۔

چہلم امام حسین علیہ السّلام کا فلسفہ وہی ہے جسے روایات میں بیان کیا گیا اور شیخ الطائفہ  قدس سرّہ نے بھی اسے ذکر کیا ہے کہ چہلم امام حسین علیہ السّلام کا فلسفہ اس دن شہداء کے سروں کا ان کے جسموں کے ساتھ دفن ہونا، آسمان کاچالیس دن تک امام حسین علیہ السّلام اور ان کے اصحاب کی مظلومانہ شہادت  پر گریہ کرنا ،نیز اسیران آل محمد علیہم السّلام کا امام حسین علیہ السّلام کی عزاداری برپا کرنا اور نوحہ خوانی کرکے اس جانسوز واقعہ کی یاد تازہ کرناہے۔

      اور بعد میں بھی اس واقعہ کو اسی آب و تاب کے ساتھ منایاجاتا رہا تاکہ یوں ظلم کے خلاف مظلوم کی آواز کو لوگوں تک پہنچا کر واقعہ کربلا کے مقصد کو اجاگر کیا جاسکے ۔

آج بھی  ہر مسلمان کہ یہ ذمہ داری  بنتی ہے کہ وہ اس نورانی سنت کو زندہ رکھنے کی خاطر ۲۰ صفر المظفر کو امام حسین علیہ السّلام کی  زیارت کرے اور اگر ممکن ہو تو پیدل زیارت کرے اس لیے کہ پیدل زیارت کرنے کا ثواب زیادہ ہے اور اس طرح امام حسین علیہ السّلام کے مقصد کو اجاگر کیا جائے جو درحقیقت وہی امر بالمعروف و نہی از منکر اور وقت کے ظالم و جابر بادشاہوں کے خلاف آواز بلند کرکے کلمہ توحید کی سربلندی کی کوشش کرنا ہے ۔ جس سے ہر زمانے کا طاغوت گھبراتا ہے یہی وجہ ہے کہ آج بھی اس سنت کو ختم کرنے کی سازش کی جارہی ہے تاکہ لوگوں میں ظالم و جابر حکومتوں اور بادشاہوں کے خلاف بولنے کے جذبہ کو آہستہ آہستہ نابود کردیا جائے۔

امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ عزاداری کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :ہمارے پاس جو کچھ بھی ہے یہ سب عزاداری امام حسین علیہ السّلام کی برکت سے ہے۔اگر واقعہ کربلا اورخاندان پیغمبرکی قربانی نہ ہوتی تو اس زمانے کے طاغوتوں نے پیغمبراکرمکی طاقت فرسا زحمتوں کو نابود کردیا ہوتا ۔ابوسفیان کی اولاد یہ چاہتی تھی کہ کتاب وحی پر سرخ قلم کھینچ دے اور بت پرستی کے تاریک زمانے کی یادگاریزید یہ گمان کر بیٹھا تھا کہ فرزندان وحی کو شہید کرکے اسلام کی بنیادوں کو نیست و نابود کردے گا اور))ما جاء خبر ولا وحی نزل ،نہ تو کوئی نبی آیا تھا اور نہ ہی کوئی وحی نازل ہوئی تھی((کانعرہ بلند کرکے  اسلامی حکومت کی اساس کو مٹا دے گا۔اگر واقعہ کربلا نہ ہوتا تو نہیں معلوم کہ قرآن کریم اور اسلام عزیز پر کیا مصیبت آتی؛ مگر خداوندمتعال کا ارادہ یہ تھا کہ اسلام اور قرآن کو زندہ رکھا جائے اور اس کے لیے یادگارِنبوت و رسالت  حسین بن علی علیہ السّلام کا انتخاب کیا تاکہ وہ اپنی اور اپنے عزیزوں کی جان  کو عظیم الشان پیغمبرکی امت پر فدا کرکے  اس پاک خون سے دین خدا کی آبیاری کریں اور یوں وحی اور اس کے پیغامات کی حفاظت کا سامان مہیا کر جائیں۔

    

چہلم امام حسین جسے اربعین حسینی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے یہ وہ دن ہےکہ  جب صحابی رسولؐ حضرت جابر بن عبداللہ انصاری کربلا کی سرزمین پر پہنچے ۔وہ سب سے پہلے شخص تھے جنہوں نے کربلا کا سفر کیا اور سرزمین کربلا پر وارد ہونے کے بعد آب فرات سے غسل کیا ، صاف لباس پہنا اور ننگے پاؤں قبر امام حسین علیہ السّلام کی جانب روانہ ہوئے یہاں تک کہ قبر امام حسین علیہ السّلام  کے سرہانے رک کر تین مرتبہ کہا: اللہ اکبر۔اورپھر  گریہ کرتے ہوئے بے ہوش ہوکر گر پڑے اور جب ہوش میں آئے تو یہ کہہ رہے تھے:السّلام علیک یا اباعبداللہ ۔۔۔

 

جمال فاطمہؑ کی ایک جھلک

       اسی روز اسیران کربلا شام سے واپس پلٹے اور سرزمین کربلا پر پہنچ کر امام حسین علیہ السّلام کی عزاداری برپا کی ۔اس روز زیارت امام حسین علیہ السّلام کی فضیلت اور اہمیت کے بارے بہت سی روایات نقل ہوئی ہیں لہذا مؤمنین کو چاہئے کہ وہ اس صحابی رسولؐ اور اہل بیت اطہار علیہم السّلام کی  اس پُر معنویت سیرت پر عمل پیرا ہوں اور رسول خدا سے محبت کا اظہار کرتے ہوئے پیدل چل کر امام حسین علیہ السّلام کی زیارت کے لیے جانے والے اس پیدل کاروان میں ضرور شرکت کریں جو نجف اشرف سے کربلامعلّٰی کی جانب ایک کاروان کی صورت میں ہر سال روانہ ہوتاہے جو درحقیقت تشیع کی طاقت کا مظاہرہ اور عالم اسلام کے درمیان ہمدلی و ہم بستگی نیز وحدت بین المسلمین کی زندہ مثال ہے اس لیے کہ نجف اشرف سے کربلا معلّی کی جانب  پیدل روانہ ہونے والے اس لاکھوں افراد پر مشتمل کاروان میں صرف شیعہ ہی نہیں ہوتے بلکہ پوری دنیاسے اہل بیت رسولؐ کے چاہنے والے اہل  سنت  بھائی بھی شریک ہوتے ہیں اور وہ مل کر اس معنوی  سفر کو طے کرتے ہوئے عالم اسلام کو وحدت کا درس دیتے ہیں ۔

 

لہذا اس روز ماتمی انجمنوں اور دستوں کو چاہئے کہ وہ زیادہ سے زیادہ جلوس نکالیں، ماتم و نوحہ خوانی کریں نیز اہل بیت علیہم السّلام کے چاہنے والے ہر ہر فرد کو چاہئے کہ وہ ان ماتمی جلوسوں کو زینت بخشنے کی خاطر بھر پور شرکت کرے۔



منابع: مجلہ ندائے اسلام
ارسال کننده: مدیر پورتال
 عضویت در کانال آموزش و فرهنگ اربعین

چاپ

برچسب ها عزاداری کی اہمیت۔ اہمیت۔ عزاداری۔ امام حسین۔ کربلا

نظرات


ارسال نظر


Arbaeentitr

 فعالیت ها و برنامه ها

 احادیث

 ادعیه و زیارات