ستاد مرکزی اربعین|کمیته فرهنگی، آموزشی

banner-img banner-img-en
logo

 ادبیات و پژوهش


چہلم امام حسین علیہ السّلام کے موقع پر حضرت آیت اللہ العظمٰی سید علی حسینی سیستانی دام ظلّہ العالی کا پیغام

چاپ
چہلم امام حسین علیہ السّلام کے موقع پر حضرت آیت اللہ العظمٰی سید علی حسینی سیستانی دام ظلّہ العالی کا پیغام

ہم میں سے کسی نے بھی ائمہ  علیہم  السّلام کا زمانہ درک نہیں کیا تاکہ ڈائریکٹ ان کی ذات سے علم حاصل کرسکتے اور ان کے ہاتھوں تربیت پاتے لیکن خدا وندمتعال نے ان کی تعلیمات کے ذریعے انہیں ہمارے لیے زندہ رکھا ہے اور ہمیں ان کی قبور کی زیارت کا حکم دیا ہے تاکہ وہ ہمارے لیے الگ نمونہ عمل قرار پائیں اور دوسری جانب ہمارے ان کے حضور میں ہونے کی صداقت اور دعوت کے قبول ہونے کو بھی  آزمایا ہے۔جیسا کہ ان لوگوں کا بھی امتحان لیا ہے جنہوں نے شرف حضور پایا اور آپؑ کی خدمت میں موجود رہے ، لہذا ہمیں متنبہ رہنا چاہئے کہ کہیں ہماری امیدیں محض خواب نہ ہوں اور  یہ بھی جاننا چاہئے کہ ہم اس وقت ان کے ساتھ محشور ہونے کی امید باندھ سکتے ہیں جب ہم نے ان کے بیان کردہ دستورات  کے مطابق زندگی  بسر کی ہو ۔امیرالمؤمنین علیہ السّلام نے جنگ جمل میں فرمایا:

((قد حضرنا قوم لم يزالوا في أصلاب الرّجال وأرحام النّساء  فمن صدق في رجائه منّا لم يصعب عليه العمل بتعاليمهم والإقتداء بهم ، فتزكّى بتزكيتهم وتأدّب بآدابهم))

ہمارے پاس ایسی جماعتیں بھی آتی رہتی ہیں جو ابھی تک مردوں کے صلب اور  عورتوں کے رحم میں ہیں  پس جو شخص  ہم سے امید لگانے میں سچا اور مخلص ہے اس کے لیے ان کی تعلیمات پر عمل کرنا اور ان کی پیروی کرنا مشکل کام نہیں ہے ۔پس تم ان کی تعلیمات سے خود کو پاک بناؤ اور ان کے آداب پر عمل کرکے باادب بنو۔

نماز کی اہمیت سے مت غافل ہوں جیسا کہ حدیث شریف  میں اسے دین کا ستون اور مومن کی معراج سے تعبیر کیا گیا ہے اگر نماز قبول ہوگئی تو دیگر اعمال بھی قبول ہوں گے اور اگر نماز رد کردی گئی تو دیگر اعمال بھی رد کر دیے جائیں گے ۔لہذا سزاوار یہ ہے کہ اول وقت نماز ادا کریں اور مناسب نہیں ہے کہ مومن نماز کا وقت آپہنچنے کے بعد بھی دوسرے کاموں میں مشغول رہے اس لیے کہ نماز سب سے افضل عبادت ہے ۔خود ائمہ علیہم السّلام نے بھی فرمایا ہے کہ جو شخص نماز کو حقیر جانتا ہے اور اسے اہمیت نہیں دیتا تو اسے ہماری شفاعت نصیب نہیں ہوگی۔اور دوسری جانب ظہر عاشور کو امام حسین علیہ السّلام کا نماز کی جانب متوجہ ہونا بھی آپ کے ذہنوں میں ہے ۔

نیز اخلاص کو بھی مدنظر رکھیں ،انسان کے اعمال کی قیمت اس کے اخلاص کے مطابق ہے خدا وند متعال بھی خالص کاموں کو پسند فرماتا ہے اور خدا وند متعال درجہ اخلاص کے مطابق سات سو مرتبہ تک اس عمل کے ثواب کو بڑھادیتا ہے۔زائر کو چاہئے کہ وہ تمام راستے میں ذکر خدا  کرے اور اپنے عمل کو خالص بنائے اور خدا وندمتعال نے گفتار ، کردار اور عقیدے میں اخلاص سے بڑھ کر کسی نعمت کااحسان نہیں فرمایا۔ریاکاری پر مشتمل عمل اس دنیا کی نابودی کے ساتھ نابود ہو جائے گا جبکہ خالص عمل اس دنیا اور اس کے بعد بھی باقی و جاوید رہے گا۔  

اپنے پردے اور لباس کا خاص خیال رکھیں ،یہ وہ موضوع ہے جس پر اہل بیت علیہم السّلام نے سخت ترین  حالات  کے باوجود تاکید فرمائی ہے کربلا کے سخت حالات اس مسئلہ کا واضح مصداق ہیں  جہاں دشمن نے اہل بیت علیہم السّلام کی ہتک حرمت سے بڑھ کر کسی اقدام میں انہیں اتنا نہیں ستایا۔بنابریں تمام زائرین اور خصوصا خواتین کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی رفتاراور لباس میں عفت وغیرہ کی رعایت کریں  اور ہر طرح کے تنگ لباس ، زیور ، مردوں کے ساتھ مخلوط ہونے وغیرہ سے اجتناب کریں تاکہ یہ مقدس زیارت آلودہ نہ ہو۔



منابع: مجلہ ندائے اسلام
ارسال کننده: مدیر پورتال
 عضویت در کانال آموزش و فرهنگ اربعین

چاپ

برچسب ها چہلم امام حسین علیہ السّلام کے موقع پر حضرت آیت اللہ العظمٰی سید علی حسینی سیستانی دام ظلّہ العالی کا پیغام۔ کربلا۔ امام حسین۔ اربعین۔ چہلم۔ پیغام آیۃ اللہ سیستانی

نظرات


ارسال نظر


Arbaeentitr

 فعالیت ها و برنامه ها

 احادیث

 ادعیه و زیارات