ستاد مرکزی اربعین|کمیته فرهنگی، آموزشی

banner-img banner-img-en
logo

 ادبیات و پژوهش


زیارت اربعین کا فلسفہ

چاپ
زیارت اربعین کا فلسفہ

حجۃ الاسلام ڈاکٹرسید علمدارحسین نقوی

دین کا اصلی مقصد انسان کو ہدایت کرنا اور اسے اس کے اصلی مقام کی جانب راہنمائی کرنا ہے اور یہ  ہدایت تعلیم وتربیت کے بغیر ممکن نہیں ہے قرآن مجید نے بعثت انبیاء کا مقصدبیان کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ پیغمبرلوگوں کے لیے آیات الہی کی تلاوت کرتے ہیں جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ تعلیم و تربیت بعثت انبیاء کے مقاصد میں سے ایک اہم مقصد ہےرسالت مآب نے اسی تعلیم و تربیت اور اپنے اخلاق و کردار کے ذریعہ جاہلیت میں گھرے معاشرے کو ایک مثالی معاشرے کی تشکیل کی راہ پر گامزن کیا ۔اس کے بعد ائمہ معصومین علیہم السلام نے بھی اپنے اپنے زمانے کےعصری تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بالخصوص اپنے شیعوں اور بالعموم تمام انسانوں کی ہدایت کا اہتمام کیا ۔ بطور مثال واقعہ کربلا کے  بعدامام سجاد علیہ السّلام کے زمانہ میں مکہ اور مدینہ جیسےمقدس شہر لہو و لعب اور فساد کا مرکز بن گئے تھےگانا بجانے کے شائقین حضرات ان شہروں کا رخ کرنے لگے اور مدینہ رسول میں موسیقی کی محفلیں منعقد کی جانے لگیں ۔[1]ان محفلوں میں عام افراد کے علاوہ بڑے بڑے فقہاء بھی شرکت کرکے محظوظ ہوا کرتے ۔[2]ابوالفرج اصفہانی نقل کرتے ہیں کہ اس زمانہ کی معروف گلوکارہ جمیلہ نامی عورت جو مدینہ منورہ کے قریب سنج نامی علاقہ[جہاں اس سے پہلے اسلام کی ایک معروف شخصیت کا گھر تھا]میں رہ  رہی تھی جب حج کے لیے روانہ ہونے لگی تو عورتوں اور مردوں کا جم غفیر اس کے ہمراہ نکل پڑا۔[3]

ایسےفاسد اور بگڑے ہوئے معاشرہ کی اصلاح کوئی آسان کام نہیں تھا کہ جس کی ہدایت کرنے کے دعویدار خود گمراہی کی راہ پر چل پڑے ہوں۔ لہذا امام سجاد علیہ السّلام نے دعاو مناجات کا راستہ اپنایاتاکہ اس طرح اسلامی معارف کو لوگوں تک پہنچایا جائے ۔یہی وجہ ہے کہ امام سجاد علیہ السّلام کی تعلیمات دعا کی شکل میں دکھائی دیتی ہیں جس کے ذریعہ لوگوں کودین اسلام کی حقیقی تعلیمات کی طرف متوجہ کیا اوردوسری جانب حکومت وقت کو بھی اس روش سے بظاہر کوئی خطرہ محسوس نہیں ہو رہا تھا ۔

اسی طرح امام صادق علیہ السّلام کا یہ فرمان کہ جو شخص نماز کو حقیر اور کم اہمیت جانتا ہے وہ ہماری شفاعت نہیں پا سکتا۔[4] اگر اس حدیث کو اس زمانہ کے حالات کے تناظر میں دیکھا جائے تو اس حدیث کا معنی اور امام علیہ السّلام کا مقصد واضح ہوجاتا ہے اس لیے کہ امام صادق علیہ السّلام کے دور امامت میں غالیوں کی سرگرمیاں عروج پر پہنچ چکی تھیں اور انہوں نے لوگوں کی ایک کثیر تعداد کو اپنے جال میں پھنسا رکھا تھا اورسرعام یہ شعار بلند کیا کرتے کہ عقیدہ درست ہونا چاہئے عمل بجالانا ضروری نہیں ہے اس طرح وہ بہت سے امور کو جائز قرار دیتے ہوئے کھلے عام واجبات کو ترک اور محرمات کو بجالانے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے تھے بالخصوص نماز کو اہمیت نہیں دیتے تھے ایسے میں امام علیہ السّلام نے یہ حدیث بیان فرما کر غالیوں سےاپنے ماننے والوں کے راستہ کو جدا کردیا اوران غالی مشرکوں کی شناخت کا معیار بھی سمجھا دیا۔

اسی طرح امام عسکری علیہ السّلام کا زمانہ انتہائی سختی اور مصائب کا زمانہ ہے شیعہ ایک انتہائی مشکل دور سے گزر رہے ہیں، شیعہ کہلوانا جرم ہے ،ایک دوسرے سے میل جول پر پابندی ہے۔امام نظر بند ہیں اور انہیں مجبور کیا گیا کہ ہر پیر اور جمعرات کو دربار میں پیش ہوں ۔[5] لوگوں کا امام علیہ السّلام سے رابطہ ممکن نہیں ہے اور دوسری جانب حکومت کی طرف سے امام حسین علیہ السّلام کی زیارت پر پابندی عائد کی جاچکی ہے یہاں تک کہ متوکل کے زمانہ میں قبر امام حسین علیہ السّلام کو مسمار کرکے اس پر ہل چلا دیا گیا۔[6]اور ساتھ ہی واقعہ کربلا کی اہمیت کو کم اور اسے محو کرنے کے لیے مختلف ہتھکنڈے استعمال کیے جارہے تھے جن میں واقعہ کربلا میں تحریف ، دس محرم کو خوشی کا دن قرار دے کر روز رکھنے کا حکم دینا ،ایسی احادیث گھڑ کر لوگوں میں عام کرنا جن میں یزید اور بنو امیہ کو امام حسین علیہ السّلام کے قتل سے بری الذمہ قرار دیا گیااوردوسری جانب دس محرم کو عید کا دن قرار دینے جیسے ہتھکنڈے شامل تھے۔ [7]

جب امام عسکری علیہ السّلام نے یہ دیکھا کہ واقعہ کربلا کوصفحہ ہستی سے مٹانے کی کوشش کی جارہی ہے اور حالات ایسے ہیں کہ امام علیہ السّلام اپنے شیعوں سے ملاقات تک نہیں کرسکتے تو ایسے میں اپنے شیعوں کو ایک لائحہ عمل اپنانے کا دستور دیا جس نے واقعہ کربلا کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے زندہ کردیا۔امام عسکری علیہ السّلام نے اپنی حکمت عملی کو یوں بیان فرمایا:

مومن کی پانچ علامات ہیں :

۱۔روزانہ ۵۱رکعت نماز بجالانا

۲۔دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہننا

۳۔ نماز میں بلند آواز سے بسم اللہ پڑھنا

۴۔خاک شفا پر سجدہ کرنا

۵۔ زیارت اربعین پڑھنا[8]

امام عسکری علیہ السّلام کا زیارت اربعین کو مومن کی علامت قرار دینا آپ کے تربیتی نظام کا حصہ ہے نیز اس حدیث میں غور کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان پانچوں علامات کا تعلق انسان کے ظاہری اعمال سے ہے جس کا ایک مقصد یہ ہوسکتا ہے کہ شیعہ ان مشکل حالات میں ایک دوسرے کو پہچان سکیں اور زیارت اربعین کا فلسفہ یہ ہوسکتا ہے کہ دشمن کی اس سازش کو ناکام بنایا جاسکے جو اس نے واقعہ کربلا کی اہمیت کو کم کرنے اور اسے صفحہ ہستی سے مٹانے کے لیے اپنا بنارکھی تھی ۔یقینا امام عسکری علیہ السّلام کو اس میں کامیابی حاصل ہوئی اور اسی برکت سے آج تک زیارت اربعین کی یہ سنت جاری و ساری ہے یہاں تک کہ ہزاروں سال گزرجانے کے باوجود آج بھی چہلم امام حسین علیہ السّلام کے موقع پر پورے عالم سے اہل بیت علیہم السّلام کے چاہنے والے کربلائے معلّی اپنے مظلوم امام کے روضہ اقدس پر پہنچ کر زیارت اربعین کا یہ فریضہ بجالاتے ہیں۔اور شیعیان حیدرکرار کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے امام کے اس فرمان پر عمل کرتے ہوئے چہلم امام حسین علیہ السّلام کے موقع پر امام حسین علیہ السّلام کے روضہ مبارک پر حاضری دے کر اس نیک عمل کو جامہ عمل پہنائیں اور یوں دشمن کی سازش کو ناکام بنادیں۔

 

[1] ۔شوقی ضیف ، تاریخ الادب العربی،ج۲، ص ۳۴۷

[2] ۔ جعفر شہیدی ، زندگانی حسین ابن علی،ص ۱۰۳

[3] ۔ ابوالفرج اصفہانی، الاغانی، ج ۸، ص ۲۰۶؛ عمر رضا کحالہ ، اعلام النساء ،ج۱،ص ۲۱۲

[4] ۔ عطاردی ، عزیزاللہ ، مسند امام جعفر صادق،ص۹۰

[5] ۔ طوسی، الغیبۃ ، ص۱۲۹

[6] ۔رسول جعفریان ، حیات فکری و سیاسی امامان شیعہ ، ص ۵۰۰

[7] ۔ خوارزمی ، مقتل الحسین، ج۱،ص ۲۰

[8] ۔ قتال نیشاپوری، روضۃ الواعظین، ص۳۲۰



منابع: ندائے اسلام۔ [1] ۔شوقی ضیف ، تاریخ الادب العربی،ج۲، ص ۳۴۷ [2] ۔ جعفر شہیدی ، زندگانی حسین ابن علی،ص ۱۰۳ [3] ۔ ابوالفرج اصفہانی، الاغانی، ج ۸، ص ۲۰۶؛ عمر رضا کحالہ ، اعلام النساء ،ج۱،ص ۲۱۲ [4] ۔ عطاردی ، عزیزاللہ ، مسند امام جعفر صادق،ص۹۰ [5] ۔ طوسی، الغیبۃ ، ص۱۲۹ [6] ۔رسول جعفریان ، حیات فکری و سیاسی امامان شیعہ ، ص ۵۰۰ [7] ۔ خوارزمی ، مقتل الحسین، ج۱،ص ۲۰ [8] ۔ قتال نیشاپوری، روضۃ الواعظین، ص
ارسال کننده: مدیر پورتال
 عضویت در کانال آموزش و فرهنگ اربعین

چاپ

برچسب ها زیارت ابعین کا فلسفہ۔ کربلا۔ امام حسین۔ چہلم۔ اربعین

نظرات


ارسال نظر


Arbaeentitr

 فعالیت ها و برنامه ها

 احادیث

 ادعیه و زیارات