ستاد مرکزی اربعین|کمیته فرهنگی، آموزشی

banner-img banner-img-en
logo

 ادبیات و پژوهش


اہل بیت، مدینہ میں

چاپ
اہل بیت، مدینہ میں

کاروان اہل بیت کربلا سے مدینہ کے ارادہ سے نکلا بشیر ابن جزلم راوی ہے کہ جب مدینہ کے قریب پہونچے تو امام سجاد سواری سے اترے ، سامان سفر اتارا اور خیمہ لگایا اور خواتین کو اتارا اور فرمایا: اے بشیر خدا تمہارے باپ پر رحمت نازل کرے وہ شاعر تھے  کیا تم بھی شعر کہتے ہو ؟ میں نے عرض کی :ہاں فرزند رسول میں بھی شاعر ہوں ۔ امام نے فرمایا: شہر مدینہ میں جاؤ اور امام حسین ؑ کی شہادت کا اعلان کرو ۔ بشیر کہتے ہیں کہ میں گھوڑے پر سوار ہوکر مدینہ میں داخل ہوا جب مسجد النبی پہونچا گریہ کی آواز بلند کی اور یہ شعر پڑھا : اے اہل مدینہ اب مدینہ رہنے کے قابل نہیں رہا ۔ حسین قتل کردیئے گئے اور میں ہمیشہ گریہ کروں گا ۔ آپ کا جسم مطہر خون میں غلطاں ہوگیا کربلا میں اور آپ کے سر اقدس کو نیزہ پر پھرایا گیا ۔ پھر میں نے کہا: علیؑ بن الحسینؑ اپنی پھوپھیوں اور بہنوں کے ساتھ اس شہر کے قریب پہونچ گئے ہیں اور وہاں قیام کیا ہے اورمیں ان کا قاصد ہوں کہ ان کی طرف سے آپ کو بتاوں ۔ بشیر کہتے ہیں : کوئی پردہ نشین خاتون مدینہ میں نہ تھی سب کے سب باہر آگئیں اور پریشاں حال میں نوحہ و گریہ کیا رسول خدا کی وفات کے بعد اتنا دردناک منظر نہیں دیکھا تھا میں اپنے گھوڑے پر سوار ہوا اور اہل حرم کے پاس واپس آگیا میں نے دیکھا کہ چارو ں جانب سے لوگ آرہے ہیں تو میں گھوڑے سے اتر گیا اور لوگوں کے ہمراہ امام سجاد کے خیمہ تک آیا جو کہ تمام خیموں کے بیچ میں تھا امام خیمہ سے باہر آئے اور آپ کے ہاتھ میں ایک رومال تھا جس سے اپنے آنسو پوچھ رہے تھے خادم کے ہاتھ میں ایک کرسی تھی جو امام کے ساتھ تھا اس نے کرسی زمین پر رکھی امام تشریف فرما ہوئے اور بے اختیار گریہ کیا اور لوگوں کی بھی آوازیں بلند ہوئیں ، خواتین اور کنیزوں نے بھی گریہ کیا ۔ لوگوں نے چاروں طرف سے آپ کو تسلیت پیش کی وہ حصہ ایک طرح سے گریہ کا مرکز بن گیا ۔ امام نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ خاموش ہوجاؤ ۔ لوگوں نے سکوت اختیار کیا پھر امام نے فرمایا: تمام تعریفیں کائنات کے خالق اور مالک روز جزا اور خالق عالم کے لئے وہ خدا جو لوگوں کے عقلوں سے پرے ہے اس کی منزلت آسمانوں سے بلند ہے اور اپنے بندوں سے اتنا نزدیک ہے کہ ان کے سرگوشی کو سنتا ہے خدا کا شکر کہ عظیم امور آنے والی مصیبتوں اور ان مشکلات و لوگوں کے طعنہ اور عظیم مصیبتوں پر اے لوگو! تمام تعریفیں اللہ کے لئے جس نے ہمیں اس عظیم امتحان سے دوچار کیا اور اسلام میں عظیم شکست وجود میں آئی ۔ امام حسین ؑ اور آپ کے خاندان کو قتل کیا ان کی خواتین و بچوں کو اسیر کیا ان کے سر بریدہ کو نوک نیزہ پر سجایا شہروں میں پھرایا یہ ایسی مصیبت تھی جس کی کوئی نظیر نہیں ۔ اے لوگو! تم میں سے کون ہے جو قتل امام حسین ؑ کے بعد شاد و خوشحال ہو ؟ کون دل ہے جو ان کے لئے غمگین نہ ہو ؟ تم میں کون ہے جو اپنے آنسووں کو روک سکے جب کہ ساتوں آسمانوں نے آپ پر گریہ کیا ، دریاوں کی موجیں گریہ کناں رہیں ، آسمان اپنے ستونوں کے ساتھ اور زمین اپنی گہرائی کے ساتھ درخت اپنے شاخ و برگ کے ساتھ اور مچھلیاں اور دریا کی موجیں اور مقرب فرشتگان الہی اور اہل آسمان سب کے سب نے اس مصیبت پر گریہ کیا ۔ اے لوگو! کون سا دل ہے جو ان مقتولین کے غم میں نالہ و شیون نہ کرے ؟ اور کون سا دل ہے جو پھٹ نہ پڑے ؟ اور کون سا کان سے جو اس اسلامی شکست کو سنے اور بہرہ نہ ہوجائے ؟

اے لوگو! ہم اپنے شہر سے نکال دیئے گئے بیابانوں میں وطن سے تتر بتر ہوگئے جب کہ ہمارا کوئی گناہ نہ تھا اور کسی برے فعل کے مرتکب نہیں ہوئے تھے جس نے اسلام میں شکستگی اور خرافات داخل کیا ہو اور ایساعمل گذشتہ نسلوں میں بھی نہیں سنا تھا یہ امر ایک بے نظیر اور نیا تھا خدا کی قسم اگر رسول خدا ؐ ہمارے احترام کے بجائے ہم سے جنگ کرنے کا حکم دیتے تو جو انہوں نے انجام دیا ہے اس سے زیادہ نہ کرتے ۔ انا للہ و انا الیہ راجعون ۔ کتنی عظیم مصیبت کتنا دل سوز و درد ناک اور رنج دہندہ اور ناگوار و تلخ و جانسوز مصیبت تھی جو وجود میں آئی اور ہم تک پہونچی ہم اسے خدا کے سپرد کرتے ہیں کہ وہ عزیز و انتقام لینے والا ہے ۔

اس کے بعد امام سجاد ؑ  عترت اطہار کو شہر مدینہ لے گئے اور جب اپنے گھروں، اہل خانہ اور خاندان پر نظر پڑی تو ان کے گھر زبان حال سے نوحہ کررہے تھے ۔ اشک بہا رہے تھے ۔ گویا اپنے مقتولین پر گریہ کناں تھے ۔ داغ دیدہ ماووں کی طرح گریہ کناں تھے اور ہر رہگذر سے ان کا حال پوچھ رہے تھے اپنے مقتولین پر مغموم تھے اور ان کے وجود سے وا مصیبتاہ کے نعرے بلند ہورہے تھے ،۔

امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں : امام سجاد ؑ چالیس سال تک اپنے والد پر گریہ کرتے رہے اور ان تمام برسوں میں دن میں روزے رکھتے اور رات بھر عبادت کرتے اور افطار کے وقت جب آب و دانا لایا جاتا تو فرماتے فرزند رسول بھوکا قتل کردیا گیا ۔ فرزند رسول پیاسہ مار ڈالا گیا اور اس جملے کی اتنی تکرار کرتے اور گریہ کرتے کہ آپ کا کھانا آپ کے آنسووں سے تر ہوجاتا اور آپ کا پانی آپ کے آنسووں میں مل جاتا ہمیشہ آپ کی یہی کیفیت تھی یہاں تک کہ دعوت الہی پر لبیک کہی ۔



منابع: لھوف
ارسال کننده: مدیر پورتال
 عضویت در کانال آموزش و فرهنگ اربعین

چاپ

برچسب ها اہل بیت، مدینہ میں

نظرات


ارسال نظر


Arbaeentitr

 فعالیت ها و برنامه ها

 احادیث

 ادعیه و زیارات