ستاد مرکزی اربعین|کمیته فرهنگی، آموزشی

banner-img banner-img-en
logo

 ادبیات و پژوهش


اسرائے اہل حرم دربار یزید میں

چاپ
اسرائے اہل حرم دربار یزید میں

اہل حرم جو رسیوں میں بندھے تھے انہیں دربار یزید میں پیش کیا گیا جب ان لوگوں نے اپنے آپ کو یزید کے سامنے اس عالم میں دیکھا تو امام سجاد ؑ نے یزید سے فرمایا:

تجھے خدا کا واسطہ اے یزید ! تیری نظر میں اگر رسول ہمیں اس عالم میں دیکھتے تو کیا کہتے ؟  یزید نے حکم دیا : رسیوں کو کھول دیا جائے ۔ اس کے بعد امام حسین ؑ کے سر کو اپنے سامنے رکھا اور خواتین کو اپنے پیچھے کھڑا کیا تاکہ اسے نہ دیکھ سکیں لیکن حضرت زینب ؑ نے امام کے سر بریدہ کو دیکھا اور ایک جانسوز نالہ بلند کیا اور فرمایا:

اے حسینؑ ، اے حبیب رسول خدا ، اے فرزند مکہ و مدینہ ، اے فرزند فاطمہؐ زہرا سیدۃ نساء العالمین ، اے فرزند بنت مصطفی ؐ، اس نوحہ کے سبب دربار کے جتنے حاضرین تھے سب رو پڑے اور یزید ملعون مبہوت اور ساکت ہوگیا ۔

پھر یزید ملعون نے اپنا خیزران نامی عصا منگوایا اور اس کے ذریعہ امام حسین ؑ کے دندان مبارک پر ضرب لگانی شروع کی ۔ ابو برزہ اسلمی نے یزید کو مخاطب کرکے کہا: اے یزید وائے ہو تجھ پر جو فرزند فاطمہ کے دندان مبارک پر چھڑی مار رہا ہے میں نے خود دیکھا تھا کہ رسولؐ حسین ؑ و حسن ؑ کے دندان مبارک کے بوسے لیتے تھے اور کہتے تھے تم دونوں جنت کے جوانوں کے سردار ہو تمہارے قاتل کو قتل کرے اور اس پر لعنت کرے اور جہنم اس کا ابدی ٹھکانا قرار دے اور کتنا برا ٹھکانہ جہنم ہے ۔ یزید چراغ پا ہوگیا اور حکم دیا انہیں دربار سے باہر نکال دو ۔ سپاہیوں نے گھسیٹتے ہوئے انہیں دربار سے باہر کردیا  زینبؑ بنت علیؑ بن ابی طالبؑ کھڑی ہوئیں اور فرمایا:

الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعالَمِينَ، و صلّى اللَّه على محمّد و آله. صدق اللَّه كذلك يقول:’’ ثُمَّ كانَ عاقِبَةَ الَّذِينَ أَساؤُا السُّواى‏ أَنْ كَذَّبُوابِآياتِ اللَّهِ وَ كانُوا بِها يَسْتَهْزِؤُنَ. اظننت يا يزيد حيث اخذت علينا اقطار الارض و آفاق السّماء، فاصبحنا نساق كما تساق الاسارى انّ بنا على اللَّه هوانا و بك عليه كرامة و انّ ذلك لعظيم خطرك عنده، فشمخت بانفك و نظرت في عطفك جذلان مسرورا، حيث رأيت الدّنيا لك مستوسقة و الامور متّسقة، و حين صفالك ملكنا و سلطاننا!

فمهلا انسيت قول اللَّه عزّ و جلّ: «وَ لا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّما نُمْلِي لَهُمْ خَيْرٌ لِأَنْفُسِهِمْ إِنَّما نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدادُوا إِثْماً وَ لَهُمْ عَذابٌ مُهِين

امن العدل يا بن الطّلقاء تخديرك حرائرك و امائك و سوقك بنات رسول اللَّه سبايا، قد هتكت ستورهنّ و ابديت وجوههنّ، تحدوا بهنّ الاعداء من بلد الى بلد و يستشرفهنّ اهل المناهل و المناقل و يتصفّح وجوههنّ القريب و البعيد، و الدنىّ و الشّريف، ليس معهنّ من رجالهنّ ولىّ و لا من حماتهنّ حمى‏

‏و كيف يرتجى مراقبة ابن من لفظ فوه اكباد الازكياء و نبت لحمه بدماء الشّهداء؟ و كيف يستبطأ في بغضنا اهل البيت من نظر الينا بالشّنف و الشّنآن و الاحن و الاضغان، ثمّ يقول غير متأثّم و لا مستعظم،

          فأهلّوا و استهلّوا فرحا                                                                           ثمّ قالوا يا يزيد لا تشل‏

 منتحيا على ثنايا ابى عبد اللّه، سيّد شباب اهل الجنّة تنكتها بمخصرتك‏

و كيف لا تقول ذلك و قد نكأت القرحة و استأصلت الشّافة، باراقتك لدماء ذرّية محمّد صلى اللَّه عليه و آله و سلم و نجوم الارض من آل عبد المطّلب،

و تهتف باشياخك، زعمت انّك تناديهم فلتردّنّ وشيكا موردهم و لتودّنّ انّك شللت و بكمت و لم تكن قلت ما قلت و فعلت ما فعلت‏

اللّهم خذلنا بحقّنا و انتقم ممّن ظلمنا و احلل غضبك بمن سفك دمائنا و قتل حماتنا

فو اللَّه ما فريت الّا جلدك و لا جزرت الّا لحمك و لتردّنّ على رسول اللَّه بما تحمّلت من سفك دماء ذرّيّته و انتهكت من حرمته في عترته و لحمته، حيث يجمع اللَّه شملهم و يلمّ شعثهم، و يأخذ بحقّهم

وَ لا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْواتاً بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ‏. 

و حسبك باللَّه حاكما و بمحمّد صلى اللَّه عليه و آله و سلم خصيما و بجبرئيل ظهيرا و سيعلم من سوّل لك و مكّنك رقاب المسلمين، بِئْسَ لِلظَّالِمِينَ بَدَلًا و ايّكم‏ شَرٌّ مَكاناً وَ أَضْعَفُ جُنْدا

و لئن جرّت علىّ الدّواهى مخاطبتك، انّى لأستصغر قدرك و استعظم تقريعك و استكثر توبيخك، لكنّ العيون عبرى و الصّدور حرّى‏

الا فالعجب كلّ العجب بقتل حزب اللَّه النّجباء بحزب الشّيطان الطّلقاء، فهذه الايدى تنطف من دمائنا و الافواه تتحلّب من لحومنا و تلك الجثث الطّواهر الزّواكى تنتابها العواسل و تعفّرها امّهات الفراعل

و لئن اتّخذتنا مغنما لتجدنا وشيكا مغرما، حين لا تجد الّا ما قدّمت و ما رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِلْعَبِيدِ،

فالى اللَّه المشتكى، و عليه المعوّل‏

فكد كيدك و اسع سعيك و ناصب جهدك، فو اللَّه لا تمحو ذكرنا و لا تميت وحينا و لا تدرك امدنا و لا ترحض عنك عارها،

 و هل رأيك الّا فندا و ايّامك الّا عددا و جمعك الّا بددا، يوم ينادى المنادى: أَلا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِين‏

فالحمد للَّه الّذى ختم لاوّلنا بالسّعادة و المغفرة و لآخرنا بالشّهادة و الرّحمة و نسأل اللَّه ان يكمّل لهم الثّواب و يوجب لهم المزيد و يحسن علينا الخلافة، انّه رحيم ودود، و حَسْبُنَا اللَّهُ وَ نِعْمَ الْوَكِيل‏

تمام تعریفیں اس اللہ سے مخصوص ہے جو کائنات کا پروردگار ہے اور میرے جد سید الانبیاء پر درود ہو خدا نے سچ کہا ہے : اس کے بعد برائی کرنے والوں کا انجام برا ہوا کہ انہوں نے خدا کی نشانیوں کو جھٹلا دیا اور برابر ان کا مذاق اڑاتے رہے ۔

اے یزید کیا تو گمان کرتا ہے کہ تونے زمین کے راستوں کو ہم پر بند کردیا ہے اور آسمان کے افق کو ہم پر تنگ کردیا ہے اور ہم تیرے اسیر ہوگئے ہیں اور ہمیں صف بستہ تیرے سامنے پیش کیا گیا ہے اور تو ہم پر فاتح اور غالب ہوگیا ہے اور ہم پیش خدا ذلیل اور رسوا ہوگئے ہیں اور تو خدا کے نزدیک عظیم و عزیز ہے اور تو اس عمل کے ذریعہ خدا کے نزدیک بلند مقام رکھتا ہے ؟ ! اسی لئے احساس غرور اور حکومت کے نشے میں آس پاس کے لوگوں کو دیکھ رہا ہے اور خود پسندی و غرور کا شکار ہوچکا ہے ، تو یہ سوچ رہا ہے کہ دنیا تیری ہوگئی ہے اور سب کچھ تیرا ہے اور ہماری حکومت کی کرسی اور سلطنت تیرے لئے خالی ہوگئی ہے اور اس بات پر بہت خوش اور پھولے نہیں سما رہا ہے ، ٹھہر جا اور صبر کر ،اور نادانی اور جلد بازی نہ کر کیا تو نے قول الہی کو بھلا دیا:’’اور خبردار یہ کفاّر یہ نہ سمجھیں کہ ہم جس قدر راحت و آرام دے رہے ہیں وہ ان کے حق میں کوئی بھلائی ہے  ہم تو صرف اس لئے دے رہے ہیں کہ جتنا گناہ کر سکیں کر لیں ورنہ ان کے لئے رسوا کن عذاب ہے‘‘ ۔

اے آزاد شدہ کی اولاد ! کیا یہ انصاف ہے کہ تیری عورتیں اور کنیزیں پردوں کے پیچھے رہیں اور تو بنات رسول خدا کو اسیر کرکے کشاں کشاں پھرائے ؟! جب کہ تونے ان لباس اور چادروں کو لوٹ لیا ہے ان کے چہروں کو بے نقاب کردیا ہے اور دشمنان خدا انہیں نہایت ہی ذلت و اسیری کی صورت میں شہر بہ شہر لے جارہے ہیں اور لوگ ان کا تماشا دیکھ رہے ہیں اور قریب و نزدیک آشنا اور اجنبی ، شریف و ذلیل ان کے چہروں پر نظر ڈال رہے ہیں ، ان کا مردوں میں کوئی سرپرست نہیں ، ان کا کوئی یاور مددگار نہیں ، لیکن تیرے ان نجس کاموں پر تعجب نہیں ہے کیونکہ تو اس کا چشم و چراغ ہے جس نے شہیدوں کے جگر کو چبایا ہے ۔

ہم اہل بیت کے سلسلہ میں کینہ میں کوتاہی وہ کیوں کرے گا جو ہم سے دشمنی اور کینہ رکھتا ہے اور رسول خدا کے سلسلہ میں اپنے کفر کو برملا کرتا ہے اور فرزند رسول کے قتل اور خاندان رسالت کی اسیری پر خوشی مناتا ہے اور بجائے اس کے کہ وہ اس کو وہ عظیم گناہ شمار کرے اپنے گذشتہ بزرگوں کو مخاطب کرکے برملا کہتا ہے :

اگر یہاں ہوتے اور اس منظر کو دیکھتے تو خوشحال ہوتے اور کہتے کہ اے یزید تیرے ہاتھ شل نہ ہوں ۔

وہ کیوں ایسا رویہ نہ اپنائے کہ ابا عبد اللہ کے دندان مبارک پر خم ہوکر شادمانی کی صورت میں لب  و دندان پر لکڑی سے ضرب لگا رہا ہے ؟!

خدا کی قسم سید شباب اہل جنہ اور فرزند یعسوب الدین اور خورشید خاور ، خاندان عبد المطلب کا خون بہا کر تو نے زخم لگایا ہے اور جڑوں کو کاٹا ہے ۔

اس وقت تو اپنے بزرگوں اور گزشتہ افراد کو آواز دے رہا ہے اور خون سید الشہداء کو بہانے کے بعد اپنے بد طینت اجداد سے قربت حاصل کررہا ہے اور چیخ کر انہیں آواز دے رہا ہے میری حیات کی قسم وہ لوگ تجھے نہیں دیکھ سکتے اور نہ ہی تیری آواز سن سکتے ہیں ۔ لیکن یاد رکھ کہ بہت جلد انہیں تو دیکھے گا لیکن وہ تجھے نہیں دیکھیں گے اس دن (جیسا کہ تو گمان کررہا ہے ) تمنا کرے گا کہ کاش تیرے ہاتھ سوکھ گئے ہوتے اور نہ یہ بات کہی ہوتی اور نہ یہ جرم کیا ہوتا۔

خدایا میری فریاد کو پہونچ اور میرے انتقام کو ظالموں سے لے اور اپنے غضب اور قہر کو ان کے نصیب میں لکھ دے جنہوں نے میرا خون بہایا اور ہمارا پاس و خیال نہیں رکھا اور ہمارے محافظوں اور مددگاروں کو قتل کیا اور ہمارے حرمت کو پامال کیا ۔

اے یزید!خدا کی قسم؛ لیکن جان لے کہ تو نے اپنی ہی کھال نوچی ہے اور اپنے ہی گوشت کو کاٹا ہے بہت جلد تو رسول سے ملاقات کرے گا جب کہ تیری گردن پر ان کی ذریت کا خون ہوگا اور تو ان کی حرمت کا پامال کرنے والا ہوگا اور انکے خاندان اور اعزاء کا خون بہانے والا ہوگا اس دن خدا تمام متفرق لوگوں کو جمع کرے گا اور ان کا انتقام ظالموں سے لے گا اور ان کے لئے دشمنوں سے بدلہ لے گا لہٰذا ان (عظیم لوگوں کو) شہید کرکے خوشحال اور ہیجان زدہ نہ ہو ۔

’’اور خبردار راہِ خدا میں قتل ہونے والوں کو مردہ خیال نہ کرنا وہ زندہ ہیں اور اپنے پروردگار کے یہاں رزق پا رہے ہیں۔

اس دن تیرے لئے یہی کافی ہے کہ خدا تیرا منصف اور حاکم اور رسول خدا تیرے دشمن ہیں اور جبرئیل ہمارے پشت  پناہ اور ہمارے مددگار ہیں ۔

جو لوگ تیرے مددگار تھے اور تجھے مسلمانوں پر مسلط کیا ہے وہ عنقریب جان جائیں گے کہ خدا نے ان کے لئے کتنا بدترین ٹھکانا معین کیا ہے اور تو عنقریب جان جائے گا کہ تم لوگوں میں سے کون بدترین ٹھکانے پر ہے اور اس کے سپاہی ناتواں اور کمزور ہیں۔

جو مصیبت مجھ پر پڑی ہیں ان کے سبب تجھ سے ہمکلام ہورہی ہوں اور جان لے تجھ سے بات کرنا میرے لئے بہت سخت ہے ، اس لئے کہ میں تجھ کو بہت حقیر سمجھتی ہوں لیکن تیرے گناہ کو عظیم سمجھتی ہوں اور اس پر تیری گوشمالی خود پر فرض جانتی ہوں مگر میں کیا کروں آنکھیں اشکبار اور دل میں آگ لگی ہے ۔ جان لے تعجب کی بات ہے اور سب سے بڑا تعجب یہ ہے کہ اولیائے الہی ، آزاد شدہ گروہ شیطان کے ہاتھوں قتل ہورہے ہیں ہمارے خون ان پنجوں سے ٹپک رہے ہیں اور ان کے منھ کا لقمہ ہمارے گوشت ہیں اور وہ پاک لاشے انسان نما درنددوں کے بیچ ہیں ۔ اگر یہ سوچتا ہے کہ ہمیں قتل کرکے غنیمت پاگیا ہے تو عنقریب جان جائے گا کہ کس حد تک نقصان کیا ہے اور اس کا بدلہ ادا کرے گا اور جو بھیجا ہے وہی پائے گا ، خدایا تو بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔ لہٰذا میں بھی خدا سے تیری شکایت کرتی ہوں اور اس پر چھوڑتی ہوں۔

لہٰذا جو کچھ فریب اور چالیں چل سکتا ہے چل لے اور جتنی ناکام (کوششیں کرسکتا ہے کر لے اس خدا کی قسم جس نے وحی ، قرآن اور پیغمبری و شرافت ہمیں عطا کی ہے تو کبھی اپنی آرزو کو نہیں پاسکے گا اور نہ ہی تو ہماری یادوں اور ہمارے نام کو مٹا سکے گا اور نہ ہی اس (واقعہ کربلا) کےننگ و عار سے بری ہوگا ۔

تیرا ارادہ بے جان ہے تیری حکومت کی آخری گھڑیاں ہیں اور تیرے بہی خواہ بکھرنے والے ہیں ۔

ایک دن منادی ندا دے گا کہ ظالموں پر خدا کی لعنت ہو ۔

تمام حمد و تعریف خدا سے مخصوص ہے جس نے اپنے اولیاء کے لئے سعادت کا حکم دیا ہے اور اپنے منتخب بندوں کا انجام شہادت قرار دیا ہے اور انہیں اپنی رحمت عطوفت ، خوشنودی اور بخشش میں شامل کیا ہے اور تیرے علاوہ کسی نے بھی ان کے ذریعہ راہ شقاوت کو طے نہیں کیا اور اس جرم میں مبتلا نہیں ہوا ۔

میں خدا سے دعا کرتی ہوں کہ ان کا اجر مکمل کرے اور انہیں بے شمار درجات اور ثواب عطا کرے اور ہمیں ان کا بہترین نائب و جانشین قرار دے یقینا وہ مہربان اور ہمارا چاہنے والا ہے ۔

یزید نے ایک خطیب کو بلایا اور حکم دیا کہ منبر پر جائے اور امام حسین ؑاور امیر المومنین ؑکی شان میں گستاخی کرے خطیب منبر پر گیا اور امیر المومنین ؑ اور امام حسین ؑ کی شان میں نہایت گستاخی کی اور معاویہ و یزید کی تعریف کی ۔

امام سید سجاد نے بلند آواز میں اسے مخاطب کیا اور فرمایا: اے خطیب تجھ پر لعنت ہو تو نے مخلوق کی خوشنودی کے لئے خالق کے غضب کا سودا کرلیا ہے اور جہنم میں اپنا ٹھکانا بنایا ہے ۔ یزید ملعون نے حکم دیا کہ انہیں ایک گھر میں ٹھہرایا جائے جس میں نہ گرمی سے امان رہے اور نہ ہی سردی سے جس کے سبب اسرائے اہل حرم کے چہروں کی رنگت بدل گئی اور جتنے دن اس شہر میں تھے ان کے معمول میں تھا کہ امام حسین ؑ پر گریہ و نوحہ کریں ۔



منابع: لھوف
ارسال کننده: مدیر پورتال
 عضویت در کانال آموزش و فرهنگ اربعین

چاپ

برچسب ها اسرائے اہل حرم دربار یزید میں

نظرات


ارسال نظر


Arbaeentitr

 فعالیت ها و برنامه ها

 احادیث

 ادعیه و زیارات