ستاد مرکزی اربعین|کمیته فرهنگی، آموزشی

banner-img banner-img-en
logo

 ادبیات و پژوهش


سرہائے شہدا اور اسیران اہل حرم کا شام کی جانب سفر

چاپ
سرہائے شہدا اور اسیران اہل حرم کا شام کی جانب سفر

ابن زیاد نے یزید کو خط لکھا اور امام حسین ؑ کی شہادت ان کے اہل حرم کی اسارت کی خبر دی اور اسی مضمون کا ایک خط مدینہ کے گورنر عمر بن سعید بن عاص کو بھیجا ۔ عمر جب اس خبر سے آگاہ ہواتو منبر پر گیا اور اہل مدینہ کے لئے خطبہ دیا اور موصولہ خبر کا اعلان کیا جس کے بعد خاندان بنی ہاشم کی نوحہ و گریہ کہ آواز بلند ہوئی اور انہوں نے مجالس عزا برپا کی ۔

یزید بن معاویہ جب عبید اللہ بن زیاد کے خط سے آگاہ ہو تو جواب میں لکھا کہ حسین ؑ اور دیگر شہداء کے سروں کو اموال اور خواتین کے ساتھ میرے پاس بھیج دے ابن زیاد نے محفر ابن ثعلبہ عائذی کو بلایا اور سرہائے شہداء اور اسرائے اہل حرم کو اس کے حوالے کیا یہ ملعون ان اسرائے اہل حرم کو کفار اسیروں کی طرح مختلف شہروں اور علاقوں سے گزارتا ہوا شام لے گیا ۔ اہل کوفہ نے سر امام حسین ؑ کو مرد و زن اسیروں کے ساتھ شام رخصت کیا جب دمشق سے قریب پہونچے ام کلثوم نے شمر سے کہا جو پاس میں تھا کہ ہمیں ایسے دروازے سے لے چل جہاں کم سے کم تماشائی ہوں نیز خواہش کی کہ ان سرہائے پاک کو ہمارے کجاوں سے باہر نکال دے اور ہم سے دور کردے اس لئے کہ اس لئے کہ ہم اس حال میں احساس ندامت کررہے ہیں ۔ شمر نے شہزادی کے جواب میں بغض و عناد کے تحت حکم دیا کہ سروں کو نیزوں پر سجاؤ اور کجاوں کے درمیان تقسیم کرو اور انہیں تماشیوں کے بیچ لے چلو یہاں تک کہ وہ لوگ دروازہ دمشق پر پہونچے اور انہیں مسجد جامع کے پاس روکا گیا یعنی وہی جگہ جہاں اسیروں کو روکا جاتا تھا ۔



منابع: لھوف
ارسال کننده: مدیر پورتال
 عضویت در کانال آموزش و فرهنگ اربعین

چاپ

برچسب ها سرہائے شہدا اور اسیران اہل حرم کا شام کی جانب سفر

نظرات


ارسال نظر


Arbaeentitr

 فعالیت ها و برنامه ها

 احادیث

 ادعیه و زیارات