ستاد مرکزی اربعین|کمیته فرهنگی، آموزشی

banner-img banner-img-en
logo

 ادبیات و پژوهش


دربار ابن زیاد میں اہل حرم

چاپ
دربار ابن زیاد میں اہل حرم

ابن زیاد اپنے مخصوص مسند پر محل میں بیٹھا تھا اور اعلان عام کرایا کہ امام حسین ؑ کے سر کو لے آئیں اور اس کے سامنے رکھیں ۔ اہل حرم کو اس کے سامنے رکھا گیا ۔ حضرت زینب کبری ؑ ایک غیر معروف شخص کے عنوان سے ایک گوشہ میں تشریف فرما تھیں ۔ ابن زیاد نے پوچھا یہ عورت کون ہے ؟ جواب دیا گیا: زینبؑ بنت علی ؑ ۔ابن زیاد نے شہزادی کی طرف رخ کیا اور کہا : خدا کا شکر جس نے تمہیں رسوا کیا اور تمہارے جھوٹ کو تمہارے کردار میں نمایاں کیا ۔

شہزادی نے فرمایا:

صرف فاسق و بدکار رسوا ہوتا ہے جھوٹ بولتا ہے اور وہ دوسرے لوگ ہیں نہ کہ ہم ۔

ابن زیاد کہتا ہے : تم نے دیکھا خدا نے تمہارے بھائی اور خاندان والوں کے ساتھ کیا کیا ؟

حضرت زینب ؑ نے فرمایا:

ہم نے اچھائی کے سوا کچھ نہیں دیکھا یہ وہ افراد تھے جن کے مقدر نے خدا نے شہادت لکھی تھی اور وہ اپنی ابدی آرام گاہ کی طرف چلے گئے اور عنقریب تجھے اور انہیں خدا جمع کرے گا تاکہ فیصلہ کرے دیکھ لینا اس عدالت میں کامیابی کس کا مقدر بنتی ہے تیری ماں تیرے غم میں بیٹھے اے پسر مرجانہ ۔

ابن زیاد بھڑک اٹھا اور حضرت زینب ؑ کے قتل کا ارادہ کر بیٹھا ۔

عمر بن حریث نے ابن زیاد سے کہا: یہ عورت ہے اور عورتوں کی بات کا جواب نہیں دیتے ۔ ابن زیاد نے جناب زینب سے کہا: خدا نے باغی حسین ؑ اور ان کے گنہگار خاندان کو قتل کرکے میرے دل کو ٹھنڈک عطا کی ۔

شہزادی نے فرمایا:

خدا کی قسم تو نے میرے خاندان کی بزرگ ہستی کو قتل کیا اور میری شاخوں کو کاٹ دیا اور میری جڑوں کو اکھاڑ دیا اگر تیرا دل اس سے ٹھنڈا ہوتا ہے تو میری بلا سے ۔

ابن زیاد کہتا ہے : یہ عورت کتنی قافیہ ساز ہے میری جان کی قسم اس کا باپ بھی شاعر اور قافیہ پرداز تھا ۔

شہزادی نے فرمایا: اے ابن زیاد ! عورتوں کو قافیہ بازی سے کیا سرو کار ؟

ابن زیاد نے امام سجاد ؑ کا رخ کیا اور پوچھا یہ کون ہے ؟ جواب ملا علی بن الحسین ؑ اس نے کہا : کیا علی بن الحسین ؑ کو خدا نے قتل نہیں کیا ؟

امام نے فرمایا: میرے بھائی تھے جن کا نام علی بن الحسین ؑ تھا لوگوں نے انہیں قتل کرڈالا ۔

ابن زیاد کہتا ہے : خدا نے قتل کیا ۔

امام نے قرآن کی اس آیت کو پڑھا : خدا روحوں کو موت کے وقت قبض کرتا ہے اور جو نہیں مرے ہیں سوتے وقت ان کی جان نکالتا ہے ۔

ابن زیاد کہتا ہے : تم ابھی بھی میری بات کا جواب دینے کی جرائت کررہے ہو اور اس کو لے جاؤ اس کی گردن اڑا دو۔

آپ کی پھوپھی زینب ؑنے جب یہ سنا تو فرمایا:

اے ابن زیاد تونے کسی کو ہم میں سے نہیں چھوڑا اگر تو نے ان کے بھی قتل کا ارادہ کررکھا ہے تو مجھے بھی ان کے ساتھ قتل کر۔

امام سجاد ؑ نے اپنی پھوپھی سے فرمایا:

پھوپھی جان آپ صبر کریں تاکہ میں اس سے بات کروں ۔ اس کے بعد ابن زیاد کو مخاطب کرکے فرمایا: اے ابن زیاد تو مجھے موت سے ڈراتا ہے کیا تجھے نہیں پتہ کہ قتل ہونا ہماری عادت ہے اور شہادت ہمارے لئے سبب افتخار ہے ۔

اس کے بعد ابن زیاد نے حکم دیا کہ سید سجاد اور ان کے اہل خانہ کو مسجد کوفہ کے پاس ایک گھر میں لے جائیں اور پھر حکم دیا کہ امام حسین ؑ کے سر مبارک کو کوفہ کی گلیوں میں پھرائیں ۔



منابع: لھوف
ارسال کننده: مدیر پورتال
 عضویت در کانال آموزش و فرهنگ اربعین

چاپ

برچسب ها دربار ابن زیاد میں اہل حرم

نظرات


ارسال نظر


Arbaeentitr

 فعالیت ها و برنامه ها

 احادیث

 ادعیه و زیارات