ستاد مرکزی اربعین|کمیته فرهنگی، آموزشی

banner-img banner-img-en
logo

 ادبیات و پژوهش


اسرائے اہل حرم کوفہ میں

چاپ
اسرائے اہل حرم کوفہ میں

جب اہل کوفہ نے انہیں دیکھا تو گریہ کیا اور نوحہ پڑھا اس وقت امام سجاد علیہ السلام نے فرمایا:

یہ تم ہو جو ہمارے حال پر نوحہ کناں ہو تو پھر جنہوں نے ہمیں قتل کیا ہے وہ کون تھے ؟

بشیر بن خزیم اسدی کہتے ہیں : اس دن زینب بنت علی ؑ نے میری توجہ مبذول کرائی اس لئے کہ خدا کی قسم ایک خاتون جو سراپا شرم و حیا و عفت تھی اس سے بہتر خطیب نہیں دیکھا گویا وہ امیر المومنین علی بن ابی طالب ؑ کے لہجے میں بول رہی تھی اور جیسے ہی لوگوں کی جانب اشارہ کرکے کہا: خاموش ہوجاؤ ۔

سینوں میں سانسیں گھٹ گئیں ، سواریوں کے گلوں میں بجتی گھنٹیاں خاموش ہوگئیں اس کے بعد فرمایا:

أَمَّا بَعْدُ يَا أَهْلَ الْكُوفَةِ يَا أَهْلَ الْخَتْلِ  وَ الْغَدْرِ وَ الْخَذْلِ أَلَا فَلَا رَقَأَتِ الْعَبْرَةُ  وَ لَا هَدَأَتِ الزَّفْرَةُ إِنَّمَا مَثَلُكُمْ كَمَثَلِ الَّتِي نَقَضَتْ غَزْلَها مِنْ بَعْدِ قُوَّةٍ أَنْكاثاً  تَتَّخِذُونَ أَيْمانَكُمْ دَخَلًا بَيْنَكُمْ  هَلْ فِيكُمْ إِلَّا الصَّلَفُ  وَ الْعُجْبُ وَ الشَّنَفُ  وَ الْكَذِبُ وَ مَلَقُ الْإِمَاءِ وَ غَمْزُ الْأَعْدَاءِ  أَوْ كَمَرْعًى عَلَى دِمْنَةٍ  أَوْ كَفِضَّةٍ عَلَى مَلْحُودَةٍ  أَلَا بِئْسَ مَا قَدَّمَتْ لَكُمْ أَنْفُسُكُمْ أَنْ سَخِطَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ وَ فِي الْعَذَابِ أَنْتُمْ خَالِدُونَ أَ تَبْكُونَ أَخِي أَجَلْ وَ اللَّهِ فَابْكُوا فَإِنَّكُمْ أَحْرَى بِالْبُكَاءِ فَابْكُوا كَثِيراً وَ اضْحَكُوا قَلِيلًا فَقَدْ أَبْلَيْتُمْ بِعَارِهَا وَ مَنَيْتُمْ بِشَنَارِهَا وَ لَنْ تَرْحَضُوهَا أَبَداً  وَ أَنَّى تَرْحَضُونَ قُتِلَ سَلِيلُ خَاتَمِ النُّبُوَّةِ وَ مَعْدِنِ الرِّسَالَةِ وَ سَيِّدُ شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَ مَلَاذُ حَرْبِكُمْ وَ مَعَاذُ حِزْبِكُمْ وَ مَقَرُّ سِلْمِكُمْ وَ آسِي كَلْمِكُمْ وَ مَفْزَعُ نَازِلَتِكُمْ وَ الْمَرْجِعُ إِلَيْهِ عِنْدَ مُقَاتَلَتِكُمْ- وَ مَدَرَةُ حُجَجِكُمْ  وَ مَنَارُ مَحَجَّتِكُمْ أَلَا سَاءَ مَا قَدَّمَتْ لَكُمْ أَنْفُسُكُمْ وَ سَاءَ مَا تَزِرُونَ لِيَوْمِ بَعْثِكُمُ فَتَعْساً تَعْساً وَ نَكْساً نَكْساً لَقَدْ خَابَ السَّعْيُ وَ تَبَّتِ الْأَيْدِي وَ خَسِرَتِ الصَّفْقَةُ وَ بُؤْتُمْ بِغَضَبٍ مِنَ اللَّهِ وَ ضُرِبَتْ عَلَيْكُمُ الذِّلَّةُ وَ الْمَسْكَنَةُ أَ تَدْرُونَ وَيْلَكُمْ أَيَّ كَبِدٍ لِمُحَمَّدٍ ص فَرَثْتُمْ وَ أَيَّ عَهْدٍ نَكَثْتُمْ وَ أَيَّ كَرِيمَةٍ لَهُ أَبْرَزْتُمْ وَ أَيَّ حُرْمَةٍ لَهُ هَتَكْتُمْ وَ أَيَّ دَمٍ لَهُ سَفَكْتُمْ لَقَدْ جِئْتُمْ شَيْئاً إِدًّا تَكادُ السَّماواتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَ تَنْشَقُّ الْأَرْض‏وَ تَخِرُّ الْجِبالُ هَدًّا لَقَدْ جِئْتُمْ بِهَا شَوْهَاءَ صَلْعَاءَ عَنْقَاءَ سَوْدَاءَ فَقْمَاءَ خَرْقَاءَ  كَطِلَاعِ الْأَرْضِ أَوْ مِلْ‏ءِ السَّمَاءِ  أَ فَعَجِبْتُمْ أَنْ تُمْطِرَ السَّمَاءُ دَماً وَ لَعَذابُ الْآخِرَةِ أَخْزى‏ وَ هُمْ لا يُنْصَرُونَ- فَلَا يَسْتَخِفَّنَّكُمُ الْمَهَلُ فَإِنَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ لَا يَحْفِزُهُ الْبِدَارُ  وَ لَا يُخْشَى عَلَيْهِ فَوْتُ النَّارِ كَلَّا إِنَّ رَبَّكَ لَنَا وَ لَهُمْ لَبِالْمِرْصاد

تمام تعریف اللہ کے لئے اور درود و سلام میرے باپ محمد اور ان کے پاک خاندان پر اما بعد؛

اے اہل کوفہ ، اے حیلہ گر اور خیانت کار لوگو!اے وہ جو اپنے دوست کا ساتھ چھوڑ دیتے ہو۔

تمہاری آنکھوں کی آنسو خشک نہ ہو اور تمہارے آہ و نالے بند نہ ہوں ۔

یقیناً تمہارا کام اس عورت کی طرح ہے جو رسی کو محکم ہونے کے بعد کھول دے تم نے بھی اپنے درمیان جو قسم کھائی تھی اسے فریب اور دھوکے سے کھول دیا کیا تمہارے درمیان ذلت اور رسوائی کے سوا کچھ اور ہے ؟ تمہارے سینے کینوں سے بھرے ہیں ، دو روئی ، چاپلوسی ، کنیزوں کی طرح چرب زبان ، دشمنوں کے مقابل تمہاری ذلت و حقارت کے سوا کچھ نہیں پایا جاتا ۔

تمہاری مثال اس سبزہ اور گھاس کی طرح ہے جو گوبر یا کوڑے میں اگے یا اس چاندی کی طرح ہے جو قبروں پر مڑھی ہوئی ہو ، کتنا بدترین توشہ تم نے اپنی آخرت کے لئے بھیجا ہے وہی توشہ جو خدا کا غیظ و غضب ہے اور ابدی عذاب میں رہو گے ۔

کیا میرے بھائی پر گریہ کررہے ہو ؟

آہ و فغاں کررہے ہو ؟ ہاں خدا کی قسم تمہیں رونا چاہئے لہٰذا بہت روو اور کم ہنسو ۔

اس لئے کہ تم نے اپنے دامن کو ننگ و عار کے جرم سے آلودہ کیا ہے اور یہ ننگ و عار اور پلیدگی ہمیشہ تمہارے دامن سے نہیں جائے گی ۔

کس طرح تم فرزند رسول خاتم الانبیاء، معدن رسالت اور سرور جوانان جنت کے قتل کا دھبہ اپنے دامن سے دھوو گے ؟ جو تمہارے مومنین کے لئے پناہ گاہ ، مشکلوں میں تمہارا فریاد رس ، حق و حقانیت کے استدلال کے وقت مشعل فروزاں تمہارے زخموں کا مرہم اور اختلاف و جنگ کے وقت تمہارا مرجع تھا۔

آگاہ ہوجاؤ کہ اپنے لئے کتنا برا آذوقۂ آخرت بھیجا ہے ،کتنا عظیم اور برا بار تم نے اپنے دوش پر اٹھایا ہے پس رحمت خدا تم سے دور ہر کیونکہ تمہاری کوشش بیہودہ تھی تمہارے ہاتھ کٹ جائیں ، تمہارا معاملہ گھاٹے کے قریب ہے تم نے اپنے آپ کو قہر خدا میں گرفتار کیا ہے لہٰذا ذلت و رسوائی تم پر فرض ہے۔ وائے ہو تم پر اے اہل کوفہ ۔

کیا تم جانتے ہو کہ رسول خدا کا جگر تم نے پاش پاش کیا ہے اور کس عہد و پیمان کو توڑا ہے؟

خاندان رسالت کے با عفت اور با وقار خواتین اور بیٹیوں کو تم نے کس طرح کوچہ و بازار میں پھرایا ہے ؟ تم نے آنحضرت کا خون کس طرح زمین پر بہایا ہے ؟

تمہیں خبر بھی ہے کتنا برا کیا جس برائی کی شدت سے قریب ہے کہ آسمان بکھر جائے زمین پھٹ جائے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائے ۔

 آسمان کے خون کی بارش پر کیا تعجب کرتے ہو ؟ جب کہ عذاب آخرت اس امر سے مقائسہ کرتے وقت بہت شدید اور رسوا کنندہ ہے اور اس دن کوئی تمہارا مددگار نہ ہوگا۔

لہٰذا خدا نے جو تمہیں مہلت دی ہےوہ تمہاری خوشی کا سبب نہ بنے اس لئے کہ خدا اپنے بندوں کے عذاب میں جلدی نہیں کرتا ہے ۔ کیونکہ وہ خون کے پامال ہونے اور وقت کا ہاتھ سے جانے کی خاطر انتقام نہیں لیتا ۔ یقینا تمہارا خدا ہمیشہ تمہاری تاک میں ہے ۔

راوی کہتا ہے خدا کی قسم اس دن لوگوں کو دیکھا کہ حیران و سرگرداں رو رہے تھے اور حیرت سے انگشت بدنداں تھے ایک بوڑھا شخص میرے بغل میں کھڑا تھا وہ اتنا گریہ کررہا تھا کہ اس کی داڑھی آنسووں سے تر ہوگئی اور کہہ رہا تھا کہ آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں ، آپ کے بزرگ دنیا کے تمام بزرگوں سے اور آپ کے جوان دنیا کے تمام جوانوں سے اور آپ کی خواتین دنیا کی تمام خواتین سے بہتر ہیں اور آپ کی نسل بہترین نسل ہے جو نہ رسوا ہوئی ہے اور نہ ہی شکست پذیر ۔

فاطمہ صغری نے بھی خطبہ دیا :... گریہ و شیون کی آواز بلند ہوئی اور سب نے کہا: اے پاکیزہ لوگوں کی بیٹی بس کرو ہمارے دل میں آگ لگا دی اور ہمارے گلے رندھ گئے اور ہمارے اندر ایک آتش فشاں جل اٹھا ۔

اس کے بعد وہ شہزادی خاموش ہوئی ۔

اس دن ام کلثوم بنت امیر المومنین ؑ ایک باریک سے پردہ کے پیچھے سے بلند آواز میں گریہ کررہی تھیں اور خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: اے اہل کوفہ رسوائی تمہارا مقدر بنے کیوں امام حسین ؑ کو رسوا کیا اور انہیں شہید کیا اور ان کے مال کو لوٹ لیا اور اسے اپنا حق جانا اور ان کے اہل حرم کو اسیر کیا اور انہیں اذیت و شکنجہ دیئے تمہاری نابودی اور تم پر موت ہو وائے ہو تم پر کیا تم جانتے ہو کہ کون سی بلا تمہارے دامن گیر ہوئی ہے اور اپنی پشت پر کس گناہ کے بوجھ کو اٹھایا ہے اور کون سے خون تم نے بہائے ہیں اور کس عظیم مشکل سے رو برو ہوئے ہو اور کن بچوں کے لباس تم نے لوٹے ہیں اور کن اموال کو تم نے تاراج کیا ہے رسول خدا کے بعد تم نے بہترین مردان الہی کو قتل کیا اور تمہارے دل کی گہرائیوں سے دل سوزی اور رحم نے رخت سفر باندھ لیا ۔ جان لو کہ حزب الہی کامیاب ہے اور حزب شیطان خسارے میں ۔

لوگوں نے صدائے گریہ و نوحہ بلند کیا ۔

پھر امام سجاد ؑنے اشارہ کیا خاموش ہوجاؤ۔

سب خاموش ہوگئے آپ کھڑے ہوئے خدا کی حمد و ثنا کی رسول پر درود و سلام بھیجا اور فرمایا:

اے لوگو ! جو مجھے پہچانتا ہے وہ پہچانتا ہے اور جو نہیں جانتا ہے میں اپنا تعارف کراتا ہوں میں علی فرزند حسین ، فرزند علی بن ابی طالب ہوں ۔ میں اس کا بیٹا ہوں جس کی حرمت پامال کی گئی مال لوٹ لیا گیا اور ثروت تاراج کردی گئی اور اس کے اہل حرم کو اسیر کرلیا گیا ۔ میں اس کا بیٹا ہوں جسے فرات کے کنارے گزشتہ کینہ اور عداوت کے سبب قتل کیا گیا ۔ میں اس کا بیٹا ہوں جسے شکنجوں کے ذریعہ قتل کیا گیا اور یہی فخر ان کے لئے کافی ہے اے لوگو! تمہیں خدا کی قسم دیتا ہوں تم جانتے ہو کہ تمہیں تھے جنہوں نے میرے والد کو خط لکھا اور انہیں دھوکا دیا اور ان کے ساتھ عہد کیا اور بیعت کی اور پھر انہیں سے جنگ کی تمہارے لئے موت ہو کہ تم نے اپنے لئے یہ کردار پیش کیا اور اپنے سے پہلے اسے روز قیامت کے لئے بھیج دیا تمہاری اسی رائے پر تمہیں رسوائی نصیب ہو تم کس طرح رسول خدا کا سامنا کرو گے جب وہ تم سے کہیں گے کہ تم نے ہماری عترت کو قتل کیا ۔ ہماری اہانت کی اور تم ہماری امت میں سے نہیں ہو ۔

چاروں طرف سے آوازیں بلند ہوئیں اور ایک دوسرے سے کہہ رہے تھے کہ تم لوگ مٹی میں مل گئے ہو اور خبر نہیں ہے ۔

اس وقت امام سجاد ؑ نے فرمایا:

خدا رحمت نازل کرے جو ہماری نصیحت کو قبول کرے اور خدا و رسول خدا و اہل بیت کے سلسلہ میں ہماری تاکید پر عمل کرے کہ رسول خدا ہمارے لئے بہترین رہنما ہیں ۔

سارے لوگوں نے یک زبان ہوکر کہا: اے فرزند رسول خدا ہم آپ کے فرمان پر ہمہ تن گوش ہیں اور آپ کی عزت و آبرو کی حفاظت میں آپ کے تابع دار ہیں اور آپ کے محب ہیں اور آپ سے رو گردان نہیں ہیں جو بھی حکم ہو فرمائیے خدا آپ پر رحمت نازل کرے کہ ہم آپ کے دشمنوں سے جنگ کریں گے اور آپ کی صلح پر صلح کریں گے یقینا ہم یزید سے پوچھیں گے اور جس نے بھی آپ پر ظلم کیا ہے اس سے اظہار برائت کرتے ہیں ۔

امام سجاد نے فرمایا: بالکل نہیں ، بالکل نہیں ! اے دھوکے باز اور مکار لوگو ! تم اپنی مرادوں تک نہیں پہونچوگے تم یہ سوچتے ہو کہ جیسے ہمارے باپ کے ساتھ برتاؤ کیا ہمارے ساتھ بھی پیش آؤ ۔خدا کی قسم ایسا نہیں ہوگا ابھی ہمارے دل کے زخم  مندمل نہیں ہوئے ہیں کل ہی کی بات ہے کہ میرے والد اور ان کے اہل خاندان کو تم لوگوں نے قتل کیا ہے ابھی رسول کی مصیبت میرے والد اور ان کے فرزندوں کا داغ میں بھولا نہیں ہوں ابھی یہ غم ہمارے دامن گیر ہے اور یہ آہیں سینوں میں ٹھاٹھیں مار رہی ہیں اور ہمارا دل ان غموں سے ابال کھا رہا ہے جو چیز تم سے میں چاہتا ہوں کہ وہ یہ کہ نہ ہمارے طرفدار رہو اور نہ ہی ہمارے دشمن کے ۔



منابع: لھوف
ارسال کننده: مدیر پورتال
 عضویت در کانال آموزش و فرهنگ اربعین

چاپ

برچسب ها اسرائے اہل حرم کوفہ میں۔ ایسری۔۔ کوفہ۔ امام حسین۔

نظرات


ارسال نظر


Arbaeentitr

 فعالیت ها و برنامه ها

 احادیث

 ادعیه و زیارات