ستاد مرکزی اربعین|کمیته فرهنگی، آموزشی

banner-img banner-img-en
logo

 ادبیات و پژوهش


امام کے جسم کی پامالی

چاپ
امام کے جسم کی پامالی

امام کی شہادت کے بعد عمر سعد نے سپاہیوں سے کہا: تم میں سے کون رضاکارانہ طور پر حاضر ہے کہ حسین ؑ کے پشت اور سینہ پر گھوڑے دوڑائے دس لوگ حاضر ہوئے انہوں نے اپنے گھوڑوں کے سموں سے پیکر امام کو پامال کیا اور آپ کے پشت اور سینہ کی ہڈیوں کو پیس ڈالا یہ دس افراد جب ابن زیاد کے پاس پہونچے تو کہا: ہم وہی ہیں جنہوں نے حسین ؑ کی پشت پر گھوڑے دوڑائے اور ہڈیوں کو چکی طرح پیش دیا ۔ ابن زیاد نے حکم دیا کہ انہیں کچھ انعام دیا جائے ۔

ابو عمر زاہد کا کہناہے کہ تحقیق سے یہ پتہ چلا ہے کہ یہ سب دس افراد زنا زادہ تھے ۔ مختار نے ان سب کو گرفتار کرایا ان کے ہاتھوں اور پیروں میں کیل ٹھکوا دی اور ان کے جسموں پر گھوڑے دوڑائے یہاں تک کہ واصل جہنم ہوئے ۔

رسول خدا ؐ فرماتے ہیں : جب روز قیامت برپا ہوگا فاطمہ ؐ خواتین کے ساتھ آئیں گی اور ان سے کہا جائے گا کہ جنت میں داخل ہو تو فرمائیں گی میں نہ داخل ہوں گی جب تک یہ نہیں جان سکوں کہ میرے بیٹے کے ساتھ کیا ہوا ۔ ان سے کہا جائے گا آپ میدان محشر کے وسط پر نظر ڈالیں جب دیکھیں گی تو حسین ؑ کو بلا سر کھڑا پائیں گی اس وقت ایسی فریاد کریں گی کہ میں ان کی فریاد پر فریاد کروں گا اور فرشتہ ان کی فریاد پر فریاد کریں گے ۔

روایت میں آیا ہے کہ شہزادی آواز دیں گی ارے بیٹا ، اے میرے میوہ دل ۔ اس دن خدا غضب کرے گا اور ایک آگ جس کا نام’’ہبہب‘‘ہے جو ہزار سال پہلے سے جل رہی ہوگی یہاں تک کہ انگارہ ہوجائے گی اسے بالکل نہ ہوا لگی ہوگی اور نہ ہی اس کا غم و غصہ دور ہوا ہوگا قاتلین امام حسین ؑکو نگل لے گی اور جب سارے قاتلین امام حسین اکٹھا ہوجائیں گے تو سانس لے گی اور یہ بھی سانس لیں گے اور فریاد کریں گے وہ فریاد کرے گی اور یہ بھی فریاد کریں گے اور پھر یہ کہیں گے اے خدا بت پرستوں سے پہلے ہمیں جہنم میں کیوں ڈالا گیا تو خدا جواب دے گا : أَنَّ مَنْ عَلِمَ لَيْسَ كَمَنْ لَا يَعْلَمُ جو جانتا ہے وہ نہ جاننے والے کی طرح نہیں ۔



منابع: لھوف
ارسال کننده: مدیر پورتال
 عضویت در کانال آموزش و فرهنگ اربعین

چاپ

برچسب ها امام کے جسم کی پامالی. امام حسین۔ کربلا

نظرات


ارسال نظر


Arbaeentitr

 فعالیت ها و برنامه ها

 احادیث

 ادعیه و زیارات