ستاد مرکزی اربعین|کمیته فرهنگی، آموزشی

banner-img banner-img-en
logo

 ادبیات و پژوهش


شہادت امام حسین ؑ

چاپ
شہادت امام حسین ؑ

شمر بن ذی الجوشن نے امام حسین ؑ کے خیموں پر حملہ کیااور خیموں پر نیزہ مارا اور کہا: آگ لاؤ تاکہ جو خیمہ میں ہیں سب کو جلا دوں ۔ امام نے فرمایا:

ابن ذی الجوشن تو میرے اہل حرم کو جلانے کے لئے آگ مانگ رہا ہے خدا تجھے آتش جہنم میں جلائے۔

شبث آیا اور شمر کو اس کام سے منع کیا وہ باز آگیا ۔

جب امام زخموں کی تاب نہ لاسکے اور آپ کے جسم پر اتنے تیر پیوست تھے جیسے ساہی کے کانٹے ۔ صالح بن وہب مری نے آپ کے پہلو پر ایسا نیزہ مارا کہ آپ زمین پر گرپڑے اور آپ داہنے رخسار کے بل زمین پر آئے اور فرمایا: بِسْمِ اللَّهِ وَ بِاللَّهِ وَ عَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ

پھر خاک پر بیٹھے حضرت زینب کبری ؑ خیموں سے باہر آئیں اور آواز دی : وَا أَخَاهْ‏ وَا سَيِّدَاهْ وَا أَهْلَ بَيْتَاهْ اے میرے مانجائے اے میرے سید و سردار ۔ ہائے وائے میرے اہل بیت ، اے کاش آسمان زمین پر گر پڑتا اے کاش صحراوں میں پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجاتے ۔

شمر نے اپنے ساتھیوں کو آواز دی اس مرد کے سلسلہ میں کس بات کے منتظر ہو ۔

اس حکم کے جاری ہوتے ہی عمر سعد کے لشکر نے ہر طرف سے آپ پر حملہ کیا زرعہ بن شریک نے آپ کے بائیں بازو پر تلوار سے وار کیا امام نے اپنی تلوار سے زرعہ پر وار کیا اور اسی درمیان ایک دوسرے شخص نے امام کے کاندھے پر تلوار سے وار کیا جس کی وجہ سے منہ کے بھل آپ زمین پر گر پڑے امام بہت تھک گئے تھے زخموں سے چور تھے جب اٹھنا چاہا تو طاقت جواب دے گئی اور ایک بار پھر زمین پر گر پڑے اسی وقت سنان بن انس نخعی نے اپنے نیزہ کو آپ کے گلے کے نیچے مارا اور نیزہ کو کھینچا اور پھر آپ کے سینے کی ہڈیوں پر وار کیا اور ایک تیر بھی مارا جو امام کے گلے میں پیوست ہوگیا امام زمین پر بیٹھ گئے اور تیر کو اپنے گلے سے نکالا دونوں چلوں میں اپنے خون کو لیا اپنے چہرے پر مل لیا اور فرمایا:

هَكَذَا أَلْقَى اللَّهَ مُخَضَّباً بِدَمِي مَغْصُوباً عَلَيَّ حَقِّي

میں اسی طرح اپنے خون سے خضاب شدہ اور اپنے حق کے غضب شدہ حالت میں اپنے خدا سے ملاقات کروں گا ۔

عمر سعد کے داہنے جانب ایک شخص کھڑا تھا اس سے اس نے کہا: تجھ پر وائے ہو گھوڑے سے اتر اور حسین ؑ کا کام تمام کر ۔ خولی بن یزید اصبحی آگے بڑھا تاکہ امام کا سر قلم کرے لیکن لرزا طاری ہوا پھر سنان بن انس نخعی گھوڑے سے اترا اور امام کے گلے پر تلوار پھیری اور کہا: خدا کی قسم میں تمہارا سر قلم کروں گا میں جانتا ہوں کہ تم فرزند رسول ہو اور تمہارے ماں باپ تمام ماں باپ سے بہتر ہیں پھر سر مقدس کو جدا کیا ۔

امام صادق ؑ فرماتے ہیں کہ جب امام شہید ہوگئے تو فرشتوں نے بارگاہ الہی میں آواز گریہ بلند کیا اور عرض کی یہ حسین ؑ تیرے منتخب اور بنت رسول کے فرزند ہیں خداوند متعال نے حضرت حجت(امام زمانہ ) کے وجود کو فرشتوں کو دکھایا اس شخص کے ذریعہ حسین ؑ کا بدلہ لوں گا ۔

حلال بن نافع کا کہنا ہے : میں عمر سعد ملعون کے سپاہیوں میں کھڑا تھا اتنے میں ایک نے آواز دی امیر مبارک ہو یہ شمر ہے جس نے حسین ؑ کو قتل کردیا ۔

وہ کہتا ہے میں لشکر سے باہر آیا اور دونوں فوج کے درمیان امام حسین ؑ کے سرہانے کھڑا ہوا اس وقت آپ جانکنی کے عالم میں تھے خدا کی قسم میں نے کسی خاک و خون میں غلطاں شخص کو حسین ؑ سے زیادہ نورانی نہیں دیکھا اور میں ان کے جمال پاک کے نور میں مبہوت تھا اور سمجھ بھی نہ پایا کہ انہیں کیسے شہید کیا گیا ۔ امام نے اس عالم میں پانی مانگا ، میں نے سنا کہ جواب میں ایک نے کہا: خدا کی قسم تم پانی نہ پی سکوگے یہاں تک کہ جہنم میں جاوگے اور وہاں کے گھولتے پانی کو پیو گے ۔ پھر امام نے فرمایا: تم پر وائے ہو حامیہ نہ میرا ٹھکانا ہے اور نہ ہی حمیم میرا جام ، بلکہ میں اپنے جد رسول خدا کے پاس جاوں گا اور ان کے پہلو میں مقام صدق پر پیش خداوند مقتدر بیٹھوں گا اور نا قابل تبدیل جام بہشت پیوں گا اور میرے ساتھ جو برتاؤ کیا ہے اس کی شکایت کروں گا ۔

ایک جٹ ہوکر سب امام پر ٹوٹ پڑے گویا خدا نے ان کے دلوں میں زرہ برابر نرمی نہیں رکھی ۔ابھی امام ان سے گفتگو کررہے تھے کہ آپ کے سر کو تن سے جدا کردیا ۔ ان کی بے رحمیوں پر مجھے تعجب ہوا اور خود سے کہا: خدا کی قسم ! کبھی بھی میں تمہارے کسی کام میں شریک نہیں ہوں گا۔

امام کے لباس و وسائل کی غارت گری :

عمر سعد کی فوج نے امام کی شہادت کے بعد آپ کے لباس کو لوٹ لیا ، اسحاق بن حویہ حضرمی نے آپ کے پیرہن کو لوٹا لیکن جیسے ہی اسے جسم پر ڈالا وہ کوڑھ کا مریض ہوا اس کے جسم کے بال جھڑ گئے منقول ہے کہ امام کے اس پیرہن میں ۱۱۰ تیر و نیزہ و شمشیر کے نشانات تھے ۔

امام صادق ؑ فرماتے ہیں : امام حسین ؑ کے جسم پاک پر ۳۳ نیزوں کا زخم ، ۳۴ شمشیر کا زخم تھا ۔

بحر بن کعب تیمی ملعون نے آپ کا پایجامہ لوٹا اور منقول ہے کہ وہ اس عمل کے بعد زمین گیر ہوگیا اور اس کے دونوں پاوں مفلوج ہوگئے اور اخنس بن مرثد ابن علقمہ حضرمی نے امام کے عمامہ کو لوٹا ۔ اور منقول ہے کہ جابر بن یزد اودی تھا اور جب اس نے عمامہ کو سر پر رکھا تو پاگل ہوگیا اور اسود بن خالد ملعون نے آپ کی نعلین لوٹ لی اور بجلد بن سلیم کلبی نے امام کی انگوٹھی لوٹنے کےلئے آپ کی انگلی کاٹ لی اور انگوٹھی لوٹ لی اور جب حضرت مختار نے اسے گرفتار کیا تو اس کے ہاتھ پاوں کاٹ کر اسے چھوڑ دیا اوروہ اسی طرح خون میں تڑپتا رہا اور وہ اسی طرح واصل جہنم ہوا امام کا ایک جامہ تھا جو سوتی اور کھدر کا تھا قیس بن اشعث نے اسے لوٹا اور زرہ جس کا نام بطرہ تھا اور رسول خدا کی تھی اسے عمر سعد نے لوٹا اور جب عمر سعد قتل ہوا تو مختار نے اس کو ابی عمرہ قاتل عمر سعد کو عطا کیا اور امام کی تلوار کو جمیع بن خلق اودی نے لوٹا اور بعض کا کہنا ہے کہ بنی تمیم کا ایک فرد اسود بن حنظلہ نے اسے لوٹا یہ تلوار جو لوٹی گئی وہ ذوالفقار نہیں ہے اس لئے کہ ذوالفقار اور چند چیزیں جو امانت نبوت و امامت ہیں وہ ہمیشہ محفوظ رہیں اور ان کی حفاظت ہوئی اور یہ موضوع راویان حدیث کے نزدیک تصدیق شدہ ہے ۔



منابع: لھوف
ارسال کننده: مدیر پورتال
 عضویت در کانال آموزش و فرهنگ اربعین

چاپ

برچسب ها شہادت امام حسین ؑ۔ کربلا۔ سید الشہداء۔ جنگ

نظرات


ارسال نظر


Arbaeentitr

 فعالیت ها و برنامه ها

 احادیث

 ادعیه و زیارات