ستاد مرکزی اربعین|کمیته فرهنگی، آموزشی

banner-img banner-img-en
logo

 ادبیات و پژوهش


شہادت عبد اللہ بن حسنؑ

چاپ
شہادت عبد اللہ بن حسنؑ

عبد اللہ بن حسنؑ بن علیؑ ایک نابالغ بچہ تھا جو خیمہ سے باہر آیا اور دوڑا تاکہ امام کو بچا لے اور امام کے قریب کھڑا ہوگیا حضرت زینب ؑ اس کی جانب بڑھیں تاکہ میدان سے واپس بلالیں لیکن وہ واپس نہ ہوا اور کہاکہ میں اپنے چچا سے جدا نہیں ہوں گا ۔

بحر بن کعب (یا حرملہ بن کاہل )قریب آیا تاکہ امام کو شہید کرسکے اس بچہ نے کہا : اے زن زانیہ کے فرزند تجھ پر وائے ہو تو میرے چچا کو قتل کررہا ہے اس نے تلوار چلائی بچہ نے دونوں ہاتھ آگے کیا تلوار ہاتھ پر لگی اور ہاتھ قلم ہوگیا اور صرف اس کی کھال لگی رہ گئی ، بچہ چیخا : چچا جان ۔ امام نے بچہ کو سینہ سے لگالیا اور فرمایا:

میرے بھتیجے جو تم پر مصیبت آئی ہے اس پر صبرکرو ۔ اور اس مصیبت پر خدا سے طلب خیر کرو ۔ کہ خدا تم کو تمہارے آباء و اجداد کے نزدیک شائستہ افراد میں قرار دے گا ۔

حرملہ بن کاہل نے ایک تیر چلایا وہ تیر اس بچہ کی گردن پر لگا اور بچہ امام کی آغوش میں ذبح ہوگیا ۔



منابع: لھوف
ارسال کننده: مدیر پورتال
 عضویت در کانال آموزش و فرهنگ اربعین

چاپ

برچسب ها شہادت عبد اللہ بن حسنؑ. کربلا۔ امام حسین

نظرات


ارسال نظر


Arbaeentitr

 فعالیت ها و برنامه ها

 احادیث

 ادعیه و زیارات