ستاد مرکزی اربعین|کمیته فرهنگی، آموزشی

banner-img banner-img-en
logo

 ادبیات و پژوهش


امام حسین ؑ کی جنگ

چاپ
امام حسین ؑ کی جنگ

امام حسین ؑ نے دشمنوں کو ایک ایک کرکے دعوت جنگ دی جو بھی مقابل میں آتا وہ قتل ہوتا آپ نے بہت سارے دشمنوں کو واصل جہنم کیا آپ نے حالت جنگ میں اس شعر کو پڑھا :

ذلت کی زندگی سے عزت کی موت بہتر ہے اور ذلت کی زندگی آتش جہنم سے بہتر ہے ۔

اس وقت کا مورخ اور جنگ نویس کہتا ہے : خدا کی قسم میں نے حسین ؑ سے زیادہ کسی دلاور کو نہیں دیکھا جس کے گرد دشمنوں نے حلقہ کرلیا تھا اور اس کی اولادوں ، اہل خاندان اور اصحاب کو قتل کردیا تھا ۔ فوج آپ پر حملہ کرتی تھی اور آپ ایسے عالم میں ان پر تلوار سے حملہ کررہے تھے اور جیسے شیر بکریوں کے گلے پر حملہ کرتا ہے وہ آپ کی تلوار سے بھاگ رہے تھے لشکر اعدا جس کی تعداد تقریبا ۳۰ہزار تھی جب آپ ان پر حملہ آور ہوتے تو ٹڈیوں کی طرح میدان میں بکھر جاتے اور اس کے بعد امام خود اپنی جگہ واپس آتے اور فرماتے : لا حول و لا قوّة الّا باللَّه

امام نے ان سے اس قدر جنگ کی کہ پوری فوج تتر بتر ہوگئی اور انہوں نے اہل حرم کے خیموں کو گھیر لیا پھر تو امام نے فرمایا:

اے پیروان خاندان ابو سفیان تم پر وائے ہو اگر تمہارا کوئی دین نہیں اور روز قیامت پر عقیدہ نہیں تو کم از کم اپنی دنیا میں آزاد رہ کر جیؤ اور اگر تم اپنی گمان میں عرب نسل ہو تو اس عربی نسل کا خیال رکھو ۔

شمر ملعون نے کہا: اے فرزند فاطمہؐ کیا کہہ رہے ہو ؟

امام نے فرمایا: میں تم سے جنگ کررہا ہوں اور تم ہم سے اور اس بیچ عورتوں کا کیا گناہ ہے ان نادانوں اور گمراہوں سے کہو کہ میرے اہل حرم پر یلغار نہ کریں جب تک میں زندہ ہوں ۔ شمر ملعون نے کہا: اے فرزند فاطمہؐ تمہاری تجویز قبول کرتے ہیں اس کے بعد سارے لوگوں نے امام پر یلغار کی امام نے بھی ان لوگوں پر حملہ کیا ، درمیان جنگ امام نے ایک گھونٹ پانی مانگا لیکن لاحاصل سوال رہا ۔ یہاں تک کہ آپ کے جسم پاک پر بہتّر زخم لگے ، آپ رکے تازہ دم ہوجائیں اس لئے کہ اب طاقت جنگ نہ تھی ، آپ کھڑے تھے کہ ایک پتھر آپ کی پیشانی پر آکے لگا امام نے اپنے دامن کو اٹھایا تاکہ پیشانی کا خون صاف کریں اچانک تین پھل کا زہر میں بجھایا تیر آپ کے قلب پاک پر لگا ، امام نے فرمایا:

بسم اللہ و باللہ و علی ملۃ رسول اللہ ۔ پھر اپنے سر کو آسمان کی جانب اٹھایا اور فرمایا: اے میرے اللہ !تو جانتا ہے کہ یہ اس شخص کو قتل کررہے ہیں جو روئے زمین پر فرزند بنت رسول ہے اور وہ میرے علاوہ کوئی اور نہیں ۔

پھر تیر کو پکڑا اور پشت سے کھینچ کر باہر نکالا ، خون پرنالہ کی طرح بہا اور پھر امام میں جنگ کرنے کی طاقت نہیں رہی آپ اپنی جگہ کھڑے رہے جو بھی دشمن کے لشکر سے قریب ہوتا وہ واپس ہوجاتا کیونکہ وہ اپنے دامن اور ہاتھ کو خون امام سے آلودہ نہیں کرنا چاہتا تھا یہاں تک کہ قبیلہ کندہ سے مالک بن یسر نامی ملعون قریب آیا اس نے پہلے امام کو گالی دی اور پھر آپ کے سر مبارک پر ایسی تلوار ماری کہ آپ کا خود دو ٹکڑے ہوگیا اور سر مبارک زخمی ہوگیا آپ کا خود خون سے بھر گیا امام نے ایک کپڑا مانگا اس سے سر کے زخم کو باندھا پھر خود مانگا اسے رکھا اور اس کے اوپر عمامہ باندھا ۔ دشمنوں نے اس وقت تک جنگ روک دی اور پھر امام حسین ؑ کے گرد حلقہ بنا لیا ۔



منابع: لھوف
ارسال کننده: مدیر پورتال
 عضویت در کانال آموزش و فرهنگ اربعین

چاپ

برچسب ها امام حسین ؑ کی جنگ۔ امام حسین۔ کربلا

نظرات


ارسال نظر


Arbaeentitr

 فعالیت ها و برنامه ها

 احادیث

 ادعیه و زیارات