ستاد مرکزی اربعین|کمیته فرهنگی، آموزشی

banner-img banner-img-en
logo

 ادبیات و پژوهش


شہادت طفل شیر خوار (علی اصغر علیہ السلام )

چاپ
شہادت طفل شیر خوار (علی اصغر علیہ السلام )

امام حسین ؑ نے جب دیکھا کہ تمام اصحاب و اہل بیت کے جوان شہید ہوگئے اور زمین کربلا آباد کرلی تو خود میدان جنگ میں جانے کا ارادہ کیا تاکہ اپنی جان خالق حقیقی کو سپرد کردیں  ۔ میدان میں آکر آواز دی :

ہے کوئی جو حرم رسول اللہ کا دفاع کرے ۔ کیا کوئی خدا پرست ہے جو ہمارے سلسلہ میں خوف خدا کرے کیا کوئی مدد گار ہے جو اجر الہی کے سبب ہماری مدد کرے کیا کوئی یاور ہے جو اجر الہی کی خاطر ہماری مدد کو پہونچے ۔

اہل حرم نے امام کی آواز کو سنا بلند آواز میں گریہ کیا امام در خیمہ پر آئے اور شہزادی زینب سے فرمایا: میرے بچے کو مجھے دے دو تاکہ آخری بار اسے دیکھ سکوں ؟ امام بچہ کو لے کر میدان جنگ میں آئے سوال آب کیا جس کے جواب میں حرملہ نے سہ شعبہ تیر مارا بچہ امام کے ہاتھوں پر شہید ہوگیا ، امام نے خون علی اصغر کو چلو میں لیا آسمان کی جانب پھینکا اور فرمایا:

جو میری مصیبتوں کو آسان کرنے والا ہے وہ یہ ہے کہ خدا یہ سب دیکھ رہا ہے ۔

امام باقر ؑ نے فرمایا: اس خون کا ایک قطرہ بھی زمین پر نہیں گرا ۔



منابع: لھوف
ارسال کننده: مدیر پورتال
 عضویت در کانال آموزش و فرهنگ اربعین

چاپ

برچسب ها شہادت. طفل شیر خوار. (علی اصغر علیہ السلام۔ کربلا۔ امام حسین

نظرات


ارسال نظر


Arbaeentitr

 فعالیت ها و برنامه ها

 احادیث

 ادعیه و زیارات