ستاد مرکزی اربعین|کمیته فرهنگی، آموزشی

banner-img banner-img-en
logo

 ادبیات و پژوهش


شہادت حضرت قاسم ؑبن حسن ؑ

چاپ
شہادت حضرت قاسم ؑبن حسن ؑ

روز عاشورا کی جنگ میں ایک جوان جو آمادہ جنگ ہوا وہ چودہویں کی چاند کی طرح تھا ۔ ابن فضیل ازدی نے شمشیر سے اس رشک قمر کے سر پر وار کیا سر شگافتہ ہوا اور یہ چاند زمین پر گرا اور فریاد کی چچا جان میری مدد کو پہونچئے امام حسین ؑ شکاری باز کی طرح میدان جنگ کی جانب جھپٹے اور بپھرے شیر کی طرح ان پر حملہ کیا اور ابن فضیل پر تلوار کا وار کیا جس سے اس کا ہاتھ کہنیوں سے کٹ گیا اور اس نے ایسی چیخ ماری کی ساری فوج نے سنا ۔ اہل کوفہ اس کی نجات کو دوڑے اسی ہنگامی صورت میں حضرت قاسم ؑ گھوڑوں کی ٹاپوں کے تلے آگئے اور شہید ہوگئے اور جب غبار جنگ چھٹا تو امام حسین ؑ اس چاند کے قریب پہونچے جو شدت درد سے ہاتھ پیر چلا رہا تھا امام نے فرمایا:

خدا اس گروہ سے اپنی رحمت کو دور کرے جس نے تمہیں قتل کیا اور روز قیامت ان سے تمہارے باپ اور جد سوال کریں گے خدا کی قسم تمہارے چچا پر بہت شاق گذرا کہ تم مدد کو بلاؤ اور وہ مدد کو نہ آسکے اور اگر آئے بھی تو تمہاری مدد نہ کرسکے ۔ خدا کی قسم آج وہ دن ہے جو تمہارے چچا کے کینہ توز دشمنوں کی زیادتی اور مددگاروں کی قلت کا دن ہے ،۔

اس کے بعد اس جوان کے جنازہ کو گود میں اٹھایا اور گنج شہیداں میں لاکر رکھ دیا ۔



منابع: لھوف
ارسال کننده: مدیر پورتال
 عضویت در کانال آموزش و فرهنگ اربعین

چاپ

برچسب ها شہادت. حضرت قاسم ؑبن حسن ؑ. کربلا۔ امام حسین

نظرات


ارسال نظر


Arbaeentitr

 فعالیت ها و برنامه ها

 احادیث

 ادعیه و زیارات