ستاد مرکزی اربعین|کمیته فرهنگی، آموزشی

banner-img banner-img-en
logo

 ادبیات و پژوهش


شہادت حضرت حر علیہ السلام

چاپ
شہادت حضرت حر علیہ السلام

اس کے بعد امام نے فریاد کی اور فرمایا:

کیا کوئی نہیں ہے جو مرضی الہی کی خاطر ہماری مدد کرے ، کیا کوئی مدافع نہیں ہے جو حرم رسول خدا کا دفاع کرے ؟

جب امام نے یہ فریاد بلند کی حر نے عمر سعد کی جانب دیکھا اور کہا: کیا سچ میں اس شخص کے ساتھ جنگ کروگے ؟

اس نے کہا: ہاں ! خدا کی قسم ایسی جنگ جس کا کمترین پہلو یہ ہوگا کہ سر جسموں سے اڑیں گے ، ہاتھ بدن سے کٹ کر گریں گے پھر حر عمر سعد کے پاس سے چلے اپنے سپاہیوں کے پاس کھڑے ہوئے آپ کا جسم لرز رہا تھا ، مہاجرین قبیلہ اوس نے ان سے کہا: خدا کی قسم ہم آپ کے سلسلہ میں پریشان ہیں کیونکہ اگر کوئی ہم سے پوچھتا کہ اہل کوفہ میں سے دلاور ترین فرد کون ہے ؟ تو ہم آپ کے علاوہ کسی کا نام نہیں لیتے ۔ آخر ہم یہ آپ کی کیا حالت دیکھ رہے ہیں ؟جناب حر نے کہا:

خدا کی قسم میں اپنے آپ کو جنت و جہنم کے دوراہے پر دیکھ رہا ہوں اور میں جنت کے علاوہ دوسری راہ نہیں اپناوں گا چاہے میرے ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں اور میرے جسم کو جلا دیں ۔

جناب حر نے یہ کہااور گھوڑے پر سوار ہوئے اور امام حسین ؑ کی جانب چل پڑے اور آپ کا ہاتھ آپ کے سر پر تھا اور عرض کیا : خدایا تیری جانب پلٹ آیا ہوں میری توبہ قبول کر کہ میں نے بنت رسول کے فرزندوں اور محبوں کے دلوں کو ڈرایا اور لرزایا ہے ۔

اس کے بعد امام سے عرض کیا : آپ پر قربان جاؤں میں وہی ہوں جو آپ کے ساتھ تھا اور آپ کو واپس نہیں ہونے دیا اور آپ پر سختی کی لیکن مجھے گمان تک نہیں تھا کہ یہ لوگ آپ ؑ کو اس منزل تک پہونچادیں گے ۔ اب میں آپ کی جانب آگیا ہوں کیا میری توبہ قبول ہوسکتی ہے ؟

امام نے فرمایا: ہاں ! خدا تمہاری توبہ کو قبول کرے گا گھوڑے سے تم اتر آؤ ، عرض کیا : اس وقت میرا سوار رہنا پیدل ہونے سے بہتر ہے اور میرا انجام میرے پیدل ہونے پر ہی ختم ہوگا اس کے بعد عرض کیا: چونکہ میں وہ پہلا شخص ہوں جو آپ کی راہ میں رکاوٹ بنا تھا مجھے اجازت دیں کہ میں آپ کی راہ کا پہلا شہید قرار پاوں ، شائد روز قیامت ان لوگوں میں سے قرار پاوں جو آپ کے جد رسول سے مصافحہ کریں گے ۔

جناب حر کی مراد راہ حسین ؑکے پہلے شہید سے یہ تھی کہ اس لمحہ کے بعد پہلا شہید قرار پاؤں ورنہ جیسا کہ بیان کیا جاچکا ہے کہ آپ سے پہلے چند اصحاب امام شہید ہوچکے تھے ۔ المختصر امام نے حر کو اجازت دی ، حر نے خوب داد شجاعت حاصل کی اور دشمنوں کے چند بہادروں کو قتل کیا اور پھر شربت شہادت نوش کیا جب حر کے جنازہ کو امام کے پاس لائے امام نے خود اپنے ہاتھوں سے حر کے چہرے سے غبار و گرد کو صاف کیا اور فرمایا: انت الحر کما سمتک امک حرا فی الدنیا و الآخرۃ ، جیسا تمہاری ماں نے تمہارا نام حر رکھا تھا اسی طرح تم دنیا و آخرت میں آزاد ہو ۔



منابع: لھوف
ارسال کننده: مدیر پورتال
 عضویت در کانال آموزش و فرهنگ اربعین

چاپ

برچسب ها حضرت حر۔ شہادت۔ امام حسین۔ کربلا

نظرات


ارسال نظر


Arbaeentitr

 فعالیت ها و برنامه ها

 احادیث

 ادعیه و زیارات