ستاد مرکزی اربعین|کمیته فرهنگی، آموزشی

banner-img banner-img-en
logo

 ادبیات و پژوهش


روز عاشورہ اور آغاز جنگ

چاپ
روز عاشورہ اور آغاز جنگ

عمر سعد کے سپاہیوں نے آغاز جنگ کے لئے سواریاں تیار کیں اور سوار ہوئے ، امام نے بریر کو بھیجا تاکہ انہیں نصیحت کریں لیکن انہوں نے ان کی نصیحت پر کان نہیں دھرا اور وعظ ان کے لئے فائدہ مند ثابت نہیں ہوا ، امام اونٹ یا گھوڑے پر سوار ہوئے اور انہیں خاموش ہونے کا اشارہ کیا اور وہ سب خاموش ہوگئے اور پھر حمد الہی کیا اور جو شان الہی تھی اسے بیان فرمایا، پھر رسول اعظم ، فرشتوں اور سفیران الہی پر شیریں انداز میں درود و سلام بھیجا اور فرمایا:

اے آزاد شدہ لوگوں کی اولاد اور گروہوں سے نکالے ہوئے لوگو! اور کتاب خدا سے دور بھگائے ہوئے افراد اور احکام الہی میں تبدیلی کرنے والو! تم پر لعنت ہو ۔ اے سراپا گناہ کے تودو اے شیطان کے ساتھیو اور چراغ ہدایت پیغمبری بجھانے والو کیا تم ان کی مدد کررہے ہو اور ہمیں رسوا ۔ہاں خدا کی قسم وہ گمراہی جو پچھلے زمانے سے تم میں پائی جاتی ہے تمہارے جڑوں ، شاخوں ، پتوں میں لپٹی ہوئی ہے اور مکمل اپنی گرفت میں لے لیا ہے تم اس درخت کے ناپاک پھل ہو جو باغبان کے گلے میں ہڈی کے مانند گلو گیر ہے لیکن غاصبوں کے لئے ایک لذیذ لقمہ ہو ۔ ہاں ! اس زنا زادہ ابن زنازادہ نے مجھے دوراہے پر کھڑا کیا ہے ایک راستہ موت کی طرف جاتا ہے اور ایک طرف ذلت و رسوائی کی طرف ۔ ہرگز کہ میں ذلت کے راستہ کو موت کے راستہ پر اختیار کروں ۔

اس کے بعد سواری سے نیچے آئے اور رسول کی سواری جس کا نام مرتجز تھا اس پر سوار ہوئے اور اپنے اصحاب کو جنگ کے لئے تیار کیا ۔

عمر سعد لشکر کوفہ کا پیش قدم ہوا اور ایک تیر اصحاب امام کی جانب پھینکا اور کہا کہ ابن زیاد کے سامنے گواہ رہنا کہ میں وہ پہلا شخص ہوں جس نے حسین ؑ کی جانب تیر چلایا ۔ اس کے بعد بارش کے قطرات کی طرح تیروں کی بارش ہوئی امام نے اپنے اصحاب سے فرمایا:

تم پر خدا کی رحمت ہو اٹھو اور اب موت کے لئے اور کوئی راہ نہیں آمادہ ہو اور یہ تیر جو دشمنوں کی جانب سے آرہے ہیں یہ سب موت کے پیغامبر ہیں ۔

اس کے بعد دونوں فوجوں میں آدھے دن تک جنگ جاری رہی یہاں تک کہ امام کے کچھ اصحاب شہید ہوئے ۔

اس وقت امام نے اپنے ریش مبارک پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا: اللہ کا غضب یہودیوں پر اس وقت ہوا جب انہوں نے خدا کے لئے ایک فرزند معین اور منصوب کیا ، الہی نصاری پر اس وقت شدید ہوا جب انہوں نے اپنا تیسرا خدا اللہ کو مانا ۔ مجوس پر اس وقت عذاب الہی سخت ہوئی جب انہوں نے سورج اور چاند کو اس کی جگہ پوجا ، اور خداوند تعالی اس گروہ پر شدید غضباناک ہوا ہے جب انہوں نے فرزند بنت رسول پر سب کو اکٹھا کرلیا ہے ۔ خدا کی قسم جب کبھی بھی ان کی خواہشوں کا اتباع نہیں کروں گا یہاں تک اپنے خون سے رنگین ہوجاوں اور اسی عالم میں خدا سے ملاقات کروں گا ۔



منابع: لھوف
ارسال کننده: مدیر پورتال
 عضویت در کانال آموزش و فرهنگ اربعین

چاپ

برچسب ها روز عاشورا۔ آغازجنگ۔ جنگ۔ کربلا۔ امام حسین

نظرات


ارسال نظر


Arbaeentitr

 فعالیت ها و برنامه ها

 احادیث

 ادعیه و زیارات