ستاد مرکزی اربعین|کمیته فرهنگی، آموزشی

banner-img banner-img-en
logo

 ادبیات و پژوهش


شب عاشور

چاپ
شب عاشور

رات آگئی امام نے اپنے اصحاب کو جمع کیا اور حمد الہی کی اور ان کو مخاطب کرکے فرمایا:

میں نے تم سے بہتر مددگار اور اپنے خاندان سے بہتر خاندان نہیں دیکھا ۔ خدا ہم سب کو نیک اجر عطا فرمائے اس وقت رات کی تاریکی پھیل گئی ہے اٹھو اور ہمارے اہل بیت میں سے ایک ایک کا ہاتھ پکڑو اور تاریکی شب میں چلے جاؤ اور ہم کو ان کے ساتھ چھوڑ دو اس لئے کہ یہ میرے علاوہ کسی سے دشمنی نہیں رکھتے ۔

بھائیوں ، فرزندوں اور فرزندان عبد اللہ بن جعفرؑ نے ایک آواز میں کہا: ہم ایسا کیوں کریں ، اس لئے کہ آپ بعد زندہ رہیں ؟ اس جملہ کو سب سے پہلے قمر بنی ہاشم حضرت عباسؑ نے کہا اور اس کے بعد دیگر لوگوں نے اسے دہرایا اس کے بعد امام حسین ؑ نے فرزندان عقیل کی جانب رخ کیا اور فرمایا:

آپ کے گھرانے میں سے مسلم کی شہادت آپ کے لئے کافی ہے میں اجازت دیتا ہوں آپ لوگ جاسکتے ہیں ان لوگوں نے ایک زبان ہوکر کہا: فرزند رسول پھر لوگ ہم لوگوں سے کیا کہیں گے اور ہم لوگوں سےکیا کہیں گے ؟ ہم یہ کہیں کہ اپنے امام اور فرزند رسول کو تنہا چھوڑ آئے ہیں اور ان کے ہمرکاب ہوکر نہ تیر چلایا اور نہ نیزہ چلایا اورنہ تلوار چلائی ، خدا کی قسم ہرگز نہیں ہرگز نہیں بالکل آپ سے جدا نہیں ہوں گے اور پورے جان و دل کے ساتھ آپ کی حفاظت کریں گے یہاں تک کہ آپ کے رکاب میں شہید ہوجائیں اور آپ کے ساتھ رہیں آپ کے بعد ہماری زندگی پر خدا کی لعنت ہو ۔

اس کے بعد مسلم بن عوسجہ کھڑے ہوئے اور کہا: آپ کو اس عالم میں چھوڑ کر چلے جائیں جب کہ دشمنوں نے آپ کو گھیر لیا ہے ؛نہیں خدا کی قسم بالکل نہیں ، خدا ہمیں وہ دن نہ دکھلائے کہ ہم یہ عمل انجام دیں ہم آپ کے پاس رہیں گے تاکہ اپنے نیزہ کو ان کے سینوں میں اتار دیں اور جب تک قبضہ شمشیر میرے ہاتھوںمیں ہے ان سے جنگ کروں اور اگر اسلحہ نہیں بھی ہوگا تو ان کی جانب پتھروں کی برسات کرکے جنگ کروں گا لیکن آپ سے جدا نہیں ہوں گا یہاں تک کہ شربت شہادت پی لوں ۔

سعید بن عبد اللہ حنفی بھی کھڑے ہوئے اور عرض کی : نہیں ہرگز نہیں ، خدا کی قسم اے فرزند رسول ہم بالکل آپ کو نہیں چھوڑیں گے یہاں تک کہ خدا جان لے کہ ہم نے رسول کی تاکید کو آپ کے سلسلہ میں جاری کیا اور اس کا پاس و لحاظ رکھا اگر میں یہ جان سکوں کہ آپ کی راہ میں قتل ہوں گا اور دوبارہ زندہ ہوں گا اور پھر میرے ذرات بدن کو ہوا میں بکھیر دیا جائے گا اور ستر بار یہ عمل انجام پائے پھر بھی آپ سے جدا نہیں ہوں گا یہاں تک کہ آپ کے رکاب میں قتل کیا جاوں اور اس وقت ایسا کیوں نہ کروں اس لئے کہ موت تو صرف ایک بار آنی ہے اور اس کے بعد ایسی عزت و کرامت ہے جس کے بعد رسوائی نہیں ۔

اس کے بعد زہیر بن قین کھڑے ہوئے اور عرض کی : خدا کی قسم اے فرزند رسول میں چاہتا ہوں کہ قتل کیا جاؤں اور پھر زندہ کیا جاوں اور ہزار بار یہ عمل تکرار ہو لیکن خدا وند تعالی میرے قتل کو آپ اور ان جوانوں جو آپ کے بھائی اور اولاد اور آپ کے خاندان سے ہیں ان سے دور کردے ۔

اصحاب امام میں سے دیگر افراد نے بھی اس طرح کا اظہار عقیدت کیا اور عرض کی : آپ پر ہماری جانیں قربان ہم اپنے وجود کو آپ کی مصیبتوں کے لئے سپر قرار دیں گے اگر آپ کے قدموں میں قتل کئے جائیں تو اس وعدہ کی وفا کریں گے جو اپنے اللہ سے کیا ہے اور جس فریضہ کا عہد کیا ہے اسے انجام دیں گے ۔

اسی وقت محمدبن بشر حزرمی کو خبر ملی کہ شہر رئے کے علاقہ میں ان کا بیٹا گرفتار ہوگیا ہے انہوں نے کہا: بیٹے کی گرفتاری اور میرا وجود اللہ کے اوپر میری خواہش یہ تھی کہ میں اس عالم میں رہوں اور وہ اسیر ہوجائے امام نے جب یہ سنا تو فرمایا: تم پر خدا کی رحمت ہو تم میرے قید بیعت سے آزاد ہو اپنے بیٹے کی آزادی کی کوشش کرو ۔

انہوں نے عرض کیا: صحرائی درندے مجھے زندہ ہی نگل جائیں اگر میں آپ سے جدا ہوں ۔

امام نے فرمایا:

تو پھر ان یمانی حلوں کو لو اور اپنے بیٹوں کو دو تاکہ وہ اپنے بھائی کی آزادی کی اس سے استفادہ کرے اور ان لباسوں کو اپنے بھائی کا فدیہ اور صدقہ قرار دیں ۔

اس کے بعد پانچ لباس جن میں ہر ایک کی قیمت ایک ہزار دینار تھی محمد بن بشر کو عطا کیا ۔

شب عاشور امام اور اصحاب نے صبح تک نالہ و مناجات کیا اور ان کے نالے اور گریہ کی آواز شہد کی مکھیوں کی طرح سنائی دے رہی تھی کچھ لوگ رکوع ، کچھ سجدے اور کچھ بیٹھے عبادت انجام دے رہے تھے اس رات ۳۲ لوگ عمر سعد کے لشکر سے جدا ہوکر امام سے ملحق ہوئے ۔

جی ہاں ! امام کا کردار ایسا ہی تھا آپ مسلسل نماز پڑھتے تھے اور آپ تمام صفات حسنہ کے حامل تھے ۔



منابع: لھوف
ارسال کننده: مدیر پورتال
 عضویت در کانال آموزش و فرهنگ اربعین

چاپ

برچسب ها شب عاشور۔ کربلا۔ امام حسین۔ اصحاب امام حسین۔ جناب عباس

نظرات


ارسال نظر


Arbaeentitr

 فعالیت ها و برنامه ها

 احادیث

 ادعیه و زیارات