ستاد مرکزی اربعین|کمیته فرهنگی، آموزشی

banner-img banner-img-en
logo

 ادبیات و پژوهش


نماز اور دعا کے لئے مہلت

چاپ
نماز اور دعا کے لئے مہلت

امام حسین ؑ نے جب یہ دیکھا کہ لوگ جنگ پر تلے ہوئے ہیں اور وعظ و نصیحت ان کے لئے اثر انداز نہیں ہے تو اپنے بھائی قمر بنی ہاشم سے فرمایا:

اگر ممکن ہو تو آج انہیں جنگ سے منصرف کرو ، شائد آج کی شب ہم پیش پروردگار نماز ادا کرسکیں ، خدا جانتا ہے کہ میں نماز اور تلاوت قرآن اس کی رضا کے لئے بہت دوست رکھتا ہوں ۔ قمر بنی ہاشم نے امام کی مرضی کو پیش کیا ۔ عمر سعد نے اس تجویز کو قبول کرنے میں تامل کیا عمر بن حجاز زبیدی نے کہا: خدا کی قسم اگر ہمارے دشمن ترک و دیلم بھی ہوتے اور یہ تجویز رکھتے تو ہم مان لیتے چہ جائیکہ یہ اولاد رسول خدا ہیں ۔خلاصہ پھر یہ تجویز قبول کر لی گئی ۔

امام حسین ؑ زمین پر تشریف فرما تھے اور آنکھ لگ گئی جب بیدار ہوئے تو جناب زینب ؑسے فرمایا:

میری مانجائی ابھی میں نے اپنے جد رسول اور والد محترم علی اور مادر گرامی فاطمہ زہرا اور برادر عزیز حسن مجتبی علیہم السلام کو خواب میں دیکھا ہے سب کہہ رہے تھے کہ اے حسین بہت جلد کل ہمارے پاس آؤ گے ۔

جناب زینب نے جب یہ سنا تو اپنے چہرے پر طمانچہ مارا بلند آواز میں گریہ کیا امام نے فرمایا: صبر کرو اور اس عمل کے ذریعہ دشمنوں کو طعنہ کی مہلت نہ دو ۔



منابع: لھوف
ارسال کننده: مدیر پورتال
 عضویت در کانال آموزش و فرهنگ اربعین

چاپ

برچسب ها نماز۔ دعا مہلت۔ کربلا۔ امام حسین

نظرات


ارسال نظر


Arbaeentitr

 فعالیت ها و برنامه ها

 احادیث

 ادعیه و زیارات