ستاد مرکزی اربعین|کمیته فرهنگی، آموزشی

banner-img banner-img-en
logo

 ادبیات و پژوهش


شمر کا امان نامہ اور حضرت عباسؑ کا جواب

چاپ
شمر کا امان نامہ اور حضرت عباسؑ کا جواب

ابن زیاد نے عمر سعد کو خط لکھا اور حکم دیا کہ جتنا جلدی ممکن ہو جنگ شروع کرو اور اس میں تاخیر و سہل انگاری نہ کرو یہ خط پاتے ہی لشکر کوفہ امام کی جانب پیش قدمی کرنے لگا ۔ شمر لعنت اللہ نے آواز دی میرے بھانجے کہاں ہیں ؟ عبد اللہ ، جعفر ، عباس ، عثمان ۔ امام نے فرمایا: اس کا جواب دو ہر چند کہ فاسق ہے کیونکہ تمہاری ماں کے قبیلہ سے ۔ سرکار وفا نے پوچھا : کیا بات ہے ؟ اس نے کہا: میرے بھانجو تم سب امان میں ہو اور اپنے آپ کو اپنے بھائی حسین ؑ کے سبب موت کے منہ میں نہ دو اور امیر المومنین یزید کا اتباع کرو ۔ قمر بنی ہاشم نے بلند آواز میں کہا: تیرے دونوں ہاتھ ٹوٹ جائیں لعنت اس امان نامہ پر جو ہمارے لئے لایا ہے اے دشمن خدا تو ہمیں تجویز دیتا ہے کہ اپنے بھائی اور اپنے آقا حسین ؑ فرزند فاطمہؐ سے دست بردار ہوجاوں اور ملعون اور ملعون زادوں کے فرمان کا اتباع کروں ؟ شمر نے جب یہ جواب سنا تو غضبناک حالت میں اپنے لشکر کی طرف پلٹ گیا ۔



منابع: لھوف
ارسال کننده: مدیر پورتال
 عضویت در کانال آموزش و فرهنگ اربعین

چاپ

برچسب ها شمر۔ امان نامہ۔ حضرت عباس۔ کربلا

نظرات


ارسال نظر


Arbaeentitr

 فعالیت ها و برنامه ها

 احادیث

 ادعیه و زیارات