ستاد مرکزی اربعین|کمیته فرهنگی، آموزشی

banner-img banner-img-en
logo

 ادبیات و پژوهش


کربلا کے درمیان راہ کی منزلیں

چاپ
کربلا کے درمیان راہ کی منزلیں

امام حسین ؑ نے کوفہ کی جانب سفر کیا یہاں تک کہ تنعیم نامی منزل پر پہونچے وہاں پر ایک کارواں سے ملاقات ہوئی اور یمن کے گورنر بحیر بن ریسان حمیری کی جانب سے یزید کے نام بھیجے جانے والے ہدایاء کو ان لوگوں سے لے لیا اس لئے کہ مسلمانوں کے حاکم  امام حسین ؑ ہیں اور آپ نے ان شتر داروں سے فرمایا: جو چاہتا ہے وہ ہمارے ساتھ عراق آئے میں اس کے اخراجات سفر کو ادا کروں گا اور اس کا شکر گذار ہوں گا اور جو چاہتا ہے مجھ سے جدا ہوجائے تو جہاں تک میرے ساتھ آیا ہے اس کے اخراجات سفر کو ادا کروں گا کچھ لوگ آپ کے ساتھ آئے اور کچھ لوگ آپ سے جدا ہوگئے ۔

امام نے اپنے سفر کو جاری رکھا یہاں تک کہ ’’ذات العرق‘‘ تک پہونچے وہاں پر بشر بن غالب سے ملاقات کی وہ عراق سے آ رہے تھے آپ نے پوچھا :

اہل عراق کا کیا حال ہے ؟

بشر نے عرض کیا: جب میں نکلا تھا تو ان کے دل آپ کے ساتھ تھے لیکن ان کی تلواریں بنی امیہ کے ساتھ تھیں ۔

امام نے فرمایا: اے اسدی بھائی آپ نے صحیح کہا خدا جس چیز کا ارادہ کرتا ہے انجام دیتا ہے اور جس چیز کا ارادہ کرتا ہے اس کا حکم دیتا ہے ۔

امام حسین ؑ اپنے اس سفر میں ظہر کے وقت ’’ثعلبیہ‘‘ نامی منزل پر پہونچے آپ نے سر کو زانو پر رکھا اور آنکھ لگ گئی جب آنکھ کھلی تو فرمایا: میں نے دیکھا کہ ایک منادی ندا دے رہا ہے کہ تم تیز چل رہے ہو لیکن موت تم کو اور زیادہ تیز جنت کی جانب لے جارہی ہے ۔

آپ کے فرزند حضرت علی اکبر نے عرض کیا: بابا جان ! کیا ہم حق پر نہیں ہیں ؟

امام نے فرمایا: جان پدر !اس خدا کی قسم جس کی جانب ہم سب کی بازگشت ہے ہم حق پر ہیں ۔

جناب علی اکبر نے عرض کیا : بابا جان ! اگر ایسا ہے تو ہمیں کوئی خوف نہیں کہ ہم موت پر جاپڑیں یا موت ہم پر آپڑے ۔

امام نے فرمایا: جان پدر ! خدا وہ بہترین اجر عطا کرے جو تمہارے باپ کو عطا کیا ہے ۔

امام حسین ؑنے  اس منزل پر رات بھر قیام کیا صبح کے وقت ازدی قبیلہ کے ایک شخص سے ملاقات ہوئی جس کی کنیت ابا حرہ تھی وہ کوفہ سے آرہا تھا ۔ امام کی خدمت میں پہونچا سلام عرض کی اور کہا: اے فرزند رسول ! آخر کیوں آپ حرم الہی ، حرم رسول خدا (مدینہ ) سے باہر آگئے ۔

امام نے فرمایا: اے ابا حرہ تم پر وائے ہو بنی امیہ نے ہماری دولت و ثروت کو لوٹ لیا ہم نے صبر کیا ، ہمیں گالیاں دیں اور ہماری آبرو سے کھلواڑ کیا پھر بھی ہم نے تحمل کیا ، وہ ہمارا خون بہانا چاہتے تھے لہٰذا ہم نے کوچ کیا ، خدا کی قسم ظالم قوم ہمیں قتل کرے گی، خدا انہیں لباس ذلت و رسوائی پہنائے گا جو ان کے پورے وجود کو ڈھانپ لے گا اور ان پر شمشیر براں برسے گی اور یقینا ان پر ایسے کو مسلط کرے گا جو قوم صبا کی اس عورت کی نسل سے ہوں گے جو ان پر حکومت کرتی تھیں ۔ اور ان کے ہاتھوں وہ ذلیل و رسوا ہوں گے ۔

اس ملاقات کے بعد ثعلبیہ سے آگے روانہ ہوئے ۔

بنی فزارہ اور قبیلہ بجیلہ کے کچھ لوگ راوی ہیں کہ ہم زہیر ابن قین کے ہمراہ مکہ سے آرہے تھے اور امام حسین ؑ کے قافلہ کے پیچھے پیچھے تھے چونکہ امام کے ہمراہ خواتین تھیں وہ جہاں رکتے تھے وہاں ہم بھی رک جاتے تھے اور فاصلہ پر خیمہ لگاتے تھے دوران سفر ایک منزل پر ہم مجبور ہوئے کہ وہیں رکیں جہاں آپ نے پڑاؤ ڈالا ہے ہم کھانے میں مشغول تھے کہ اچانک دیکھا کہ امام حسین ؑکا ایلچی ہمارے پاس آیا سلام کیا اور کہا: اے زہیر ابن قین ابا عبد اللہ الحسین ؑ نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے تاکہ میں آپ کو خبر کر سکوں کہ آپ امام کے پاس چلیں ۔ جیسے ہی یہ پیغام پہونچایا ، ہم سب کے لقمے جو ہمارے ہاتھوں میں تھے ہم سب نے واپس رکھ دیئے ایسا لگ رہا تھا کہ ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہیں اور ہم بے حس و حرکت رہ گئے ، زہیر کی اہلیہ دیلم بنت عمر تھیں انہوں نے ظہیر سے کہا: سبحان اللہ فرزند رسول نے کسی کو آپ کے پاس بھیجا اور آپ ان کی دعوت پر لبیک نہیں کہہ رہے ہیں بہتر ہے کہ آپ ان کے پاس جائیں اور ان کی باتوں کو سنیں ۔ جب زہیر نے یہ سنا تو امام کے پاس گئے اور کچھ دیر کے بعد ہنستے  اور نورانی چہرے کے ساتھ واپس ہوئے اور حکم دیا کہ ان کے خیمہ کو اکھاڑ لیا جائے اور امام حسین ؑ کے خیمہ کے قریب لگایا جائے اپنی زوجہ سے کہا : میں نے آپ کو طلاق دیا اس لئے کہ میں یہ نہیں چاہتا کہ میرے سبب آپ کو اچھی خبر کے علاوہ بری خبر پہونچے میں نے ارادہ کیا ہے کہ امام حسین ؑ کے ہمراہ رہوں اور اپنے آپ کو ان پر قربان کروں اور اپنی جان کو ان کے مصیبتوں کے لئے سپر بناوں ۔ اس کے بعد جو کچھ ان کا مال ان کی بیوی سے متعلق تھا انہیں دیا اور ان کا ہاتھ اپنے چچا زاد بھائیوں میں سے کسی ایک کے سپرد کیا تاکہ انہیں ان کے اہل خانہ تک پہونچا سکیں وہ خاتون اپنی جگہ سے کھڑیں ہوئی اور گریہ کیا اور زہیر کو الوداع کہتے ہوئے کہا: خدا تمہارے امر میں یاور و مدد گار ہو اور جو تمہارے حق میں بہتر ہو وہ انجام پائے ایک تمنا ہے کہ روز محشر حسین ؑ کے جد کے سامنے  مجھے نہ بھولئے گا اس کے بعد زہیر نے اپنی ساتھیوں سے کہا : جو چاہتا ہے وہ میرے ساتھ آئے ورنہ یہ میرا اور آپ کا آخری دیدار ہے ۔

امام حسین ؑ اس منزل سے آگے بڑھے اور زبالہ نامی منزل پر پہونچے یہاں پر جناب مسلم کی خبر شہادت سنی یہاں آپ جب اپنے کچھ اصحاب کے ساتھ تھے تو یہاں جناب مسلم کی خبر شہادت دی گئی جو لوگ دنیا کے خواہاں تھے اور یقین کامل نہیں رکھتے تھے وہ امام سے جدا ہوگئے اور صرف آپ کے اہل خاندان اور مخصوص اصحاب باقی بچے ۔

امام حسین ؑ اس مقصد کے تحت جس جانب خدا نے دعوت دی تھی روانہ ہوئے فرزدق نامی مشہور شاعر اہل بیت آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سلام کیا اور عرض کی : اے فرزند رسول آپ نے اہل کوفہ پر کیسے بھروسہ کرلیا یہ وہی ہیں جنہوں نے آپ کے چچا زاد بھائی مسلم اور ان کے ساتھیوں کو قتل کرڈالا ہے ۔ امام کی آنکھوں سے اشک جاری ہوئے اور آپ نے فرمایا:

خدا مسلم پر رحمت نازل کرے وہ روح و ریحان ، بہشت و رضوان الہی کی جانب پلٹ گئے ان کا جو فریضہ تھا انجام دیا اب ہماری نوبت ہے کہ اپنے فریضہ پر عمل کریں ۔

جب امام کوفہ سے دو منزل دو رتھے تو حربن یزید نے ایک ہزار سواروں کے ساتھ امام سے ملاقات کی امام نے حر سے فرمایا:

ہمارے ساتھ ہو یا ہمارے دشمنوں کے ساتھ ؟

حر نے کہا: اے ابا عبد اللہ آپ کے دشمنوں کے ساتھ ۔

امام نے فرمایا: لا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم ، اس کے بعد آپ اور حر سے کچھ گفتگو ہوئی یہاں تک کہ امام نے فرمایا : اگر تمہاری رائے اس وقت تمہارے خطوط اور تمہارے ایلچیوں کے ذریعہ بھیجے گئے پیغامات کے خلاف ہے تو میں یہیں سے وہاں واپس ہوجاوں گا جہاں سے آیا ہوں ۔ حر اور اس کے سپاہیوں نے امام کی واپسی میں رواٹ ڈالی اور حر نے کہا: آپ ایسی راہ انتخاب کریں جو نہ کوفہ جائے اور نہ مدینہ تاکہ میں ابن زیاد کے نزدیک عذر پیش کرسکوں ۔ امام حسین ؑ نے بائیں جانب کوچ کیا یہاں تک کہ عذیب الہجانات پہونچے ۔ یہی وہ جگہ تھی جہاں حر نے ابن زیاد کا خط دریافت کیا اس نے امام حسین ؑ کے متعلق حر کی نرمی پر اسے سرزنش کی تھی اور حکم دیا تھا کہ حسین ؑکے ساتھ سختی سے پیش آئے ۔ حر اور اس کے سپاہیوں نے امام کا راستہ روکا تو امام نے فرمایا:

کیا تم نے  یہ نہیں کہا تھا کہ میں کوفہ نہ جاوں ؟

حر نے کہا: جی ہاں ! لیکن ابن زیاد نے مجھے حکم دیا ہے کہ آپ پر سختی کروں اور ایک شخص کو ہمارے اوپر تعینات کیا ہے کہ وہ ہمارے امور پر ناظر و نگراں رہے ۔



منابع: لھوف
ارسال کننده: مدیر پورتال
 عضویت در کانال آموزش و فرهنگ اربعین

چاپ

برچسب ها کربلا۔ منزلیں۔ درمیان۔ سفر۔ امام حسین

نظرات


ارسال نظر


Arbaeentitr

 فعالیت ها و برنامه ها

 احادیث

 ادعیه و زیارات