ستاد مرکزی اربعین|کمیته فرهنگی، آموزشی

banner-img banner-img-en
logo

 ادبیات و پژوهش


شہادت حضرت مسلمؑ

چاپ
شہادت حضرت مسلمؑ

جب جناب مسلمؑ کو ہانی کی گرفتاری کی خبر ہوئی جن افراد نے آپ کی بیعت کی تھی ان کے ساتھ عبید اللہ بن زیاد سے جنگ کے لئے نکلے ۔

ابن زیاد جو دار الامارہ میں پناہ گزیں تھا اس نے اپنی فوجوں کو مسلم اور ان کے چاہنے والوں کے خلاف جنگ کے لئے بھیجا ابن زیاد کے فوجی جناب مسلم کے مددگاروں کو جنگ سے ڈرا رہے تھے اور انہیں تنبیہ کررہے تھے کہ شام کا لشکر ہماری مدد کو آئے گا یہ غلط پروپیگنڈہ چلتا رہا یہاں تک کہ رات ہوگئی ، رات آتے ہی یاران مسلم آپ سے دور ہوگئے اور یہ کہتے ہوئے دور ہوئے کہ :

ہم کو فتنہ جنگ سے کیا لینا دینا بہتر ہوگا کہ ہم اپنے گھروں میں بیٹھیں اور ان لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیں تاکہ خدا ان کے درمیان صلح و آشتی پیدا کرے...۔

یہ پروپیگنڈہ یوں اثر انداز ہوا کہ جناب مسلمؑ کے پاس صرف دس لوگ بچے اور جب جناب مسلمؑ مسجد گئے اور نماز مغرب ادا کی تو یہ دس لوگ بھی جا چکے تھے اور جب آپ نے اپنے آپ کو تنہا محسوس کیا تو مسجد سے باہر آئے اور کوفہ کی گلیوں میں تنہا چلتے رہے یہاں تک کہ طوعہ نامی ایک خاتون کے دروازہ پر پہونچے اور اس سے پانی طلب کیا اس خاتون نے آپ کو سیراب کیا ، آپ نے طوعہ سے خواہش کی کہ اپنے گھر میں پناہ دے دے اس نے قبول کرلیا ، اور جب اس کا بیٹا اس بات سے باخبر ہوا کہ مسلمؑ اس کے گھر میں ہیں تو اس نے یہ خبر ابن زیاد کو دی ، اس نے محمد بن اشعث کو چند سپاہیوں کے ساتھ مسلم کو گرفتار کرنے کے لئے بھیجا جب ابن زیاد کی فوجیں اس خاتون کے گھر پہونچیں اور گھوڑوں کے ٹاپوں کی آواز جناب مسلم کے کانوں سے ٹکرائی تو آپ نے زرہ پہنی گھوڑے پر سوار ہوئے اور ابن زیاد کے سپاہیوں سے جنگ کی کچھ لوگوں کو قتل کیا آخرش شدید زخمی حالت میں ابن زیاد کے سپاہیوں نے آپ پر یلغار کی اور پشت سے ایک سپاہی نے ایسا نیزہ مارا کہ آپ زمین پر گرپڑے اور پھر آپ کو گرفتار کرلیا گیا اور جب جناب مسلمؑ کو ابن زیاد کے پاس لایا گیا تو اس نے کہا: تم نے اس پر امن شہر کو اہل شہر کے لئے کیوں نا امن بنا دیا اور فتنہ انگیزی کی؟َ!

آپ نے فرمایا: میرے آنے کا مطلب یہ نہیں تھا ، تم ہو جنہوں نے برے کام علی الاعلان کئے اور نیک امور کو ختم کیا اور امت کی مرضی کے بغیر ان پر حکومت کی اور ان پر اپنے احکام کو تحمیل کیا اور قیصر و کسری کی طرح ان کے ساتھ پیش آئے اور ہم اس لئے آئے ہیں تاکہ نہی از منکر اور امر بمعروف انجام دیں اور حکم قرآن و سنت رسول کو نافذ کریں اور یقینا ہم اس کی صلاحیت رکھتے ہیں ،۔

ابن زیاد نے امام علی ؑ امام حسن ؑ اور امام حسین ؑ کو برا بھلا کہا۔

جناب مسلم ؑنے فرمایا: تو اور تیرا باپ ان دشنام اور بدکلامیوں کا زیادہ حق دار ہے اے دشمن خدا تو جو کچھ کرنا چاہتا ہے کر گذر ۔

ابن زیاد نے بکر بن حمران کو حکم دیا کہ مسلم کو دار الامارہ کی چھت پر لے جاکر قتل کردے ، بکر نے مسلم کو دار الامارہ کی جانب رہنمائی کی اس وقت آپ کی زبان سے تسبیح و استغفار اور رسول و آل رسول ؐ پر درود جاری تھا اس نے مسلم کو قتل کیا اور نہایت ہی خوفناک صورت میں دار الامارہ کی چھت سے نیچ ڈال دیا ۔

اس کے بعد ابن زیاد نے حکم دیا کہ ہانی بن عروہ کو لاکر قتل کردیں ہانی نے بارہا فریاد کی اے قبیلہ مذحج: کہاں ہو میری فریاد کو کیوں نہیں پہونچتے ؟ جلاد نے کہا: اپنی گردن کو آگے بڑھاؤ تاکہ میں تمہیں قتل کرسکوں ہانی نے کہا: خدا کی قسم میں ایسی سخاوت کا قائل نہیں کہ اپنے قتل پر تمہاری مدد کروں ۔ آخرش ابن زیاد کے غلاموں میں سے ایک رشید نامی غلام نے ہانی کو شہید کیا ۔

عبید اللہ بن زیاد نے یزید کے نام خط میں ہانی اور مسلم کے قتل کو لکھا ، یزید نے عبید اللہ کا شکریہ ادا کیا اور اس کے جواب میں لکھا کہ مجھے خبر ہوئی کہ حسین ؑ کوفہ کی جانب بڑھ رہے ہیں ۔ ابن زیاد کو یزید نے حکم دیا کہ سخت گیری سے کام لو اور جس بھی شخص کے بارے میں شک یا گمان ہو یہ مخالف ہے تو فورا اسے گرفتار کرو اور قید میں ڈال دو ۔



منابع: لھوف
ارسال کننده: مدیر پورتال
 عضویت در کانال آموزش و فرهنگ اربعین

چاپ

برچسب ها جناب مسلم۔ شھادت۔ دیباچہ۔ مسلم بن عقیل۔ کوفہ۔ امام حسین

نظرات


ارسال نظر


Arbaeentitr

 فعالیت ها و برنامه ها

 احادیث

 ادعیه و زیارات