ستاد مرکزی اربعین|کمیته فرهنگی، آموزشی

banner-img banner-img-en
logo

 ادبیات و پژوهش


اہل کوفہ کے خطوط

چاپ
اہل کوفہ کے خطوط

جب اہل کوفہ مکہ میں امام حسین ؑ کی موجودگی سے باخبر ہوئے اور اس بات سے باخبر ہوئے کہ آپ نے یزید کی بیعت سے انکار کیا ہے تو سلیمان بن صرد خزاعی کے گھر جمع ہوئے اور امام حسین ؑ کے نام اس مضمون کا خط لکھا :

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حسین بن علی امیر المومنین کے نام

سلیمان بن صرد خزاعی ، مسیب ابن نجبہ ، رفاعہ بن شداد ، حبیب بن مظاہر ، عبد اللہ بن وائل اور امیر المومنین کے شیعوں اور مومنین کی جانب سے                    آپ پر ہمارا سلام

سلام کے بعد تمام تعریفیں اس خدا کے لئے جس نے آپ اور آپ کے باپ کے دشمنوں کی چالوں کو نقش بر آب کیا اس امت کی باگ و ڈور اس ظالم و جابر نے ہاتھ میں لے رکھی ہے اور بیت المال کو غاصبانہ تصرف کیا ہے اور امت کی مرضی کے بغیر ان پر حکومت کی اس کے عہد حکومت کے جرائم میں سے یہ ہے کہ نیک لوگوں کا قتل کیا اور ناپاک افراد کی حفاظت کی بیت المال کو ظالموں میں تقسیم کیا باغیوں کو جمع کیا خدا اس پر لعنت کرے جس طرح قوم ثمود رحمت خدا سے دور ہوئے ۔ یقینا ہمارے لئے آپ کے سوائے کوئی امام نہیں لہٰذا ہماری جانب ہجرت فرمائیں شائد خدا آپ کے وسیلہ سے ہمیں حق کا مرکز عطا کرے ۔

مذکورہ خط کو امام ؑ کی خدمت میں بھیجا اور دو روز بعد ایک گروہ اپنی نمائندگی میں روانہ کیا یہ گروہ ۱۵۰خط کا حامل تھا اور ہر خط پر ایک دو تین چار افراد کی دستخط موجود تھی ، ان تمام خطوط میں امام حسین ؑ سے خواہش کی گئی تھی کہ آپ کوفہ تشریف لائیں ۔ امام ؑ نے ان تمام خطوط کے جواب سے پرہیز کیا ، یہاں تک کہ ایک دن میں چھہ سو خطوط کوفہ سے امام تک پہونچے اور مسلسل خطوط آپ تک پہونچ رہے تھے اور اس وقت خطوط کی تعداد بارہ ہزار ہوگئی ۔

ان خطوط کے لانے والے ہانی بن ہانی سبیعی اور سعید بن عبد اللہ حنفی تھے آخری خط  جو امام تک پہونچا اس کا مضمون یوں تھا :

تمام لوگ آپ کی آمد کے منتظر ہیں اور آپ کے علاوہ کسی میں دلچسپی نہیں رکھتے ، اے فرزند رسول جتنا جلدی ممکن ہو جتنا جلدی ممکن ہو تشریف لائیے کہ باغات سرسبز اور درخت پھل دار ہوگئے ہیں اور چمنستان ہرے بھرے ہوگئے ہیں اور درخت پھلوں سے لد پھد ہیں اگر آپ آنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو ایک آمادہ فوج کو اپنے استقبال میں پائیں گے ۔

امام حسین ؑ نے ہانی بن ہانی سبیعی اور سعید بن عبد اللہ حنفی سے فرمایا:

مجھے یہ بتاؤ کہ کن لوگوں نے یہ خط لکھا ہے اور کون ہیں وہ لوگ جو ان سے ہم آہنگ تھے ؟

ان لوگوں نے عرض کیا :

ابن رسول اللہ شبث بن ربیعی ، حجار بن ابحر ، یزید بن حارث ، یزید بن رویم ، عروہ بن قیس ، عمر بن حجاز ، محمد بن عامر عطارد ۔

امام نے جب یہ جواب سنا تو اپنی جگہ سے گھڑے ہوئے اور رکن و مقام کے درمیان دو رکعت نماز ادا کی اور خدا سے دعا کی جس میں خیر و صلاح ہو وہ آپ کے لئے معین کرے اور اس کے بعد مسلم بن عقیل کو بلایا اور حالات سے آگاہ کیا اور اہل کوفہ کے خطوط کا جواب لکھا اور ان کی دعوت کو قبول کرنے کا وعدہ کیا اور مزید اضافہ کیا کہ اپنے چچا زاد بھائی مسلم بن عقیل کو آپ لوگوں کی جانب بھیج رہا ہوں تاکہ حالات سے آگاہ کریں اور آپ کے آخری فیصلہ سے مجھے باخبر کریں ۔



منابع: لھوف
ارسال کننده: مدیر پورتال
 عضویت در کانال آموزش و فرهنگ اربعین

چاپ

برچسب ها امام حسین۔ اہل کوفہ۔ خطوط۔ مدینہ۔ کوفہ

نظرات


ارسال نظر


Arbaeentitr

 فعالیت ها و برنامه ها

 احادیث

 ادعیه و زیارات