ستاد مرکزی اربعین|کمیته فرهنگی، آموزشی

banner-img banner-img-en
logo

 ادبیات و پژوهش


یزید کا آغاز خلافت

چاپ
یزید کا آغاز خلافت

لوگ امام حسین ؑ کی شہادت کا قصہ قول رسول کے تحت جانتے تھے اور اس سلسلہ میں گفتگو کرتے تھے اور امام حسین ؑ کی عظمت و احترام کا خیال رکھتے تھے ۶۰ہجری میں معاویہ بن ابی سفیان واصل جہنم ہوا اور یزید بن معاویہ لعنت اللہ علیہ نے ولید بن عتبہ حاکم مدینہ کو خط لکھا اور حکم دیا کہ تمام اہل مدینہ خاص طور سے امام حسین ؑ سے بیعت لے اور مزید لکھا کہ اگر امام حسین ؑ بیعت کرنے سے انکار کریں تو ان کا سر کاٹ کر میرے پاس بھیج دے ۔ ولید نے خط پاتے ہیں مروان کو بلایا اور امام حسین ؑ کے بارے میں مشورہ کیا مروان نے کہا حسین ؑ یزید کی بیعت نہیں کریں گے اگر میں تیری جگہ ہوتا تو ان کی گردن اڑا دیتا ، ولید نے کہا : اے کاش میں پیدا نہ ہوا ہوتا ، پھر کسی کو امام حسین ؑ کے پاس بھیجا آپ تیس بنی ہاشم اور اصحاب کے ساتھ ولید کے پاس آئے ولید نے معاویہ کی موت خبر امام کو دی اور یزید کی بیعت کی تجویز پیش کی امام نے فرمایا:

اے والی مدینہ چھپی ہوئی بیعت کا کوئی فائدہ نہیں کل تمام لوگوں کو بیعت کے لئے بلاؤ گے مجھے بھی بلا لینا ۔

مروان نے کہا: اے امیر اس تجویز کو قبول نہ کرو اگر یہ بیعت نہیں کرتے تو ان کی گردن اڑا دو امام نے جب اس جملہ کو سنا تو غضب ناک ہوئے اور فرمایا:

اے چشم نیل گوں والی عورت کے بیٹے تو حکم دیتا ہے کہ میری گردن اڑا دیں خدا کی قسم تو جھوٹ بول رہا ہے اورتو نے اپنی پست فطرتی کو ظاہر کرہی دیا ۔

پھر امام نے ولید کی طرف رخ کیا اور فرمایا:

ہم اہل بیت نبوت خزانۂ رسالت ہیں ملائکہ ہم پر نازل ہوتے ہیں اور دنیا کی ابتدا ہم سے ہوئی ہے اور ہم پر ہی ختم ہوگی ۔ یزید ایک فاسق ، شراب خور اور بے گناہوں کا قاتل ہے وہ کھلے عام فسق و فجور کرتا ہے مجھ جیسا کبھی یزید جیسے کی بیعت نہیں کرسکتا ، پھر بھی ہم اور تم کل صبح تک اپنے نظریہ پر غور کریں گے تاکہ معلوم ہوجائے کہ ہم میں سے کون بیعت و خلافت کا صحیح حق دار ہے ۔

امام نے ولید سے یہ باتیں کہیں اور دار الامارہ سے باہر آگئے ۔

ولید سے مروان نے کہا: تو نے میرے حکم کو نافذ کیوں نہیں کیا ؟

ولید نے کہا: تجھ پر وائے ہو تو مجھے دین و دنیا سے خارج ہونے والے راستہ کو بتا رہا تھا ، خدا کی قسم میں نہیں چاہتا کہ پوری دنیا کا مالک بنا دیا جاوں لیکن امام حسین ؑ کا قاتل بنوں ۔خدا کی قسم جو بھی خون حسین ؑ سے اپنے ہاتھ کو رنگین کرکے خدا سے ملاقات کرے گا اس کا نامہ اعمال کم اور محو شدہ ہوگا ، خدا اس پر نظر رحمت نہیں کرے گا اور اسے گناہ کی پلیدگی سے پاک نہیں کرے گا اور اس کے لئے شدید اور دردناک شکنجہ ہوگا ۔

جب صبح ہوئی اور امام حسین ؑ گھر سے باہر آئے تو مروان سے ملاقات ہوئی مروان نے کہا: اے ابا عبد اللہ میں آپ کا خیر خواہ ہوں میری بات مان لیں تاکہ نجات پاجائیں ، امام نے فرمایا:

تمہاری خیرخواہی کیا ہے ؟

مروان نے کہا: میں آپ سے کہہ رہا ہوں کہ یزید بن معاویہ کی بیعت کرلیں اس میں آپ کے دین و دنیا کی بھلائی ہے امام نے فرمایا: إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ راجِعُونَ وَ عَلَى الْإِسْلَامِ السَّلَامُ إِذْ قَدْ بُلِيَتِ الْأُمَّةُ بِرَاعٍ مِثْلِ يَزِيدَ وَ لَقَدْ سَمِعْتُ جَدِّي رَسُولَ اللَّهِ صلی‌الله‌علیه‌وآله يَقُولُ الْخِلَافَةُ مُحَرَّمَةٌ عَلَى آلِ أَبِي سُفْيَانَ

اگر اس امت کا حاکم یزید جیسا شخص ہے تو ایسے اسلام پر میرا آخری سلام ہو میں نے اپنے نانا رسول سے سنا ہے کہ آل ابی سفیان پر خلافت اسلام حرام ہے ۔

امام حسین ؑ اور مروان کے درمیان گفتگو کافی طویل ہوئی یہاں تک کہ مروان نہایت ہی آشفتہ اور غضبناک عالم میں اپنے گھر واپس ہوا ۔

ظاہر سی بات ہے کہ امام حسین ؑ جانتے تھے کہ اس کام کا انجام کیا ہوگا اور آپ کا وہی فریضہ تھا جسے آپ نے نہایت ہی سکون قلب کے ساتھ انجام دیا ۔



منابع: لھوف
ارسال کننده: مدیر پورتال
 عضویت در کانال آموزش و فرهنگ اربعین

چاپ

برچسب ها امام حسین علیہ السلام۔ یزید۔ آغاز خلافت

نظرات


ارسال نظر


Arbaeentitr

 فعالیت ها و برنامه ها

 احادیث

 ادعیه و زیارات