ستاد مرکزی اربعین|کمیته فرهنگی، آموزشی

banner-img banner-img-en
logo

 ادبیات و پژوهش


امام حسین علیہ السلام کی شھادت کی خبر

چاپ
امام حسین علیہ السلام کی شھادت کی خبر

امام حسین ؑ کی ولادت کے ایک سال کے بعد بارہ فرشتے رسول کے پاس اس عالم میں آئے کہ ان کے چہرے محزون اور آنکھیں گریہ کناں اور بال الجھے ہوئے تھے انہوں نے عرض کیا :

اے محمد آپ کا بیٹا حسین ؑ فرزند فاطمہؐ انہیں مشکلات سے دوچار ہوگا جو قابیل کے ہاتھوں ہابیل ہوئے تھے اور ہابیل کی طرح انہیں اجر دیا جائے گا اور ان کے قاتل کی سزا قابیل کی سزا کی مانند ہوگی ۔

اس کے بعد آسمانی تمام مقرب فرشتے رسولؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سلام کے بعد رسولؐ کو مصیبت امام حسین ؑ پر تسلیت پیش کی اور امام کے اجر الہی سے آگاہ کیا اور خاک و تربت کربلا کو رسولؐ کے سامنے پیش کیا اور رسول نے بھی فرمایا: خدا رسوا کرے اسے جو حسین ؑ کو رسوا کرے اور خدا اسے قتل کرے جو حسین ؑ کو قتل کرے اور حسین ؑ کے قاتل کو نامراد کرے ۔

جب امام حسین ؑ کی ولادت کو دو سال گذر گئے رسول سفر پہ تھے اور درمیان راہ آپ نے اس آیت کو پڑھا (انا لله و انا الیه راجعون)آپ کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے اصحاب نے ان آنسو اور گریہ کا راز جاننا چاہا تو آپ نے فرمایا: ابھی جبرئیل نے مجھے اس سرزمین سے آگاہ کیا ہے جو فرات کے کنارے ہے اور اس کا نام کربلا ہے وہاں پر میرا بیٹا حسین ؑفرزند فاطمہ ؐ شہید ہوگا جب لوگوں نے امام کے قاتل کا نام پوچھا تو رسول نے فرمایا: حسین ؑ کا قاتل یزید نامی شخص ہے خدا اس پر لعنت کرے ۔ گویا میں محل شہادت اور قبر حسین ؑ کو دیکھ رہا ہوں ۔ جب سفر ختم ہوا ، رسول بہت محزون تھے آپ منبر پر تشریف لے گئے ، لوگوں کو نصیحت کی امام حسن ؑ اور امام حسین ؑ آپ کے سامنے بیٹھے تھے جب خطبہ ختم ہوا تو اپنا داہنا ہاتھ امام حسن ؑ کے سر پر اور بایاں ہاتھ امام حسین ؑ کے سر پر رکھا اور پھر اپنے سر اقدس کو آسمان کی جانب بلند کیا اور فرمایا:

خدایا ! یقیناً محمد تیرا بندہ اور تیرا رسول ہے اور یہ دو پاک ترین افراد میرے خاندان اور میرے گھرانے کے منتخب لوگوں میں سے ہیں اور میں اپنے بعد امت کے درمیان انہیں چھوڑ کر جارہا ہوں جبرئیل نے مجھے خبر دی ہے کہ یہ میرا فرزند (حسین ؑ ) شہید کیا جائے گا ۔ خدایا! اس شہادت کو حسین ؑ پر مبارک شمار کر اور انہیں شہیدوں کا سردار قرار دے اور حسین ؑ کے قاتل سے رحمت و برکت دور کر ۔

جو لوگ مسجد میں بیٹھے تھے رونے لگے اور نالہ و شیون بلند کیا ، رسول نے فرمایا: کیا میرے حسین ؑ پر گریہ کررہے ہو اور اس کی مدد نہیں کروگے ؟

اس وقت رسول ؐ محزون چہرے کے ساتھ واپس ہوئے اور دوسرا مختصر خطبہ پڑھا اور اس وقت آپ کے رخسار پر اشک جاری تھے اور آپ نے فرمایا:

اے لوگوں ! میں تمہارے درمیان دو عظیم چیز یں چھوڑ رہا ہوں اور وہ دونوں کتاب خدا اور میری عترت یعنی میرے اہل بیت ہیں اور یہ میرے سرشت سے خلق ہوئے اور یہ میرے میوہ دل اور جگر کے ٹکڑے ہیں یہ دونوں ہرگز ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر مجھ سے ملاقات کریں گے میں ان کی ملاقات کا منتظر ہوں ، میں ان دونوں کے بارے میں تم سے کچھ نہیں چاہتا سوائے یہ کہ جو میرے خدا نے حکم دیا ، خدا نے مجھ سے چاہا ہے کہ میں اپنے اہل بیت کی محبت کا تم سے تقاضا کروں لہٰذا دھیان رہے ، خبردار کل روز قیامت حوض کوثر کے پاس میرے اور اہل بیت کے دشمنوں سے ملاقات کرو۔



منابع: لھوف
ارسال کننده: مدیر پورتال
 عضویت در کانال آموزش و فرهنگ اربعین

چاپ

برچسب ها شھادت۔ امام حسین۔ رسول خدا۔ فرشتے۔حسین

نظرات


ارسال نظر


Arbaeentitr

 فعالیت ها و برنامه ها

 احادیث

 ادعیه و زیارات