ستاد مرکزی اربعین|کمیته فرهنگی، آموزشی

banner-img banner-img-en
logo

 ادبیات و پژوهش


شاہ است حسین بادشاہ است حسین

چاپ
شاہ است حسین بادشاہ است حسین

حرفِ آغاز

سید الشہدا، سبطِ نبی (ص) ، فرزندِ علی (ع)، امامِ عالی مقام، حضرت امام حسین علیہ السلام کی بارگاہ میں عقیدت بھرا سلام کہنا اردو شاعری میں موضوع کے لحاظ سے ایک اہم صنفِ سخن ہے۔ قدیم و جدید اردو شعراء نے بلا تفریقِ مذہب و ملت و عقیدہ، امام عالی مقام کے حضور میں نذرانۂ عقیدت پیش کیے ہیں۔
واقعۂ کربلا، امام حسین کی اولوالعزمی، شجاعت، استقامت، آپ کے رفقا کی وفاداری و جان نثاری، آپ کے اہلِ بیت کے مصائب، حُر کی حق شناسی، نہ صرف مرثیہ اور سلام کے اہم موضوع ہیں بلکہ اردو شاعری میں استعارہ اور علامت کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں اور قریب قریب سبھی مشہور شعراء نے اپنی اپنی فکر کے مطابق ان کو استعمال کیا ہے۔
میں یہاں پر ایک جسارت کر رہا ہوں کہ اردو شعراء کرام کے کلام میں جو سلام موجود ہیں ان کو پیش کر رہا ہوں۔ میرے مآخذ، شعراء کے دواوین و کلیات اور مختلف انتخاب ہیں۔ ویب پر بھی مختلف کلام ملتا ہے لیکن بہر حال ان میں املاء کی اغلاط ہیں۔
سب سے پہلے خواجہ معین الدین چشتی اجمیری علیہ الرحمہ کی مشہور و معروف فارسی رباعی پیشِ خدمت ہے، اور اسی رباعی سے عنوان لینے کی سعادت حاصل کی ہے۔

شاہ است حُسین، بادشاہ است حُسین
دیں است حُسین، دیں پناہ است حُسین

سر داد نداد دست در دستِ یزید
حقّا کہ بنائے لا الہ است حسین



منابع: معین الدین چشتی
ارسال کننده: مدیر پورتال
 عضویت در کانال آموزش و فرهنگ اربعین

چاپ

برچسب ها شاہ است حسین بادشاہ است حسین۔ امام حسین

نظرات


ارسال نظر


Arbaeentitr

 فعالیت ها و برنامه ها

 احادیث

 ادعیه و زیارات