ستاد مرکزی اربعین|کمیته فرهنگی، آموزشی

banner-img banner-img-en
logo

 ادبیات و پژوهش


عزاداری اور ہمارے فرائض

چاپ
عزاداری اور ہمارے فرائض

تحریر: سید رضا حسین رضوی

علماء کی ذمہ داری ایک طرح سے بڑھ جاتی ہے کیونکہ انکو دو طریقوں کے پیغام پہنچانے ہیں۔ ایک کی نوعیت اس پیغام کی مانند ہے جو حضرت مسلم بن عقیل (ع) و  حضرت قیس بن مسھر (ع )نے  لوگوں تک  پہنچایا اور دوسرا پیغام وہ ہے جس کے سفیر زینب(ع) و ام کلثوم(ع) و امام سجاد(ع) اور بقیہ آئمہ  علیہم السلام تھے۔

امام حسین(ع) نے اللہ کے دین کو انحراف سے بچانے کےلیے اپنی اور اپنے خاندان کی جانوں سےد ریغ نہیں کیا۔ لہذا اس پیغام کو اس کے  تمام تر  اہداف کو پہچانے میں ہماری ذرا سی کوتاہی، امام(ع) کے کاز   و مقصد سے مخالفت کے مترادف ہوگی۔

ان چودہ سو سالوں میں جہاں عاشقان حسین(ع) اپنے مشن میں مشغول ہیں اور اس  ذمہ داری کو امانت داری کےساتھ آئندہ نسلوں میں منتقل کرتے رہے ہیں ، بالکل اسی طرح دشمن کی بھی مسلسل یہ کوشش رہی کہ وہ اس سلسلے کو جڑ سے ختم کر دے۔ لیکن جب اپنی تمام تر قوت اور وسائل کے باوجود وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوسکا تو اس نے پینترا بدلا اور اصلِ عزاداری اور امام کے مقدس ہدف میں انحراف کی کوششوں میں مصروف ہوگیا۔ یہ کہنے میں ذرا بھی ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیے کہ وہ اپنے اس دوسرے حربہ میں کافی حد تک کامیاب بھی ہوگیا۔ اور اس مقصد کا آلہ کار بننے والے کوئی اور نہیں بلکہ اپنے ہی سادہ لوح  لوگ تھے ۔

امام باقر سے روایت ہے:

المُفرِطُ فی حُبّنا کالْمُفْرِطُ فی بُغْضِنَا۔۔۔[1][2]

ہماری محبت میں افراط سے کام لینے والے (بالکل) ان لوگوں کی مانند ہیں جو ہمارے بغض میں افراط کرتے ہیں۔

عزاداری کی ترویج  میں ہمارا کردار

ہم اگر اپنی مجالس پر ذرا غور کریں تو دیکھیں گے کہ قرآن کی آیت صرف سرنامہ کلام کی حد تک محدود ہوگئی ہے۔ اگر ہمارا بہت زور چلے تو روایات میں سے صرف وہ روایات ہم بیان کرتے ہیں جو فضایل سے مربوط ہوتی ہیں ۔ ہم اسکے منکر نہیں لیکن درد  اس بات کا ہے وہ علی جو علم کا بحر بیکراں تھا ،  آئمہ جنہوں نے علوم کے خزانے ہم تک پہنچانےمیں اپنی زندگیاں قید و بند میں گزار دیں، ہم انکی روایات میں موجود پوشیدہ علم کو استخراج کرنا تو دور کی بات انکو بیان بھی نہیں کرتے۔ لیکن جب کوئی یورپین کسی نئی سائنسی تحقیق کا انکشاف کرتا ہے تو ہم مدعی بن جاتے ہیں کہ اسکا تو ہمارے رسول(ص) نے، ہمارے امام نے ۱۴۰۰ سال پہلے ہی اشارہ کر دیا تھا ، اے کاش ہم اہلبیت  ع کے فرامین سے سروکار رکھتے اور سائنسی تحقیقات کے نتائیج  آنے سے پہلے ہم نے ان سائنسی اور علمی روایا ت پر کام کرتے اور انہیں دنیا والوں کے سامنے پیش کرتے تو آج  نتاَیج کچھ اور ہوتے ۔

ایک زمانہ تھا مسلمان مختلف علوم میں موجد کی حیثیت رکھتے تھے اور جابر بن حیان، بوعلی سینا، ابو ریحان نیز ایسے دوسرے بہت سے عالم گذرے جو سرمایہ اسلام تھے لیکن ہم نے ان کی قدر نہ کی۔ اور جابر بن حیان جیسی شخصیت جسکا نہ کسی شیعہ  نہ کسی سنی علم رجال کی کتاب  میں ذکر  ہوا ،  امام کا یہ ہونہار شاگرد جب اس دنیا سے گیا  تو بطور صوفی پہچانا گیا۔ ۶۰۰ سال تک صوفی اسکی قبر کی مجاورت کرتے رہے۔ جب اٹلی و فرانس نے اسکی کتابوں کا ترجمہ کیا اور اسکے علوم کو ترویج دی تو مسلمان جاگے اور سب نےا س پر اپنا ہونے کے دعویٰ شروع کر دیے ،یہی برتاَو  دوسرے بزرگ علماء  کے ساتھ بھی ہوا۔

اکثر مسلمان جو کسی زمانے میں آئیڈیل اور نمونہ ہوا کرتے تھے،  آج  ترجمہ کرنے والے، وارد    ( import )کرنے والے، مصرف کرنے والے تقلید کرنے والے۔۔۔۔۔  بن کر رہ گئے ہیں۔ 

ہمارے تضاد فکری نے دوسرے مکتب فکر کے افراد کو ہماری مجالس میں آنے سے روک دیا۔

لمحہ فکریہ ہے کہ یہی افراد آج سے ۲۵ یا ۳۰ سال پہلے ہماری مجلسوں میں عقیدت و احترام کے ساتھ شرکت کیا کرتے تھے ،لیکن آج نہ صرف شرکت کرنے سے کتراتے ہیں بلکہ اس عزاداری کے دشمن بھی ہو گئے ہیں۔

اگر اس طرح کہوں تو شاید غلط نہ ہو،کہ وہ ہمارے  یا آئمہ(ع) کے دشمن نہیں تھے لیکن ہمارے طرز فکر  ، ہمارے چبھتے ہوئے اور رکیک کنایات باعث بنے کہ وہ اس عزاداری کے ہی دشمن ہوگئے۔

ہم نے اپنی  بعض مجالس میں  من گھڑت  جنت کے نسخوں کو پیش کیا جس کے نتیجے میں اپنی قوم کو عمل سے اور دوسروں کو اپنی مجالس سے دور کر دیا۔جبکہ ہمارا یہ طرز بیان قرآن اور معصومین(ع) کی تعلیمات کے صریحاً مخالف ہے۔ خدا وند اپنے رسول  ص سے فرماتا ہے :

فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ لِنتَ لَهُمْ ۖ وَلَوْ کُنتَ فَظًّا غَلِیظَ الْقَلْبِ لَانفَضُّوا مِنْ حَوْلِکَ [3]۔۔۔۔

(اے رسول(ص)) یہ اللہ کی بہت بڑی مہربانی ہے کہ تم ان لوگوں کے لیے اتنے نرم مزاج ہو۔ ورنہ اگر تم درشت مزاج اور سنگدل ہوتے تو یہ سب آپ کے گرد و پیش سے منتشر ہو جاتے۔

اسی طرح جب اللہ نے حضرت موسی ٰ اور  ہارون  ع کو فرعون کی طرف بھیجا تو فرمایا :

اذْهَبَا إِلَىٰ فِرْعَوْنَ إِنَّهُ طَغَىٰ ۔ فَقُولَا لَهُ قَوْلًا لَّیِّنًا لَّعَلَّهُ یَتَذَکَّرُ أَوْ یَخْشَىٰ [4]

تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ کہ وہ سرکش ہوگیا ہے۔ اس سے نرمی کے ساتھ بات کرنا کہ شاید وہ نصیحت قبول کرے یا ڈر جائے۔

 

اور جب رسول(ص) ،جو کہ رحمۃ للعالمین کا بدرجہ اتم مصداق تھے مدینہ میں تشریف لائے تو وہاں کے اہل کتاب کو اللہ کا یہ پیغام دیا جو سورہ آل عمران آیہ ۱۱۳ سے ۱۱۵ میں آیا ہے:

لَیْسُوا سَوَاءً ۗ مِّنْ أَهْلِ الْکِتَابِ أُمَّةٌ قَائِمَةٌ یَتْلُونَ آیَاتِ اللَّهِ آنَاءَ اللَّیْلِ وَهُمْ یَسْجُدُونَ  [5]

یہ لوگ سب برابر نہیں ہیں۔ اہل کتاب میں ایسی ثابت قدم جماعت بھی ہے جو رات کے مختلف اوقات میں آیاتِ الٰہی کی  تلاوت کرتی ہے۔ اور سجدہ ریز ہوتی ہے۔

یُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ وَیَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَیَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنکَرِ وَیُسَارِعُونَ فِی الْخَیْرَاتِ وَأُولَٰئِکَ مِنَ الصَّالِحِینَ [6]

اللہ اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے منع کرتے ہیں اور بھلائی کے کاموں میں تیزی کرتے ہیں اور یہ لوگ نیک لوگوں میں سے ہیں۔

وَمَا یَفْعَلُوا مِنْ خَیْرٍ فَلَن یُکْفَرُوهُ ۗ وَاللَّهُ عَلِیمٌ بِالْمُتَّقِینَ [7]

یہ جو نیکی بھی کریں گے اس کی ہرگز ناقدری نہیں کی جائے گی۔ اور خدا پرہیزگاروں کو خوب جانتا ہے۔

 

اما م  حسین(ع)  وارث انبیاء علیہم السلام

  • امام حسین (ع) کا وارث انبیا ہونے کا  تذکرہ  ایک سے زیادہ زیارات  میں ذکر ہوا ہے ۔اس کے علاوہ آیمہ علیھم السلام  نے بھی اس کی تاکید کی ہے ۔
  • جب بھی انسانیت اپنے فطری تقاضوں اور اقدار وں کو پس پشت ڈال کر  حیوانیت میں داخل ہونے لگتی ہے  تو خدا کا ایک نمائندہ   ان انسانی اقداروں  کو  زندہ کرنے اور حق و باطل  کو   انسانیت کے سامنے جدا کرنے کے لیے  قیام کرتا ہے ۔ کبھی یہ نمایندہ  ابراہیم (ع) کی شکل میں نمرود کے سامنے نظر آتا ہے تو کبھی  موسی ٰ (ع) کی شکل میں  فرعون کے سامنے ۔۔
  • امام حسین (ع) بھی انبیا ء کے اس سلسلہ کی کڑی ہیں ۔ لیکن امام (ع) نے۶۱ ھجری  کے  عاشورہ  میں ایسا  کام کیا کے  رہتی دنیا تک حق و باطل  کی پہچان کا معیار دے دیا وہ بھی اسطرح  کہ اس پر کوئی  پردہ نہیں ڈال سکتا  ۔ یہ سلسلہ  امام   (ع)  کی شھادت   پر رکنے والا نہیں   بلکہ     ہمارے دور  سے گزرتا ہوا  آخری حجت کے قیام تک جاری رہے گا  ۔
  •  امام (ع) وارث انبیاء اور ہم وارث امام(ع) ہیں۔ اپنے  امام (ع)  سے ہمارے   ارتباط  کا  ذریعہ   واقعہ عاشورہ  ہے لھٰذا  اس  ارتباط کو ہمیشہ پر  جوش ،پر عقیدت  ، ولولہ انگیز   اور  حماسی   ہونا  چاہیے ۔
  •   ثانی زہرا (س )سے لے کر تمام آئمہ علیھم  السلام نے اس ارتباط کو زندہ کرنے کے لیے ہمیں عزاداری کی صورت میں ایک تحفہ ، ہتھیار یا وسیلہ دیا ۔اس وسیلہ  کے استعمال کا طریقہ سکھایا   تاکہ  ہم اس کے ذریعہ  قیام  امام (ع) کے   ھدف کو  یاد  رکھیں ۔ سورہ مائدہ  میں پروردگار نے فرمایا ہے : یَا أَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَابْتَغُوا إِلَیْهِ الْوَسِیلَةَ وَجَاهِدُوا فِی سَبِیلِهِ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ [8]۔{اے ایمان والو اللہ سے ڈرو! اور اس تک پہنچنے کے لیے وسیلہ تلاش کرو اور اس کی راہ میں جہاد کرو  تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ}۔عزاداری  اس  ارتباط  کو  ہمیشہ زندہ رکھنے کا   واحد ذریعہ ہے
  • واقعہ عاشور کو زندہ رکھنے کے لیے   عزاداری  ایک  ایسا وسیلہ ہے جو کبھی   آل اللہ  کی  محبت کو  مومنین  کے دل سے  کم نہیں ہونے دیتا۔پیغمبر اکرم صلّی الله علیه و آله  وسلم نے فرمایا : اِنَّ لِقَتْلِ الْحُسَیْنِ علیه السّلام حَرارَةً فى قُلُوبِ الْمُؤ منینَ لا تَبْرَدُ اَبَداً؛.  {شهادت حسین علیه السلام   کے لیے لوگوں کے دل میں ایسی حرارت {محبت }ہے جو کبھی ٹھنڈی نہ ہو گی [9]}۔ مجالس کا انعقاد ،  سوگواری ،امام   کے مصائب پر  گریا،جلوس ، ماتم  ۔۔۔ ہمارا اپنے امام سے  ارتباط کا ذریعہ  ہیں ۔اسی لیےان امور کی اانجام دہی  کی  تاکید  اور نتیجہ میں  جنت کی نوید دی گئی ہے۔امام رضا علیه السّلام فرماتے ہیں  :مَنْ کانَ یَوْمُ عاشورا یَوْمَ مُصیبَتِهِ وَ حُزْنِهِ وَ بُکائِهِ جَعَلَ اللّهُ عَزّوَجَلّ یَوْمَ القیامَةِ یَوْمَ فَرَحِهِ وَ سُرُورِهِ.
  • ترجمه :امام رضا علیه السّلام فرمایا : جس کے لیے  عاشورہ  باعث گریہ و   اندوہ ، اور  حزن  و ملال  کا  دن ہو  اللہ تبارک و تعالیٰ  قیامت کے دن کو اس کے لیے باعث سرور   اور شادمانی قرار دے گا ۔[10]
  • جب ہم کہتے ہیں علی(ع) و اولاد علی (ع) رسول   ص کے وارث ہیں تو اس سے مراد فقط مالی وراثت نہیں ہوتی بلکہ جب ہم حسین(ع) کو" السلام علیک یا وارِثَ محمدٌ رسول اللہ " یا انبیا کا وارث کہہ کر خطاب کرتے ہیں تو مراد  وراثت معنوی ہوتی ہے ۔ گویا کہ حسین(ع) تمام انبیاء کی علمی و معنوی میراث کے وارث ہیں۔ اور وراثت معنوی میں کچھ ملتا نہیں بلکہ دینا پڑتا ہے۔ اپنی جان، مال، اولاد۔۔۔۔
  • زیارت وارث  ہمیں بتاتی ہے  کہ ہماری عزاداری     ، گریہ و ماتم  اور امام حسین  ع کے درمیان  رابطہ  کی حقیقت بالکل  اس رابطہ کی طرح ہے  جیسا  رابطہ امام  کا  انبیا ء علیھم السلام  کے ساتھ تھا ۔  در اصل  یہ  میراث جو کہ   آدم و نوح  و ابراہیم  و موسیٰ و عیسیٰ و محمد( ص )  و مرتضیٰ علیھم السلام سے امام حسین  ع  تک پہنچی     ، اس کا اپنی اپنی زندگیوں  میں اجراء  ہی  عزاداری کا اصل ھدف ہے  ۔  [11]

میراث  انبیاء

وہ میراث کہ   جس کا اجرا ء امام نے اپنی زندگی میں کیا  ، زیارت وارث اس کی تفصیل  بیان کرتی ہے :

 اَشْهَدُ اَنَّکَ قَدْ اَقَمْتَ الصَّلوةَ وَآتَیْتَ الزَّکوةَ وَاَمَرْتَ بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَیْتَ عَنْ الْمُنْکَرِوَاَطَعْتَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ حَتّى اَتیکَ الْیَقینُ۔۔۔۔

پس   امام  ع نے انبیاء ما سبق سے  جو  میراث پائی وہ   : برپای نماز ، زکات  و وجوہات شرعی کی ادائیگی ،  نیکی کا حکم دینا  ، برائیوں سے روکنا ،اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت محض  ہے جس کا نتیجہ  یقین قلبی    کا حصول   ہے ۔  یہ  و ہ  میراث  ہے  جو انبیاء سے امام تک اور امام سے ہم تک  پہنچی ۔

یہ دعاووں اور  زیارت  کا پڑھنا  نہ صرف ثواب کا   باعث  ہے بلکہ امام نے ہماری لیے ان میں تمام تعلیمات اسلامی کو پرو دیا ہے ،  ہماری زندگی کا منشور ان میں بیان کر دیا گیا ہے۔  لہٰذا  ان کی تلاوت  کرتے وقت ان  میں موجود اعلی ٰ مضامین  کو بحی مد نظر رکھنا  چاہیے۔

آئمہ علیھم السلام  اور ہمارے رویوں کا فرق

اگر  ہم اپنے آپ کو محب اھلبیت ع  اور امام کے مشن کا  وارث کہتے ہیں تو  اس  مشن کو اگے بڑھانے  کے لیے انہیں  کے تقش قدم  پر چلنا ہو گا ، جس طرح  امام  ع  نے مدینہ سے کربلا تک  ہر  مذہبی  تعصب   کو بالائ  طاق  رکھتے ہوے  دوست و دشمن  سب کو  اپنے ساتھ آنے کی دعوت دی ۔

جہاں تک اپنے حقوق کے تلف ہونے کا تعلق تھا حسین(ع) بہت شفیق، رحمدل، درگذر کرنے والے انسان کا نام تھا۔ لیکن جہاں بات خدا اور  اسکے دین کی تھی وہاں حسین(ع) نے کسی سے سمجھوتہ نہیں کیا۔

اسی حسین(ع) کے بیٹے میرے مولا سجاد(ع) کے پاس جب حضرت علی اکبر ع  کا قاتل حلیہ بدل کر پناہ لیتا ہے تو آپ مہمانداری میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے بلکہ وقت رخصت اسکو بدرقہ کرکے رخصت کرتے ہیں۔ آخر کیوں یہ دشمن امام کی پناہ میں آیا؟

اسلیے کہ امام سجاد(ع) کے محبّوں نے، انکے دوستوں نے آپ کی شخصیت کو ایک رحم دل، ایک شفیق، ایک معاف کردینے والےانسان  کی حیثیت سے   متعارف کروایاتھا۔

لیکن ہم جب اپنے مولا، اپنے سرور، امام زمانہ(عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف) کا تعارف کراتے ہیں تو فقط  ’’منتقم‘‘ کی حیثیت سے کراتے ہیں حتی حدّ تو اس وقت ہوجاتی ہے جب بعض مومنین ایک دوسرے سے گلے ملتے وقت اپنے دوست کی گردن پر یہ کہہ کر بوسہ دیتے ہیں کہ یہاں امام زمانہ کی تلوارچلے  گی۔۔۔ (استغفر اللہ ربی و اتوب الیہ)

ہمارے اس انداز سے  امام ع کا تعارف کروانے کی وجہ سے ،اگر آپ آج کے نوجوانوں سے بات کریں تو اسمیں سے بعض بہت سچائی سے یہ کہنےمیں دریغ نہیں کرتے کہ ہم دعا امام زمانہ  تو   پڑھتے ہیں لیکن دل کے ایک گوشہ میں یہ احساس چھپا ہے کہ ابھی تو ظہور نہ ہی کریں۔! !!!کہیں ایسا نہ ہو ہم بھی ان لوگوں میں شامل ہوں جن پر امام کی تلوار چلے گی۔

ہم نے ایک ایسی فضا قائم کر دی ہے کہ جس سے اہلبیت ع کا آفاقی  پیغام ہد ایت صرف   شیعوں میں محدود ہو کر رہ گیا اور دوسرے مکاتب فکر اس سے محروم ہو کر رہ گئے۔ حق بات یہ ہےآج کے تکفیری اور افراطی گروہ جو درندگی کی نئی تاریخ رقم کر رہے ہیں انکہ وجود میں آنے کے علل و اسباب    پر ایک نظر کی جائے تو جہاں استعمار ی دسیسہ کاریاں نظر آَئیں گی وہاں اپنوں کی نادانیوں سے بھی چشہم  پوشی نہیں کی جاسکتی !!!!

تاریخ پر نظر ڈالیں تو دیکھتے ہیں کہ شاگردان آئمہ میں دوسرے مذاہب کے لوگ بھی شامل تھے جو اپنی آخری عمر تک اپنے ہی عقیدے اور دین  پر قائم رہے ۔

جس جگہ امام باقر و صادق  علیہم السلام درس دیا کرتے تھے وہیں ابوحنیفہ بھی درس دیا کرتے۔۔۔وہیں امام کاظم(ع) اپنے چاہنے والوں کو سیراب کیا کرتے تھے۔

امام عسکری(ع)، امام تقی    (ع) نے اپنے زندگی کا اکثر حصہ اہل سنت علاقوں میں گزارا اور آپ نے ایسے اخلاق  نبوی کا مظاہرہ کیا کے وہاں کے لوگ آپ کے گرویدہ ہو گئے(اگر مقالہ کے طولانی ہونے کا اندیشہ نہ ہوےا تو ضرور  یہاں چند نمونوں کا تذکرہ کرتے ) ان کے حرم بھی انہیں علاقوں میں ہیں۔ ان کے حرم کی تولیت اور حرم کے مجاورت بھی ایک زمانے تک انہیں  کے ہاتھ میں تھی۔

ہر  حق بات ہر جگہہ کہنے کی نہیں ہوتی قرآن بھی اسی بات کی طرف ہماری رہنماِئی کر رہا ہے،ارشاد باری تعالیٰ ہے:

وَلَا تَسُبُّوا الَّذِینَ یَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ فَیَسُبُّوا اللَّهَ عَدْوًا بِغَیْرِ عِلْمٍ ۔۔[12]

اور خبردار تم لوگ انہیں برا بھلا نہ کہو جن کو یہ لوگ خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہیں کہ اس طرح یہ دشمنی میں بغیر سمجھے بوجھے خدا کو برا بھلا کہیں گے ۔۔۔۔

 

جس وقت امام حسین    (ع)  اس میراث کو بچانے کے لیے قیام کر رہے تھے اس وقت مدینہ میں بڑی بڑی بزرگوار ہستیاں موجود تھیں لیکن تماشا دیکھتی رہیں۔ امام حسین(ع) نے ان کو بتادیا کہ تماشائی کبھی بھی وارث نہیں بن سکتا۔

صرف  اور صرف  امام کے غم  کو منانا ، ان پر سال میں  کچھ دن آنسو  بہا دینا۔۔۔۔  کیا ہمیں  اس فریضہ سے سبکدوش کر دیتا  ہے جو ایک شیعہ ہونے کے ناطے ہماری گردنوں پر عائد ہوا ہے؟؟؟   کب تک ہم  صرف اپنے گناہوں کی بخشش کے لیے امام کی مجالس    میں شرکت کریں گے؟؟ عزاداری   ھدف تک پہنچنے کا  وہ  پاک  و پاکیزہ  وسیلہ ہے  جسے    زینب و سجاد   علیھم السلام نے ہمیں سکھایا  ، اسکی حفاظت  کے لیے    مومنین نے اپنے سر تن سے جدا کروا دیے ، ان کے بھرے   پُرے   گھر اس عزاداری  کی پاسداری  میں برباد کر دیے گئے۔جس طرح حسین(ع) وارث انبیا ہیں، آئمہ(ع) نے اس بار کو اپنےد وش پر اٹھایا  ا نہوں نے ہی فرمایا کہ :

’’العلما وَرَثَۃُ الانبیا‘‘

یہ میراث انبیا ءجس کا وارث بننا حسین(ع) کے علاوہ کسی اور کے بس میں نہیں تھا۔ اسی طرح اس میراث کی حقیقت کھول کر لوگوں کے سامنے بیان کرنا بھی سب کے لیے ممکن نہ تھا۔ لہذا حسین(ع) نے اپنے وارثوں کو اسکی حفاظت کا طریقہ اور اس کی تبلیغ  کا ڈھنگ بھی سکھا دیا۔

جتنا بھی پر آشوب دور آیا   علمای حقہ نے  اس عزاداری  کو بچانے کا طریقہ بتایا اور دین حق کے جیالوں نے ان  کی رہنمائی میں اس چراغ  کو کبھی  بجھنے نہ دیا ۔ آج بھی جذباتیت کے ساتھ   اسی  بیداری کی ضرورت ہے  ۔ علماء کی رہنمای  ہمیں  ان فتنوں  اور سازشوں سے محفوظ رکھے گی  جو دوست نما  دشمن کی طرف  عزاداری   کی جڑوں  کو کھوکھلا کرنے  کے لیے  کی جا رہی ہیں۔  خدا نخواستہ   اگر  دشمن اس  روح عزاداری کو ہم  سے چھینّے میں کامیاب ہو گیا تو  ہماری حالت ان  یہودیوں سے بدتر ہو گی جن کے بارے میں خدا  نے   فرمایا ہے : مَثَلُ الَّذِینَ حُمِّلُوا التَّوْرَاةَ ثُمَّ لَمْ یَحْمِلُوهَا کَمَثَلِ الْحِمَارِ یَحْمِلُ أَسْفَارًا [13]{ اور جن لوگوں (یہود) کو توراۃ کا حامل بنایا گیا مگر انہوں نے اسکو نہ اٹھایا ان کی مثال اس گدھے کی سی ہے جس نے بڑی بڑی کتابیں اٹھائی ہوئی ہوں}۔ یہ میراث جس طرح خون انبیا سے وجود میں آئی، خون شہدا اور خون حسین(ع) کے ذریعے سے محفوظ ہوئی ،خون ہی کے طفیل آگے بڑھے گی  ۔جوش نے کیا خوب کہا تھا

کیا نماز شاہ تھی ارکان ایمانی کے ساتھ
دل بھی جھک جاتا تھا ہر سجدے میں پیشانی کے ساتھ

 

حشر تک زندہ ہے تیرا نام اے ابن رسول
کر چکا تو وہ احساں نوع انسانی کے ساتھ

 

صرف رو لینے سے قوموں کے نہیں پھرتے نصیب
خوں فشانی بھی ہے لازم اشک افشانی کے ساتھ

 

آنکھ میں آنسو ہوں سینوں میں شرار زندگی
موجہِ آتش بھی ہو بہتے ہوئے پانی کے ساتھ

 

جوش ہم ادنیٰ غلامانِ علیِ مرتضیٰ
تمکنت سے پیش آتے ہیں جہانبانی کے ساتھ

 

ہمیں صرف یہ نہیں دیکھنا کہ امام حسین ع کے ساتھ اور ان کے خاندان کے ساتھ کیا ہوا اور انہیں کیسے شھید کیا گیا ،بلکہ ساتھ یہ بھی دیکھنا اور سوچنا ہے کہ آپ   ع کو کیوں شھید کیا گیا اور آپ  ع نے اتنی عظیم قربانی کس مقصد کے لیے دی۔۔۔۔۔



منابع: razarizvi.blog.ir [1] : (بحار (ط) بیروت، ج۴۶، ص۱۶۸) (الارشاد فی معرفۃ حجج اللہ علی العباد، ج۲، ص۱۷۲) [3] : آل عمرآن ۱۵۹ [4] طہ آیہ ۳۳-۳۴ : [5] آل عمرآن ۱۱۳ [6] : آل عمرآن ۱۱۴ [7] : آل عمرآن ۱۱۵ [8] : سورہ مائدہ ،آیہ:٣٥ [9] : جامع احادیث الشیعه ، ج 12، ص 556 [10] : بحارالانوار، ج 44، ص 284 [11] : آیہ اللہ محمد مھدی آصفی ، در مکتب عاشورا ، ص ۱۸ [12] : انعام ۱۰۸ [13] : سورہ جمعہ آیہ ۵
ارسال کننده: مدیر پورتال
 عضویت در کانال آموزش و فرهنگ اربعین

چاپ

برچسب ها عزاداری اور ہمارے فرائض۔ عزاداری۔ امام حسین ۔ کربلا۔ عزاداری میں ہماری ذمہ داریاں۔ عزاداری کیسے منائی جائے

نظرات


ارسال نظر


Arbaeentitr

 فعالیت ها و برنامه ها

 احادیث

 ادعیه و زیارات